کام کرن والا بنو۔ نظام موجود ہے۔

0 comment 31 views

کام کرن والا بنو۔ نظام موجود ہے۔
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
کوئی بھی قوم وا وقت تک آگے نہ بڑھ سکے ہے جب تک اُو کائی پے اعتماد نہ کرے یا واپے کوئی اعتماد نہ کرے۔جب تک ای فضاء پیدا نہ ہوئے آگے بڑھنو تو دُور کی بات ۔سانس لینو بھی دشوار ہوجاوے ہے۔
میو قوم کو المیہ ہے کہ نہ تو خود ایسو کردار ادا کرن کی کوشش کراہاں کہ کوئی اعتبار کرے ،نہ وے خود کائی پے اعتماد کرن کے مارے تیار ہاں ۔ پوری قوم شک میں گھِری ہوئی ہے۔جو لیڈر ہاں وے سمجھاہاں کہ بس لیڈری کافی ہے ۔کام یا خدمت کی ضرورت نہ ہے۔نہ وے کائی کے سامنے جواب دہی کے مارے تیار ہاں۔رہی بات قوم یا عوام کی تو وے مکمل یقین کے ساتھ لیڈرن نے بے ایمان۔دوغلا۔اور مطلبی سمجھا ہاںکیونکہ نہ تو لیڈرن کے پئے کوئی قابل رشک کردار و خدمت کو ریکارڈ ہے ،نہ قوم کو اُنن نےکچھ دئیو ہے۔جب تک گدی رہی میو قوم ،میو قوم الاپتا رہا ۔جب گدی چھنی تو میو قوم بے قدری احسان فراموش۔ دکھائی دین لگی ۔
جدید سہولیات سو میو قوم انفردای بات نہ کرروہوں ۔اجتماعی طورپے فائدہ اٹھانا سو محروم ہے،اِن سہولیات سو وے لوگ فائدہ اٹھاواہاں

Advertisements

جو خود آگے بڑھنو چاہ را ہوواں۔
جو لوگ ابھی تک 1947 سو آگے آن کے مارے تیار نہ ہوواں ۔جدید سہولیات کہا کرلینگی؟۔
یا وقت انجمن اتحا د ترقی میوات کا پلیٹ فارم سوُ ہون والی ہِل جُل اے لوگ یقین و شک کی ملی جلی نگاہ سو دیکھ راہاں ۔
میرے پئے بہت بڑو ڈیٹا موجود ہے جامیں لوگن نے اپنا جذبات کو اظہار کروہے۔
جذبات تو رہا ایک گھاں کو۔یا گلہ شکوہ میں بہت سی دَبی ہوئی تاریخ اُبھر کے سامنے آئی ہے۔
مجموعی طورپے اندازہ یہی ہے کہ اسی سو۔نوے فیصد لوگ۔اب اعتماد کرن کے مارے تیار نہ ہاں۔
البتہ کچھ لوگ ابھی تک پر امید ہاں۔بالخصوص جوان طبقہ تو مانن کے مارے تیار ای نہ ہے ۔
عبوری کابینہ یا وقت کام کرری ہے ۔موئے تو ایسو لگے ہے پہلے شہزاد جواہر پنجالی میں جُڑو پڑو ہے ۔
اب ممتاز شفیق میو جوت دئیو ہے۔
یا کے علاوہ کائی کو کچھ پتو نہ ہے کہ اتنی لمبی چوڑی کابینہ اور عبوری باڑی جیوے ہے کہ مرے ہے۔۔
الیکشن کی اصطلاحات پے کام کرو جارو ہے ۔
لیکن جدید تقاضان کے مطابق 1947 سو 1948 میں والی پالیسز ڈھونڈی جاری ہاں۔
کوئی بہتر کام کرلئیو جائے اگر دو چار مہینہ مزید الیکشن آگے پیچھے ہوبھی جاواں تو کونسی قیامت ٹوٹ پڑے گی؟۔
کچھ بات ایسی ہاں ۔اِن پے توجہ کرلی جائے تو ممکن ہے نوجوان نسل کی توجہ حاصل کری جاسکے ۔
(1)انجمن اتحاد ترقی میوات۔کی ممبر شب فیس بالکل ختم کردی جائے۔
ہر میو قوم کو باشندہ انجمن کو ممبر بن سکے ہے۔اور ووٹ دینا کو اہل ہے۔ممبر شپ فیس کی جگہ ایسو نظام متعارف کرائیو جائے کہ فیس کی جگہ لوگ یامیں بحیثیت معاون کے شمولیت اختیار کراں۔
ممبر شپ سو کتنی رقم اکھٹی کرلئیوگا؟لیکن ممبر شپ کو ڈیٹا ایک دستاویز ہوئیگو کہ میو قوم کتنی دلچسپی لے ری ہے۔
جاسو سرکاری و غیر سرکاری ادارن کے سامنے یا تعداد کی بنیاد پے کام لئیو جاسکے۔
۔ایسا لوگن پے کون اعتبار کرے گو ۔جن کی پچھتر فیصد تعداد ویسے ای مَر کِھر گی ہوئے؟َ۔
(2)دوسری بات ای کہ انجمن اتحاد ترقی میوات ۔کوئی قوم راز تو ہے نہ ہے ۔کہ یاکی سیکریسی دُبکی رہے۔
یا قومی راز تو نہ ہے کائی پے ظاہر نہ ہوسکے۔
انجمن کا سارا ریکارڈ اور یا کی حقیقت ای ویب سائٹ بناکے ۔اپلوڈ کردئیو جائے۔
جو چاہے دیکھے ،تسلی کرے۔ریکارڈ کی مکمل شفافیت کے ساتھ دستیابی ممکن بنائے ۔
(3)الیکشن میں حصہ لین والان کی قابلیت کو معیار مقرر کرو جائے/
مثلاََ ایک آدمی انجمن کا الیکشن میں حصہ لینا کو خواہش مند ہے۔
ای حق میو قوم کا ہر باشندہ کو ملنو چاہے۔دیکھنو پڑے گو کہ کونس سیٹ پے امیدوار بن رو ہے۔
صدر ہے تو واکو معیار مقرر کرو جائے۔کوئی تعمیری کاقم کی ذمہ داری میں دلچسپی راکھے ہے تو واکو یا فیلڈ میں تجربہ ہونو چاہے۔
کوئی حساب و کتاب مین آنو چاہے تو واکو یا میدان میں تجربہ ہونو لازمی ہے۔
الیکشن کمیشن پے لازم ہوئے کہ ان کی قابلیت اور ان کو بیک گرائونٖڈ چیک کرے تسلی کرے۔
تجربہ اور خدمت کی بنیاد پے الیکشن میں حصہ لینا یا نہ لینا کو فیصلہ کرے۔
(4)حساب و کتاب اور امداد باہمی کو مکمل ریکارڈ انٹر نیٹ پے موجود ہے۔مثلا۔
ایک آدمی میں اپنی مرضی سو اپنی حیثیت کے مطابق امداد کرنو چاہ رو ہے۔
اُ واندرون ،یا بیرون ممالک میں ہے لیکن ذاتی طورپے حاضر نہ ہوسکے ہے۔
واکے مارے انٹر نیٹ پے سہلوت ہوئے کہ چندہ دئے۔
آٹو میٹک واکی رسیونگ رسید جنریٹ ہوکے واکو ملے جہاں سو چاہے والی کاپی نکلوالئے۔۔
یائی طریقہ سو مکمل کُلیکشن کو حساب ہوئے۔انتظامیہ کو جتنی رقم ملے وامیں سو جو خرچہ ہوئے اُو حساب میں لکھ دی جائے۔
یعنی ایک لیجر ٹائپ سوفٹر وئیر ہوئے۔یا میں آمدن۔اخرجات۔ کی مکمل تفصیل ہوئے۔
یائے بنک سٹیمنٹ کی طرح کوئی بھی کہیں سو بھی پڑنت کرکے اپنی دی ہوئی رقم یا مکمل آمد و خرچ کی تفصیل دیکھنا کو مجاز ہوئے۔
جو بھی پروجیکٹ شروع ہوکرو جائے یا زیر غور ہوئے واکی تفصیل ویب سائٹ پے دستیاب ہوئے۔
انمجن کا سارا معاملات کھلی کتاب ہوواں۔پوری تاریخ ۔یاسو پہلے کام کرن والا کی زندگی اور خدمات کی تفصیل دی جائے۔
جاسو آں والی کابینہ کے سامنے۔چالیس پچاس سالہ تاریخ ہوئے۔
جہاں خدمت ملے ۔وائے آگے بڑھائے۔جہاں شرارت،منافقت۔اورٹانگ کھنچائی ہوئے واسو بچو جائے۔
موئے امید ہے میو قوم اگر مطمئن ہوگئی تو ایک بدوکی کالج کہا ،ایک قوم جتنا چاہے کالج بنادئے گی۔
میو قوم میں بہت زیادہ پڑھا لکھا جوان موجود ہاں ۔یا پورا نظام اے بناکے دے دینگا۔
اگر کوئی نہ دئے تو سعد ورچوئل سکلز پاکستان اپنی خدمات قوم کے مارے حاضرہے۔

Leave a Comment

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid, the visionary mind behind Tibb4all, revolutionizes education and daily life enhancement in Pakistan. His passion for knowledge and unwavering community dedication inspire all who seek progress and enlightenment.

More About Me

Newsletter

Top Selling Multipurpose WP Theme