in ,

کیا ہم تاریخ تخلیق کرتے ہیں؟ دوسری قسط

کیا ہم تاریخ تخلیق کرتے ہیں؟
کیا ہم تاریخ تخلیق کرتے ہیں؟
کیا ہم تاریخ تخلیق کرتے ہیں؟
کیا ہم تاریخ تخلیق کرتے ہیں؟

 

دوسری قسط

کیا ہم تاریخ تخلیق کرتے ہیں؟

 

مضمون نگار
حکیم قاری محمد یونس شاہد میو

دوسری قسط

تاریخ کا فائدہ۔

تاریخ کا فائدہ و نقصان پر بحث اتنی طویل ہے کہ اسے کئی مجلدات پر پھیلایا جاسکتا ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ تاریخ کو ہم کیوں اہمیت دیتے ہیں ؟یاتاریخ کا معاشرتی طورپر کردار کیا ہے؟مختصرا کہا جاےتو ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنا اور انہیں نہ دھرانا۔اور کام کی باتیں اپنانا۔ان کی کوئی بھی صورت ہوسکتی ہے۔اگر ممکن ہوتو اپنا کردار ایسا متعین کرلیا جائے تو جو خود ایک تاریخ کا روپ دھار سکے۔

تاریخ کی ترتیب نو۔

تاریخیں عمومی طورپر شاہی درباریوں نے لکھی ہیں بالخصوص ہندستان میں تو اس کا خاص اہتما کیا گیا تھا۔بلکہ شاہان بند نے تو خود اپنے ہاتھوں سے چیدہ چیدہ واقعات ترتیب دئے ہیں۔تزک بابری۔تزک جہانگیری وغیرہ


کچھ تواریخ ان لوگوں نے لکھی ہیں جو دربار شاہی سے واسطہ و بالواسطہ منسلک تھے۔بدایونی۔خاکانی۔قاسم فرشتہ۔وغیرہیہ لوگ تاریخ نگار کم درباری قصیدہ خواں زیادہ تھے۔ جہاں کہیں انہوں نے دائرہ وفاداری کو پھلانگنے کی کوشش کی وہیں پر تادیبی کارروائی سامنے آگئی ۔ مثلاََ بدیونی کے بارہ میں باداشاہ وقت کا یہ مقولہ مشہور ہے کہ میں نے تمہیں مورخ بنایا تم تو فقیہ نکلے۔مجبوری ہے کہ اس وقت کی تاریخ کا ہمارے پاس یہی ایک ذریعہ ہے۔اسی چراغ کی مستنیر کرنوں سے اپنے من کو روشن کرنا پڑتا ہے۔

میوات کی تاریخ کی ترتیب نو

جس معاشرہ کی تاریخ مرتب کی جاتی ہے وہاں کا ماحول اور رسم و رواج اورلوگوں کے خیالات و رجحانات بہت اہمیت کے حامل اور ترایخ کے لئے خام مال کی حیثیت رکھتے ہیں۔اہل میوات نےتاریخ نویسی کا کام بہت دیر سےکم مقدار میں شروع کیا۔جتنی بڑی قوم ہے،تعدادی لحاظ سے اس کا حجم بہت بڑا ہے۔پاک و ہند میں اس کی منشتر افرادی قوت آج بھی اس کی عظمت پر گواہ ہے۔ لیکن جس مقدار میں آبادی ہے اس معیار کاکام سامنے نہیں آرہا ہے بسا غنیمت کہ ہلکی پھلکی انفرادی کوششیں کی جارہی ہیں،امید ہے یہ جو ئے ناتوان کسی دن ضرور سیلابی صورت اختیار کرلے گی۔

جو ملتا ہے بساغنیمت ہے۔

قومیں ارتقائی منازل طے کرتی ہوئی آگے بڑھتی ہیں ان کے راستے میں لق دق صحرا آتے ہیں،خوشگوار مناظر بھی آتے ہیں۔راہی جنتی ضرورت ہوتی ہے راستی سے گری پڑی چیزیں اٹھاتا ہے اور بوقت ضرورت کام میں لاتا ہے۔میوقوم کے بارہ میں جو کچھ لکھا گیا اور جنتی کوششیں کی جارہی ہیں ۔یہ ایک سیلاب کا پیش خیمہ ہیں۔اگر کسی میو نے زندہ رہنا ہے تو بکنگ جاری ہے جو آج کام کرے کرے میوات کی تاریخ میں اس کا نام لکھا جائے گا۔

تاریخ بنیادی طورپر ان لوگوں کی کتھا ہوتی ہوتی ہے جو اپنے حصے کی زندگی دوسروں کے لئے وقف کردیتے ہیں۔تاریخ کی اس قدر شاخیں ہیں جتنی انسان کی سوچ ہوتی ہے۔لفظ تاریخ میں سارا معاشرہ۔علوم و فنون۔عادات و اخلاق سب ہی کچھ آتا ہے۔لکھنےوالا اپنی پسند کا موضوع اختیار کرتا ہے اور پڑھنے والا اپنی پسند کا انتخاب کرتا ہے۔

عمومی طورپر لوگ لکھنے سے پہلے موضوع کی تلاش کرتے ہیں۔یہ سلسلہ کافی پیچیدہ بھی ہوتا ہے۔ایک بار جب لکھنا شروع کردیا جائے تو پھر انسانی قلم میں مضامین یوں اترتے ہیں کہ گویا یہ کوئی پرنالہ ہے جو ایک سیل رواں سے جڑا ہوا ہے جب تک سیل رواں موجود ہے اس کا بہائو کم نہیں ہوگا۔۔

لکھنے کا طریقہ۔

تاریخ بنانے کے لئے کسی خاص فلسفہ کی ضرورت نہیں ہے۔جو دیکھو لکھ دو۔فیصلہ بعد میں آنے والے کریں گے کہ کیا درست تھا کیا تھا ۔جو ایک بار کاغذ پر لکھا گیا وہ محفوظ ہوگیا۔مثلاََ آپ کسی سے بات چیت کرتے ہیں، ساتھ میں ایسا انتظام کریں کہ یہ گفتگو محفوظ بھی ہوجائے۔ اسے سلیقہ سے ترتیب دیں ،غیر ضروری الفاظ جو بے دھیانی یا تکیہ کلام کی وجہ سے زبان سے ادا ہوجاتے ہیں کو حذف کردی۔ ۔اسی تحریر کو آپ ایک ماہ کے بعد پڑھیں۔تو دیکھیں کہ کچھ ایسی باتیں بھی پڑھنے کو ملیں گی جن تو بات کرتے وقت دھیان ہی نہیں دیا گیا تھا۔


پھر چھ ماہ کے بعد اسی طرح سال بعد اس کا مطالعہ کریں۔دوسروں سے کہیں اسے پڑھ کر اپنی رائے دیں۔پھر کیا ہوگا۔دیکھتے ہی دیکھتے کچھ دیر کی گفتگو ایک کتاب کی تخلیق کا سبب بن جائے گی۔جتنے لوگ اسے پڑھیں گے اتنی ہی باتیں سامنے آئیں گی۔رفتہ رفتہ یہ کتاب کی ضخامت میں غیر محسوس طریقے سے اضافہ کا سبب بنتی جائیں گی۔

یہ کتاب جب ایک سو سال بعد پڑھی جائے گی تو ایک تاریخ بن چکی ہوگی۔یقین کرنا مشکل ہے لیکن تاریخ کی کتابوں میں یہی باتیں تو ہوتی ہیں،فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ عمومی طورپر بادشاہوں۔امراء وزراء،بڑے لوگوں کی باتیں ہوتی ہیں ،آپ نے یہی باتیں معاشرہ کے عام فرد کی لکھنی ہیں۔سو سال بعد بادشاہت،امیری۔غریبی سب رزق خاک ہوچکی ہونگی،اب ان دونون کی بات میں کوئی خاص فرق نہیں رہے گا۔کیونکہ بادشاہ اور عام آدمی ایک جیسی قبر میں محو آرام ہوتے ہیں،پڑھنے والا سوسال ماضی کو پڑھ رہا ہوتا ہے۔عام آدمی کی بات میںمعاشرہ کی عکاسی ہوتی ہے۔اس وقت ایک عام آدمی جس کی اکائی معاشرہ کی بنیاد ہوتی ہے کس طرح سوچتا ہے۔کیسے زندگی گزارتا ہے۔

بادشاہ یا وزیر و امیر کی زندگی سے تو معاشر ہ کی نبض کا پتہ نہیں چلتا۔البتہ اگرکسی نے رموز مملکت سیکھنے ہوں تو وہ بادشاہوں کی زندگی کا مطالعہ کرے۔عام آدمی کے لئے بادشاہ یا وزیر کی زندگی میں کیا کشش ہوسکتی ہے؟لبتہ عام آمی کی زندگی کے مطالعہ سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ زندگی کی سانسیں پوری کرنے کے لئے کتنے کربناک لمحات سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔جینے کی کتنی قیمت دینے پڑتی ہے۔

 

تاریخ کا افسوس ناک پہلو۔

 

جن کتابوں کو تاریخ کی کتابیں کہا جاتا ہے وہ بنیادی طورپر چند لوگوں کی ادھوری روئے داد زندگی ہوتی ہے۔ان میں جو باتیں لکھی ہوتی ہین سچی بات تو یہ ہے ان مین پڑھنے والوں کے لئے سوائے دماغ سوزی اور ذہنی عیاشی کے کوئی سامان منفعت موجود نہیں ہوتا۔مذہنی کتب اس سے مستثنی ہیں کیونکہ اکارین مذہب کی زندگی سے بعد والے لوگ اپنی ضرورت کے مطابق دلائل مہیا کرتے ہیں۔اس لئے،ان کے افعال و اعمال سے استشہاد کرتے تھے۔بعد والوں کی روزی روٹی انہیں دلائل سے وابستہ ہوتی ہیں۔

یہ بھی پڑگیں

مورخین ہند

جس آدمی کو جس بات کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرف رجوع کرتا ہے۔یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے جن چیزوں کو تاریخ کہہ کرپڑھا پڑھایا جاتا ہے بنیادی طورپر اس زمانہ کے احوال کی بازگزشت ہوتی ہے جسے تلاش کرنے کی سعی لاحاصل کی جاتی ہے۔لحاظ کوئی بھی ایسا کام کرنا جس کا کوئی فائدہ نہ ہو سعی لاحاصل ہوتا ہے۔

مذہبی تاریخ کا فائدہ

 

نصاب میں جو چیزیں تاریخ کے نام سے شامل کی جاتی ہیں ان کا سرورق عنوان سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔مثلاََ ہمیں تاریخ اسلام کے نام پر جو چیز پڑھائی جاتی ہے اس میں اسلام کے علاوہ سب کچھ ہوتا ہے۔یہ بنیادی طورپر بادشاہوں کی سچی یا جھوٹی کہانیاں ہوتی ہیں جن کی تصدیق یا تکذیب کا اس وقت کوئی ذریعہ موجود نہیں ہوتامثلاََ اسلام کی ابتدائی دور کے واقعات سے ہمیں یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اس دنیا میں کس طرح اسلام نے انقلاب برپا کیا؟۔

یہ بھی پڑھیں

دین کی دعوت میں اہل میوات کا کردار

اس حد تک تو درست ہے تاکہ دین اسلام کے پیرو کاروں کے لئے نشان منزل موجود رہے کہ اسلام کی ابتداء میں جو مشکلات تھیں ۔آج اسلام پر چلنے والوں کے لئےکتنی بھی مشکلات کھڑی کی جائیں بہر حال ان مشکلات سے کم ہونگی جو ابتدائے اسلام میں لوگوں کو پیش آئیں تھیں۔جو لوگ دین اسلام کی پیروی کرنا چاہیں ان کے لئے سامان صبر ہے،یہی فلسفہ قران کریم نے بیان فرمایا ہے۔

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ مِنْهُمْ مَّنْ قَصَصْنَا عَلَیْكَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ لَّمْ نَقْصُصْ عَلَیْكَؕ-وَ مَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِۚ-فَاِذَا جَآءَ اَمْرُ اللّٰهِ قُضِیَ بِالْحَقِّ وَ خَسِرَ هُنَالِكَ الْمُبْطِلُوْنَ۠(۷۸)

ترجمہ: ۔اور بےشک ہم نے تم سے پہلے کتنے ہی رسول بھیجے کہ جن میں کسی کا احوال تم سے بیان فرمایا اور کسی کا احوال نہ بیان فرمایا اور کسی رسول کو نہیں پہنچتا کہ کوئی نشانی لے آئے بے حکم خدا کے پھر جب اللہ کا حکم آئے گا سچا فیصلہ فرمادیا جائے گا اور باطل والوں کا وہاں خسارہ۔یعنی کچھ باتیں بیان کردی گئی ہیں کچھ کا ذکر چھوڑ دیا گیا ہے۔

وَ كُلًّا نَّقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهٖ فُؤَادَكَۚ-وَ جَآءَكَ فِیْ هٰذِهِ الْحَقُّ وَ مَوْعِظَةٌ وَّ ذِكْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ(۱۲۰سورہ ہود)۔

اور رسولوں کی خبروں میں سے ہم سب تمہیں سناتے ہیں جس سے تمہا رے دل کو قوت دیں اور اس سورت میں تمہارے پاس حق آیا اور مسلمانوں کے لئے وعظ و نصیحت (آئی)۔
ان آیات میں جو مقصد بیان کیا ہےکہ اس سے ڈھارس بندھی رہے۔۔معلوم ہوکہ جو کچھ دین کے معاملہ میں ہورہا ہے کوئی نئی بات نہیں ہے اس سے پہلے بھی اس طرح کی آزمائشیں آچکی ہیں۔کسی پریشان یا گھبراہٹ کے بغیر کام جاری رکھا جائے۔ ظاہری حالات و نتائج کیسے بھی ہوں پروا نہیں سب سے اہم بات یہ ہے کہ جو مشن سونپا گیا ہے اس کی صداقت کسی بھی شک سے بالاتر ہے۔اس کا لوگوں تک پہنچا دینا ہے کامیابی ہے،ماننا ،یا ماننا اتنا اہم نہیں۔جنتا اس کا صحیح ابلاغ ضروری۔

 

اس کے بعد کئی دھائیاں ایسی گزریں جن میں اسلام کا بول بالا تھا۔ان کی زندگی میں سامان اتباع موجود ہے۔اس کےبعد والوں کی زندگی کو اسلام سے منسوب کرنا اسلام کے ساتھ زیادتی ہے۔بعد والوں کے حالات زندگی کو اسلام سے منسوب کرنا،بڑی زیادتی ہے۔کیونکہ اس میں امور مملکت کا ذکر ۔لشکر کشی۔درباری داد و دہش۔مال کی ریل پیل۔ہر وہ کام جسے اسلام نے روکا جس کے خلاف مضبوط بند باندھا اسلام کے نام پر وہ سب چیزیں مباح قرار دیکر نظریہ ضرورت کی مہر ثبت کی گئی۔

اس لئے ان سوانح عمریوں کو تاریخ اسلام کانام دینا۔اسلام کے ساتھ زیادتی ہے۔البتہ یہ عنوان مناسب رہے گا کہ اسلام کے نام پر حکومت کرنے والوں کے حالات زندگی کہنا قرین انصاف ہوگا۔آخر کونسا فرماروا ایسا ہے جس نے احیائے اسلام کیا ہو؟ہاں ذاتی مملکت کی حفاظت خلوص دل سے کی ۔

Written by admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.

GIPHY App Key not set. Please check settings

3 Comments

بنک کا سود

بنک کا سود

ماضی بطور حال: تاریخ کے تناظر میں معاصر شناختوں کا ارتباط

ماضی بطور حال: تاریخ کے تناظر میں معاصر شناختوں کا ارتباط