in ,

کیا قربانی خواب کی وجہ سے واجب ہوئی؟

کیا قربانی خواب کی وجہ سے واجب ہوئی؟
کیا قربانی خواب کی وجہ سے واجب ہوئی؟
کیا قربانی خواب کی وجہ سے واجب ہوئی؟
کیا قربانی خواب کی وجہ سے واجب ہوئی؟

کیا قربانی خواب کی وجہ سے واجب ہوئی؟

 

حکیم قاری محمد یونس شاہد میو
سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویﷺ کاہنہ نو لاہور

 

انسان کے اندر اللہ نے بے شمار صلاحتیں رکھی ہیں۔جن کا اظہار سوتے یا گاتے میں ہوتا رہتا ہے۔
کوئی مذہب یا قوم و ملک ایسانہیں جو خواب دکھائی دینے کا منکر ہو۔زندگی میں ہر انسان کوئی نہ کوئی خواب ضرور دیکھتا ہے۔
لیکن اس کا پورا ہونا نہ ہونا محل نظر رہتا ہے۔خوابوں کی تعبیر بہت بڑا فن ہے جس کا علم قران کریم کی رو سے حضرت یوسف علیہ السلام کو دیا گیا تھا ۔سورہ یوسف میںحضرت کے تین خوابوں کا مع تعبیر ذکر موجود ہے۔اس کے علاوہ جد الانبیاء حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل ؑکے خواب کا بھی ذکر موجود ہے۔کتب سماوی بائبل قدیم و جدید میں بھی اس کا تذکرہ موجود ہے ،تینوں الہامی مذاہب متفق اللسان ہیں کہ جد الانبیاء ؑ کو خواب دیکھا ئی دیا۔اس کے پورا کرنے کی تصدیق بھی فرمائی۔

یہ بھی پڑھیں

اُونٹ، جدید سائنسی تحقیقات اور قرآن حکیم

خواب کیوں دکھائی دیا؟

آیا خواب کی بنیاد پر اتنا اہم اور بنیادی حکم دیا گیا ،جب کہ وحی کا سلسلہ موجود تھا اس کی کیا ضرورت پیش آئی؟اللہ تعالیٰ وحی جلی کے ذریعہ بھی بیٹے کی قربانی کا حکم دے سکتے ہیں ؟لیکن خواب میںکیوں حکم دیا گیا؟ اس کی بہت سی وجوہات ہوسکتی ہیں۔من جملہ اتباع کی ایسی صورت پیش کی گئی تھی جس میں غور و تدبر اور اطاعت کی گہرائی دنیا کو دکھانا مقصود تھی۔کیونکہ وحی جلی کی موجود گی میں کوئی آپشن باقی نہ رہتا۔

خواب کی تعبیر

قَدْ صَدَّقْتَ ٱلرُّءْيَآ ۚ إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِينَ (الصافات – 105)۔
بے شک آپ نے خواب کو سچا کردکھایا یقیناً ہم نیکوکاروں کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں۔۔
خواب ، جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ ان کی تعبیر ہوتی ہے . عام سا انسان بھی جانتا ہے کہ اس میں دیکھاہے جانے والے مناظر و واقعیات حقیقی نہیں بلکہ تمثیلی ہوتے ہیں . تعبیر عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ایسی حالت کو کہتے ہیں جس میں کسی دیکھی چیز کی وساطت سے کسی ان دیکھے نتائج تک پہنچنا . پھر اس ہی سے خواب کا انجام بتانے کا مطلب نکلتا ہے . یہ لفظ سورہ یوسف کی آیت ٤٣ میں استعمال ہوا ہے

خواب کی شرعی حیثیت

اللہ کے پیغمبروں پر جو وحی آتی ہے اس کی مختلف قسمیں ہیں، جن میں ایک خواب بھی ہے۔ یہ خواب دو طرح کے ہوتے ہیں۔ تمثیلی اور حقیقی۔ حقیقی اور عینی خواب میں اصل حقیقت صاف اور بے پردہ دکھائی جاتی ہے اور وہی مقصود ہوتی ہے، تمثیلی خواب میں حقیقت کو کسی اور پیرایہ میں دکھایا جاتا ہے۔ جیسے حضرت یوسف علیہ السلام کا یہ خواب کہ گیارہ ستارے اور آفتاب وماہتاب ان کو سجدہ کررہے ہیں اور ان کو قحط اور خشک سالی کی حالت اور سوکھی بالوں اور دبلی پتلی گایوں کی صورت میں دکھائی گئی تھی۔

دوسرے لفظوں میں یوں سمجھیے کہ بعض خواب مثالی صورت میں دکھائے جاتے ہیں اور تعبیر وبیان کے محتاج ہوتے ہیں، بعض ٹھیک ٹھیک مشاہدہ بن کر سامنے آتے ہیں، ان کے سمجھنے کے لیے تفصیل وتعبیر کی ضرورت نہیں ہوتی۔

خواب سے پہلے قربانی کا تصور

مذاہب عالم میں قربانی ایک مسلمہ حقیقت ہے جس پر تمام ممالک کے لوگ کسی نی کسی طرح عمل پیرا ہیں،سوچنے کی بات یہ ہے کہ سیدنا ابراہیم ؑ و سیدنا اسماعیل علیہما السلام کے خواب سے پہلے قربانی کا تصور نہ تھا؟۔ ایسی بات نہیں قران کریم کی آیات کے مطابق پہلے انسان کی دنیا میں آمد سے ہی قربانی کا سلسلہ شروع ہوگیاتھا۔البتہ حالات کے مطابق اس کی ادائیگی کی مختلف شکلیں تھیں۔

قربانی کا مفہوم۔

ہم اردو میں لفظ قربانی ہی عام طور پر استعمال کرتے ہیں۔ اسلامی اصطلاح میں قربانی کا ایک خاص مفہوم ہے جس کا تذکرہ امام راغب اصفہانی نے مفردات القرآن میں فرمایا ہے کہ:۔
”یعنی قربانی ہر اس چیز کو کہا جاتا ہے جس کے ذریعہ اللہ کا قرب حاصل کیا جائے، چاہے وہ جانور ذبح کرکے ہو یا صدقہ و خیرات کرکے۔ چنانچہ عرف عام میں قربانی کا لفظ جانور کی قربانی کے لئے بولا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

دین کی دعوت میں اہل میوات کا کردار

ہرقوم کے لئے قربانی کا طریقہ موجود ہے

قرآن کریم نے سورہ حج کی ۳۴ ویں اور ۶۷ ویں آیت میں ذکر کیا ہے”اور ہم نے ہر قوم کے لئے قربانی کا طریقہ مقرر کردیا ہے تاکہ جن جانوروں کا رزق ہم نے عطا کیا ہے ان پر نام خدا کا ذکر کریں پھر تمہارا خدا صرف خدائے واحد ہے تم اسی کے اطاعت گزار بنو اور ہمارے گڑگڑانے والے بندوں کو بشارت دے دو “۔ (سورہ حج ، آیت ۳۴)

اور ” ہر امّت کے لئے ایک طریقہ عبادت ہے جس پر وہ عمل کررہی ہے لہذا اس امر میں ان لوگوں کو آپ سے جھگڑا نہیں کرنا چاہئے اور آپ انہیں اپنے پروردگار کی طرف دعوت دیں کہ آپ بالکل سیدھی ہدایت کے راستہ پر ہیں “ (سورہ حج، آیت ۶۷)

۔یقینا تھا تو پھر اس واقعہ کو اتنی اہمیت کیوں دی گئی ہے۔۔جد الانبیاءؑ کے خواب کو اتنی اہمیت اس لئے دی گئی ہے کہ قربانی کا جو تصور اس وقت راج تھا اسے بدلنا مقصود تھا۔اس سے پہلے قربانی کسی خاص چیز کے ساتھ منسوب نہ تھی ایک معمولی چیز سے لیکر قیمتی ترین متاع اولاد تک کو بھینٹ چڑھا دیا جاتا تھا۔

اس خواب کا حقیقی مقصد

قربانی کو ایسا مفہوم رائج کرنا تھا جو سب کے لئے قابل قبول ہو۔وہ پالتو جانور زبح کرنے کا تصور تھا۔اگر وہی آتی اور سیدھا سیدھا بیٹے کے گلے پر چھری رکھ دی جاتی تو یہ کام تو پہلے بھی لوگ کررہے تھے۔زمانہ ابراہیمیؐ میں آتش پرستی کا مسلک رائج تھا،اس میں اور نذر و نیاز ۔چڑھاوے آگ میں جھونک دئے جاتے تھے۔ یا پروہت کھاجاتے تھے۔مذہب کے رکھوالے اپنا حصہ رکھا کرتے تھے۔عام لوگوں کے لئے قربانی سے نفع رسانی ممنوع تھی۔

ہمیں مسلمان کیوں کہا جاتا ہے۔

 

حضرت ابراہیمؑ کی اطاعت خداواندی بنیادی طورپر امت مسلمہ کے لئے شریعت کا معتدل راستہ ہموار کرنا تھا۔اس میں فلاح انسانیت کا وہ تصور تھا کہ قدرت اسے آنے والوں کے لئے رائج کرنا چاہتی تھی۔
سورہ الحج کی یہ آیت ہمیں راستہ بتاتی اور طرز زندگی مقرر کرتی ہے۔
۔اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا حق ہے جہاد کرنے کا اُس نے تمہیں پسند کیا اور تم پر دین میں کچھ تنگی نہ رکھی تمہارے باپ ابراہیم کا دین اللہ نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے اگلی کتابوں میں اور اس قرآن میں تاکہ رسول تمہارا نگہبان و گواہ ہو اور تم اور لوگوں پر گواہی دوتو نماز برپا رکھواور زکوٰۃ دواور اللہ کی رسّی مضبوط تھام لو وہ تمہارا مولٰی ہے تو کیا ہی اچھا مولٰی اور کیا ہی اچھا مددگار(سورہ الحج۷۸)

معتدل طریقہ قربانی کا تصور

ابراہیمی طریقہ میں اس قدر اعتدال ہے جسے ایک امت کا عمل قرار دیا گیا ہے۔۔۔
اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ كَانَ اُمَّةً قَانِتًا لِّلّٰهِ حَنِیْفًا-وَ لَمْ یَكُ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۙ(۱۲۰)شَاكِرًا لِّاَنْعُمِهٖ-اِجْتَبٰىهُ وَ هَدٰىهُ اِلٰى
صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ(۱۲۱)وَ اٰتَیْنٰهُ فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً-وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ(۔121۔122النحل)

بیشک ابراہیم تمام اچھی خصلتوں کے مالک (یا) ایک پیشوا ، اللہ کے فرمانبردار اور ہر باطل سے جدا تھے اور وہ مشرک نہ تھے۔ اس کے احسانات پر شکر کرنے والے، اللہ نے اسے چن لیا اور اسے سیدھے راستے کی طرف ہدایت دی۔ اور ہم نے اسے دنیا میں بھلائی دی اور بیشک وہ آخرت میں قرب والے بندوں میں سے ہوگا۔۔

حضرت سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کا خواب دیکھنا۔اور تابعدار بیٹے کا اس کی تعبیر کے لئے خود کو چھری کے سامنے پیش کرنا عجوبہ تھا۔کیونکہ اگر کوئی باپ اپنی اولاد کی قربانی کا فیصلہ کرتا تو ۔لازمی نہ تھا کہ بیٹا بھی حضرت اسماعیل ؑ کی طرح سر تسلیم خم کرتا۔یعنی اس قربانی مین اطاعت اور خشوع کے علاوہ کچھ نہ تھا۔

فلسفہ قربانی

 

قران کریم نے اس واقعہ کو خواب کی سچائی۔حقیقی تعبیر اور ذبح عظیم قرار دیا ہے ۔۔یہ قربانی کا فلسفہ اور حقیقت ہے۔قربانی کا اکراہی تصور قابل قبول نہیںہے،اطاعت شعاری۔احکامات خداوندی کی پورے اخلاص اورانہماک کے ساتھ ادائیگی۔یہی قرابانی کی ھقیقت اور غرض و غائت ہے۔ان آیات پر غور کیجئے قران کریم نے اس واقعہ کو کس قدر جامع اور بہترین انداز مین بیان کیا ہے،۔

ئی بھی پڑھیں

الخبز۔روٹی

قرآن کریم کے بقول بعض قومیں اپنے بچوں کوذبح اور قربان کیا کرتے تھے اور حضرت ابراہیم (ع) اس عمل کو منسوخ کرنے کیلئے اپنے بیٹے اسماعیل (ع) کو ذبح کرنے کیلئے بڑھے اور پھر اسماعیل کے بجائے دنبہ کو ذبح کردیتے ہیں” پھر جب وہ فرزند ان کے ساتھ دوڑ دھوپ کرنے کے قابل ہوگیا تو انہوں نے کہا کہ بیٹا میں خواب میں دیکھ رہا ہوں کہ میں تمہیں ذبح کررہا ہوں اب تم بتاؤ کہ تمہارا کیا خیال ہے فرزند نے جواب دیا کہ بابا جو آپ کو حکم دیا جارہا ہے اس پر عمل کریں انشاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے ، پھر جب دونوں نے سر تسلیم خم کردیا اور باپ نے بیٹے کو ماتھے کے بل لٹادیا ، اور ہم نے آواز دی کہ اے ابراہیم (علیہ السّلام )، تم نے اپنا خواب سچ کر دکھایا ہم اسی طرح حسن عمل والوں کو جزا دیتے ہیں ، بیشک یہ بڑا کھلا ہوا امتحان ہے ، اور ہم نے اس کا بدلہ ایک عظیم قربانی کو قرار دے دیا ہے “ ۔ (سورہ صافات ، آیت ۱۰۲ تا ۱۰۷۔ تفسیر کبیر ، فخر رازی ، ج ۱۳ ، ص ۱۳۸) ۔

 

رسم قربانی کی تبدیلی۔نیا دستور انسانیت

اگر چہ حضرت ابراہیم نے کامل طور سے اس عمل کو تبدیل کرنے کیلئے پہلے خداوند عالم سے حکم حاصل کیا تاکہ اپنے بیٹے اسماعیل کو ذبح کریں (سورہ صافات ، آیت ۱۰۱ و ۱۰۲) اورحضرت اسماعیل بھی قربانی کے حکم میں تسلیم ہوگئے اور اپنی رضایت کا اعلان کیا (گذشتہ حوالہ)
اور یہاں تک کہ حضرت اسماعیل نے قربان ہونے کے لئے اپنی پیشانی کو زمین پر رکھ دیا (سورہ صافات ، آیت ۱۰۲ تا ۱۰۵ ) لہذا حضرت ابراہیم اور اسماعیل کے ایمان وخلوص کے درجات کے آشکار ہونے کے بعد خداوند عالم نے حضرت اسماعیل کی جگہ دنبہ بھیج دیا (گذشتہ حوالہ) ۔۔۔

Written by admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.

GIPHY App Key not set. Please check settings

2 Comments

مورخین ہند۔دنیا کا علم

مورخین ہند

مکتبہ علامہ سید سلیمان ندوی