in

میں ملتانی مرحوم سے کیسے مرعوب ہوا۔

میں ملتانی مرحوم سے کیسے مرعوب ہوا۔
میں ملتانی مرحوم سے کیسے مرعوب ہوا۔

میں ملتانی مرحوم سے کیسے مرعوب ہوا۔

میں ملتانی مرحوم سے کیسے مرعوب ہوا۔
میں ملتانی مرحوم سے کیسے مرعوب ہوا۔

میں ملتانی مرحوم سے کیسے مرعوب ہوا۔
پہلی قسط

 

حکیم قاری محمد یونس شاہد میو

 

(1)حکیم صاحب علیہ الرحمہ نے طبی استشہاد کے لئے جابجا آیات قرانی پیش فرمائیں،

یہ انقلابی سوچ تھی۔اگر میرا حافظہ خطا نہیں کررہا تو میں نے حکیم صاحب کی ایک تحریر پڑھی تھی

اور یہ تحریر آری دنوں کی ہے جب وہ اپنی سوچ کو عملی جامہ پہنانے کے لئے سر توڑ کوشش کررہے تھے

۔انہوں نے قران کریم کی ان تفاسیر کا گہرائی سے مطالعہ کرنا شروع کردیا تھا جو اردو مین دستیاب تھیں ۔

حکیم صاحب شاید عربی زبان سے ناواقف تھے،اس لئے قران کریم کے تراجم اور اردو تفاسیر سے استفادہ کرتے تھے۔

ان کا کہنا تھا میں اپنے نظریہ کو قران کریم اور احادیث رسولﷺ کی کسوٹی پر رکھونگا۔جو اس کسوٹی پر پورا اترا باقی رکھونگا۔

یہ بھی پڑھیں

چھ نبض کل امراض

ورنہ اسے خارج کردونگا۔اس گہرے فکر و تدبر نے حکیم صاحب کی بینائی پر گیرا اثر ڈالا۔اور آخری عمر میں بینائی سے ہاتھ دھونا پڑے۔
ھکماء نے حضرت مجدد الطب کے نسخو ں،تشخیصات اور نظریات کو تو سینے سے لگایا۔ان سے استفادہ کیا

لیکن حکیم صاحب کی آخری خواہش کا کسی نے احترام نہین کیا۔ان کے شاگردوں میں کئی لوگوں نے اپنی کتب میں آیات قرانیہ سے استشہاد کیا ہے

۔لیکن وہ بھیدوسروں کے سہارے۔یعنی کوئی خود حافظ نہ تھا۔کوئی عربی سے نابلد تھا۔اس کی نظیر قانون صابر۔عطیات صابر میں دیکھی جاسکتی ہے۔
راقم الحروف نے اس طرف توجہ کی اور بساط بھر لکھا بھی ۔میں نے دیکھا کہ صابر ملتانی کا قانون طب نبوی کی تشریح ہے۔

تحدیث نعمت کے طور پر کہتا ہوں اللہ نے قانون صابر کی فہم بھی دی اور ۔عربی مداررس سے فارغ التحصیل ہونے کی حیثیت سے قران و حدیث

یہ بھی پڑھیں

عید ٹپس۔۔کونسا گوشت کس کے لئے مفید ہے

۔عربی فارسی۔اردو،پنجابی،اور میواتی میری مادری زبان ہے میں پڑھنے لکھنے سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی

۔اس لئے راقم الحروف نے چالیس کے قریب طب نبوی چھوٹی بڑی کتب لکھیں۔اور یہ سلسلہ تاہنوز جاری ہے

۔دیکھیں اللہ تعالیٰ کب تک یہ کام لیتے ہیں۔میرے ذہن میں یہ بات نکالے نہیں نکلتی ک

 

 جو کام صابر صاحب ادھورا چھوڑ کے گئے تھے اس کی قران و حدیث کی کسوٹی والا کام اللہ بندہ ناچیز سے لیگا۔اور لے رہا ہے۔

(2) مفرد اعضاءفارماکوپیا۔

حضرت مجدد الطب نے جو انداز اختیار کیا اور اپنے فارماکوپیا میں دوباتوں کا خصوصی خیال رکھا۔ایک تو وہ منشیات سے پاک تھا ۔دوسرا اس میں مہنگے اور نایاب اجزاء نہیں تھے۔سہل الحصول اتنا کہ اپنے باورچی خانہ میں سارا فارماکوپیا دستیاب تھا۔

یہ اجزاء ہمارے روزہ مرہ کے استعمال کی چیزیں تھیں۔اس لئے انہیں بطور دوا استعمال کرنے سے کسی کو وحشت نہ ہوئی۔ایک طبیب سے لیکر خاتون کانہ تک بے دھڑک استفادہ کرتے رہے اور کررہے ہیں۔ اس فارماکوپیا کو اللہ نے شرف قبولیت بخشا شاہد ہی طبی دنیا میں کوئی فرماکوپیا اس قدر استعمال کیا گیا ہو۔جتنا حکیم صاحب کا ترتیب دیا ہوا فارماکوپیا استعمال ہوا۔

حضرت مجدد الطب کی سوچ شاید یہ تھی تھی کہ طب کو اتنا سہل اور آسان بنا دیا جائے کہ فلاح انسانیت کا دروازہ کھل جائے۔وہ اپنی اس سوچ مین بہتر طریقے سے کامیاب ہوئے۔
افسوس ان کے ماننے والوں نے اسے پھر مہنگی اور نایاب ادویات۔زعفران۔کستوری۔عنبر کی طرف دھکیل دیا۔

جب کہ ان کا مقصد ان کی کتب اور ان کے تقاریر کے ریکارڈ سے واضح ہے کہ وہ عام ملنے والی سستی ترین اشیاء کے خواص معلوم کرکے خدمت خلق کرنے کا جذبہ پیدا کرنا چاہتے تھے۔ان کی خواہش تھی جو کچھ تحقیق کیا جائے وہ اکیلے کی نہیں بلکہ پوری انسانیت کی میراث ہوتی ہے۔اسے شائع کرنا ضروری ہے۔بخل و امساک جرم تھے۔

الحمد اللہ راقم الحروف ان کے طریقے کو زندہ کرنے کی حتی الوسع کوشش میں لگا ہوا ہے۔اور ان کی قائم کردہ کسوٹی پر بےکار اور خش و کاشاک سمجھی جانے والی جڑی بوٹیوں پر لکھ رہا ہے۔نیم کے فوائد۔کسٹرائل کے 100 فوائد۔گیندنے کے پھول کے طبی خواص

۔اونٹ کے اجزاء کے طبی خواص۔گھریلو ایشاء کے طبی خواص۔رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں کھائے جانے والے کھانے اور مشروبات۔احادیث میں مذکورہ غذائی دوائیں۔کتب آسمانی میں مذکورہ نباتات کے طبی فوائد۔وغیرہ۔یہ کتاب بھی اسی سلسلہ ذہبیہ کی کڑی ہے۔

(3)۔ہمیں اپنی روش بدلنا ہوگی۔

طبیب لوگ یاتو سہل پسندی سے کام لیتے ہیں چند نسخوں سے اپنی روزی روٹی کا سامان کئے بیٹھے ہیں۔روزی روٹی کا مسئلہ ہے۔اس کے علاوہ طب سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ان سے کوئی گلہ نہیں کہ دیہاڑی باز ہیں جو طبیب کے روپ میں کاروبار کررہے ہیں۔انہوں نے کوئی خدمت نہیں کرنی کیونکہ یہ اس میدان کے بندے ہی نہیں۔

دوسرے قسم کے وہ لوگ ہیں۔جو سطحی علم رکھتے ہیں۔تحقیق و تدقیق ان کے بس کی بات نہیں ہے یہ لوگ اگر لکھے ہوئے کو ہی ٹھیک انداز میں سمجھ لیں تو بہت بڑی بات ہے۔کئی حکماء ایسے بھی دیکھے جو لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے لیکن اچھے دوکاندار تھے۔انہیں تو ٹھیک انداز میں جڑی بوٹیوں کے نام تک نہیں آتے۔

لیکن وہ پنساری سے اپنا مافی الضمیر سمجھا دیتے ہیں وہ نسخہ پیک کردیتا ہے۔

یوں الٹے سیدھے تجربات کرکے حکیم حاذق کے درجے تک پہنچنے کے مدعی بن جاتے ہیں۔یہ لوگ بھی کاسہ لیس ہوتے ہین فن کی خدمت ان کے بس کا روگ نہیں۔
اب آتے ہیں صاحب علم اطباء کی طرف یہ پڑھنا لکھنا جانتے ہیں ۔کتب کا مطالعہ بھی رکھتے

۔لیکن ان میں سے چند لوگ ہی ایسے ہوتے ہیں جو کتابوں میں لکھے ہوئے جو وحی کا درجہ نہ دیتے ہوں

۔لکھنے ووالے نے جو لکھ دیا اس سے سرمو انحراف کرنے کی جسارت کرنا بھی بڑی بات ہوتی ہے

۔ایسے لوگوں کے ذنہوں میں تعمیری اور تنقیدی مضامین کا پیدا ہونا۔بہت دشوار ہوتا ہے۔
اس وقت جو کتب مفرد اعضاء کے عنوان سے لکھی جاتی ہیں ان میں الفاظ کا ہیر پھیر ہوتا ہے۔

کوئی نئی بات دیکھنے کو نہین ملتی۔کسی کے نسخہ کو چند لفظوں کے بدلائو کے ساتھ اپنی طرف منسوب کردینے کو تحقیق کا نام دیا جاتا ہے۔

یہ لوگ محقق نہیں نقال ہیں۔ان سے یہ فائدہ ضرور ہواکہ ان کی تحریرات انٹر نیٹ کے ذریعہ سے اطراف عالم میں متعارف ہوگئیں۔

اور شعوری و لاشعوری طورپر طب کی کی مشہوری کا سبب ٹھہرے۔

(4)خدمت تو یہ ہے۔

اطباء کرام کو چاہئے ان قدرتی اشیاء اور ہر جگہ دستیاب ہونے والی اشیاء کو فروغ دیں ان کے کواص معلوم کریں

۔انہیں اپنے تجربات میں شامل کریں۔ان سے منسلکہ اجزاء پر مشتمل نسخے تجویز کریں۔بہتر ہے کہ مفردات کو رواج دیں

۔مثلاََ اس کتاب میں ہم نے بابونہ کے فوائد بیان کئے ہیں۔یہ باغات

۔سڑکوں کے کنارے۔عام بنجر ویران مقامات پر خورد رو بھی پیدا ہوتا ہے۔ہ

میں سوائے کیاریوں میں پھولدار پودے کے اضافہ کے اور کوئی اس کا مصرف نہیں دیکھتے۔

حالانکہ بابونہ کی سالانہ کروڑوں روپوں کی تجارت ہوتی ہے۔مہنگے داموں فروخت ہوتا ہے

۔اعلی سوسائٹی میں اس کا قہوہ شوق سے پیا جاتا ہے۔بڑے بڑے سٹورز مین اس کے مہر بند ڈبے مہنگے داموں فروخت ہوتے ہیں

۔ایک ہم ہیں کہ انہیں سوائے سجاوٹی پھولوں کے کوئی اہمیت دینے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔
ہماری یہی سب سے بڑی بد قسمتی ہے کہ ہماری چیزیں کے خواص و فوائد بھی اس وقت ظاہر ہوتے ہیں

جب اغیار انہیں پیکٹوں میں بند کرکے مہنگے داموں ہمیں لوٹاتے ہیں۔

جب ہمارے گھر کی کیاری مین اگنے والے پھولوں کی بے قدری کی جائے تو ہمیں قدرتی طورپر سزا ملے گ

ی وہی ناکارہ سمجھی جانے والے اشیاء مہنگے داموں خریدنے پر مجبور ہونگے۔۔۔۔
اگر یہی سلسلہ آگے بڑھتا رہا تو امید ہے لگے بندھے نسخوں اور فارماکوپیاز سے جان چھوٹ جائے گی۔۔

طب میں سب سے زیادہ توجہ کا مستحق یہی شعبہ ہے کہ سستے ترین نئے اجزاء تلاش کئے جائیں ،تاکہ اس گرانی کے دور میں سستے ترین اجزائی نسخہ جات ترتیب دئے جاسکیں۔کیا دیکھتے نہیں لالچی لوگ ہر اس چیز کے دام بڑھا دیتے ہیں۔جس کی مانگ ہو۔جب حضرت مجدد الطب نے اپنا فارماکوپیا ترتیب دیا تھا اس وقت یہ چیزیں ٹکے بھائو تھیں۔آج ان کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔یعنی سونف ملٹھی کی قیمتیں اس وقت کے زعفران سے بھی زیادہ ہوگئی ہیں

۔۔ایسے میں طب کی خدمت یہ ہے عام ملنے والے پھل پھول ۔پودے۔گھاس پھونس پر تجربات کئے جائیں تاکہ سستے ترین اجزاء پر مشتمل نسخہ جات کا حصول ممکن ہوسکے۔مجھے اس بات سے انکار نہیں کہ دیہاڑی دار دوا فروشوں کے لئے یہ کڑا امتحان ثات ہوگا۔

کیونکہ وہ زعفران کستوری کے نام پر لوگوں کی جیبیں خالی نہ کروا سکین گے۔لیکن افادہ عام اور صدقہ جاریہ کا یہ سلسلہ بند نہیں ہونا چاہئے۔۔اس وقت بہت سے قابل لوگ اس شعبہ میں کام کررہے ہیں کچھ کی توجہ اس طرف مبذول کران ضروری ہے۔جس دن ہمیں مشن صابر کی حقیقی غرض و غائت سمجھ میں آگئی۔امید ہے کہ طب کے لئے نئی جہت ثابت ہوگی
ایسا نہیں کہ پرانی کتب یا بیاضیں ناکارہ ہوگئی ہیں۔بلکہ ان کا نئے سرے سے جائزہ لیکر ضرورت کی چیزیں نکالی جاسکتی ہیں

۔ وہ تجربات جنہیں سرسری انداز میں لکھا گیا ہے نئے سرے سے انھیں پرکھا جائے ان کے خواص معلوم کئے جائیں۔بالخصوص وہ چیزیں جنہیں ہم بے کار سمجھ کر کوڑا دان میں پھینک دیتے ہیں ۔کیا یہ فالتو سمجھی جانے والی اشیاء بےکار محض ہوتی ہیں ؟ایسا ہر گرز نہیں یہ تو وہ جواہرات ہیں جن سے ایک صاحب عقل طبیب اپنے مطب کو چار چاند لگا سکتا ہے۔میں اللہ سے دعا کرتا ہوں مجھ ایسے کم علم اور آرام طلب انسان سےمزید کام لے لے۔

Written by admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.

GIPHY App Key not set. Please check settings

حضرت مجدد الطب صابر ملتانی ؒکا احسان۔

حضرت مجدد الطب صابر ملتانی ؒکا احسان۔

نظام ہضم اور گل بابونہ کے اکسیری فوائد

نظام ہضم اور گل بابونہ کے اکسیری فوائد