in ,

مضامین غیب آتے کہاں سے ہیں؟

مضامین غیب آتے کہاں سے ہیں؟
مضامین غیب آتے کہاں سے ہیں؟

مضامین غیب آتے کہاں سے ہیں؟

 

آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں ۔۔۔۔غالبؔ صریر خامہ نوائے سروش ہے ۔غالب

 

حکیم قاری محمد یونس شاہد میو

عام لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل باتیں جنہیں کوشش کرکے کوئی بھی معلوم کرسکتا ہے۔لیکن جو انسان کسی بھی موضوع پر غور و فکر کرے گا اسے کچھ نامعلوم باتیں بھی معلوم ہوجاتی ہیں۔اس کے مشاہدات دن رات ہوتے رہتے ہیں نئی نئی باتیں/ایجادات/علوم و فنون۔انسانی فلاح و آسائش کے لئے نت نئی تکنیکں۔یہ سب کچھ علوم غیب ہی تو ہیں جو پہلوں کی نگاہوں سے اوجھل تھیں ،بعد والوں نے انہیں کھوج نکالا۔

بحیثیت مسلمان ہمارا عقیدہ ہے کہ کائنات بنانے سے پہلے اس کے سارے پروگرام اور معاملات طے کردئے گئے تھے۔وامن شئی الا عندنا خزائنہ وماننزل لہ الا بقدر معلوم۔۔۔قران کریم کو آسمان دنیا پر یکبارگی میں اتار دیا گیا تھا۔ہم تک ضرورت کے مطابق پہنچایاگیا۔قران کریم کی ایک آیت ایسی ہے اس پر غور کرنے سے بہت سی ان دیکھی راہیں کشادہ ہوتی ہیں۔

سورہ طہ میں سیدنا موسیؑ اور وقت کے فرمانروا فروعون کا مکالمہ موجود ہے۔جب فرعون نے ایک سوال کیا۔فما بال القرون الاولیٰ۔ ۔ ہمارے پہلے لوگوں کا کیا بنا؟وقت کے نبی موسی نے جواب دیا۔لایضل ربی ولاینسی۔۔ان کا ڈاٹا میرے رب کے پاس وہ کچھ بھولتا ہے ،نہ ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔جب ساری چیزیں اس میں موجود ہیںتو یہ علم انسان کے لئے ہی تو ہے۔علم بالقلم۔۔علم الانسان مالم یعلم۔۔

نبوت ایک ایسا ذریعہ ہے جس کے توسط سے بے عیب خبریں مہیا ہوسکتی ہیں اس کے علاوہ خبریں تو مل سکتی ہیں لیکن ان کی صداقت اس انداز کی نہیں ہوتی جس پر من و عن آنکھیں بند کی جاسکیں۔ذرائع علوم ہر قوم و ملت کے الگ الگ ہیں لیکن خواہشات و ضروریات ملتی جلتی ہیں اس لئے قومیں ایک دوسرے کے علوم و فنون سے استفادہ کرتی رہتی ہیں۔انسانی صفات اس قدر زیادہ اور گہری ہیں قران کریم کے مطابق ان کا اظہار تاقیامت ہوتا رہے گا۔وفی انفسکم الاتبصرون،یعنی خود تمہارے اندر ایسی خوبیاں موجود ہیں جن کا ابھی تمہیں ادارک نہیں ہے۔
پہلے لوگوں کے پاس جتنے علوم و فنون تھے ان سے ان کا گزارہ ہوتا رہتا تھا۔لیکن ہر طلوع ہونے والا دن پنے ساتھ بے شمار ترقیاں اور اقسام علوم لیکر طلوع ہو تا ہے۔جو چیزیں کسی مفید کام میں آئیں باقی رہتی ہیں۔جن کی افادیت ختم ہوجائے وہ کتابوں دفن ہوجاتی ،اور ذہنوں سے محو ہوجاتی ہیں۔کل تک جن علوم و فنون کو ناگزیر سمجھا جاتا تھا آج ان کا نام تک کوئی نہیں جانتا۔جو چیزیں آج اہمیت کی حامل ہیں آنے والے کل انہیں روندھتا ہوا آگے بڑھ جائے گا۔

علوم و فنون القاء کئے جاتے ہیں یہ کسی قوم و مذہب کے پابند نہیں ہوتے۔اس وقت جس تیز رفتاری سے ضروریات زندگی کی طلب بڑھ رہی ہے ممکن ہی نہیں کہ آج سے بیس سال پہلے والی تکنیکیں اور تجربات اس کا ساتھ دے سکیں۔بات دور نکل گئی آئے اپنے موضوع کی طرف پلٹتے ہیں۔کہ الہام و غیب کی خبریں کہا سے ہم تک پہنچتی ہیں؟۔۔۔

تصنیف و تالیف کے میدان میں ذہنی طورپر بہت سے مدو جزر ونما ہوتے ہیں۔کئی خیالات بجلی کی کوند کی طرح کے ہوتے ہیں جنہیں قید تحریر میں لانا ضروری ہوتا ہے ورنہ وہ ہاتھ سے پھسل جاتے ہیں،دماغ سے محو ہوجاتے ہیں۔انسانی ذہن میں مہوم سا خاکہ تو باقی بچتا ہے لیکن اسے سمیٹنا بہت مشکل ہوتا ہے۔

راقم الحروف جب قلم و قرطاس کی محفل میں شریک ہوتا ہے تو طبیعت میں عجیب و غریب بدلائو آتے ہیں۔کچھ مضامین تو لکھتے لکھاتے بھی دائرہ تحریر سےچھلانگ لگاتے ہوئے نکل جاتے ہیں،۔کبھی طبیعت میں اتنی روانگی آتی ہے کہ صفحات کے صفحات لکھنے سے بھی بشاشت باقی رہتی ہے۔کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ چند سطور لکھنا بھی گراں گزرتا ہے۔

علمی دنیا میں ایسے عجوبے ہوتے رہتے ہیں کہ لکھنے والا لکھنا چاہتا ہے لیکن نہیں لکھ سکتا۔کبھی مضامین کی آمد اس قدر ہجوم کرتی ہے کہ انہین سمیٹنا مشکل ہوجاتا ہے۔جب کبھی ذہن الجھنوں کا شکار ہوتا ہے تو مضمون لکھنا تو ایک طرف نوک زبان پر رکھی ہوئی بات تک لکھنا مشکل ہوتا ہے۔میرا ذہن جب کبھی مضامین سے خالی ہوجاتا ہے۔موضوع نہیں ملتا۔بڑی بڑی کتابیں دیکھنے کے باوجود طبیعت آمادہ نہیں ہوتی تو میں قران کریم کی طرف رجوع کرتا ہوں۔اس وقت میرے ذہن پر اس قدر مضامین و علوم کی برسات ہوتی ہے۔سیراب ہوجاتا ہوں۔قران کریم کا مطالعہ مجھے علمی طورپر سیراب کرتا ہے۔اس قسم کے مضامین ٹھاٹھیں مارتے ہیں کہ اس سے پہلے گمان تک نہیں ہوتا۔۔۔میں جب بھی قران کا مطالعہ کرتا ہوں تو مضامین کی اس قدر آمد ہوتی ہے کہ کئی دنوں تک انہیں ترتیب دینے اور سمیٹنے میں لگ جاتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

GIPHY App Key not set. Please check settings

قرب قیامت علوم و فنون کی فراوانی ہوگی۔

چلے وظائف،عبادات میںپاکی کی غرض و غایت۔

چلے وظائف،عبادات میںپاکی کی غرض و غایت۔