in ,

لوگ کہتے ہیں ناول وقت کا ضیاع ہے؟

لوگ کہتے ہیں ناول وقت کا ضیاع ہے؟
ان سے کچھ نہیں سیکھتا کوئی۔میں بتاؤں کہ میں نے کیا سیکھا؟

•میں نے “جنت کے پتے” سے سیکھا کہ اچھی لڑکیاں سب کچھ نہیں کر لیتیں، وہ اللہ کا حکم مانتی ہیں اور اس سے اچھا گمان رکھتی ہیں۔ (نمرہ احمد).

 

میں نے“نمل” سے سیکھا ہے کہ ہمارے لئے سب سے اہم فیملی ہوتی ہے، ان کو اپنے ہونے کا احساس دلانا چاہیئے۔ (نمرہ احمد).

 

• میں نے “مصحف” سے سیکھا کہ اللہ ہمارا سب سے قریبی دوست ہے، وہ ہمیں کبھی اکیلا نہیں چھوڑتا۔ (نمرہ احمد).

 

• میں نے “متاع جاں ہے تو) سے سیکھا کہ کسی کہ جانے سے کوئی نہیں مرتا، بس جینے کے انداز بدل جاتے ہیں۔(فرحت اشتیاق).

 

• میں نے “اندھیری رات کے مسافر” سے سیکھا کہ ہم حکمرانوں کی آس پر نہیں بیٹھ سکتے، ہمیں اپنی مدد خود آپ کرنی ہے۔(نسیم حجازی).

•میں نے ” غم ہے یا خوشی ہے تو” سے سیکھا ہے کہ دل ٹوٹنے سے جو energy پیدا ہوتی ہے اسے ضائع نہیں کرتے بلکہ خود کو مضبوط بنانے کے لئے اس کا استعمال کرتے ہیں۔(تنزیلہ ریاض)۔

• میں نے’ یار یاروں سے ہو نہ جدا’ سے سیکھا ہے کہ دوست زندگی کا ایک اہم پہلو ہے، ان کیلئے جو قربانی دینی پڑے دو۔ (ماہرین زینب خان)۔

• میں نے” نیلم کا مرکت’ سے سیکھا کہ اپنے وطن کیلئے جان کی پرواہ کئے بغیر لڑنا چاہئیے۔(دیبا تبسم)

 

• میں نے ” پیر کامل” سے سیکھا کہ اللہ تعالیٰ جسے چاہے راہ راست پر لے آئے اور جلد یا بدیر دعائیں قبول ہو ہی جایا کرتی ہیں۔ ( عمیرہ احمد).

 

•میں نے “آب حیات” سے سیکھا کہ حرام کا مال آپ کو کبھی بھی نفع نہیں دے سکتا۔ (عمیرہ احمد)

 

• میں نے “قربونت بیرم” سے سیکھا کہ معجزے بھی ہوتے ہیں اور ان پر یقین رکھنا چاہیئے۔ (سمرین شاہ)۔

 

•میں نے ” یارم” سے سیکھا کہ کوئی بھی چیز منحوس نہیں ہوتی، یہ بس ہمارے ذہنوں کے خرافات ہیں۔ ( سمیرہ حمید).

 

• میں نے “قرارم کا تاج محل” سے سیکھا کہ ہم کسی بھی چیز سے اپنی محبت ختم نہیں کر سکتے ، چاہے وہ پہاڑ ہی کیوں نہ ہو۔ (نمرہ احمد)۔

 

• میں نے ‘ ایک لفظ محبت” سے سیکھا کہ جو دوسروں کے لئے آسانی پیدا کرتا ہے خدا اس کیلئے آسانی پیدا فرماتا ہے۔ ( نیلم ریاست).

 

• میں نے ‘من در عشق باشما ہاستم” سے سیکھا کہ ظلم پر خاموش رہنے والا بھی ظالم ہوتا ہے۔ (سمرین شاہ).

 

•میں نے ‘آن’ سے سیکھا کہ توبہ کا در ہمیشہ کھلا ہوتا ہے، اور خدا کے ہر کام میں مصلحت چھپی ہوتی ہے۔ (میرب حیات)۔

 

• میں نے‘سانس ساکن تھی’ سے سیکھا کہ عروج کو ہمیشہ زوال آتا ہے مگر زوال کبھی بھی ہمیشہ کیلئے نہیں رہتا۔ (نمرہ احمد)۔

 

• میں نے ‘ میرا رکھوالا ‘ سے سیکھا کہ جیت ہمیشہ سچ کی ہوتی ہے۔ (سمرین شاہ).

 

میں نے ناولوں سے جینے کا ڈھنگ سیکھا۔ میں نے ناولوں میں دوسروں کی دنیا میں کود کر ایک نئی دنیا کو سر کیا ہے۔
میں مختلف ہوں کیونکہ مجھے مختلف چیزیں پسند ہیں۔😌♥️

میں نے جناب مظہر کلیم صاحب کی عمران سیریز سے سیکھا ہے کہ ایمان ہی سب سے بڑی اور مضبوط طاقت ہے۔ حب الوطنی کسے کہتے ہیں عمران سیریز سے بہتر کوئی پلیٹ فارم نہیں ہو سکتا۔

میں نے جناب مظہر کلیم صاحب عمران سیریز سے سیکھا ہے ہنستے ہنستے خطروں سے بھڑ جانا اور ہنستے ہنستے ان سے نمٹنا۔ برے لوگوں کےساتھ برے بننے کی بجائے اپنا مقصد نکال کر انہیں ترک کر دینا۔

میں نے عمران سیریز سے سیکھا ہے کہ کبھی بھی اپنی ذاتیات کے لئے کسی سے بدلہ لینے کی غرض سے اس پر ظلم نہ کرنا لیکن اصول و قاعدہ و قانون کی پاسداری کے لئے لڑنا جہاد ہے

میں نے جناب ابن صفی صاحب کی عمران سیریز و جاسوسی دنیا سے سیکھا ہے کہ قانون کی پاسداری اور قانون کی بالا دستی کس طرح قائم و دائم رکھی جا سکتی ہے

Written by admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.

GIPHY App Key not set. Please check settings

نبی کــریم ﷺ پر درود پڑھنے کے فــضائل

ہماری نئی کتاب دروس العملیات کا مقدمہ

ہماری نئی کتاب دروس العملیات کا مقدمہ