in

قوانین حمورابی، دنیائے تاریخ کی قدیم ترین دستاویزات

قوانین حمورابی، دنیائے تاریخ کی قدیم ترین دستاویزات
قوانین حمورابی، دنیائے تاریخ کی قدیم ترین دستاویزات

قوانین حمورابی،
دنیائے تاریخ کی قدیم ترین دستاویزات

قوانین حمورابی، دنیائے تاریخ کی قدیم ترین دستاویزات
قوانین حمورابی،
دنیائے تاریخ کی قدیم ترین دستاویزات

(ہماری کتاب “جادوکی تاریخ”کا ایک ورق)
قوانین حمورابی،
دنیائے تاریخ کی قدیم ترین دستاویزات

 

حکیم قاری محمد یونس شاہد میو

 

کل حزب بما لدیہم فرحون[المؤمنون53الروم32]
تاریخ عالم میں قدیم ترین قوانین میںسے حمورابی کے قوانین ہیں یہ شریعت موسوی سے ہزار سال پہلے مرتب کئے تھے یہ بابلی بادشاہ 1792 تا 1750 یا پھر 1728تا 1686ق م۔ گزرا ہے آشوری مملکت کا یہ ساتواں تاجدار تھا۔

جس کی شہرت آسمان کے کناروں کو چھورہی ہے اس کے بارہ میں بہت سی کہانیانیاں اور حکایا ت پائی جاتی ہیں۔جادوگر لوگوں کا کہنا ہے مدنی قوانین کے ساتھ ساتھ سحری قوانین بھی حمورابی کی نشانیاںہیں
،حمورابی کے دور میں قوانین صحت بھی پوری طرح جاری ہوئے تھے معالج و مریض کی حیثیت متعین کی گئی تھی،تشخیص مرض اور اس کے معالجوں میں مختلف اسالیب سحریہ کام میں لائے جاتے تھے البتہ کاہنوں کا درجہ جادوگروں سے زیادہ بلند تھا[قصۃ الحضارۃ2/2]

کیونکہ یہود نے سحر و جادو بابل میں سیکھا تھا اور بابل کو مختلف ادوار میں عروج رہا ہے انہوں نے سحری قوانین بنائے انہیں برتا ان لوگوں نے سفید و کالے علم کو الگ الگ رکھا تھا۔
وہ لوگ جادوئی عملوں کے دوران مختلف بتوں کو پوجا کرتے تھے اور منافع کے حصول اور مضرت سے بچائو کی تدبیریں کیا کرتے تھے، جادو ایک ایسا فن تھاجسے بابلی معاشرہ میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتاتھا

اس کے کرنے والوں کے کوئی خوف مانع نہ تھا ،کاہنوں کو ایک خاص امتیاز ملا ہوا تھا اور ساحر اپنے عمل میں شریر ارواح اورمعبود ’’مردوخ‘‘ کو پکارتے تھے بابلی لوگ سحری اعمال میں علم طب کو بھی بروئے کار لایا کرتے تھے۔

مؤرخین کا خیال ہے کہ حمورابی سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے زمانے میں موجود تھے خلیل اللہ علیہ السلام سے انہوںنے ملاقات کی اور ان سے دعایئں لیں[ تفسیر المیزان از سید الطباطبائی7/227۔التحریر والتنویر2/ 248 جامع الطائف

التفسیر5/228]یہی بات سفر تکوین (23.21)میں بھی لکھی ہوئی ہے .1902میںآثار قدیمہ والوں نے پتھر کی ان سلوں کو کھود نکالاہے جن پر حمورابی نے اپنے قوانین کندہ کئے تھے یہ سیاہ چٹانیںہیں۔

سامی قوانین میں یہ سب سے قدیم قانونی دستاویزات ہیں[الموسوعۃ المیسرۃ فی الادیان1/411۔ موسوعۃ الرد علی الصوفیہ 96/411] ارشیف ،ملتقی اہل حدیث کے مطابق یہ قوانین بارہ(12) سنگلاخ سلوں پر کندہ کئے گئے تھے[ارشیف ملتقی1/12022] ان قوانین کو پیروں (بندوں) کی صورت میں کندہ کیاتھا مثلاََ1تا282(اشاروں سمیت13بند ۔ جب کہ66۔99 اور 110تا111بند غائب ہیں ) ان سلوںکا عمودی طول8قدم 2.5میٹر ہے۔سوس میں ان کا سوراخ ملا تھا [المفصل فی الرد علی شبہات اعداء 6/353]

یہ بھی پڑھیں

فہرست تصنیفات و تالیفات حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو

ان قوانین کی سلوں پر لکھی ہوئی ایک عبارت ہوں بھی ہے:میں حمورابی حاکم اعلیٰ ہوں اپنے معبودوں کی پوجا کرتاہوں،تاکہ میں عالم میں عدالت قائم کرسکوں اور شریر اور گنہ گاروں کے درمیان فیصلہ کرسکوں،اور طاقتور لوگوں کو کمزوروںپر ظلم سے باز رکھ سکوں ، خلق کی اصلاح میں کوشش کروں۔

میں حمورابی ہوں،میں با اختیار حاکم ہوں۔ میرے پاس بہت سی خیر آئی ہے مجھے لنبور اور دریلور سے ہر چیز دی گئی ہے،مجھے ارک شہر کی آبادی بخشی گئی ہے،اس کے باشندوں کے پاس کثیر پانی ہے[یہ تمام الفاظ پیدا کرنے والے کاتشکرہیں،اس انسان نے تیس سالوں سے متجاوز حکومت کی تھی[قصۃ الحضارۃ1/ 434]

یہ تنتمی زبان میں لکھی ہوئی عبارت ہے جوکہ ھندوروبی خاندان سے تعلق رکھتی ہے [قصۃ الحضارۃ2/46]ایک محقق یوں لکھتا ہے’’لما جائت بہ من قوانین و تشریعات سبقت کل قوانین الارضی( الوضعیہ)کہ دساتیر حمورابی زمین پر بننے والے قوانین میںسب سے قدیم ہیں[موسوعۃ الرد علی المذاہب الفکریۃ المعاصرۃ40 /267 مجموع مؤلفات عقائد الرافضیہ والرد علیھا 67/415]

یہ بھی پڑھیں

عملیات اور توہمات کی دنیا

حمورابی کے بارہ میں لکھاہے یہ عادل بادشاہ تھا اس نے سب سے پہلے عورت کو حقوق دئے [عمل المرأۃ فی المیزان1/13]یہ دیندار اور رعیت کاسچا خیر خواہ تھا اس نے قوانین اس لئے وضع کئے تاکہ لوگوں کے حقوق کی حفاظت ہوسکے اس نے مملکت کو احسن انداز میں چلایا اس کے وضع کردہ قوانین قدیم تریں قوانین شمار کئے جا تے ہیں [تفسیر المیزان 7/227 ]
مجلہ المینار کے ایک شمارہ میں توریت پر بحث کرتے ہوئے لکھاہے:اب ہم پورے شرح صدر کے ساتھ کہ سکتے ہیں حمورابی قوانین

کے اکتشاف کے بعد کوئی بات پوشیدہ نہیں رہی کہ موجودہ تورات قوانین /دساتیر حمورابی سے ماخوذہے [المجلہ المینار 7/101 ] دوسری جگہ اس بحث کو سمیٹتے ہو ئے لکھا ہے کہ کہ یہ اعتقاد کہ تورات قوانین حمورابی سے ماخوذ ہے کوئی برائی کی بات نہیں ہے ۔ہوسکتا ہے حضرت موسی نے معارف بشری سے استفادہ فرمایا ہو۔

یہ بھی پڑھیں

طاقت کیسے حاصل کی جائے؟

دوسری بات یہ کہ تاریخی طور پر علمی غلطی سامنے آئی ہو اوریہ بات ایمان کے منافی نہیں ہے کیونکہ تورات والے کی تائید روح اللہ سے کی جاتی تھی اور اللہ کی خاص عنایت تھی[مجلہ المینار 9/186] حمورابی کے نام اور اس کے اشتقاق کے بارہ میں تحقیقی بحث اگر دیکھنے ہوتومعارف الاثار تصنیف لفٹیننٹ کرنل خوجہ عبدالرشید صفحہ75ومابعد مطالعہ کرلی جائے۔

Written by admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.

GIPHY App Key not set. Please check settings

2 Comments

اکثر بیماریوں کی بنیادی وجہ قبض

اکثر بیماریوں کی بنیادی وجہ قبض

ہمیں اپنی روش بدلنی ہوگی۔

ہمیں اپنی روش بدلنی ہوگی۔