in

قدیم اطباء صرع (مرگی)کا علاج کیسے کرتے تھے:

قدیم اطباء صرع (مرگی)کا علاج کیسے کرتے تھے:
قدیم اطباء صرع (مرگی)کا علاج کیسے کرتے تھے:

 

قدیم اطباء صرع (مرگی)کا علاج کیسے کرتے تھے:
قدیم اطباء صرع (مرگی)کا علاج کیسے کرتے تھے:

 

 

 

قدیم اطباء صرع (مرگی)کا
علاج کیسے کرتے تھے:

(کتاب الفاخر فی الطب۔۔ابوبکر محمد بن زکریا رازی۔سے ماخوذ)

ناقل:حکیم قاری محمد یونس شاہد میو

اگر مریض بچہ ہوتو اسے دودھ پلائیں اور کوئی دوا نہ دیں۔ کیونکہ وقت گزرنے اور حرارت قوی ہوجانے سے دماغ کی رطوبت تحلیل ہو جاتی ہے اور مریض خود بخود ختم ہو جاتا ہے اس کی شہادت کتاب الفصول کے مقالہ دوم میں مذکور بقراط کے اس قول سے ملتی ہے کہ بچوں کو لاحق ہونے والی صرع عمرو موسم شہر اور تدابیر کی تبدیلی سے ٹھیک ہو جاتی ہے۔ اس کتاب کے پانچویں مقالے میں وہ مزید لکھتا ہے کہ موئے زیر ناف اگنے سے پہلے جب مرگی کا مرض لاحق ہوتا ہے تو وہ ٹھیک ہو جاتا ہے اور اگر پچیس سال کی عمر کے بعد لاحق ہوتا ہے تو وہ ٹھیک نہیں ہوتا بلکہ مریض اس مرض کے ساتھ ہلاک ہوتا ہے۔ لہذا بچے کے علاج میں بہت زیادہ محنت نہ کریں بلکہ دودھ پلانے والی عورت پر دھیان دیں چنانچہ اگر اس کا دودھ لطیف ہو تو اسے گاڑھا اور معتدل بنائیں۔ کیونکہ بعض اوقات لطیف دودہ غذائیت نہیں دے پایا اور اگر وہ غلط ہو تو اسے لطیف بنائیں کیونکہ غلیظ دودھ تشنج اور اعصاب میں کسی پیدا کرتا ہے۔ عورت کو مباشرت سے پرہیز کرائیں کیونکہ اس سے دودھ لطیف اور بدبودار ہوجاتا ہے۔ اگر عورت حاملہ ہو جائے تو اس کا دودھ مہلک ہو جا تا ہے۔ عورت کو غذاسے پہلے ورزش کرائیں اس کے بعد عمدہ خلط پیدا کرنے والی غذائیں دیں۔ پیاس کے وقت اس کی شراب پانی ملا کر پلائیں جو نہ بہت زیادہ نئی ہو اور نہ پرانی۔ اس میں جنگلی پیاز کا سرکہ بھی مفید ثابت ہوتا ہے۔ سبزیوں اور خصوصا کرفس سے پرہیز کرائیں۔ کیونکہ یہ مرگی کے مریض کے لیے مضر ثابت ہوتی ہے۔ شلیشا نامی معجون، آب مرزنجوش اور آب شابا نک(اشان سب میں ایک بوٹی جو بغداد میں کھائی جاتی ہے) میں حل کر کے بچے کی ناک میں ڈالیں۔ اگر بچہ حرکت کی عمر کو پہنچ گیا ہوتو غذا سے قبل ہلکی ورزش کرائیں۔ اس کے بعد اچھی طرح آٹا گوندھ کر تنور میں روٹی پکا کر دیں کیونکہ اس روٹی میں فضلات کم ہوتے ہیں۔ اگر مریض کا مزاج حار ہو تو روٹی کشنیز کے ساتھ دیں کیونکہ یہ دماغ کی جانب بخارات کے صعود کو روکتی ہے۔ اگر مریض سبزیاں کھانے کی خواہش کرے تو اسے کاسنی، خس
شاہترہ اور چقندر استعمال کرائیں۔ اس کے علاوہ تیتر، مرغی کے چوزوں، چکور اور گوریا کا گوشت استعمال کرائیں۔ بچے کو تمام چوپایوں خصوصا خنزیر کے گوشت سے پرہیز کرائیں۔ اگر اس کی ضرورت درپیش ہو تو بہت تھوڑی مقدار میں دیں۔ اگر بچے کو بد ہضمی اورنفخ کی شکایت ہو تو کھانا پکاتے وقت اس میں سیاہ مرچ، انیسون اور دار چینی شامل کردیں۔ رائی اگر بلغم ختم کرتی ہے لیکن چونکہ وہ بخارات پیدا کرتی ہے اس لیے اس سے پرہیز کرائیں۔ اگر مریض مچھلی کھانے کی خواہش کرے تو پہاڑی ندی کی چھوٹی چھوٹی تازہ مچھلیاں تھوڑی مقدار میں دیں ۔ لیکن پابندی سے استعمال نہ کرائیں جب تک مرض قائم رہے، تمام پھلوں سے پرہیز کرائیں۔ اگر پھل کھانے کی مریض کو شدید خواہش ہو تو کھانے کے وسط میں تھوڑا سا پھل دیں۔ خشک پھلوں خصوصا اخروٹ سے بھی پرہیز کرائیں البتہ تھوڑا سا پتہ مفت نہیں ہے۔ ہر قسم کی شراب سے پر ہیز کرائیں کیونکہ یہ کثرت بخارات پیدا کرتی ہے۔ البتہ تھوڑی مقدار میں ہضم میں مدد کرتی اور معدے کو تقویت بخشتی ہے۔ حمام سے بھی پر ہیز کرائیں خصوصا کھانا کھانے کے بعد کھانے کے بعد کوئی بھی مشروب یا پانی بالخصوص خالص شراب ہرگز نہ دیں۔ حمام سے نکلنے کے بعد جنگلی پیاز کی سکنجبین دیں۔ اگر اس کی فراہمی مشکل ہوتو شربت افسنتین دیں کیونکہ یہ معدے کے لیے نہایت مفید ہے اور اس میں جمع فضلات خارج کرتی ہے۔
مرض کی ابتداء میں دورے کے وقت روغن سوسن میں ایک پر یا کسی روغن میں اون تر کر کے حلق میں داخل کر کے قے کوتحر یک دیں اور قے کرا کے معدے میں موجودبلغم کو خارج کریں۔ اگر اس سے قے نہ آئے تو سویا، پودینہ ،نمک، جوز القی کنکر ز داورتخم مولی کا جوشاندہ پلائیں اور جب دورہ ختم ہوجائے تو مریض کا جائزہ لیں اگر بدن میں حرارت کے ساتھ شدید قسم کا امتلا ہو تو فصد کریں اور اگر مشکل ہو تو پنڈلیوں پر پچھنہ لگائیں۔ اس کے بعد ملطف دوائیں لگائیں۔ موسم سرما ہو تو ز وفا خشک کا جوشاندہ مریض کو پلائیں، میں نے بہت سے مریضوں کو اس سے مکمل طور پر صحتیاب ہوتے دیکھا ہے کیونکہ لیسدار رطو بات اکھاڑتا اور معدہ کو فصلات سے پاک کرتا اور باقیماندہ فضلات کو بول و براز کے راستے سے خارج کرتا ہے۔ اسے تنہا اورکبھی جنگلی پیاز کی سکنجبین کے ہمراہ بھی استعمال کرایا جاتا ہے۔ اگر گرمی کا موسم ہوتو جنگلی پیاز کی سکنجبین کے ہمراہ افسنتین کا جوشاندہ ہیں۔ اس کے بعد اگر سودا کا غلبہ ہو تو افتیمون ، غاریقون، ہلیلہ سیاہ ، ہلیلہ کابلی ، شاہترہ، سفائج اور ایارنج و تر بد کا جوشاندہ دیں
کیونکہ یہ جوشاندہ عجیب طرح سے سودا کا تتقیہ کرتا ہے اسے بار بار استعمال کرائیں خصوصا اس وقت جب مریض کا مزاج حار ہو اور اگربلغم کا غلبہ حب اصطخیون اور جالینوس کی حب تو قايا استعمال کرائیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دوسری قسط
مندرجہ ذیل حب بھی صرع میں نہایت مفید ہے۔
نسخہ۔
شحم حنظل، اسطوخودوس، جند بیدستر ہر ایک ۴ گرام، غاریقون 7گرام تر بد سفید ۲۳ گرام کوٹ چھان کر گولیاں بنائیں اور اس میں سے ۔7تا10گرام تک مریض کی طاقت، موسم اور عمر کے اعتبار سے دیں۔ اگر مریض جوانی کی آخری منزل پر اور طاقتور ہو تو اسے تبادریطوس میں ایک ایک گرام افتیمون اورشحم حنظل شامل کر کے استعمال کرائیں کیونکہ یہ معجون تمام فضلات سے بدن کو پاک کر دیتا ہے میں نے بہت سے لوگوں کو صرف اسی معجون کے استعمال سے صحت یاب ہوتے دیکھا ہے۔
معجون تبادریطوس،بلغم اور سودا سے تمام بدن کے امتلاء سن بھری جگر، معدہ طحال اور گردوں کے درد اور برودت و رطوبت سے پیدا شدہ قولنج میں مفید ہے۔ اس کے علاوہ حیض جاری کرتا ہے۔ بغیر مشقت کے اسہال لاتا ہے اور سر کے تمام امراض نقرس اور اختناق الرحم میں مفید ہے۔
نسخہ معجون ثبا دریطوس:
ایلو ۲۱۰ گرام، غاریقون ۸۳ گرام، زعفران 21 گرام، زراوند10گرام، اسارون،ملٹھی، روغن بلساں، جنگلی لہسن عودبلساں ہر حب بلساں ہر ایک 14گرام، قسط شیریں و تلخ ہر ایک ۲۸ گرام وج ترکی، مصطگی ، دار چینی ولونگ ہر ایک 21گرام، تج، جائفل ہر ایک ۳۸ گرام، بالچھر ۲۱ گرام، منڈی ۳۸ گرام، مرمکی7 گرام، مرچوں کی تینوں اقسام وفرفیون ہر ایک ۳۸ گرام، اذخر کی کلی7 گرام،خطیانا 14گرام،حمایا ۷ گرام،سقمونیا 63گرام اور شہد بقدر ضرورت ۔ تمام دوائیں کوٹ چھان کر شہد میں معجون بنائیں۔ پھر اس میں اگر اس میں14 گرام کے بقدر ہمراہ جوشاندہ افتیمون، مویز منقی و ہلیلہ سیاہ دیں۔
اگر اس کے بعد بھی مرض باقی رہ جائے تو ایارج جالینوس وایارج یوغازیا جن کا بیان مالیخولیا کے ذیل میں ہو چکا ہے، استعمال کرائیں اور ان کے ساتھ ہلیلہ سیاہ، افتیمون ، بسفایج ، اسطوخودوس، مویز منفی اور نمک ہندی کا جوشاندہ دیں۔ اس کے بعد غرغرہ کرائیں تا کہ اگر دماغ میں غلیظ و لیسدارفضلات موجود ہوں تو وہ خارج ہو جا ئیں غرغرہ کے لیے جنگلی پیاز کے سرکے میں ایارج فیقرا ملاکر بازوقا خشک ، رائی، عاقرقرحا اور پوست بیخ کبرکا جوشاندہ استعمال کریں ۔ اس کے بعد مرض کی واپسی روکنے کے لیے قے کے ذریعہ تحفظی تدابیر اختیار کریں۔ کیونکہ قے فضلات کو اچھی طرح خارج کر دیتی اور اخلاط کو بدن میں رکنے اور گاڑھا ہونے سے باز رکھتی ہے۔ اس کا سب سے بہترین وقت کھانے کے بعد بالخصوص سرکہ اورنمکین اور شیریں کھانا کھلانے کے بعد ہے۔ بلکہ سب سے بہتر یہ ہے کہ غذا اور پانی سے پوری طرح معدہ پر کر کے قت کرائیں کیونکہ اس حالت میں قے معدے کے غلیظ اور لیسدار اخلاط با سانی سے خارج کر دیتی ہے۔ کیونکہ جب معدہ میں اخلاط کی کثرت ہوتی ہے تو طبیعت کے لیے اس کا دفعیہ اور اخراج آسان ہوتا ہے۔ ( جالینوس)
اگر معدے میں موجود خلط گرم سوداوی ہوتو وہ آسانی سے غذا کے ساتھ مخلوط ہو جاتی ہے اور معدہ مری میں کوئی تکلیف پہونچائے بغیر خارج ہو جاتی ہے لیکن جب وہ خلط بار داور غلیظ ہوتی ہے تو وہ غذاؤں کی قوت ملطفہ سے ختم ہو جاتی ہے۔ اس لیے کھانے سے پہلے قے کرانے سے وہ خلط مشکل سے خارج ہوتی ہے اور اگر مرض کسی دوسرے عضو شل ہاتھوں، پیروں اور پنڈلیوں میں ہوتو اس عضو پر توجہ دیں اور بدن سے بلغم و سودا کا استفراغ کرائیں پھر اس کے بعد گرم، جذب کرنے والی اور لطافت پیدا کرنے والی دوائیں عضو پر لگائیں مثلا تعریق کے ذریعہ بکثرت رطوبت خارج کریں ۔ اس کے لیے ایک نہایت مفید دوا چیتہ لکڑی ہے اور جب قے ، اسہال اور غرغرہ وغیرہ کرادیں تو عضو ماؤف کی ورزش کرائیں۔ جب مرض طویل ہوجائے اور اس کی تم ردی ہو تو شدید قوت والی لطف دوائیں بالخصوص ایسی مسبل دوائیں دیں جس میں خربق بھگویا گیا ہو۔ کیونکہ یہ لیسدار غلیظ بلغم قے کے ذریعہ خارج کرتا ہے۔ اس کے بعد مفتئی فضلات وملطف معجونات مثلا تریاق مشروديطوس، ایارج روفس اور معجون ہرمس دیں تا کہ باقیمادہ فصلات خارج ہو جائیں اور قلب کا سوء مزاج دور ہوجائے
اس کے علاوہ درج ذیل معجون بھی مفید ہے۔
نسخہ معجون:
سیالیوس، حب الغار ہر ایک ۱۰ گرام، زراوند مدحرج، بیخ عود صلیب ہر ایک ۷ گرام، جند بیدستر، قرص جنگلی پیاز4 گرام۔ تمام دوائیں شہد میں گوندھ کر معجون بنالیں اور ماء العسل یا
سکنجبین عنصل کے ہمراہ دیں۔ مفرد دوا کے طور پر عاقر قرحاء، سرکہ اور شہد میں گوندھ کر چند ایام تک ایک چمچہ گرم پانی کے ہمراہ دیں۔ یہ ایک مجرب دوا ہے جسے جالینوس نے اپنی کتاب الادويہ البسيطہ میں بیان کیا ہے۔ یہ دوا بالخصوص صرع اطفال میں نہایت مفید ہے۔ اسی طرح جالینوس نے عودصلیب کے بارے میں کہا ہے کہ ایک بچے کو مرگی کا مرض لاحق تھا اس کے گلے میں عودصلیب
لٹکا دی گئی تو پندرہ مہینے اسے مرگی کا دور نہیں پڑا۔ جب یہ لکڑی اس کی گردن سے گر گئی تو اسے فورا مرگی کا دورہ پڑ گیا پھر دوبارہ اسے اس کی گردن میں لٹکا دیا گیا تو اسے دوبارہ دورہ نہیں پڑا۔ پھر میں نے اس دوا کے تجربے کی طور پر وہ لکڑی اتار لی تو اسے مرگی آگئی اور جب میں نے اسے گردن میں اٹکا دیا تو اسے پھر بھی مرگی نہیں آئی ۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ یہ لکڑی تازہ زیادہ بہتر ہوتی ہے۔ کیونکہ اس کے اجزا تحلیل ہو کر سانس کے ساتھ دماغ میں پہونچتے ہیں اور مرض کا دورہ نہیں پڑتا۔
صرع اطفال اور ارواح وشیاطین کے لیے گفتار کا خون ، عقاب کا پتہ اور خنزیر کا دماغ باہم مخلوط کر کے بطور سعوط استعمال کرائیں ۔ (شمعون)
بیخ عودصلیب بکثرت درختوں والی سایہ دار جگہ میں پیدا ہوتی ہے۔ اس کے پتوں کی دھونی ان لوگوں کے لیے نہایت مفید ثابت ہوتی ہے جنہیں اچانک مرگی کا دورہ پڑ جاتا ہے اور ان کی عقل بگڑ جاتی ہے۔ اس کی تھوڑی سی مقدار مریض کی گردن میں لٹکا دینے سے تمام آفات سے حفاظت ہو جاتی ہے۔ بت کے سامنے اس کی جڑ کی دھونی دی جاتی ہے۔ اس کا پھل جلنجبین کے ہمراہ چند ایام استعمال کرنے سے پاگل پن دور ہو جاتا ہے۔ (بوقراطیس)
چھنکیں، غلیظ بخارات سے پیدا شدہ گرانی سرمیں نہایت مفید ہیں۔ امراض راس مثلا بے خوابی اورنسیان وغیرہ چھینک لانے والی دواؤں کے استعمال سے دور ہو جاتے ہیں ۔ ( جالینوس)

Written by admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.

GIPHY App Key not set. Please check settings

مالیخولیا کا علاج

مالیخولیا کا علاج

اورنگ عالمگیر کلا طرز حکومت رواداری کا عظیم باب۔1

اورنگ عالمگیر کلا طرز حکومت رواداری کا عظیم باب۔1