in , ,

غیر معمولی زندگی،عمل کی اہمیت۔

غیر معمولی زندگی۔عمل کی اہمیت۔
غیر معمولی زندگی۔عمل کی اہمیت۔

 

غیر معمولی زندگی۔عمل کی اہمیت۔
غیر معمولی زندگی۔عمل کی اہمیت۔

پہلی قسط

حکیم قاری محمد یونس شاہد میو۔

 

جو لوگ صرف باتوں کی بنیاد پر کامیابی چاہتے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہئے اس کائنات میں ہر چیز کی کوئی نہ کوئی قیمت ہوتی ہے۔سوچ کی بنیاد پر قیمت کا تعین ہوتا ہے۔بڑی سوچ،بڑی کامیابی۔کمزور سوچ معمولی کامیابی۔یہ فطرت کے قوانین کے خلاف ہے کہ کسی کو بغیر قیمت ادا کئےکچھ مل جائے۔

 

اگر بالفرض محال وقت طورپر کچھ خیرات میں مل بھی جائے تو محنت و قیمت کے بل بوتے پر حاصل شدہ کامیابی کی لذت کہاں نصیب ہوتی ہے۔کچھ لوگوں کا کہنا ہوتا ہے کہ فلاں یوں کررہا ہے۔فلاں نے ایسا کردیا۔فلاں اس کا مستحق کہاں تھا؟ یاد رکھئے قدرت کبھی غلط فیصلہ نہیں کرتی۔

کسی بھی میدان کی محنت و لگن اور مناسب قیمت ادا کرنے سے جو کامیابی ملتی ہے۔اس کی لذت مادی طورپر بیان کرنے کی چیز نہیں ہے ۔ یہ کیفیت تو صرف انہیں کو محسوس ہوتی ہے میدان کار زار کے شہ سوار ہوتے ہیں۔جو چیزذہن میں سوچی جاسکتی ہے وہ کی بھی جاسکتی ہے ۔

یہ بھی پڑھیں

مضامین غیب آتے کہاں سے ہیں؟

کیونکہ سوچ بنیادی طورپر تخلیقی عمل کا نام ہے۔جب سوچ آگئی تو سمجھو وہ چیز تخلیق ہوگئی۔اسے مادی وجود میں لانے کے لئے محنت۔مہارت ۔لگن اورعمل پیہم چاہئے۔

قدرت کا یہ تحفہ کیا کم ہے کہ اس نے تمہیں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت دی۔سوچ کی طاقت کو استعمال کرنے کا ہنر دیا۔عملی جامہ پہنانے کی سکت دی۔ایسا ماحول دیا جو اسے مادی وجود بخش سکتا ہے۔ایسی لگن سے ہمکنار کیا جوزاد راہ کے طورپر کام دیتی ہے۔ہمیں وقت دیا کہ سوچ کی تخلیق کو عملی جامہ پہنا سکو۔دل و ماغ کی سلامتی مفت میں ملی۔

سید قاسم علی شاہ لکھتے ہیں:”کامیابی کی کہانی میں طاقت یہ ہوتی ہے کہ اسے سننے کے بعد کئی لوگ موٹیویٹ ہوجاتے ہیں۔ بے شمار ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کی زندگی میں تحریک آجاتی ہے اور وہ تحریک اس معیاری ہوتی ہے کہ وہ زندگی میںنا ممکن کوممکن بنادیتے ہیں۔ کامیابی یہ ہوتی ہے کہ ایک شخص معذور ہو، زندگی میں بہت سارے چیلنجز کا سامنا ہو، مشکلات اور پریشانیاں ہوں،

لیکن وہ ان سب کے باوجود کچھ کر کے دکھا دے۔ دنیا میں غیر معمولی (ایکسٹرا آرڈینری)بننے کیلے دو چیزیں درکار ہوتی ہیں۔ آپ کی بھی پروفیشن میں ہیں۔ کسی بھی پیشے میں ہیں، کسی بھی شعبے میں ہیں، دنیا کا کوئی کام کررہے ہیں، کچھ بھی ہیں توسب سے پہلی چیز رویہ اور دوسرا مہارت ہے۔

یہ بھی پڑھیں۔۔

اسی لمحے میں رہنا

ہمیں غیر معمولی بننے کیلئے ،پہلے اپنے رویے میں خود تبدیلی لانی پڑے گی ۔ ہمیں کامیاب کہانی بنانے کیلئے ایک اچھا موٹیویٹر بنتا ہے۔ اگر ہم اپنے موٹیویٹر نہیں بنتے تو پھر بھی کبھی غیر معمولی استادنہیں بن سکتے۔ موٹیویشن دینے کیلئے پہلی شرط یہ ہے کہ پہلے خودمونٹیوٹ ہوں تبھی دوسروں کو موٹیویٹ کرسکیں گے۔

جب آپ کے پاس آپ کے کام کرنے کی وجہ تنخواہ نہ ہو بلکہ کوئی مقصد ہو تو پھر آپ موٹیویٹر ہیں، کیونکہ تنخواہ تو بہت چھوٹی شے ہے، یہ کچھ دنوں میں ختم ہوجاتی ہے۔ لیکن موٹیویشن تنخواہ سے زیادہ طاقت رکھتی ہے۔ یہ ایک چیز ہے جو آپ کو اٹھاتی ہے، لے کر جاتی ہے گرمی برداشت کرنے پرمجبور کرتی ہے۔ قربانی دینے کا جذبہ پیدا کرتی ہے اور آپ کچھ کر گزرتے ہیں

(سوچ کا ہمالیہ صفحہ15)

رسول اکرمﷺ کابیان کردہ اصول زندگی

ایک حدیث مبارکہ ہے۔۔ان رسول الله صلى الله عليه وسلم: (ومن بطأ به عمله لم يسرع به نسبه)ابو دائود۔)


جو عمل میں پیچھے رہا اسے نصب آگے نہیں لے جاسکتا۔۔لوگ کئی چیزوں سے موٹیوٹ ہوتے ہیں۔عظیم کاموں کا ہدف۔مال و دولت ۔ خاندان و کنبہ۔ہم چشموں میں تفوق۔ان سب کے حصول کے لئے ساری زندگی کھپادی جاتی ہے۔اگر مقصد بڑا ہو۔تو اس لئے حالات بھی ایسے پیدا ہوجاتے ہیں۔اور اگرکام چور ہوتو اس کے لئے بہانے ہزار۔۔روئے بد را۔بہانہ بسیار۔۔

کائنات کا نظام کچھ اس انداز میں ترتیب دیا گیا ہے یہاں محنت ایک سکہ رائج الوقت ہے۔جنتی محنت کروگے انتا ہی فائدہ اٹھا سکو گے،کام چوررہے تو کچھ نہ ملے گا۔اگر زندگی کھانے پینے سونے جاگنے اور واش روم کی حد تک ہے تو آپ موضوع سخن نہیں ہوسکتے۔جب تک سانس ہے شاید تمہیں خود ہی اپنا وجود کا احساس ہو۔تمہاری زندگی سے اگر کسی کو فائدہ نہیں ہے تو اس کا ہونا نہ ہونا برابر ہے۔

حسب نسب

حسب و نسب سے زیادہ کردار کو اہمیت دی جاتی ہے۔حسب و نسب ایک ایسا خمار ہے جو ساری صلاحیتوں کو زنگ آلود کردیتا ہے۔یا ایسی آگ ہے جس میں انسان کود تو جلتا ہی ہے لیکن اس میں وہ لوگ بھی خاکستر ہوجاتے ہیں جن کی اولاد ہونے پر اس کی گردن اکڑی ہوئی ہوتی ہے۔سطحی سوچ والا بھی اتنا تو شعور رکھتا ہے کہ پوچھ سکے کہ جن کے نام و نسب پر اِترا رہے ہو ان کے لئے تم نے کیا کیاہے۔

وہ زندہ لوگ تھے ان کا کردار دوامی تھا۔اگر ان کا کردار اچھا نہ ہوتا تو کبھی تم ان کی نسبت پر فکر نہ کرتے۔اگر تم ان کی اولاد ہوتے پر فخر کررہے ہو ممکن ہے وہ تمہاری طرف سے احساس کمتری کا شکار ہوں کہ کیسی نسل چھوڑی ہے۔جن کا زندگی جینےکے لئے کوئی مقصد ہی نہیں؟

کبھی سوچا ہے کہ دنیا میں بسنے والے لاتعداد لوگوں میں سے صرف انگلیوں پر شمار ہونے والے لوگ ہی کیوں زندہ رہے۔ان گنت اولاد آدم رزق خاک ہوئی؟کتنے جاہ و جلال والی سلطنتیں زمین بوس ہوئیں۔کتنے تاجوں سے مرصع سر ٹھوکریں میں رُلتے رہے۔

میر تقی میر کیسے وقت میں یاد آئے۔
کل پاؤں ایک کاسہء سر پر جو آگیا
یکسر وہ اُستخوان شکستوں سے چور تھا
کہنے لگا کہ دیکھ کے چل راہ بے خبر
میں بھی کبھو کسو کا سرِ پُر غرور تھا

کونسا ایسا طبقہ ہے جس کے بے شمار لوگ اس دنیا سے کوچ کرگئے اور بے شمار لوگ اس وقت موجودد ہیں۔لیکن چند لوگ ہی کیوں مشہور ہوئے؟ممکن ہے اس کی بہت سی توجیحات کی جاسکیں۔لیکن یہ بات تو سب ہی جانتے ہیں،زندگی انہیں کو ملی جو زندہ رہنا چاہتے تھے ۔انہوں نے اپنے زندگی کے قیمتی لمحات دوسروں کے لئے وقف کئے ۔لوگوں نے انعام کے طورپر انہیں امرت ساگر کے پیالے پلادئے۔

مرنے کے بعد لوگ زندہ کیوں رہتے ہیں؟

ایسا کیوں؟۔لوگوں نے اپنے عزیز و اقارب۔بہن بھائی جگری دوست۔سب کو چھوڑا انہیں کیوں دوام بخشا؟اس لئے کہ رشتہ داروں اور قریبی لوگوں نے صرف اپنے بارے میں سوچا۔زندہ رہنے والوں کے لئے نئی دنیا متعارف کرائی۔سہولتیں دیں۔لوگوں کے لئے نئے میدان عمل مہیا کئے۔زندگیوں کا رخ بدلا۔زندہ رہنے کی امنگ دی۔اپنایت کا ااحساس دیا۔

Written by admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.

GIPHY App Key not set. Please check settings

One Comment

الخبز۔روٹی

الخبز۔روٹی

دین کی دعوت میں اہل میوات کا کردار

دین کی دعوت میں اہل میوات کا کردار