in , ,

عمومی اصول صحت

عمومی اصول صحت
عمومی اصول صحت
 عمومی اصول صحت
عمومی اصول صحت

ابو مروان عبد الملک ابن زہر۔کی کتاب
کتاب التیسیر فی المداوۃ التدبیر
(1092تا1162ء۔۔484۔557ھ) سے کچھ
عمومی اصول صحت

 

حکیم قاری محمد یونس شاہد میو

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بسم الله الرحمن الرحيم
عبدالملک بن زہررحمتہ اللہ تعالی فرماتے ہیں:
تمام تعریفیں اس خدا کے لیے ہیں جس کی وحدانیت اور قدرت پرانسان کے حواس گواہ ہیں۔ الله تعالی حضرت محمدصلی الله علیہ وسلم پر درود و سلام نازل فرمائے اور ان کے آل و اصحاب سے راضی ہو۔
اپنے عزیز دوست کی ایماپر میں نے یہ کتاب تصنیف کی ہے۔ اس میں اعضائے انسان میں مرض پیداکر نے والے اسباب اور اس کے کم خرچ اور سہل الحصول علاج کو آسان اور مختصر پیرائے میں قلمبند کیا ہے۔
حفظ صحت
اس کتاب میں ان باتوں کا بیان شروع کرتا ہوں جو الله تعالی کے حکم سے صحت کی محافظ ہیں۔
تلئین طبیعت
اطبا کا اس بات پر اتفاق ہے تلئین طبیعت دوامی صحت میں معاون ہوتی ہے۔ اس کے لیے ۔آسان ترین نسخہ یہ ہے کہ ۵ گرام تمرہندی( املی) بقدر ضرورت آب گرم میں بھگوگر مل لیں پھر 3گرام ریوند تازہ کچل کر اس میں شامل کر دیں اور ۲۴ گھنٹے بعد جھان کرصاف کرلیں پھراس میں شربت پیوست ترنج ۳۰ ملی لٹر ملاکرحسب ضرورت استعمال کرائیں۔

یہ بھی پڑھیں

دس فطری باتیں۔صحت کے بنیادی اصول

تریاق فاروق کا استعمال
اطباء نے بیان کیا ہے کہ موسم سرمامیں ہردسویں دن 75گرام تریاق فاروق چندگھونٹ آب نیگرم کے ہمراہ نہار منہ استعمال کرنا حمی عفونیہ،صرع اور قولنج سے محفوظ رکھتا ہے اور اس سے تمام اعضا صحت مند رہتے ہیں۔ اطبا کا یہ بھی خیال ہے کہ اس کے استعمال سے بڑھایا جلدنہیں آتا۔ اگر کوئی شخص متواتر اس کا استعمال جاری رکھے خود ایک سال ہی کیوں نہ ہوتواس پرکسی زہریلے جانور کے کاٹنے اورکسی مہلک زہریلی دوا کی سمیت کا اثرنہ ہوگا۔ نیز تریاق فاروق کا استعمال گندے پانی سے واقع ہونے والے مضر اثرات سےمحفوظ رکھتاہے(ص13)
حمام
| اطباء کے نزدیک صاف اورعمدہ پانی سے نہار منہ حمام کرنا صحت کو قائم رکھتا ہے بشرطیکہ پانی حرارت و بر و درست میں معتدل ہو لیکن زیادہ گرم پانی کا سر پر ڈالنا اطباء کے نزدیک بہتر تصور نہیں کیا جاتا۔ البتہ قابل برداشت گرم پانی سر پر ڈالنامفید بتایا گیا ہے۔
مسواک۔


اطبا کا قول ہے کہ اخروٹ کے درخت کے جڑ کی مسواک ہرپانچویںدن کرنے سے سرکا تنقیہ ہو جاتا ہے۔ آلاتحوساس صاف ہوجاتے ہیں اور ذہن تیز ہوتا ہے۔

روٹی۔۔


اطباء کا خیال ہے کہ معتدل خمیرکی اچھی طرح پکی ہوئی روٹی جس کو اسی دن آٹا گوندھ کر پکایا گیا ہو اس وقت استعمال کرنا جبکہ اس کی گرمی ختم ہو جائے ، بقائے صحت کے لیے مفید ہے گرم روٹی کا استعمال اطباء کے نز دیک اتنا ہی غیرمناسب ہے جتناکہ ایک دن کی باسی روٹی کھانا کیونکہ روٹی اگر گرم کیا جائے تو اس کی گرمی معدہ کی گرمی کو دبا دیتی ہے جس کے نتیجے میں روٹی کاہضم ہونا بہت مشکل ہو جاتاہے

یہ بھی پڑھیں

گھریلو اشیاء کےطبی فوائد از حکیم قاری یونس

ہضم کے بارے میں بعض ناتجربہ کار اطباء کا خیال یہ خیال کسی طرح درست نہیں ہے کہ ہر قسم کی حرارت میں معاون اور مددگار ہوتی ہے ۔ اپنے اس خیال کی بنا پر وہ اطباء خود بھی گمراہ ہوئے اور انھوں نے دوسروں کو بھی گمراہ کر دیا۔ واقعہ یہ ہے کہ جملہ اعضا۔صرف اس حرارت غریزی طبعی سے ہضم کا فعل انجام دیتے ہیں جس کو وقت ضرورت تمام اعضاء کے لیے جگر فراہم کرتاہے۔ باسی روٹی کا استعمال اس لیے ممنوع ہے کہ اس کا مزاج غیرمعتدل ہوجاتا ہے ۔ کیونکہ یہ روئی جب ٹھنڈی ہو جاتی ہے تو اس میں تغیر و فساد شروع ہو جاتا ہے اور نتیجتا اس کا ہضم معدے کے لیے دشوار ہو جاتا ہے۔ علاوہ ازیں اس کے استعمال سے خلط غلیظ بھی پیدا ہو جاتی ہے۔ اس لیے ایسی روٹی سے پر ہیز کرنا ہی بہتر ہے۔
گوشت۔۔۔

اطباء کے نز دیک تازہ ذبح لکھے ہو ئے موافق کے مزاج جانوروںنرم گوشت کھانا بہت مفید ہے۔ البتہ سخت گوشت والے پرندے مثلا کبوتر، سارسس اور آبی پرندے (برک) کوذبح کر نے کے بارہ گھنٹہ بعدموسم سرمامیں اور آٹھ گھنٹہ بعد موسم گرمامیں استعمال کرنا چاہیے۔ اگر اس کے اسباب پر روشنی ڈالوں تو یہ کتاب ضخیم ہو جائے گی۔ لہذا عزیز دوست کی خواہش لحاظ کرتے ہوتے اختصار سے کام لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں

غذائی چارٹ از حکیم قاری یونس

میوہ جات۔

اطباء کا خیال ہے کہ کھانے کے بعد ایسے میوہ جات چوسنا جن میں معتدل طور سے قبض کی خاصیت ہو مثلاََ شیريں
یا ترش انار مفید ہوتا ہے لیکن اس وقت جبکہ معدہ میں غذا فاسدہوچکی ہو اور اس کی وجہ سے کھٹی ڈکاریں آنے لگی ہوں جو سڑے
ہوئے انڈے کے مانند بدبو داریاد خان ہوتی ہیں تو ایسی صورت میں ترش انار سے پر ہیز کریں اور انار شیریں کا استعمال کر ئیں۔

یہ بھی پڑھیں

تحریم خمر (شراب) قران کریم کی روشنی میں

میرا تجربہ ہے کہ ہر وہ شے جوزیادہ قابض اور اپنے جوہر میں اور سخت ہوجو معدہ میں درد پیدا کرتی ہے۔ اگر چہ اس کے اندر تقویت معدہ
کی صلاحیت کیوں نہ ہو لیکن شدید قبض ہونے کے باعث معدہ اس سے فائدہ نہیں اٹھاتا۔ البتہ جس چیز میں قبض کی کیفیت اعتدال کے ساتھ ہو اور اس کا جوہر لطیف ہو مثلا گلاب وغیرہ ، اس سے معدہ کو فائدہ ہوتا ہے۔ نیز غلیظ جوہر والی اشیاء جب بخوبی پکائی جاتی ہیں تو معدہ میں درد پیدا کرنے کی صلاحیت کم ہوجاتی ہے۔البتہ باقلا کو زیادہ پکانے کے بعد بھی ایسا نہیں ہوتا۔

Written by admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.

GIPHY App Key not set. Please check settings

بو مروان عبد الملک ابن زہر۔

چند مجربات و مشاہدات۔۔ کتاب التیسیر فی المداوۃ التدبیر

ابو مروان عبد الملک ابن زہر۔کے چندطبی مشاہدات۔قسط3

چندطبی مشاہدات۔قسط3