+92 3238537640

Share Social Media

سیاست کے فرعون

سیاست کے فرعون
پیش لفظ
پاکستان کا ہر چھوٹا بڑا لیڈر، سیاسی کارکن اور باشعور شہری جمہوریت کا کلمہ پڑھتا ہے لیکن جمہوریت ہے کہ اس ملک میں جڑی نہیں پکڑ چکتی۔ ستم ظریفی یہ کہ وہ ملک جو ایک جمہوری عمل کے نتیجے میں بنا وہاں عملا کسی چیز کا فقدان ہے تو وہ جمہوریت ہے۔ یہاں تک کہ جب یہاں ایک جمہوری حکومت بر سراقتدار ہوتی ہے تو اس وقت بھی جمہوری رویئے نہیں اپنائے جاتے اور جمہوری قدروں اور اصولوں کی خوب خوب مٹی پلید کی جاتی ہے۔ اور پھر مارشل لاء لگ جاتا ہے۔ ہم جہاں سے ہیں، وہیں واپس آکھڑے ہوتےہیں۔ ہمارا سارا سفر کھوٹا ہو جاتا ہے۔چلتے
ایسا کیوں ہے؟
کیا ہم ایک قوم کے طور پر جمہوریت کے اہل ہی نہیں؟
کیا سارا قصور فوج کا ہے جو ملک میں بار بار مارشل لاء لگا دیتی ہے؟ پاکستان کی سلامتی، بجتی اور ترقی کے لئے ان چیھتے ہوئے سوالوں کا صحیح صحیح جواب اس قدر ضروری ہے کہ اس پر سنجیدگی کے ساتھ اور پوری گہرائی میں اتر کر غور کرناچاہیے۔

Advertisements

یہ بھی پڑھیں

پاکستان میں 1958ء – آزاد دائرۃ المعارف
ایک مدت کے غور و فکر کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ جب تک ہمارے ملک سے جاگیر داری اور ہماری سیاست سے جاگیر داروں کو نکال باہر نہیں کیا جاتا، پاکستان میں جمہوریت جڑ پکڑی نہیں سکتی۔ یہ نتیجہ فکر اس اہم ترین اور انتہائی حقیقت پسندانہ نظریے پر مینی ہے کہ ہر معاشرتی اور معاشی ( سوشوا اکنامک) نظام اپنے لئے ایک مخصوص سیاسی نظام کو جنم دیتا ہے۔ اگر معاشرتی اور معاشی نظام کچھ اور ہو اور سیاسی نظام اس سے لگا نہ کھاتا ہو تو ان میں سے ایک نظام دوسرے نظام کو کھا جائے گا۔
چنانچہ ہمارے یہاں جاگیرداری نظام جمہوری نظام کو بار بار کھاتا چلا جا رہا ہے۔ یہ دونوں نظام ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ اگر جمہوری نظام مستحکم بنیادوں پر قائم ہوتا تو وہ جاگیرداری نظام کو کھا جاتا۔ لیکن ہمارے ہاں جاگیرداری نظام اتنا مضبوط ہے کہ وہ جمہوری نظام کی جڑ لگنے ہی نہیں دیتا۔ کچی بات تو یہ ہے کہ جاگیرداری نظام اس معدے کی طرح ہے جو جمہوریت کو ہضم کر ہی نہیں سکتا۔

یہ بھی پڑھئے

پاکستان میں پہلا مارشل لا: ‘عجلت میں کیا گیا اسکندر مرزا ..
چنانچہ ہم جب بھی اس پر اوپر سے جمہوریت ٹھونستے ہیں تو وہ اسے ہر بار اگل دیتا ہے۔
اس بظاہر سادہ کی حقیقت کے اندر معنی کا ایک جہان پوشیدہ ہے۔ ہماری معاشرت اور معیشت پر صدیوں سے جاگیرداری نظام مسلط ہے۔ یہ نظام جہاں جہاں موجود ہوا، وہاں سیاسی سطح پر بادشاہت یا آمریت ہی قائم ہوئی۔ جمہوریت تو پیدا ہی اس وقت ہوئی جب جاگیرداری نظام ٹوٹا۔ یاد رہے کہ یونان کی قدیم شہری جمہوریت ” میں ہر شخص یا شہری کو ووٹ کا حق حاصل نہیں تھا کہنے کو تو قبائلی نظام میں بھی ایک طرح کی جمہوریت پائی جاتی ہے لیکن آج ہم جس نظام کو جمہوریت کا نام دیتے ہیں یا جس جمہوری نظام کے خواہش مند ہیں، وہ ہر بالغ شخص کو رائے دہی کا آزادانہ اور منصفانہ حق دے کر ہی قائم ہو سکتا ہے۔

Pakistan Marshall Law | Dr Mubarak Ali
ان معنوں میں جمہوریت اس وقت آئی اور انہی ملکوں میں آئی جہاں صنعتوں نے فروغ پایا، زرعی معاشرہ صنعتی معاشرہ میں بدلا اور یوں جمہور کا زمین سے بندھا ہوا ووٹ آزاد ہو گیا۔ اس آزادی نے جاگیر دارانہ معاشرت اور معیشت کا خاتمہ کر کے جمہوریت کو استحکام بخشا۔

بے شک آج پاکستان میں مارشل لاء منذ نہیں اور جمہوریت کے عنوان سے یہاں سیاستدانوں کی حکومت قائم ہے لیکن کیفیت یہ ہے کہ پانچ فیصد جاگیر دار اسمبلیوں کی پچانوے فیصد نشستوں پر قابض ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ملک کا معاشرتی اور معاشی نظام آج بھی جاگیرداری کے حوالے سے چل رہا ہے۔

ملک کا ہر قانون جمہور کے بجائے جاگیرداروں کے فائدے کے لئے بنتا ہے۔ مہنگائی، بے روز گاری اور بیماری کی مار جمہور

کھاتے ہیں۔ ٹیکس دیتا ہے تو درمیانے طبقے کا نوکری پیشہ شخص یا دکاندار اور صنعتکار لیکن فائدے اٹھاتا ہے اور ہر طرح کے ٹیکس سے بری ہے تو بڑا زمیندار یا جاگیر دار ۔ یہی بڑے زمیندار اور جاگیر دار فوج کے معاون رہے ہیں۔ انہی کے کندھوں پر سوار ہو کر فوج مارشل لاء

باقی کتاب میں پڑھئے۔

حصول کتاب کے لئے یہاں کلک کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Company

Our Dunyakailm website brings you the convenience of instant access to a diverse range of titles, spanning genres from fiction and non-fiction to self-help, business.

Features

You have been successfully Subscribed! Ops! Something went wrong, please try again.

Most Recent Posts

  • All Post
  • (Eid Collection Books ) عید پر کتابیں
  • (Story) کہانیاں
  • /Mewati literatureمیواتی ادب
  • Afsanay ( افسانے )
  • Article آرٹیکلز
  • Biography(شخصیات)
  • Children (بچوں کے لئے)
  • Cooking/Recipes (کھانے)
  • Dictionary/لغات
  • Digest(ڈائجسٹ)
  • Digital Marketing and the Internet
  • Economy (معیشت)
  • English Books
  • Freelancing and Net Earning
  • General Knowledge ( جنرل نالج)
  • Happy Defence Day
  • Health(صحت)
  • Hikmat vedos
  • History( تاریخ )
  • Hobbies (شوق)
  • Homeopathic Books
  • Information Technologies
  • ISLAMIC BOOKS (اسلامی کتابیں)
  • Knowledge Books (نالج)
  • Marriage(شادی)
  • Masters Courses
  • Novel (ناول)
  • Poetry(شاعری)
  • Political(سیاست)
  • Psychology (نفسیات)
  • Science (سائنس)
  • Social (سماجی)
  • Tibbi Article طبی آرٹیکل
  • Tibbi Books طبی کتب
  • Uncategorized
  • War (جنگ)
  • اردو ادب آرٹیکل
  • اردو اسلامی آرٹیکل
  • اردو میں مفت اسلامی کتابیں
  • اقوال زرین
  • دعوت اسلامی کتب
  • ڈاکٹر اسرار احمد کتب
  • روحانیت/عملیات
  • سٹیفن ہاکنگ کی کتب
  • سوانح عمری
  • سیاسی آرٹیکل
  • سید ابو الاعلی مودویؒ کتب خانہ
  • علامہ خالد محمودؒ کی کتابیں
  • عملیات
  • عملیات۔وظائف
  • قاسم علی شاہ
  • قانون مفرد اعضاء
  • کتب حکیم قاری محمد یونس شاہد میو
  • کتب خانہ مولانا محمد موسی روحانی البازی
  • متبہ سید ابو الاعلی مودودیؒ
  • مفتی تقی عثمانی کتب
  • مکتبہ جات۔
  • مکتبہ صوفی عبدالحمید سواتیؒ
  • میرے ذاتی تجربات /نسخہ جات
  • ھومیوپیتھک
  • ویڈیوز
    •   Back
    • Arabic Books (عربی کتابیں)
    • Kutub Fiqh (کتب فقہ)
    • Kutub Hadees (کتب حدیث)
    • Kutub Tafsir (کتب تفسیر)
    • Quran Majeed (قرآن مجید)
    • محمد الیاس عطار قادری کتب۔ رسالے

Category

Our Dunyakailm website brings you the convenience of instant access.

Products

Sitemap

New Releases

Best Sellers

Newsletter

Help

Copyright

Privacy Policy

Mailing List

© 2023 Created by Dunyakailm