in , ,

روحانیات کا مختلف شکلیں اختیار کرنا۔

روحانیات کا مختلف شکلیں اختیار کرنا۔
روحانیات کا مختلف شکلیں اختیار کرنا۔
روحانیات کا مختلف شکلیں اختیار کرنا۔
روحانیات کا مختلف شکلیں اختیار کرنا۔

روحانیات کا مختلف شکلیں اختیار کرنا۔

حکیم قاری محمد یونس شاہد میو

ایک عرب مصنف لکھتے ہیں۔اس میں شک نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جسموں اور روحوں کو مختلف طبائع میں پیدا کیا ہے جن میں خواص کے لحاظ سے فرق ہے ۔کچھ طاقتور ہیں تو کچھ کمزور کوئی بھی عقلمند ان تاثیروں کا انکار نہیں کرسکتا  یہ تووہ چیزیں ہیں جو مشاہدہ و محسوسات میں سے ہیں۔… ] الطب النبوي ص 290 ي

سألونك – (ج 4 / ص 179)ان عالموں میں سے عالم ارواح ہے عالم نفوس ہے عالم ملکوت ہے عالم الملک ہے جب اللہ کا حکم چلتا ہے تو یہ سب عالم لبیک کہتے ہیں کوئی اسکا شعور رکھے یا نہ رکھے کوئی سمجھے یا نہ سمجھے ہرکسی کو اللہ کا حم ماننا پڑتا ہے۔روح المعاني في تفسير القرآن العظيم والسبع المثاني ، المعروف بتفسير الألوسي – (ج 29 / ص 95)

فلاسفہ اور اہل علم کا خیال ہے کہ فرشتے نیک لوگوں کے سامنے شکل بدل کر آتے رہتے ہیں۔رہی بات انسان و جنات کی طبیعتوں کی تو ان میں بہت فرق پایا جاتا ہے۔جیسے ایک کتے اور ایک مرغ کی طبیعت میں فرق ہوتا ہے۔کہ ایک طبیعت میں شر غالب ہوتا ہے

۔جب کہ دوسرے اس کے خلاف طبیعت رکھتا ہے ۔ان میں سے کچھ باتیں ایک دوسری کی ضد ہیں جہاں ایک پائی جایے گی دوسری کاموجود ہونا محال ہوگا۔ جیسا کہ حدیث پاک میں ہے کہ جہاں تک مرغ کی آواز جاتی ہے شیطان وہاں سے نکل بھاگتا ہے۔المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية – (ج 1 / ص 104) المعجم الأوسط – (ج 1 / ص 210) ح

ضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہﷺنے ارشاد فرمایا ۔جب تم مرغ کی آواز سنو(رات کے وقت)تو اللہ سے اس کے فضل کا سوال کرو اس کی طرف جھکو کیونکہ اس وقت فرشتوں کو دیکھتا ہے۔اسی طرح جب گدھے کو بولتا دیکھو یا کتے کو بھونکتا دیکھو رات کے وقت ۔اس وقت شیطان سے اللہ کی پناہ مانگو یہ بھی اس وقت شیطان کو دیکھتے ہیں(الجامع لصحیح والمسانید188/23)الجمع بين الصحيحين (3/ 122) اللؤلؤ والمرجان فيما اتفق عليه الشيخان (3/ 233)أخرجه البخاري في: 59 كتاب بدء الخلق: 15 باب خير مال المسلم

غنم يتبع بها شعف الجبال۔

یہ بھی پ

جنات اور انسانی صلاحیت و فراست میں فرق

بہت ساری چیزوں کے اسباب پوشیدہ ہوتے ہیں جنہیں عام انداز میں محسوس نہیں کیا جاسکتا لیکن ان کے وجود سے کسی طرح انکار بھی ممکن نہیں ہے ۔احادیث مبارکہ میں اذان کی خاصیت بیان کی گئی ہے کہ شیطان سن کر ہوا خارج کرتا ہوا دور بھاگ جاتاہے لیکن جب آذان ختم ہوتی ہے تو واپش لوٹ آتا ہے۔نمازی کے دل میں وساوس ڈالتا ہے۔ صحيح مسلم – (ج 1 / ص 291) الموطأ نسخة نادرة – (ج 1 / ص 48) السنن الكبرى للبيهقي وفي ذيله الجوهر النقي – (ج 2 / ص 331)

یہ بھی پڑھیں

عملیات اور توہمات کی دنیا

حتی کہ رب کے بارہ میں وسوسہ ڈالنا شروع کردیتا ہے۔اذان اور تکبیر کے الفاظ ایک جیسے ہیں لیکن شیطان کے لیے ان میں تاثیر الگ ہے۔كتاب الحيوان – (ج 1 / ص 147)اسی طرح انسانی و جناتی طبیعتوں میں فرق پایاجاتا ہے،انبیاء و ملائکہ کی طبیعتوں میں پایاجاتا ہے۔انسان بہت سی باتوں میں حیوانات اور دیگر مخلوقات پر فوقیت رکھتا ہے۔جس طرح انسان طبیعت میں الگ ہے ایسے ہی اس کی عمر مقدر دیگر معاملات اپنے خواص ہیں ۔كتاب الحيوان – (ج 4 / ص 69)

Written by admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.

GIPHY App Key not set. Please check settings

The Islamic new year 1444 by Hakeem qari younas (tibb4all)

یکم محرم الحرام شھادت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ