in

ذہن میں بیٹھی ہوئی بات کا اثر

ذہن میں بیٹھی ہوئی بات کا اثر

انسانی ذہن
ذہن میں بیٹھی ہوئی بات کا

 

ذہن میں بیٹھی ہوئی بات کا اثر

(مقتبس از ۔دروس العملیات)

 

حکیم قاری محمد یونس شاہد میو

ذہن میں بیٹھی ہوئی بات کا اثر

جب کوئی بات ذہن میں بیٹھ جاتی ہے تو آسانی سے باہر نہیں نکل سکتی۔انسان کو جتنی تکلیفیں سوچ کی اور ذہنی دبائو کی وجہ سے جھیلنی پڑتی ہیں جسمانی طورپر تکالیف اس کے مقابلہ میں کچھ بھی

نہیں ہے۔

یہ سوچ و ذہن بلندی ہی آپ کو مقصد میں کامیابی دلاتی ہے۔اپنے مقصد میں جس قدر یکسوئی نصیب ہوگی اسی قدر کامیابی کے امکانات پیدا ہونگے۔ہم یا آپ کوشش کرسکتے ہیں۔نتائج ہمارے بس میں نہیں۔لیکن جس قدر یکسوئی ہوگی انتی رابطے میں بہتری آئے گی۔ناممکن ہے کہ اس کائنات میں کوئی کام کیا جائے اور اس کا نتیجہ برآمد نہ ہو۔اگر من چاہا نتیجہ نہ ملا تو پریشان ہونے کے بجائے غور کریں کام کرنے ،مقصد کی لگن میں جویکسوئی درکار تھی اس میں تو کمی نہیں رہ گئی۔

 

آسان انداز میں یوں سمجھ سکتے ہیں کہ آپ کے پاس دودھ ہے جسے آپ گرم کرنا چاہتے ۔اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ جس آگ پر اسے گرم کرنے کے لئے رکھا جارہا ،وہ لکڑی کی آگ۔گیس ہے۔کوئلہ ہے۔ہیٹر ہے کچھ بھی ہے۔آپ حصول مقصد کے لئے یہ ذرائع استعمال کرتے ہیں،آپ نے برتن میں دودھ ڈال کر آگ پر رکھ دیا۔یہ آپ کا عمل ہوا۔۔۔

نیچے آگ چلادی۔یہ آپ کا وظیفہ ہوا۔یعنی حصول مقصد کا ذریعہ۔دیکھنا یہ کہ دودھ ابل نہ جائے،جل نہ جائے ۔خراب نہ ہوجائے۔آگ کی تپش اتنی رکھنی ہے کہدودھ گرم ہوجائے۔یہی توجہ اور مراقبہ ہے۔اگر آپ نے دودھ آگ پر رکھا اور خود بے فکر ہوگئے ۔تو نتائج کا ذمہ دار کسی دوسرے کو نہیں ٹہراسکتے۔یہی حال چلوں وظائف کا ہے۔۔

 

حصول مقصد کے تین ذرائع ہوتے ہیں۔سب سے پہلے جس چیز کا حصول درکار ہے وہ موجود اور ممکن ہو۔
دوسری بات۔وہ آلہ موجود ہو جس کی مدد سےاسے حاصل کیا جائے ۔
تیسری بات۔کہ حاصل کرنے والا بھی کوئی موجود ہو۔
یکسوئی میں کتنی طاقت ہے اسے ٹھیک انداز میں بیان کرنا تو مشکل ہے۔

 

ہمارا ذہن یا لاشعور کس قدر طاقتور ہے اس کی سوچ اور یکسوئی میں کتنی طاقت رکھتے ہیں ،اس کے جسمانی طورپر کیا اثرات ہوسکتے ہیں یا پھر بیرونی دنیا پر کیا اثرات کی حامل ہیں۔

یوں طب جدید کے ماہرین پہلے کہتے تھے۔تیس فیصد بیماریوں کی وجہ ذہنی دبائو ہوتا ہے۔جب زیادہ توجہ سے کام لیا گیا تو پچاس فیصد اب پچھتر فیصد امراض کا سبب نفسیاتی یا ذہنی دبائو لیکن زیادہ تر محققین کا کہنا ہے نوے فیصد سے بھی اوپر ۔

 

یہی وجہ ہے کہ مغرب میں اب دوا دارو،نسخوں،اور میڈیسن والے معالجین کی جگہ نفسیاتی ماہرین کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے ۔اور مریضوں کی کثیر تعداد نفسیاتی ماہرین کی طرف رجوع کرنے لگے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

GIPHY App Key not set. Please check settings

One Comment

چلے وظائف،عبادات میںپاکی کی غرض و غایت۔

چلے وظائف،عبادات میںپاکی کی غرض و غایت۔

غربت

کسی قوم کی غربت و امارت ناپنے کا پیمانہ