in ,

دیہات میں دائی کا کردار زچہ بچہ کی تندرستی کا راز Role of midwife in villages The secret of maternal and child health دور القابلة في القرى،سر صحة الأم والطفل

دیہات میں دائی کا کردار
دیہات میں دائی کا کردار
دیہات میں دائی کا کردار
دیہات میں دائی کا کردار

دیہات میں دائی کا کردار
زچہ بچہ کی تندرستی کا راز
Role of midwife in villages
The secret of maternal and child health
دور القابلة في القرى،سر صحة الأم والطفل

حکیم قاری محمد یونس شاہد میو

گاؤں کے رہنے والے اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ دیہاتوں میں جس وقت طبی سہولیات نہ ہونے کے برابر تھیں اس وقت بھی بچے پیدا ہوتے تھے، دیہات آباد تھے، گاؤں آباد تھے ، مائیں بھی تھی، بچے بھی تھے، ایک پورا معاشرہ تھا۔،دیہاتی معاشرے کا اپنا ہی انداز ہوتا ہے۔گاؤں میں زچگی کے لئے مقامی دائی کی خدمات لی جاتی تھیں،دایا گری کا پیشہ خاندانوں میں موروثی طور پر چلاتا تھا۔۔چھوٹے دیہاتوں کی دائیاں یہ جانتی تھیں کہ فلاں کے اس وقت بچہ ہوگا،یہ خواتین اپنے ہنر میں اتنی ماہر ہوتی تھیں کہ کسی طبیب حکیم ڈاکٹر ہسپتال کی ضرورت محسوس نہ

ہونے دیتے تھیں۔

وہ غذا بھی متعین کرتی تھیں،زچہ اور بچہ کی دیکھ بھال بھی کرتی تھیں،اور چھوٹے موٹے امراض کے بارے میں بھی معلومات رکھتی تھیں،
خواتین اور بچوں کے لئے ان کے پاس کچھ ٹوٹکے ہوتے تھے جنہوں نے بے دریغ استعمال کراتے تھے،دائی ایک مجموعہ صفا ہوتی تھیں،وہ جہاں زندگی کے عمل کو آسان بنانے میں جاندار کردار ادا کتی تھیں،وہیںپر عورتوں کے امراض سے متعلقہ کچھ ادویات اور نسخہ جات بھی انہیں وراثت میں ملے ہوتے تھے۔۔یہ یہ ساےئاں بے دھڑک کام میں لایا کرتی تھیں۔

وہ کم وسائل میں زیادہ کام کرتی تھیں،رات ہو کہ دن ہو، بارش ہو آدھی ہو، ان کے نزدیک کوئی اہمیت نہ رکھتے تھے ،جب کسی کو ضرورت پڑی ،دائی کے پاس گئے، دائی کو ساتھ لے آئے۔

دائی کم از کم دو چار ہفتے ز چہ کی ڈیوٹی بجالا تی تھی ۔زچہ کے استعمال شدہ کپڑے دھونے ،بچے کو نہلانا،آلودہ کپڑے دھونا،اور زچہ کے ہاتھ پاؤں دبانا، اس کا مساج کرنا ،اسکی ٹانگیں دبا نا، اس کے لیے بسااوقات کھانا تک تیار کرنا۔
جس طرح عرب معاشرے میں دائیوں کا خاص کردار تھا، اسی طرح برصغیر پاک و ہند میں یہ رواج اب تک موجود ہے، لیکن شہروں سے یہ رواج ختم ہوچکا ہے۔

زچہ کی جس انداز میں خدمت کی جاتی ،ان کا مساج کیا جاتا، ان کی کمردبانے اور دیگر اعضاء کو دبا کرراحت پہنچانے کی کوشش کی جاتی تھی ۔یہی وجہ ہے کہ بچہ بھی تندرست رہتا تھا ،اور ماں بھی تندرست رہتی تھی۔ کمال یہ ہے کہ پانچ دس بچوں کے بعد عورت اس قابل ہوتی کہ گھریلو کام کاج، مال مویشی کی دیکھ بھال سب خود ہی کرنے لگ جاتی تھیں۔
وہ مقامی وسائل ہی سے ان تمام ضروریات کو پورا کرتی تھی جو آجکل ہاسپیٹل میں مہنگے داموں میسرہوتے ہیں۔وہ مخصوص ادویات جانتے تھے ،کھانا پکانے کا ہنر جانتی تھیں، انہیں پتہ تھا کہ چہ کے لیے کونسی چیز مناسب ہے ۔کونسی غیر مناسب ہے ۔اور بچے کو کس انداز میں تندرست رکھا جا سکتا ہے۔

دیہاتی عورتوں کے پیٹ نہ بڑھنے کی وجوہات

اس وقت دیہات کی عورتوں کے پیٹ نہیں بڑھ کرتے تھے۔زچگی سے فراغت کے بعد مخصوص ایام تک انہیں مخصوص کھانے دیے جاتے ، اور راحت رسانی کے کے اسباب مہیا کیے جاتے ۔جب وہ اپنے ایام پورے کر لیتیں تو وہ اٹھ کھڑی ہوجاتی تھیں۔ نہ بچہ بیمار ،نہ ماں کی طبیعت خراب۔ چاروں طرف تندرستی ہوتی تھی،
معاوضے میں ایک عدد جوڑا کپڑوں کا ۔تھوڑا بہت اناج ،اور حسب توفیق تھوڑے بہت پیسے ،اس خدمت کے بعد ایک حرکتیں تھی کہ جب ضرورت پڑے گی میں حاضر ہو جاؤں گی ۔کسی دوسری دائی کو بلانے کی ضرورت نہیں ہے ۔

اس وقت جہاں کی عورتوں کے پیٹ نہیں پڑھا کر تے تھے۔سچا بالکل اسی انداز میں فٹ فاٹ ہو جاتی تھیں جیسےوہ زچگی کے عمل سے گزری ہی نہ ہوں۔

گھی دودھ اور دیگر خوردنی اشیاء گھروںمیں موجود ہوتی تھیں۔ پیٹ کی صفائی کے لیے گڑ کا کارڈھا بنا کر دیا جاتا تھا ۔آج ہم سے ان جدید ہسپتالوں میں ہونے والے علاج و اور ٹیسٹوں نے ہم سے دائی چھین لی ہے۔

Written by admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.

GIPHY App Key not set. Please check settings

مکتبہ علامہ خالد محمودؒ

مکتبہ علامہ خالد محمودؒ

مولانا محمد الیاسؒ بانی تبلیغی جماعت کے آخری لمحات

مولانا محمد الیاسؒ بانی تبلیغی جماعت کے آخری لمحات