in , ,

دماغ ،وقت۔پیش گوئی۔

دماغ ،وقت۔پیش گوئی۔

دماغ ،وقت۔پیش گوئی۔

 

دماغ ،وقت۔پیش گوئی۔
دماغ ،وقت۔پیش گوئی۔

دماغ قدرت کا عظیم عطیہ ہے ،جاندار کو اس کی ضرورت کے مطابق دماغ دیا گیا ہے۔حیوانات میں سے کوئی ایسا جانور نہیں جسے دماغ نہ ملا ہو۔اسی کی بدولت وہ پیش بندی کرتا ہے۔اپنی ضرورت کی چیزیں مہیا کرتا ہے۔ماضی کے تجربات سے سبق لیتا مستقبل کی تیاری کرتا ہے۔انسان کو قدرت یہ نعمت اعلی سطح کی عطاء فرمائی ہے،یہ اپنے تجربات کی روشنی میں حالو استقبال کی تدابیر کرتا ہے۔ایک اچھوتی تحریر۔

 

از حکیم ۔۔۔ قاری محمد یونس شاہد میو

 

دماغ وقت بتانے اور پیش گوئی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے
دماغ ایک ایسی مشین ہے جو ماضی کو اس لئے یاد رکھتا ہے تاکہ مستقبل کی پیش گوئی کرسکے۔
کئی ہزار لاکھبرس سے جانور مستقبل کی پیش گوئی کرنے کی دوڑ میں شامل چلے آرہے ہیں۔

جانور اپنے شکار کا،شکاری اور ساتھی مادہ یا نر کی حرکات کو پہلے سے ہی بھانپ لیتے ہیں
وہ خوراک اکٹھی کرنے اور گھونسلے پناہ گاہیں بنانے کے عمل کی بدولت مستقبل کی تیاری کرتے ہیں
وہ صبح و شام ، بہار اور خزاں کی آمد کا بھی تی انداز و انکا لیتے ہیں۔ جس در جے تک جانور مستقبل کو بھانپ لینے میں کامیاب ہوجاتے ہیں،
اس کا نتیجہ ان کی بقا اور سال کے پھیلاؤ کے ارتقائی عمل کے رواں رہنے کی صورت میں نکلتا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں

اونٹ کے طبی فوائد طب نبویﷺ کی روشنی می

چنانچہ دماغ اپنی بنیادی نوعیت کے لحاظ سے پیش گوئی اور پیش بینی کرنے والی مشین ہے۔
اور چاہے آپ کو خبر ہو یا نہ ہو، آپ کا دماغ، لمحے لمحے کی بنیاد پر در پیش آنے والی صورتحال کے حوالے سے پیش گوئی کرنے کے خود کار عمل میں مصروف رہتا ہے ۔
تفصیل کے چندلمحات کا احاطہ کرنے والی یہ قلیل مدتی پیش گوئیاں مکمل طور پر خود کار اور لاشعوری ہوتی ہیں ۔

اگر ٹھپا کھانے والی کوئی گیند میر سے نیچے لڑھک جاتی ہے
تو ہم خود کار طریقے سے اپنی حرکات و انداز میں اس طرح کی مطابقتیں پیدا کر لیتے ہیں
کہ اسے ٹھپہ کھانے سے پہلےہی اٹھا لیں، جو کہ ہم اس وقت نہیں کرتے جب کوئی کیک(mifin) میز سے نیچے گر جاتا ہے۔
انسان اور جانور طویل مدتی پیش گوئی کی صلاحیت حاصل کرنے کے لئے مسلسل کوششیں کرتے چلے آرہے ہیں۔

کسی جانور کی طرف سے اپنے ماحول کا جائزہ لینے کا ساد وساعمل اگلے چند منٹوں اور گھنٹوں میں درپیش آ نے والی صورتحال کی پیش گوئی کا پیش بینی کرنے کے ایک کوشش ہے

یہ بھی پڑھیں

کیا ہم تاریخ تخلیق کرتے ہیں؟:
جیسا کہ کوئی بھیڑیارک کر گردوپیش کے مناظر، آوازوں اور بو کے ذریعے ماحول کا اندازہ لگانے کی کوشش کرتا ہے
تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ ایسے اشاروں کی علامات کا سراغ لگانے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے
جن کی بنیاد پر ممکنہ خطرے سے نہ سکے اور اپنے شکار اور ساتھی کو پا سکے۔
مستقبل کی پیش گوئی کرنے کے لئے دماغ ماضی کے واقعات و حالات کا وسیع تر ذخیرہ کر لیتاہے

اور ایپل (کمپنی ) کے پشتہ بان (backup) سافٹ وئیر” ٹائم مشین” کی طرح ، بعض اوقات ان یادوں میں زمانی علامتوں ( تاریخوں )کا اضافہ بھی کردیتا ہے
تا کہ زندگی کے ان واقعات پر نظر ثانی کی جا سکے جو ایک زمانی ترتیب کی صورت میں منظم ہوجاتے ہیں۔

۔ دماغ ایک الی مشین ہے جو وقت بتاتی ہے

آپ کا د ماغ گنتی۔/ شماریات کے وسیع تر سلسلوں کا احاطہ کرنے کا کام سرانجام دیتا ہے
بشمول شمار کے ان افعال کے جوکسی چہرے کی پہچان کرنے یا پھر شطرنج کے کھیل میں آپ کی اگلی چال کے انتخاب کے لیے ضروری ہوتے ہیں ۔
وقت بتانا شمار کرنے کے عمل کی ایک اور قسم ہے جو آپ کا دماغ سرانجام دیتا ہے:

فعل محض ہماری زندگی کے سیکنڈوں منٹوں گھنٹوں اور دلوں کی پیمائش تک محدود نہیں رہتا،
بلکہ اس کے تحت ان زمانی نمونوں کی پہچان اور تخلیق بھی کی جاتی ہے

جیسے مثال کے طور پر کسی گانے کا نفیس و پیچیدہ صوتی آہنگ (rhythem) یا پھر ایسی جتشیوں یا حرکات کی احتیاط کے
ساتھ کی جانے والی زمانی ترتیب جس کی بدولت کوئی وزرش کرنے والا (gymnast) ایک معیاری
یا بدتر درجے کی قلابازی یا ہاتھ کے بل الٹی جست لگانے round off) (backflip کا مظاہر ہ کرسکتا ہے۔

وقت بتانے کا عمل مستقبل کی پیش گوئی کا ایک اہم جزو ہوتا ہے۔ جیسا کہ موسمیات کا کوئی بھی باہر جانتا ہے
بس اتنا کہہ دینا کافی نہیں ہوتا کہ بارش ہوگی بلکہ یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ بارش کب ہوگی ۔
جس طرح کوئی بلی جب کسی پرندے کو پکڑنے کے لئے ہوا میں چھلانگ لگاتی ہے
تو اسے امر کا لاز ماََ پیشگی تعین کرنا ہوتا ہے کہ مستقبل میں ایک سیکنڈ کے بعد پرندہ کہاں ہوگا ۔

مادہ پھول کو زرگل (Pollen ) کے ذریعے بار آور کرنے والے پرندے،

اس سے بھی اگلے مرحلے میں اس وقت کا حساب رکھنے کے قابل جانے جاتے ہیں
کہ انہوں نے کسی خاص پھول کا آخری مرتبہ کب دورہ کیا تھا، تا کہ ا گلے چکرتک اس میں دو بارہ رس Nectar) بھر جائے۔

کسی متحرک ہدف پربرچھی پھینکنے کی صلاحیت سے لیکر کسی لطیفےکے چھتے ہوئے نکتے کو موقع پر چست کرنے،
یا بیتھون (Beethoven ) کی دھن، مون لایٹ سونا تا، کو پایانو پرب جانے سے لے کر روزانہ
سونے اور جاگنے کے معمولات اور ماہانہ تولید ی گردشوں (reproductive cyclas) میں باقاعدگی
پیداکرنے کی صلاحیت تک ، حیوانی رویے اور چیزوں کی شناخت کے عمل کا تقریبا ہر پہلو وقت بتانے کی صلاحیت کا محتاج ہوتا ہے۔

Written by admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.

GIPHY App Key not set. Please check settings

جہیز کو معاملہ اور یاکا،نفسیاتی اثرات

جہیز کو معاملہ اور یاکا،نفسیاتی اثرات

دروس العملیات از حکیم قاری محمد یونس شاہد میو

دروس العملیات از حکیم قاری محمد یونس شاہد میو