in

دبیلہ معدہ(معدہ کی رسولی)

دبیلہ معدہ(معدہ کی رسولی)
دبیلہ معدہ(معدہ کی رسولی)

دبیلہ معدہ(معدہ کی رسولی)

دبیلہ معدہ(معدہ کی رسولی)
دبیلہ معدہ(معدہ کی رسولی)

 

 

دبیلہ معدہ(معدہ کی رسولی)
حکیم قاری محمد یونس شاہد میو

 

بعض اوقات معدہ میں ایک طرح کا ورم پیدا ہوتا ہے جسے عموماََد بیلہ کہتے ہیں، میں نے ایک شخص کواس مرض میں مبتلا دیکھا۔ اس وقت وہ پورا جوان تھا۔ اس کی قوت اوسط درجہ کی تھی۔ اور اس کا مزاج حاریا بس تھا۔ وہ بہت زیادہ کھاتا تھا اور مجامعت کا بہت زیادہ شائق تھا، جس کے نتیجے میں اس کے جسم میں اور اس کے گوشت میں اضمحلال پیدا ہوگیا۔ اس کے باوجود جتنا پہلے کھانا تھا کھا لیا کرتا تھا۔

پھر بھی وہ بخار میں مبتلا نہیں ہوتا تھا۔ اور اس کی غذاپورے طور پرہضم ہو جاتی تھی ۔ اپنی غذاؤں کے تحفظ اور انہضام کے سلسلے میں وہ اطباء کی بات نہیں مانتا تھا۔ بالآخروہ مرض میں مبتلا ہو گیا۔ اس کا چلنا پھرنا بند ہو گیا۔ لوگوں نے اس کی مجھے اطلاع دی۔ میں اس سے پہلے سے ہی متعارف تھا۔ اس وجہ سے میں ایک زمانہ تک اس کا علاج کرتا رہا، جب تک وہ میرے مشورے پر چلتا رہا اس کی صحت بھی کسی قدر

درست ہوگئی ۔ لیکن جوں ہی اس نے مجامعت شروع کی، اس کا حال خراب ہوگیا پھر اسے متواتر حرارت رہنے لگی ۔

جو ایک طرح کاحمی دق تھا۔ ایک زمانہ تک اس حمی کا دورہ باری باری رہنے لگا۔ اور بعض اوقات بغیر نوبت کے بھی بخار آ جانا تھا۔ اور جب وہ غذا لیتا تو دیر تک معدہ میں غذا باقی رہتی ۔ اور اس کی نبض میں صلابت بھی گئی ۔ اس کونہ جلد شفایابی ہوتی اورنہ بتدریج ہی شفا کے آثار نمایاں تھے۔ اس کے نتیجے میں

اس کے اسفل معدہ میں ورم کا ابھار ظاہر ہونے لگا۔

یہ بھی پڑھیں

وضو اور مسواک کے روحانی و طبی فوائد

۔ مجامعت شروع کرنے کے کچھ ہی دنوں بعد میں نے دیکھا کہ وہ ورم نمایاں طور پرسفرجل سے بھی بڑا معلوم ہوتا تھا۔ اسے دست آنے لگے ،کچھ ہی دنوں بعد و ہ ہچکیوں میں مبتلا ہو گیا۔ آخر کار شدید اعراض لاحق ہونے کی وجہ سے وہ موت کی آغوش میں جا پہنا۔ اس قسم کے حالات یعنی انحلال قوت اورمسلسل غشی کے باوجود بھی اس کا درم نہیں پھٹا۔ مجھے اس پر تعجب ہے کہ اس کا ورم کیونکر اس حد تک بڑھ گیا۔ اور وہ زندہ رہا۔ یقینا یہ بات محض اس وجہ سے تھی کہ وہ ورم سوداوی تھا۔ اور ایسا سوداوی جوبلغم کی انتہائی غلظت کی وجہ سے ظاہر ہوا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ خلط کے موجود ہونے کے با وجود ورم میں کوئی درد نہیں تھا۔ اورنہ اس میں کسی طرح کا تعفن تھا لیکن اس کی موت اس وجہ سے ہوئی تھی کہ استحالہ کی بعض ابتدائی خراب صورتیں شروع ہوگئی تھیں ۔ کیوں کہ کسی شے کے اثرات اس وقت ظاہر ہوتے ہیں جب اس کے اندر کسی طرح کی تحریک پیدا ہوتی ہے خواہ وہ نقل و حرکت کی ہویا کوئی دوسری صورت.

Written by admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.

GIPHY App Key not set. Please check settings

ورم اذن۔(کان کا ورم)

طب پانچویں ہجری سے گیارہویں صدی ہجری تک

ازواج النبیﷺکےحجرات کے بارہ میں تحقیق