in , , ,

خطباتِ حجۃ الوداع … تاریخی دستاویز اور ’حقوقِ انسانی کے چارٹردوسری قسط

خطباتِ حجۃ الوداع
خطباتِ حجۃ الوداع
خطباتِ حجۃ الوداع
خطباتِ حجۃ الوداع

خطباتِ حجۃ الوداع

… تاریخی دستاویز اور ’حقوقِ انسانی کے چارٹر

دوسری قسط

 

٭(31) مال ہڑپ کرنے کے لئے قسم کا وبال۔

حارث بن برصاء فرماتے ہیں کہ میں نے نبیؐ سے حجۃ الوداع میں سنا، آپﷺ نے فرمایا:
من اقتطع حال أخیه بیمین فاجرة فلیتبوأ مقعده من النار” (ترغیب:۲؍۶۲)
’’جس شخص نے اپنے بھائی کا مال جھوٹی قسم سے ہتھیایا وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنائے۔‘‘

٭(32) منشور ہدایت کی حفاظت۔

ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع میں خطبہ دیا اور فرمایا:
یأیها الناس! إني قد ترکت فیکم ما ان اعتصمتم به فلن تضلوا أبداً: کتاب الله وسنة نبیه إن کل مسلم أخ المسلم المسلمون إخوة” (مستدرک حاکم:۱؍۹۳)
’’اے لوگو! بے شک میں تم میں وہ چیز چھوڑے جارہا ہوں کہ اگر تم اس کو مضبوطی سے پکڑے رکھو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے، وہ ہے: اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت۔ بے شک ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اور سب مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔‘‘ (مستدرک حاکم:۱؍۹۳)
ایسی غیر مستند روایات جو خطبہ حجۃ الوداع کی طرف منسوب ہیں

یہ بھی پڑھیں

جذبات آ پ کوبیمار کرسکتے ہیں۔

٭ (33)مظلوم طبقہ کی نمائیندگی۔
عبدالرحمن بن یزید اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع میں فرمایا:
“أرقائکم، أرقائکم، أطعموهم مما تأکلون، واکسوهم مما تلبسون فإن جاء وا بذنب لا تریدون أن تغفروه فبیعوا عباد الله ولا تعذبوهم” (مسنداحمد:۴؍۳۶)
’’ اپنے غلاموں کا خیال رکھو! جو خود کھاؤ وہی ان کو کھلاؤ، جو خود پہنو، وہی ان کو پہناؤ… اگر وہ کوئی ایسی غلطی کر بیٹھیں کہ تم معاف نہ کرنا چاہو تو ان کو سزا مت دو بلکہ انہیں اللہ کے بندوں کو بیچ دو۔ ‘‘(سیرۃ النبی از شبلی نعمانی:ؒ۲؍۱۵۶)
حکم:یہ روایت ضعیف ہے، اس کی سند میں عاصم بن عبیداللہ جو کہ ابن عاصم بن عمر بن الخطاب ہے، ضعیف ہے۔ اس کے علاوہ یہ روایت مصنف عبدالرزاق (۱۷۹۳۵)، طبرانی (۲۲؍۶۳۶) میں بھی ہے۔ اور ان دونوں سندوں میں سفیان ثوری کی تدلیس ہے

اسی طرح طبقات ابن سعد (۳؍۲۷۷) اس میں عبداللہ الاسدی جو کہ ابواحمد الزبیری کی کنیت سے معروف ہے ضعیف راوی ہے کیونکہ یہ سفیان ثوری کی حدیث کے بارے میں غلطیاں کرتا ہے…مجمع الزوائد (۴؍۲۳۶) میں ھیثمی نے ذکر کیا اور کہا کہ اس روایت کو احمد اور طبرانی نے بھی اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے اور ان میں عاصم بن عبیداللہ ضعیف ہے۔ الغرض غلاموں کے بارے میں اس مضمون کی حجۃ الوداع کے حوالے سے کوئی مستند روایت نہیں۔
نوٹ:لیکن ان الفاظ کے ساتھ یہ صحیح روایت بھی موجود ہے:

إخونکم خولکم جعلکم الله تحت أیدیکم فمن کان أخوة تحت یده فلیُطعمه مما یأکل ولیلبسه مما یلبس ولا تکلفوهم ما یغلبهم فإن کلفتموهم فأعینوهم” (مسلم:۱۶۵۷،۱۶۶۱)، (مسنداحمد:۴۷۸۴)، (ابویعلی:۵۷۸۲)، (الادب المفرد:۱۸۰)، (ابوداود:۵۱۶۸)، (سنن بیہقی:۸؍۱۰)، (الشعب :۸۵۷۲)، (طبرانی فی الکبیر:۱۳۲۹۴) ان کتب میں اس مضمون کی روایت صحیح سند کے ساتھ موجود ہے لیکن وہ خطبہ حجۃ الوداع کی طرف منسوب نہیں۔
٭(34)مال کے تحفظ کا حق

Right of property)
ابوحرہ الرقاشی اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے اوسط ایام التشریق میں فرمایا:
“ألا ومن کانت عنده أمانة، فلیؤدها إلى من ائتمنه علیها” (مسنداحمد:۵؍۷۳)
(محسن انسانیت از نعیم صدیقی:صفحہ ۵۸۵)
حکم:یہ روایت ضعیف ہے کیونکہ اس میں علی بن زید ضعیف ہے جو کہ ابن جدعان کی کنیت سے معروف ہے۔

٭(35)۔ خاوند اور بیوی کے باہمی حقوق

 

(Rights of husbands & wives)
ابوامامۃ الباہلی سے روایت ہے کہ حجۃ الوداع میں نبیﷺ نے فرمایا:
“لا تنفق امرأة شیئا من بیتها إلا بإذن زوجها، قیل: یارسول الله! ولا طعام؟ قال: ذلك أفضل أموالنا، العاریة مؤداة، والمنیحة مردودة، والدین یقضی والزعیم غارم” (مصنف عبدالرزاق:۱۶۳۰۸)

’’ہاں عورت کو اپنے شوہر کے مال میں سے اس کی اجازت کے بغیر کچھ دینا جائز نہیں، قرض ادا کیا جائے، عاریتا واپس کی جائے، عطیہ لوٹایا جائے، ضامن تاوان کا ذمہ دار ہے۔‘‘حکم:یہ روایت بھی ضعیف ہے کیونکہ اس میں اسماعیل بن عیاش مُختلط راوی ہے۔ اس معنی کی روایت (ابوداود :۳۵۶۵، ابن ماجہ:۲۳۹۸) وغیرہ میں صحیح سند کے ساتھ موجود ہے لیکن خطبہ حجۃ الوداع کی طرف منسوب نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں

فلسفہ قربانی قرآن کی نظر میں۔

٭ (36)لوند،یا تاریخوں میں تبدیلی۔
۔ابن عمر سے روایت ہے کہ نبیؐ نے اوسط ایام التشریق میں فرمایا:

﴿إنَّمَا النَّسِئُ زِیَادَةٌ فِیْ الْکُفْرِ یُضَلُّ بِهِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یُحِلُّوْنَه عَامًا وَیُحَرِّمُوْنَه عَامًا لِّیُوَاطِئُوْا عِدَّةَ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ﴾ کانوا یحلون صفرًا عاما، ویحرمون المحرم عاما ویحرمون صفرًا عاما، ویحلون المحرم عاما، فذلك النسیئ (کشف الاستار:۱۱۴۱)
’’سال کی کبیسہ گری کفر میں ایک زیادتی ہے۔ جن لوگوں نے کفر کیا ہے وہ اس کے باعث بہکائے جارہے ہیں۔ وہ اسے ایک سال حلال کرلیتے ہیں اور اسے ایک سال حرام کرلیتے ہیں، تاکہ اس تعداد کا تکملہ کرلیں جو خدا نے حرام کررکھی ہے اور نسئ اس کوکہتے ہیں کہ وہ لوگ محرم کو ایک سال حرام قرار دیتے اور ایک سال صفر کو حلال قرار دیتے ، اسی طرح ایک سال صفر کے مہینے کو حرمت والا بنا دیتے ہیں تو ایک سال محرم کو لڑائی کے لئے حلال قرار دیتے ہیں۔‘‘
حکم:یہ روایت ضعیف ہے ، اس میں موسیٰ بن عبیدہ ضعیف راوی ہے۔

٭ ابن صامت سے روایت ہے کہ آپﷺ نے عرفہ کے دن فرمایا:

“إن الله قد غفر لصالحیکم وشفع صالحیکم في طالحیکم ینزل المغفرة فتعمهم ثم یفرق المغفرة في الأرض فتقع على کل تائب ممن حفظ لسانه ویده وإبلیس وجنوده على جبال عرفات ینظرون ما یصنع الله فیهم، فإذا نزلت المغفرة دعا وجنوده بالویل” (الموضوعات:۲؍۲۱۶، ترغیب:۲؍۲۰۲، منثور : ۱؍۲۳۰)

’’بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے صالحین کو بخش دیا اور ان کی ضعیف اعمال والے لوگوں کے بارے میں بھی سفارش قبول کی جس کی و جہ سے اللہ کی رحمت اُترنے لگی اور عام ہونے لگی، پھر یہ مغفرت زمین پر بکھیر دی گئی، زبان اور ہاتھ کے گناہوں سے بچنے والے ہر تائب پریہ واقع ہورہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اس تقسیم کو ابلیس اور ا س کا لشکر عرفات کے پہاڑوں پر سے دیکھ رہے ہیں۔ جب بھی اللہ کی رحمت اُترتی ہے تو ابلیس اور اس کے لشکر واویلا کرتے ہیں۔‘‘حکم:یہ روایت موضوع ہے ،الحسن بن علی ازدی حدیثیں گھڑنے والا راوی ہے۔

اس روایت کی سند کے بارے میں ابن حبان لکھتے ہیں:

لیس هذا الحدیث من کلام رسول الله ﷺ ولا من حدیث أبي هریرة ولا الأعرج ولا مالك والحسن بن علي کان یضع على الثقاة لا یحل کتب حدیثه ولا الروایة عنه حلال” (الموضوعات:۲؍۲۱۶)
’’یہ روایت اللہ کے رسولﷺکے کلام میں سے نہیں ہوسکتی اور نہ ہی ابوہریرۃ کی کلام ہے اور نہ اعرج و مالک کے کلام میں سے ہے۔ حسن بن علی الازدی ثقات پر جھوٹ باندھتا تھا، اس سے روایت کرنا جائزنہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھیں

کیا ہم تاریخ تخلیق کرتے ہیں؟

٭ حضرت جابر سے روایت ہے کہ نبیٓﷺ نے فرمایا:

“المؤمن حرام على المؤمن کحرمة هذا الیوم، لحمه علیه حرام أن یاکله بالغیبة یغتابه وعرضه علیه حرام أن یظلمه وأذاه علیه حرام أن یدفعه دفعا” (مجمع الزوائد:۳؍۲۶۸)
’’مؤمن دوسرے مؤمن کے لئے اس طرح حرمت والا جس طرح آج (یوم الاضحی) کا دن حرمت والا ہے اور مؤمن کا گوشت دوسرے مؤمن پر حرام ہے جو وہ اس کی غیبت کرکے کھاتا ہے اور اس کی عزت بھی حرام ہے کہ ظلم کرکے اس کی بے عزتی کرے اور اس کو ردّ ؍ دور کرکے تکلیف پہنچانا بھی حرام ہے۔‘‘
حکم:یہ روایت ضعیف ہے، اس میں محمد بن اسماعیل بن عیاش ضعیف ہے۔

٭ (37)امر و نہی کا قواعدہ۔


سنن ابن ماجہ میں ابن مطر سے مروی ہے کہ نبیؐ نے حجۃ الوداع میں فرمایا
یاأیها الناس خذوا العطاء ماکان عطاء فإذا تجاحفت قریش على الملك وکان عن دین أحدکم فدعوہ” (ضعیف سنن ابی داود للالبانی:۶۳۳)
(آپ لوگوں کو نصیحت فرما رہے تھے ، نیک کاموں کا حکم دیتے اور برے کاموں سے منع کررہے تھے۔ سو آپﷺ نے فرمایا:
اے لوگو! (حاکم) کی بخشش کو لے لیا کرو جب تک وہ بخشش رہے (یعنی موافق شرع کے حاصل ہو اور موافق شرع کے تقسیم ہو) پھر جب قریش ایک دوسرے کے ساتھ بادشاہت کے لئے لڑنا شروع کردیں اور یہ عطا فرض کے بدلہ میں ملے تو اس کو چھوڑ دو۔‘‘
حکم:یہ روایت ضعیف ہے، دیکھئے حوالہ مذکورہ ؛ ضعیف سنن ابی داؤد للالبانی

٭(38)کسی کو اذیت دینے کی حد۔

کعب بن عاصم الاشعری کہتے ہیں کہ میں نے اوسط ایام التشریق میں نبیؐ سے خطبہ سنا، آپؐ فرمارہے تھے :
المؤمن على المؤمن حرام کحرمة هذا الیوم لحمه علیه حرام أن یاکله بالغیب ویغتابه وعرضه علیه حرام أن یخرقه ووجهه علیه حرام أن یلطمه وأذاه علیه حرام أن یؤذیه وعلیه حرام أن یدفعه دفعا یتعتعه” (مجمع الزوائد:۳؍۲۷۲)
’’مؤمن دوسرے مؤمن کے لیے اس طرح حرمت والا ہے جس طرح آج کا یہ دن حرمت والا ہے۔اس کاگوشت بھی اس پر حرام ہے، وہ جو اس کی غیبت کر کے کھاتا ہے۔اس کی عزت کو تار تار کرنا، چہرے پر تھپڑ مارنا، اس کو اذیت دینا اور دھکے دے کر دفع دور کرنا بھی حرام ہے ۔‘‘ (مجمع الزوائد :۳؍۲۷۲)حکم:اس روایت میں کرامۃ بنت الحسن مجہول ہے۔

(39)حقوق کی ادائیگی کا حکم (Observance of rights)

ثُمَّ قَالَ: یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ! لَا تَجِیْؤُا بِالدُّنْیَا تَحْمِلُوْنَهَا عَلٰی رِقَابِکُمْ، وَ یَجِئُ النَّاسُ بِالْاٰخِرَۃِ، فَلَا اُغْنِیْ عَنْکُمْ مِنَ ﷲِشَیْئًا.
’’پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قریش کے لوگو! ایسا نہ ہو کہ اﷲ کے حضور تم اس طرح آؤ کے تمہاری گردنوں پر تو دنیا کا بوجھ لدا ہو اور دوسرے لوگ سامانِ آخرت لے کر پہنچیں اور اگر ایسا ہوا تو میں خدا کے سامنے تمہارے کچھ کام نہ آ سکوں گا۔‘‘


٭(40)امت کے لئے دعا۔
ابوامامہ الباہلی سے روایت ہے کہ آپؐ نے یوم العرفہ کو فرمایا:
ألا کل نبي قد مضت دعوته إلا دعوتي فإني قد ذخرتها عند ربي إلى یوم القیامة، أما بعد! فإن الانبیاء مکاثرون فلا تخزوني فإني جالس لکم على باب الحوض” (مجمع الزوائد:۳؍۲۷۱، کنز الاعمال:۳۹۰۸۵)
’’خبردار! ہر نبی اپنی دعا کے ساتھ گزر چکے لیکن میں نے اپنے ربّ کے پاس اپنی دعا قیامت کے دن کے لئے ذخیرہ کر چھوڑی ہے۔ پس بے شک انبیا اپنی اپنی امت کی کثرت دیکھ رہے ہوں گے، سو تم مجھے خفت میں نہ ڈالنا، میں تمہارے لئے حوضِ کوثر کے دروازے پر بیٹھا ہوں گا۔‘‘
حکم:یہ روایت ضعیف ہے ، اس میں بقیۃ بن الولید مدلس ہے۔

٭ امام ابوداؤد اپنی ’سنن‘ میں باب الخطبۃ علی المنبر بعرفۃکے تحت روایت لائے ہیں

“عن رجل من بنی ضمرة، عن أبیه، أو عمه قال: رأیت رسول الله ﷺ وهو على المنبر بعرفة”
’’بنو ضمرہ (قبیلہ ) کا ایک آدمی اپنے والد یا چچا سے روایت کرتا ہے کہ میں نے رسول اللہ ا کو دیکھا، وہ عرفہ کے روز منبر پر خطبہ دے رہے تھے۔‘‘
حکم:یہ روایت ضعیف ہے، دیکھئے (ضعیف سنن ابی داؤد للالبانی : ۴۱۶)

خطبۂ حجۃ الوداع: منشورِ انسانیت

  • آپؐ نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا سے خطاب شرو ع کیا…
    خواتین کے حقوق (Women’s rights)
    عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو کیونکہ تم نے انہیں اللہ کی امانت کے ساتھ لیا ہے اور اللہ کے کلمے کے ذریعے حلال کیا ہے۔ ان پر تمہارا حق یہ ہے کہ وہ تمہارے بستر پرکسی ایسے شخص کو نہ آنے دیں جو گواراہ نہیں۔ اگر وہ ایسا کریں تو تم انہیں مار سکتے ہو لیکن سخت مار نہ مارنا اور تم پر ان کا حق یہ ہے کہ تم انہیں معروف کے ساتھ کھلاؤ اور پہناؤ۔
    ۔ قانون کی اِطاعت (Obedience of law)
    اور میں تم میں ایسی چیز چھوڑے جارہا ہوں کہ اگر تم نے اسے مضبوطی سے پکڑے رکھا تو اس کے بعد ہر گز گمراہ نہ ہوگے اور وہ اللہ کی کتاب ہے اور اس کے نبیﷺ کی سنت ہے۔

مساواتِ اِنسانی کا تصور (Equality of humanity)
لوگو! بے شک تمہارا رب ایک ہے اور بے شک تمہارا باپ ایک ہے ہاں عربی کو عجمی پر عجمی کو عربی پر، سرخ کو سیاہ پر اور سیاہ کو سرخ پر کوئی فضیلت نہیں مگر تقویٰ کے سبب سے۔
معاشی اِستحصال سے تحفظ کا حق (Economic rights)
خبردار! جاہلیت کا ہر قسم کا سود اب ختم ہے ۔تمہارے لئے تمہارا اصل مال ہے ،نہ تم کسی پر ظلم کرو اور نہ ہی تم ظلم کا شکار ہو اور ہمارے سود میں سے پہلا سود جسے میں ختم کررہا ہوں، عباس بن عبدالمطلب کا سود ہے اب یہ سارے کا سارا سود ختم ہے!!
لاقانونیت کا خاتمہ (No to lawlessness)
سن لو! جاہلیت کی ہر چیز میرے پاؤں تلے روند دی گئی۔ جاہلیت کے خون بھی ختم کردیے گئے اور ہمارے خون میں سب سے پہلے خون جسے میں ختم کررہا
ہوں وہ ربیعہ بن حارث کے بیٹے کا خون ہے۔یہ بچہ بنو سعد میں دودھ پی رہا تھا کہ انہی ایام میں قبیلہ ہذیل نے اسے قتل کردیا۔

ذاتی ذمہ داری :
یاد رکھو! کوئی بھی جرم کرنے والا اپنے سوا کسی اور پر جرم نہیں کرتا (یعنی اس جرم کی پاداش میں کوئی اور نہیں بلکہ خود مجرم ہی پکڑا جائے گا) کوئی جرم کرنے والا اپنے بیٹے پر یا کوئی بیٹا اپنے باپ پر جرم نہیںکرتا (یعنی باپ کے جرم میں بیٹے کو یا بیٹے کے جرم میں باپ کو نہیں پکڑا جائے گا)

اطاعت امیر :
اگر کوئی حبشی یعنی بریدہ غلام بھی تمہارا قائد بتا دیا جائے اور وہ تم کو خدا کی کتاب کے مطابق لے چلے تو اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کرو۔
تلقین پیغام رسانی :جو شخص موجود ہے، وہ غیر موجود تک (میری باتیں) پہنچا دے، کیونکہ بعض وہ افراد جن تک (یہ باتیں) پہنچائی جائیں گی وہ بعض (موجودہ) سننے والوں سے کہیں زیادہ ان باتوں کے دروبست کو سمجھ سکیں گے۔
۔ نومولود کے تحفظِ نسب کا حق (Newborn’s right of anscestral sanctity):

خبردار! کسی مسلمان کی کوئی بھی چیز دوسرے مسلمان کے لئے حلال نہیں جب تک وہ خود حلال نہ کرے اور اپنی خواہش سے نہ دے دے۔
بدکاری کا خاتمہ :بچہ اس کا جس کے بستر پر تولد ہوا اور بدکار کے لئے پتھر ہیں۔
معاشرتی شناخت کا حق (Right of social identity)
جس نے اپنے باپ کے بجائے کسی دوسرے کو باپ قرار دیا یا جس نے اپنے آقا کے علاوہ کسی اور کو آقا ظاہرکیا تو ایسے شخص پر اللہ اور فرشتوں اور عام انسانوں کی طرف سے لعنت ہے۔ اس سے (قیامت کے دن) کوئی بدلہ یا عوض قبول نہ ہوگا۔
قوم کی ہلاکت کے مرض کی نشاندہی :

لوگو! مذہب میں غلو اور مبالغہ سے بچو کیونکہ تم سے پہلی قومیں اسی سے ہلاک ہوئیں۔
اہمیت علم :

اے لوگو! علم حاصل کرو قبل اس کے کہ وہ قبض کرلیا جائے اور اٹھالیا جائے۔
خبردار! علم کے ختم ہوجانے کی ایک یہ بھی شکل ہے کہ اس کے جاننے والے ختم ہوجائیں (یہ بات آپﷺ نے تین دفعہ دہرائی)
احترام انسانیت :

عنقریب میں تمہیں خبر دوں گا کہ مسلمان کون ہے؟ مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے لوگ سلامت رہیں اور مومن وہ ہے جس سے لوگوں کے اموال اور جانیں محفوظ رہیں۔
دھوکہ دہی کی حوصلہ شکنی :

جس شخصنے اپنے بھائی کا مال جھوٹی قسم سے ہتھیایا وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں سمجھے۔
باہمی اخوت :

بے شک ہرمسلما ن دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اور سب مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔
بڑے دشمن کی پہچان :

کوئی بھی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے اپنی امت کو اس (دجال) کے بارے میں نہ ڈرایا ہو۔ نوح ؑ اور اس کے بعد آنے والے نبیوں ؑ نے بھی اس کے بارے
میں ڈرایا۔ وہ تم (امت محمدیہ کے زمانہ) میں ظاہر ہوگا اور یہ بات تم خوب جانتے ہو۔ اس کی حالت بھی تم سے ڈھکی چھپی نہیں اور نہ ہی یہ بات تم پر مخفی ہے کہ تمہارا رب ان چیزوں کو بھی جانتا ہے جو تمہارے لئے پردہ میں ہیں۔ تمہارا ربّ کا نا نہیں جبکہ اس (دجال) کی دائیں آنکھ کانی ہے اور وہ آنکھ اس طرح ہے جس طرح پھولا ہو منقیٰ ہوتا ہے۔
حکمرانوں کی خیرخواہی :

تین چیزیں ہیں جن پر مؤمن کا دل خیانت (تقصیر) نہیں کرتا۔ صرف اللہ کے لئے عمل کے اخلاص میں، مسلمانوں کے حکمرانوں کی خیر خواہی میں اور ان کی جماعت سے چمٹے رہنے میں۔
حق وراثت :

اے لوگو! اللہ تعالیٰ نے میراث میں سے ہر وارث کے لئے ثابت کردہ حصہ مقرر کردیا ہے۔ اب وارث کے لئے وصیت کرنا جائز نہیں۔
سچ کی تلقین :

خبردار! عنقریب تم سے میرے بارے میں سوال ہوگا۔ جس نے بھی مجھ پرجھوٹ باندھا وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں سمجھے۔
ﷲ کے حقوق (Divine rights)
اپنے پروردگار کی عبادت کرو پانچوں وقت کی نماز پڑھو اور حج کرو اور زکوٰۃ ادا کرو۔ یہ سب کام خوشی سے سرانجام دو تو تم اپنے رب کی جنت میں داخل ہوجاؤ گے۔
درس اتحاد :

اور تم لوگ بہت جلد اپنے پروردگار سے ملو گے وہ تم سے تمہارے اعمال کے متعلق پوچھے گا، لہٰذا دیکھو میرے بعد پلٹ کر گمراہ نہ ہوجانا کہ آپس میں ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔
شہادت اور تکمیل مشن :

اور تم سے میرے متعلق پوچھا جانے والا ہے تو تم لوگ کیا کہو گے؟ صحابہ کرام ؓ نے کہا: ہم شہادت دیتے ہیں کہ آپؐ نے تبلیغ کردی، پیغام پہنچا دیا اور خیر خواہی کا حق ادا کردیا۔ یہ سن کر آپؐ نے انگشت ِشہادت کو آسمان کی طرف اٹھایا اور لوگوں کی طرف جھکاتے ہوئے تین بار فرمایا: اے اللہ گواہ رہ، اے اللہ گواہ رہے، اے اللہ گواہ رہے!!
اُنہی ایام میں یہ وحی نازل ہوئی:

﴿اَلْیَوْمَ أکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَأتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الاِسْلَامَ دِیْنًا﴾ (المائدۃ:۳)
’’آج میں نے تمہارا دین مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لئے اسلام کو بحیثیت دین پسند کرلیا۔‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حج کے احکام و مسائل
حج کا مہینہ

ایہا الناس ان الزمان قد استدار کہیئتہ یوم خلق السماوات والارض فلا شہر ینسی ولا عدۃ تحصی الا وان الحج فی ذی الحجۃ الی یوم القیامۃ۔
(مسند الربیع بن حبیب البصری، ۴۲۲)

’’اے لوگو! زمانہ آج پھر اسی ترتیب پر واپس آ چکا ہے جو اللہ نے زمین وآسمان کی تخلیق کے وقت مقرر کی تھی۔ اب نہ کوئی مہینہ بھلایا جائے گا اور نہ مہینوں کی گنتی رکھنا پڑے گی۔ آگاہ رہو! اب قیامت تک حج ذو الحجہ کے مہینے میں ہی ادا کیا جائے گا۔‘‘
حج اکبر کا دن

محمد بن قیس بن مخرمۃ: خطب یوم عرفۃ فقال ہذا یوم الحج الاکبر۔
(بیہقی، السنن الکبریٰ، ۹۳۰۴)

’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ کے روزہ خطبہ ارشاد فرمایا اور کہا کہ یہ حج اکبر کا دن ہے۔‘‘
(مرۃ الطیب عن رجل من اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم (مسند احمد، ۱۵۳۲۲))

 

عبد العزیز بن عبد اللہ بن خالد بن اسید: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوم عرفۃ: الیوم الذی یعرف الناس فیہ۔
(بیہقی، السنن الکبریٰ، ۹۶۰۹۔ سنن الدارقطنی، ۲/۲۲۳)

’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ کے دن فرمایا کہ آج وہ دن ہے جس میں لوگ عرفات میں ٹھہریں گے۔‘‘
احرام کا لباس

ابن عباس رضی اللہ عنہ: سمعت النبی صلی اللہ علیہ وسلم یخطب بعرفات من لم یجد النعلین فلیلبس الخفین ومن لم یجد ازارا فلیلبس سراویل للمحرم۔
(بخاری، ۱۷۱۰)

’’میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عرفات میں خطبہ دیتے ہوئے سنا۔ آپ نے فرمایا کہ حالت احرام میں جسے چپل نہ میسر ہوں، وہ موزے پہن لے اور جس کے پاس تہ بند نہ ہو، وہ سلی ہوئی شلوار پہن سکتا ہے۔‘‘
میقات کا تقرر

حارث بن عمرو رضی اللہ عنہ: ووقت یلملم لاہل الیمن ان یہلوا منہا وذات عرق لاہل العراق او قال لاہل المشرق۔
(طبرانی، المعجم الکبیر، ۳۳۵۱)

’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کی طرف سے آنے والوں کے لیے یلملم کو اور عراق کی طرف سے آنے والوں کے لیے ذات عرق کو میقات مقرر کیا کہ وہ وہاں سے احرام باندھ لیں۔‘‘
عرفات کا وقوف

زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ: سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہو بعرفۃ یقرا ہذہ الآیۃ شہد اللہ انہ لا الہ الا ہو والملئکۃ واولو العلم قائما بالقسط لا الہ الا ہو العزیز الحکیم وانا علی ذلک من الشاہدین۔
(مسند احمد، ۱۳۴۷)

’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عرفہ میں یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا: شہد اللہ انہ لا الہ الا ہو والملئکۃ واولو العلم قائما بالقسط لا الہ الا ہو العزیز الحکیم (اللہ بھی گواہی دیتا ہے اور فرشتے اور اہل علم بھی کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں، وہ انصاف پر قائم ہے۔ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ غالب اور حکمت والا ہے) رسول اللہ نے فرمایا کہ میں بھی اس بات کی گواہی دیتا ہوں۔‘‘
وقوف عرفات کی حد

مسور بن مخرمۃ رضی اللہ عنہ: (خطبنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بعرفۃ فحمد اللہ واثنی علیہ ثم قال اما بعد) ان اہل الجاہلیۃ کانوا یدفعون من عرفۃ حین تکون الشمس کانہا عمائم الرجال فی وجوہہم قبل ان تغرب ومن المزدلفۃ بعد ان تطلع الشمس حین تکون کانہا عمائم الرجال فی وجوہہم وانا لا ندفع من عرفۃ حتی تغرب الشمس وندفع من المزدلفۃ قبل ان تطلع الشمس ہدینا مخالف لہدی اہل الاوثان والشرک۔
(مسند الشافعی، ۱/۳۶۹۔ بیہقی، السنن الکبریٰ، ۹۳۰۴)

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں میدان عرفات میں خطبہ دیا اور اللہ کی حمد وثنا بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ اہل جاہلیت عرفہ سے سورج کے غروب ہونے سے قبل اس وقت روانہ ہو جاتے تھے جب سورج اس طرح نمایاں ہوتا جیسے مردوں (کے سروں پر ان) کی پگڑیاں ہوتی ہیں،

اور مزدلفہ سے سورج کے طلوع ہونے سے پہلے اس وقت روانہ ہو جاتے تھے جب سورج طلوع ہو کر اس طرح نمایاں ہوچکا ہوتا جیسے مردوں (کے سروں پر ان) کی پگڑیاں ہوتی ہیں، لیکن ہم عرفہ سے اس وقت تک روانہ نہیں ہوں گے جب تک سورج غروب نہ ہو جائے، اور مزدلفہ سے سورج کے طلوع ہونے سے قبل روانہ ہو جائیں گے۔ ہمارا طریقہ بت پرستوں اور اہل شرک کے طریقے کے خلاف ہے۔‘‘
عرفات میں ظہر اور عصر کو جمع کرنا

عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ: غدا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من منی حین صلی الصبح صبیحۃ یوم عرفۃ حتی اتی عرفۃ فنزل بنمرۃ وہی منزل الامام الذی ینزل بہ بعرفۃ حتی اذا کان عند صلاۃ الظہر راح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مہجرا فجمع بین الظہر والعصر ثم خطب الناس۔
(ابو داؤد، رقم ۱۶۳۴)

’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یوم عرفہ (۹ ذو الحجہ) کو صبح کی نماز ادا کر لی تو آپ منیٰ سے روانہ ہوئے، یہاں تک کہ میدان عرفات میں پہنچ گئے۔ آپ نے نمرہ کے مقام پر پڑاؤ ڈالا جو عرفہ میں امام کے قیام کرنے کی جگہ ہے۔ جب ظہر کی نماز کا وقت ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے ذرا جلدی روانہ ہوئے، ظہر اور عصر کی نماز اکٹھی ادا کی اور پھر لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا۔‘‘
عرفات کا روزہ

ام الفضل رضی اللہ عنہا: انہم شکوا فی صوم النبی صلی اللہ علیہ وسلم یوم عرفۃ فارسلت الیہ بلبن فشرب وہو یخطب الناس بعرفۃ علی بعیرہ۔
(مسند احمد، ۲۵۶۴۷۔ مسند اسحاق بن راہویہ (۴۔۵) ۱/۲۶۷)

’’لوگوں کو عرفہ کے دن شک ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے ہیں یا نہیں، تو ام الفضل نے آپ کے لیے دودھ بھیجا جسے آپ نے نوش فرمایا جبکہ آپ اپنے اونٹ پر سوار میدان عرفات میں لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے۔‘‘

یوم عرفات، مغفرت کا دن

عبادۃ بن الصامت رضی اللہ عنہ: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوم عرفۃ ایہا الناس ان اللہ تطول علیکم فی ہذا الیوم فیغفر لکم الا التبعات فی ما بینکم ووہب مسیئکم لمحسنکم واعطی محسنکم ما سال اندفعوا بسم اللہ۔
(مصنف عبد الرزاق، ۸۸۳۱)

’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ کے دن فرمایا کہ اے لوگو! آج کے دن اللہ تعالیٰ نے تم پر خاص عنایت فرمائی ہے اور تمھارے گناہ بخش دیے ہیں، سوائے ان حق تلفیوں کے جو تم نے آپس میں ایک دوسرے کی کی ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ تم میں سے خطا کاروں کو تم میں سے نیکو کاروں کے حوالے کر دیا ہے اور نیکو کاروں نے جو مانگا ہے، وہ انھیں عطا کر دیا ہے۔ اللہ کا نام لے کر روانہ ہو جاؤ۔‘‘

ام الحصین رضی اللہ عنہا: سمعت النبی صلی اللہ علیہ وسلم بعرفات یخطب یقول غفر اللہ للمحلقین ثلاث مرار قالوا والمقصرین فقال والمقصرین فی الرابعۃ۔
(مسند احمد، ۲۶۰۰۳)

’’میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عرفات میں خطبہ دیتے ہوئے سنا۔ آپ فرما رہے تھے کہ اللہ سر منڈوانے والوں کی مغفرت فرمائے۔ آپ نے یہ دعا تین مرتبہ مانگی۔ لوگوں نے کہا کہ یا رسول اللہ، بال کٹوانے والوں کے لیے بھی دعا کیجیے۔ آپ نے چوتھی مرتبہ کہا کہ یا اللہ، بال کٹوانے والوں کی بھی مغفرت فرما۔‘‘
جمرات کی رمی

حرملۃ بن عمرو رضی اللہ عنہ: حججت حجۃ الوداع مردفی عمی سنان بن سنۃ قال فلما وقفنا بعرفات رایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واضعا احدی اصبعیہ علی الاخری فقلت لعمی ماذا یقول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال یقول ارموا الجمرۃ بمثل حصی الخذف۔
(مسند احمد، ۱۸۲۴۳)

’’میں حجۃ الوداع میں شریک تھا اور میرے چچا سنان بن سنۃ نے مجھے (سواری پر) اپنے پیچھے بٹھایا ہوا تھا۔ جب میں عرفات میں ٹھہرے ہوئے تھے تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے اپنی ایک انگلی دوسری انگلی پر رکھی ہوئی ہے۔ میں نے اپنے چچا سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرما رہے ہیں؟ انھوں نے کہا کہ آپ فرما رہے ہیں کہ جمرات پر اتنے چھوٹے کنکروں سے رمی کرو جو دو انگلیوں کے درمیان رکھ کر پھینکے جا سکیں۔‘‘

عبد الرحمن بن معاذ التیمی رضی اللہ عنہ: نحن بمنی قال ففتحت اسماعنا حتی ان کنا لنسمع ما یقول ونحن فی منازلنا قال فطفق یعلمہم مناسکہم حتی بلغ الجمار فقال بحصی الخذف ووضع اصبعیہ السبابتین احداہما علی الاخری۔
(ابن سعد، الطبقات الکبریٰ، ۲/۱۸۵)

’’ہم منیٰ میں تھے کہ ہماری شنوائی تیز ہو گئی، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ جو فرما رہے تھے، ہم اپنے اپنے ٹھکانوں میں بیٹھے اس کو سن رہے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو حج کے مناسک کی تعلیم دینے لگے، یہاں تک کہ جب آپ جمرات تک پہنچے تو فرمایا کہ اتنے چھوٹے کنکروں سے رمی کرو جو دو انگلیوں کے درمیان رکھ کر پھینکے جا سکیں۔ آپ نے (چھوٹے کنکر کا حجم بتانے کے لیے) اپنی دوانگلیوں کو ایک دوسرے کے اوپر رکھا۔‘‘

اسامۃ بن شریک: سالہ رجل نسی ان یرمی الجمار فقال ارم ولا حرج ثم اتاہ آخر فقال یا رسول اللہ نسیت الطواف فقال طف ولا حرج ثم اتاہ آخر حلق قبل ان یذبح فقال اذبح ولا حرج (ان اللہ عز وجل وضع الحرج الا من اقترض امرا مسلما ظلما او قال بظلم فذلک حرج وہلک)۔
(صحیح ابن خزیمہ، ۲۲۹۵۔ المعجم الکبیر، ۴۸۲، ۴۸۴۔ حجۃ الوداع، ۱۹۱، ۱/۲۱۵)

’’ایک شخص نے جو جمرات پر رمی کرنا بھول گیا تھا، آپ سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ اب رمی کر لو، کوئی حرج نہیں۔ پھر ایک اور شخص آیا اور اس نے کہا کہ یا رسول اللہ، میں طواف کرنا بھول گیا۔ آپ نے فرمایا کہ اب کر لو، کوئی حرج نہیں۔ پھر ایک اور شخص آیا جس نے قربانی کرنے سے پہلے سر منڈوا لیا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ اب قربانی کر لو، کوئی حرج نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس معاملے میں حرج اور گناہ نہیں رکھا، ہاں جو شخص کسی مسلمان پر زیادتی کرتے ہوئے اس کی عزت کو پامال کرے گا، حقیقت میں وہی حرج میں پڑے گا اور برباد ہوگا۔‘‘
(عبد اللہ ابن عباس (ابو داؤد، ۱۷۲۲))

رجب کی قربانی

نبیشۃ بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ: نادی رجل وہو بمنی فقال یا رسول اللہ انا کنا نعتر عتیرۃ فی الجاہلیۃ فی رجب فما تامرنا یا رسول اللہ قال اذبحوا فی ای شہر ما کان وبروا اللہ عزوجل واطعموا قال انا کنا نفرع فرعا فما تامرنا قال فی کل سائمۃ فرع تغذوہ ماشیتک حتی اذا استحمل ذبحتہ وتصدقت بلحمہ۔
(نسائی، السنن الصغریٰ، ۴۱۵۶)

’’ایک شخص نے منیٰ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکارا اور کہا یا رسول اللہ! ہم جاہلیت کے زمانے میں رجب کے مہینے میں ایک جانور قربان کیا کرتے تھے، پس اب آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: جس مہینے میں چاہو، قربانی کرو اور اللہ کے ساتھ وفاداری کا اظہار کر و اور (قربانی کا گوشت) لوگوں کو کھلاؤ۔ اس نے کہا کہ ہم اونٹنی کے پہلے بچے کو بھی ذبح کیا کرتے تھے، تو اب آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟

آپ نے فرمایا: (صرف اونٹنی میں نہیں، بلکہ) ہر چرنے والے جانور کے پہلے بچے کو (اللہ کے نام پر) ذبح کرنا درست ہے، (لیکن اسے پیدا ہوتے ہی ذبح نہ کرو، بلکہ) تمھارے مواشی اس کو دودھ پلائیں، یہاں تک کہ جب وہ سواری کے قابل ہو جائے تو تم اسے ذبح کرو اور اس کا گوشت صدقہ کر دو۔‘‘

حبیب بن مخنف رضی اللہ عنہ: انتہیت الی النبی صلی اللہ علیہ وسلم یوم عرفۃ قال وہو یقول ہل تعرفونہا قال فما ادری ما رجعوا علیہ قال فقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم علی کل بیت ان یذبحوا شاۃ فی کل رجب وکل اضحی شاۃ۔
(مسند احمد، ۱۹۸۰۴۔ مصنف عبد الرزاق، ۸۱۵۹)

’’میں عرفہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچا تو آپ فرما رہے تھے کیا تم اس کو جانتے ہو؟ مجھے نہیں معلوم کہ لوگوں نے کیا جواب دیا۔ پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر اہل خانہ پر لازم ہے کہ وہ رجب کے مہینے میں ایک بکری ذبح کریں، اور ہر قربانی ایک بکری کی ہونی چاہیے۔‘‘

 

مخنف بن سلیم رضی اللہ عنہ: یا ایہا الناس علی کل اہل بیت فی کل عام اضحیۃ وعتیرۃ ہل تدرون ما العتیرۃ ہی التی تسمونہا الرجبیۃ۔(ترمذی، ۱۴۳۸)
’’اے لوگو! ہر اہل خانہ پر ہر سال ایک قربانی اور ایک عتیرہ لازم ہے۔ (راوی کہتا ہے کہ) کیا تم جانتے ہو کہ عتیرہ کیا ہے؟ یہ وہی ہے جس کو تم رجب کی قربانی کہتے ہو۔‘‘

عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ: ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم سئل عنہا یوم عرفۃ فقال ہی حق یعنی العتیرۃ۔(المعجم الاوسط، ۶۲۳۰)

’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرفہ کے دن عتیرہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ یہ حق ہے۔‘‘

حرمت کے مہینے

 

عم ابی حرۃ الرقاشی رضی اللہ عنہ: الا وان الزمان قد استدار کہیئتہ یوم خلق اللہ السموات والارض ثم قرا ان عدۃ الشہور عند اللہ اثنا عشر شہرا فی کتاب اللہ یوم خلق السموات والارض منہا اربعۃ حرم ذلک الدین القیم فلا تظلموا فیہن انفسکم۔
(مسند احمد، ۱۹۷۷۴)

’’آگاہ رہو! زمانہ آج پھر اسی ترتیب پر واپس آ چکا ہے جو اللہ نے زمین وآسمان کی تخلیق کے وقت مقرر کی تھی۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ’ان عدۃ الشہور عند اللہ اثنا عشر شہرا فی کتاب اللہ یوم خلق السموات والارض منہا اربعۃ حرم ذلک الدین القیم فلا تظلموا فیہن انفسکم‘۔

(اللہ کے نزدیک مہینوں کی تعداد بارہ ہے، جو اس دن سے اس کی کتاب میں درج ہے جب اس نے زمین وآسمان کو پیداکیا۔ ان میں سے چار مہینے حرام ہیں۔ یہی صحیح اور راست دین ہے، اس لیے ان مہینوں میں (حدود سے تجاوز کر کے) اپنی جانوں پر ظلم نہ ڈھاؤ۔‘‘
(ابوبکرہ (بخاری ۴۰۵۴) ابو ہریرہ (تفسیر الطبری، ۱۰/۱۲۵۔ بزار، مجمع الزوائد ۳/۲۶۸) ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ۶/۹)

عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ: ایہا الناس ان النسئ زیادۃ فی الکفر یضل بہ الذین کفروا یحلونہ عاما ویحرمونہ عاما لیواطؤا عدۃ ما حرم اللہ فیحلوا ما حرم اللہ ویحرموا ما احل اللہ ان الزمان قد استدار فہو الیوم کہیئتہ یوم خلق اللہ السموات والارض وان عدۃ الشہور عند اللہ اثنا عشر شہرا فی کتاب اللہ یوم خلق السماوات والارض منہا اربعۃ حرم رجب مضر بین جمادی وشعبان وذو القعدۃ وذو الحجۃ والمحرم وان النسئ زیادہ فی الکفر یضل بہ الذین کفروا یحلونہ عاما ویحرمونہ عاما لیوطؤا عدۃ ما حرم اللہ۔
(مسند عبد بن حمید، ۸۵۸)

’’اے لوگو! حرام مہینوں کو آگے پیچھے کرنا کفر میں مزید آگے بڑھنا ہے جس کے ذریعے سے اہل کفر (لوگوں کو) گمراہ کرتے ہیں۔ وہ اللہ کے حرام کردہ مہینوں کی گنتی کو پورا رکھنے کے لیے ایک سال کسی مہینے کو حلال قرار دیتے ہیں اور ایک سال حرام، اور اس طرح اللہ کے حرام کردہ مہینے کو حلال اور اللہ کے حلال کردہ مہینے کو حرام کر دیتے ہیں۔ زمانہ آج پھر اسی ترتیب کے مطابق ہو چکا ہے جو اللہ نے زمین وآسمان کی تخلیق کے وقت مقرر کی تھی۔

اللہ کے نزدیک مہینوں کی تعداد بارہ ہے، جو اس دن سے اس کی کتاب میں درج ہے جب اس نے زمین وآسمان کو پیداکیا۔ ان میں سے چار مہینے حرام ہیں۔ ایک رجب کا مہینہ جو جمادیٰ اخریٰ اور شعبان کے درمیان آتا ہے، اور ذو القعدہ، ذو الحجۃ اور محرم۔ حرام مہینوں کی ترتیب کو آگے پیچھے کرنا کفر میں مزید آگے بڑھنا ہے جس کے ذریعے سے اہل کفر (لوگوں کو) گمراہ کرتے ہیں۔ وہ اللہ کے حرام کردہ مہینوں کی گنتی کو پورا رکھنے کے لیے ایک سال کسی مہینے کو حلال قرار دیتے ہیں اور ایک سال حرام۔‘‘
عرفات کے خطبے کے بارے میں متفرق روایات

حارث بن عمرو رضی اللہ عنہا: انہ لقی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی حجۃ الوداع وہو علی ناقتہ العضباء (وہو بمنی او بعرفات ویجئ الاعراب فاذا راوا وجہہ قالوا ہذا وجہ مبارک)

(وکان الحارث رجلا جسیما فنزل الیہ الحارث فدنا منہ حتی حاذی وجہہ برکبۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فاہوی نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یمسح وجہ الحارث فما زال نضرۃ علی وجہ الحارث حتی ہلک) فاتیتہ من احد شقیہ فقلت یا رسول اللہ بابی انت وامی استغفر لی فقال غفر اللہ لکم ثم اتیتہ من الشق الآخر ارجو ان یخصنی دونہم فقلت یا رسول اللہ استغفر لی فقال بیدہ غفر اللہ لکم (فذہب یبزق فقال بیدہ فاخذ بہا بزاقہ فمسح بہ نعلہ کرہ ان یصیب احدا ممن حولہ)

فقال رجل من الناس یا رسول اللہ العتائر والفرائع قال من شاء عتر ومن شاء لم یعتر ومن شاء فرع ومن شاء لم یفرع، فی الغنم اضحیتہا وقبض اصابعہ الا واحدۃ (وفی روایۃ: وقال باصبع کفہ الیمنی فقبضہا کانہ یعقد عشرۃ ثم عطف الابہام علی مفصل الاصبع الوسطی ومد اصبعہ السبابۃ وعطف طرفہا یسرا یسرا)۔
(نسائی، ۴۱۵۴۔ مسند احمد، ۱۵۴۰۵۔ طبرانی، المعجم الکبیر، ۳۳۵۱، ۳۳۵۲۔ الآحاد والمثانی، ۱۲۵۷)

’’حجۃ الوداع کے موقع پر حارث بن عمرو کی ملاقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی اور آپ اپنی اونٹنی عضباء پر سوار تھے۔ آپ منیٰ یا عرفات میں تھے اور بدو لوگ آتے اور جب آپ کا چہرہ دیکھتے تو کہتے کہ یہ تو بہت مبارک چہرہ ہے۔ حارث بھاری جسم کے آدمی تھے، چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچ گئے، یہاں تک کہ ان کا چہرہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنے کے برابر آ گیا۔ پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جھک کر حارث کے چہرے پر ہاتھ پھیرا

اور اس کی برکت سے وفات تک حارث کے چہرے پر تروتازگی قائم رہی۔ حارث کہتے ہیں کہ میں ایک طرف سے آپ کے پاس آیا اور کہا کہ یا رسول اللہ، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میرے لیے مغفرت کی دعا کیجیے۔آپ نے فرمایا: اللہ تم سب کی مغفرت کرے۔ پھر میں اس امید پر دوسری طرف سے آیا کہ آپ خاص طور پر میرے لیے دعا کریں۔ میں نے کہا کہ یا رسول اللہ، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میرے لیے مغفرت کی دعا کیجیے۔

آپ نے فرمایا: اللہ تم سب کی مغفرت کرے۔ آپ نے تھوک پھینکنا چاہی تو اس خدشے سے کہ اردگرد موجود لوگوں میں سے کسی پر جا پڑے گی، آپ نے اپنے ہاتھ میں تھوک پھینک کر اسے اپنے جوتوں کے ساتھ صاف کر دیا۔ ایک شخص نے کہا کہ یا رسول اللہ! عتیرہ اور فرع کا کیا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا جو چاہے، عتیرہ کی قربانی کرے اور جو چاہے نہ کرے۔ اور جو چاہے، اونٹنی کے پہلے بچے کو قربان کرے اور جو چاہے نہ کرے۔ بکریوں میں بس ایک (عید الاضحیٰ) کی قربانی ہی لازم ہے۔ آپ نے ایک انگلی کے علاوہ ہاتھ کی باقی انگلیاں بند کر لیں۔

(ایک روایت میں ہے کہ آپ نے اپنے دائیں ہاتھ کی ایک انگلی کو یوں بند کر لیا جیسے دس کا عدد بنا رہے ہوں۔ پھر انگوٹھے کو درمیانی انگلی کے جوڑ پر رکھ دیا اور شہادت کی انگلی کو کھڑا کر کے اس کے کنارے کو تھوڑا سا ٹیڑھا کر لیا۔)‘‘

نبیط بن شریط رضی اللہ عنہ: رایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یخطب علی جمل احمر بعرفۃ قبل الصلاۃ۔
(نسائی، ۲۹۵۷)

’’میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ عرفہ میں نماز سے قبل ایک سرخ اونٹ پر سوار خطبہ دے رہے تھے۔‘‘

خالد بن العذاء بن ہوذۃ رضی اللہ عنہ: رایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یخطب الناس یوم عرفۃ علی بعیر قائم فی الرکابین۔
(ابو داؤد، ۱۶۳۸)

’’میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ یوم عرفہ کو ایک اونٹ پر اس کی دونوں رکابوں میں پاؤں جما کر کھڑے تھے اور خطبہ دے رہے تھے۔‘‘

عبادۃ بن عبد اللہ بن الزبیر رضی اللہ عنہ: قال کان ربیعۃ بن امیۃ بن خلف الجمحی ہو الذی یصرخ یوم عرفۃ تحت لبۃ ناقۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وقال لہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اصرخ وکان صیتا۔
(المعجم الکبیر، ۴۶۰۳)

’’یوم عرفہ کو ربیعہ بن امیہ بن خلف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کے سینے کے نیچے کھڑے (آپ کے کلمات کو) بلند آواز سے دہرا رہے تھے۔ ان کی آواز بہت بلند تھی اور آپ نے ان سے کہا تھا کہ اونچی آواز سے (یہ کلمات) کہو (جو میں کہہ رہا ہوں)‘‘۔

یقول لہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قل یا ایہا الناس ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول ….۔
(ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ ۶/۱۰)

’’آپ ربیعہ سے کہتے کہ کہو: اے لوگو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ …‘‘۔
(ابن عباس (المعجم الکبیر، ۱۱۳۹۹۔ صحیح ابن خزیمہ، ۲۹۲۷))

منٰی کے خطبے کے بارے میں متفرق روایات

رافع بن عمرو المزنی رضی اللہ عنہ: ونبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یخطب الناس علی بغلۃ شہباء وعلی یعبر عنہ یوم النحر حتی ارتفع الضحی بمنی۔
(نسائی، السنن الکبریٰ، ۴۰۹۴۔ الآحاد والمثانی، ۱۰۹۶۔ بیہقی، السنن الکبریٰ، ۹۴۰۰)

’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم یوم النحر (۱۰ ذو الحجہ) کو منیٰ میں ایک سفید خچر پر سوار لوگوں کو خطاب کر رہے تھے اور علی رضی اللہ عنہ آپ کی بات کو لوگوں تک پہنچا رہے تھے، یہاں تک کہ دن خوب چڑھ گیا۔ ‘‘

عم ابی حرۃ الرقاشی رضی اللہ عنہ: کنت آخذا بزمام ناقۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی اوسط ایام التشریق اذود عنہ الناس۔(مسند احمد، ۱۹۷۷۴)
’’ایام التشریق کے وسط میں (یعنی ۱۰ ذو الحجہ کو) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی نکیل تھام رکھتی تھی اور میں لوگوں کو آپ سے پرے ہٹا رہا تھا۔‘‘

ابو کاہل عبد اللہ بن مالک رضی اللہ عنہ: رایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یخطب علی ناقۃ آخذ بخطامہا عبد حبشی۔
(نسائی، السنن الکبریٰ، ۴۰۹۶)

’’میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک اونٹنی پر سوار لوگوں کو خطبہ دے رہے ہیں اور اونٹنی کی نکیل ایک حبشی غلام نے پکڑ رکھی ہے۔‘‘

سلمۃ بن نبیط الاشجعی رضی اللہ عنہ: ان اباہ قد ادرک النبی صلی اللہ علیہ وسلم وکان ردفا خلف ابیہ فی حجۃ الوداع قال فقلت یا ابت ارنی النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال قم فخذ بواسطۃ الرحل قال فقمت فاخذت بواسطۃ الرحل فقال انظر الی صاحب الجمل الاحمر الذی یؤمی بیدہ فی یدہ القضیب۔
(مسند احمد، ۱۷۹۷۶)

’’نبیط اشجعی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے کا موقع ملا۔ وہ حجۃ الوداع میں اپنے والد کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ اے ابا جان، مجھے دکھائیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون سے ہیں؟ والد نے کہا کہ اٹھ کر پالا ن کے اگلے حصے کو پکڑ لو۔ پس میں اٹھا اور میں نے پالان کے اگلے حصے کو پکڑ لیا۔ پھر انھوں نے کہا کہ اس شخص کو دیکھو جو سرخ اونٹ پر سوار ہے اور اس کے ہاتھ میں چھڑ ی پکڑی ہوئی ہے اور وہ ہاتھ کے اشارے سے (گفتگو کر) رہا ہے۔‘‘

ام الحصین رضی اللہ عنہا: رمی جمرۃ العقبۃ ثم انصرف فوقف الناس وقد جعل ثوبہ من تحت ابطہ الایمن علی عاتقہ الایسر قال فرایت تحت غضروفہ الایمن کہیءۃ جمع (فانا انظر الی عضلۃ عضدہ ترتج)۔(صحیح ابن حبان، ۴۵۶۴۔ ترمذی، ۱۶۲۸)

’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ عقبہ پررمی کی، پھر واپس آئے اور لوگوں کوروک لیا۔ آپ نے اپنی چادر اپنی دائیں بغل کے نیچے سے نکال کر اپنے بائیں کندھے پر ڈال رکھی تھی۔ پس میں نے دیکھا کہ آپ کے دائیں (کندھے کی) نرم ہڈی کے نیچے مٹھی کی طرح (گوشت کا) ایک ابھار ہے، اور میں دیکھ رہی تھی کہ آپ کے بازو کے عضلات (حرکت کی وجہ سے) پھڑک رہے ہیں۔‘‘

ابو امامۃ باہلی رضی اللہ عنہ: وہو علی ناقتہ الجدعاء قد ادخل رجلیہ فی الغرز ووضع احدی یدیہ علی مقدم الرحل والاخری علی موخرہ یتطاول بذلک۔(المعجم الکبیر، ۷۶۷۶۔ مسند احمد، ۲۱۱۴۰)
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی، جدعا پر سوار تھے، آپ نے دونوں پاؤں رکاب میں جما رکھے تھے اور آپ کا ایک ہاتھ پالان کے اگلے حصے پر جبکہ دوسرا اس کے پچھلے حصے پر رکھا ہوا تھا۔ اس طرح آپ (اونچے ہو کر) لوگوں کو نمایاں دکھائی دینے کی کوشش کر رہے تھے۔‘‘

ابو امامۃ باہلی رضی اللہ عنہ: لما کان فی حجۃ الوداع قام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہو یومئذ مردف الفضل بن عباس علی جمل آدم۔(مسند احمد، ۲۱۲۵۹۔ المعجم الکبیر، ۷۸۹۸)

’’حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (خطبہ کے لیے) ایک گندمی رنگ کے اونٹ پر کھڑے ہوئے اور آپ کے پیچھے فضل بن عباس بیٹھے ہوئے تھے۔‘‘
جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ: ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال لہ فی حجۃ الوداع استنصت الناس۔
(بخاری، ۱۱۸، ۴۰۵۳)

’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر جریر بن عبد اللہ سے کہا کہ لوگوں کو چپ کراؤ۔‘‘

عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ: ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم بینا ہو یخطب یوم النحر فقام الیہ رجل فقال کنت احسب یا رسول اللہ ان کذا وکذا قبل کذا وکذا ثم قام آخر فقال کنت احسب یا رسول اللہ ان کذا وکذا قبل کذا وکذا لہولاء الثلاث فقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم افعل ولا حرج۔
(بیہقی، السنن الکبریٰ، ۹۳۹۳)

’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم یوم النحر کو خطبہ دے رہے تھے کہ ایک شخص آپ کے پا س آیا اور کہا کہ یارسول اللہ، میں سمجھا کہ حج کا فلاں عمل فلاں عمل سے پہلے کرنا ہے۔ پھر ایک اور شخص اٹھا اور اس نے بھی کہا کہ یا رسول اللہ، میں سمجھا کہ حج کا فلاں عمل فلاں عمل سے پہلے کرنا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب کر لو، کوئی حرج نہیں۔آ

Written by admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.

GIPHY App Key not set. Please check settings

2 Comments

خطباتِ حجۃ الوداع… تاریخی دستاویز اور ’حقوقِ انسانی کے چارٹر

خطباتِ حجۃ الوداع… تاریخی دستاویز اور ’حقوقِ انسانی کے چارٹر

ہم قربانی کے ثمرات سے کیوں محروم رہتے ہیں اورہم قربانی کیوں کرتے ہیں

ہم قربانی کے ثمرات سے کیوں محروم رہتے ہیں؟ اورہم قربانی کیوں کرتے ہیں؟