in

جذبات آ پ کوبیمار کرسکتے ہیں۔۔

جذبات آ پ کوبیمار کرسکتے ہیں۔۔
جذبات آ پ کوبیمار کرسکتے ہیں۔۔

جذبات آ پ کوبیمار کرسکتے ہیں۔۔

جذبات آ پ کوبیمار کرسکتے ہیں۔۔
جذبات آ پ کوبیمار کرسکتے ہیں۔۔

حکیم قاری محمد یونس شاہد میو

جذبات آ پ کوبیمار کرسکتے ہیں۔۔
کثیر الوقوع امراض معدہ کے نفسیاتی اسباب۔

بہت خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو معدہ کی تکالیف سے ناآشنا ہیں۔انہیں ہاضمہ اور قبض کشائی کے اودیات کرنے کی نوبت نہیں آتی۔معدہ کی تکالیف کا اتنی کثرت سے دیکھنے کو ملتی ہیں۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس وقت کوئی انسان امراض معدہ سے بچا ہوا نہیں۔
۔۔۔
1845ء۔۔

میں،ایک ڈاکٹر ولیم بیو مانٹ نے ایک عجیب و غریب مریض کا معائنہ کیا،جس کا نام ،الیکسس سینٹ،،،تھ۔ا،
اس کے معدہ کو لگنے والی ایک گولی نے جھید ڈالا تھا،بری طرح زخمی ہو ا علاج و معالجہ سے تندرست تو ہوگیا
لیکن ایک سوراخ باقی رہ گیا۔اس سوراخ سے ڈاکٹر موصوف ہو مریض کے معدہ کے اندرون حالات کے معائنہ کرنے کا موقع ملا۔


جو روز مرہ معدہ کے نادر واقع ہوتی رہتی ہیں،انہوں نے کھانا ہضم ہوتے ہوئے دیکھا،
انہوں نے دیکھا ہاضمہ کے وقت معدہ کی جھلی کا رنگ تبدیل ہوجاتا ہے۔سرخ شوخ ہوجاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

Ginger – ( حکیم قاری محمد یونس شاہد میو)ادرک۔زنجبیل،دیسی ٹانک

اس کے علاوہ بھی کئی رنگ بدلتے دیکھے،ان میں سے کچھ رنگ تو ہاضمہ سے متعلق تھے،
لیکن کچھ رنگوں کی بدلائو کا سلسلہ ہضم سے الگ تھا،
اس وقت تک معالجین کو ایسی سہولیات موجود نہ تھیں کہ اس گہرائی سے مطالعہ کرنے کے اسباب مہیا ہوسکتے،
ناہی اس وقت تک یہ معلوم تھا کہ ان رنگوں کا بدلائو کتنی اہمیت کا حامل ہے،۔
مارٹن کی طرح ٹام کے معدہ میں میں ایک سوراخ تھا ،اس کا سبب وہ مربہ تھا جسے بچپن میں گرم گرم انہوں نے حلق سے اتار لیا تھا
جس کی وجہ سے حلق اور کھانے والے (مری)نالی بری طرح متاثر ہوئی تھی،زخم تو ٹھیک ہوگیا
لیکن بھاری قسم کے کھرنڈ نے کھانے پینے کا راستہ نہایت تنگ کردیا،اس لئے مجبورا ان کے معدہ مین سوراخ کیا گیا ۔
اس کی مدد سے خوراک دی جاتی تھی۔
1943ء میں دوماہرین ڈاکٹر سیوراٹ۔ڈاکٹر ہرالڈ نے ٹام اور اس کے حالات کا گہرائی سے طبی معائنہ کیا۔
انہوں نے دیکھا ہخوف کی وجہ سے جس طرح ٹام کے چہرے کا رنگ پھیکا پڑتاتھا
اسی طرح اس کے معدہ کے استر کا بھی رنگ پھیکا پڑجاتا تھا۔اور معدہ کی حرکات بہت سست، یا بند ہوجاتی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں

معدہ کا السر کا آزمودہ علاج

غصہ کا اثر اس سے مختلف نوعیت کا ہوتا تھا،
معدہ کا اسٹر بھی تام کے چہرے کی طرح سرخ ہوجاتا تھا،اس میں تیزاب زیادہ پیدا ہونے لگتا،


معدہ کی حرکات غیر معمولی طور پر بڑھ جاتیں۔جس وقت معدہ کا استر سرخ ہوتا اس میں زخم بہت آسانی سے لگ سکتا تھا
اسے شیشے کی ڈنڈی سے چھونے سے خون بہنے لگتا۔اس سے نتیجہ اخذ کیا گیا کہ اگر غصے اورجذباتی کیفیت زیادہ دیر تک قائم رہے
تومعدہ کا السر آسانی سے بن سکتا ہے
دماغ کے جذبات سے تعلق رکھنے والے مراکز ان تحریکات کے ذریعہ معدہ پر اثر انداز ہوتے ہیں
جو دونوں کو مربوط کرنے کے لئے ایک عصب کے ذریعہ سفر کرتی ہیں۔


انگریزی میں یہ عصب کو” دے گیس نرو” اور اردو میں” عصب راجع” کہلاتا ہے۔
اس بات کا تجربہ کرنے کے لئے کہ اگر اس عصب کو کاٹ دیا جائے تو معدہ پر جذبات کا اثر ہوتا ہے کہ نہیں؟
انہوں اس پر گہرے غور و فکر کے بعد تجربہ کیا,باہمی مشاورت کے بعد اس عصب کو کاٹ دیا گیا،
کیونکہ غذا کی نالی میں سرطان(کینسر) ہوگیا تھا۔ٹام کی طرح اس مریض کو بھی نلکی کے ذریعہ سے خوراک پہنچائی جاتی تھی۔
اس جراحی(آپریشن) سے اپہلے مریض کے چہرے پر جو تبدیلیاں رونماں ہوتی تھیں وہی تبدیلیاں معدہ کے استر بھی نظر آتی تھیں۔
عصب راجع کٹنے کے بعد مریض کے چہرے کے اثرات چہرے تک ہی محدود رہتے تھے،
ان کا معدہ پر کوئی اثر نہ ہوتا تھا یعنی عصبی تحریکات کا وہ راستہ بند ہوگیا جس کے ذریعہ یہ تغیرات پیدا ہوتے تھے۔

Written by admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.

GIPHY App Key not set. Please check settings

One Comment

دروس العملیات از حکیم قاری محمد یونس شاہد میو

دروس العملیات از حکیم قاری محمد یونس شاہد میو

خطباتِ حجۃ الوداع… تاریخی دستاویز اور ’حقوقِ انسانی کے چارٹر

خطباتِ حجۃ الوداع… تاریخی دستاویز اور ’حقوقِ انسانی کے چارٹر