in ,

آنکھ کی پتلی کا پھیل جانا یا تنگ ہوجانا

آنکھ کی پتلی کا پھیل جانا یا تنگ ہوجانا
آنکھ کی پتلی کا پھیل جانا یا تنگ ہوجانا

آنکھ کی پتلی کا پھیل جانا یا تنگ ہوجانا

آنکھ کی پتلی کا پھیل جانا یا تنگ ہوجانا
آنکھ کی پتلی کا پھیل جانا یا تنگ ہوجانا

آنکھ کی پتلی کا پھیل جانا یا تنگ ہوجانا

حکیم قاری محمد یونس شاہد میو

یہ مرض اکثر بچپن میں عارض ہوتا ہے ، جس میں بھی ،شبکہ عنبیہ پھیل جاتا ہے اورکبھی تنگ بھی ہو جاتا ہے۔د و کیفیتیں (پھیلنا یا تنگ ہونا ) کبھی طبعی بھی ہوتی ہیں، اگر تنگی طبعی ہوتو یہ صورت بہتر ہے کیونکہ اس میں روح باصرہ نہایت تیزی اور قوت کے ساتھ ثقبہ عینیہ میں نفوذ کرتی ہے ۔اتساع کا سبب صدمہ ، ضرب یا جسم سے خون کا بہت زیادہ اخراج بھی ہو سکتا ہے مثلا نفاس کی حالت میں۔اتساع طبعی میں مرض کی تلافی کے لئے طبیب کوشیافات اور سرمہ جات کا استعمال کرانا چاہئے ۔ بچوں اور عورتوں میں شیافات اور جوان اور کہول( بوڑھوں) کے علاج میں خشک کرنے والے سرمہ جات استعمال کرائے جائیں تو بہتر ہے۔
شیان جواس مرض کے لیے مفید ہے۔ عصارہ پوست انار شیریں ۳۵ ملی لٹریرسوت زرد14 گرام ، شگوفر بابونہ اور تخم کتاں ہر ایک5/10 گرام ، زعفران75/4گرام، بہدانہ شیریں 5/2گرام، اسپغول مسلم ایک گرام .جملہ ادو یہ کوکوٹ پیس کر کسی باریک کپڑے سے چھان لیں پھر عصارہ پوست انارکو۷۵ ملی لٹر اور عرق گلاب کے ہمرا دواؤں کے سفوف میں شامل کرلیں اور اس کوصاف کرلیں۔ بعد ازاں گل مامیثاپیس اور چھان کر ۲۵ گرام اس میں شامل کر لیں .پھرنرم آگ پر رکھ کر گاڑھاکرلیں ، جب قوام بستہ ہو جائے تو دانہ مسور کے برابر حبوب بنالیں اور سایہ میں خشک کر لیں۔ بوقت ضرورت ایک حب کو تازہ نتھارے ہوئے تھوڑے سے دودھ میں حل کر کے روزانہ آنکھوں میں قطورکریں۔ اگر آنکھوں میں ورم پا یا جائے تو ابتدا فصد اور اس کے بعد مسہلات سے تنقیہ کریں۔ اگرمریض قوی وتوانا ہو اور وقت بھی موافق توورنہ قیفال کی فصد کے ذریعہ استفراغ کرائیں۔
جوان، بوڑھے اور ادھیرعمر کے لوگوں کے لیے ایک مفید سرمہ اثمد (سنگ سرمہ) مغسول ، توتیا، زرورد ہرایک۳۵ گرام، رسوت زرد، لاجورد محلول اورشگوفہ انار شیریں ہر ایک5/17گرام۔ جملہ ادویہ الگ الگ سفوف کر کے باریک کپڑے سے چھان کر یکجا کرلیں ۔ پھر 56گرام گل آس اور بہیدانہ ، زعفرانن تخم خطی پر ایک14گرام میتھی اورگل بنفشہ پر ایک ۷ گرام، ان تمام ادویہ کو کوٹ کر ایک لٹر پانی میں ملاکرنرم آگ پر رکھیں یہاں تک کہ صحت پانی رہ جائے اس کے بعد دوسرے کپڑے سے چھان کرصاف کرلیں پھر اس جوشاندہ میں سفوف کی ہوئی ادویہ گوندھ لیں اور خشک کرلیں۔ یہ عمل دس بارکریں یعنی باہم ملاتے اور خشک کرتے رہیں پھر اس کو پیس کر موٹے کپڑے سے چھان کر مٹی یا شیشے کے ظروف میں محفوظ کرلیں اور روزانہ صبح وشام بطور سرمہ آنکھوں میں لگائیں ۔ یہ سرمہ دونوں ہی صورتوں میں نافع ہے خواہ مرض طبعی ہو یا بعد میں عارضی ہوا ہو ۔ اگر وہاں ور م بھی ہو تو پہلے فصد کے ذریعہ بدن کا تنقیہ کرلیں جس کا تذکرہ میں کر چکا ہوں ، پھرادویہ مسہلہ استعمال کرائی جائیں اور آنکھ پر تازہ گل سرخ کا ضماد لگائیں لیکن کوئی عذرہوتونیم گرم معطر گلاب میں نئی روئی کا پھایا بھگو کر تکمیدکریں جب ورم جاتا رہے تو اس کے بعد وہ مریض جن کے لیے میں نے شیاف کا تذکرہ کیا ہے وہ شیاف استعمال کریں اور جن اشخاص کے لیے سرمہ تجویز کیاگیا ہے وہ اس کا استعمال کریں ۔ یہاں تک کہ وہ صحت پاجائیں۔یہ مرض یعنی حدقہ کا کشادہ ہو جانا بالعموم انتشار کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ بہرحال جوں ہی یہ مرض پیدا ہو فوری طور پر علاج کی طرف توجہ کرنی چاہئے ورن اگر تاخیر کی گئی تو نزول الما( موتیا بند ) کی شکل پیدا ہو جائے گی۔
ا

Written by admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.

GIPHY App Key not set. Please check settings

عاشورہ محرم کی فضیلت اور شرعی حیثیت

عاشورہ محرم کی فضیلت اور شرعی حیثیت

انسانی ذہن قدرت کاکرشمہ

انسانی ذہن قدرت کاکرشمہ