in ,

اورنگ عالمگیر کلا طرز حکومت رواداری کا عظیم باب۔1

اورنگ عالمگیر کلا طرز حکومت رواداری کا عظیم باب۔1
اورنگ عالمگیر کلا طرز حکومت رواداری کا عظیم باب۔1

اورنگ عالمگیر کلا طرز حکومت رواداری کا عظیم باب۔1

اورنگ عالمگیر کلا طرز حکومت رواداری کا عظیم باب۔1
اورنگ عالمگیر کلا طرز حکومت رواداری کا عظیم باب۔1

اورنگ عالمگیر کلا طرز حکومت رواداری کا عظیم باب
( 24/اکتوبر 1618ء مطابق 15/ ذی قعدہ،1027ھ ۔۔۔۔۔( 1658ء تا 1707)

شاہ جہاں اور ممتاز محل کی ساتویں اولاد حاکم کی شکل میں دس سال تک اور حکمراں کے طور پر پچاس سال تک حکومت کرنے والا ابوالمظفر محمد محی الدین اورنگ زیب بہادر عالمگیر بادشاہ غازی کی پیدائش گجرات کے شہر دہد میں بعض تاریخ کے مطابق اجین کے نزدیک دہد میں( 24/اکتوبر 1618ء مطابق 15/ ذی قعدہ،1027ھ )کو ہوئی۔
اورنگ زیب کا دور اقتدار تقریباً پچاس سال رہا۔ 1658ء تا 1707ء۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مذہبی نقطہ نظر سے وہ ایک پکا مسلمان تھا۔ لیکن اس کے ساتھ وہ ایک حکمراں بھی تھا۔ اورنگ زیب ایک دور اندیش بادشاہ تھا۔ وہ اچھی طرح سمجھتا تھا کہ ملک کا اکثریتی طبقہ اپنے مذہب کا سختی سے عامل ہے۔تلوار کے زور سے ان کو اسلام کا پیروکار نہیں بنایاجاسکتا۔ اگر وہ اکثریتی طبقہ کو نقصان پہنچاتا تو ایک وسیع سلطنت کا مالک نہ بنتا۔ تاریخ کے اوراق اس بات کے گواہ ہیں کہ دہلی سلطنت سے لے کر مغل حکمرانوں تک میں اورنگ زیب واحد بادشاہ تھا جس کی سرحد برما سے لے کر بدخشاں تک اور کشمیر سے لے کر دکن کی آخری سرحد تک قائم تھی اور ایک مرکز کے تحت قائم تھی۔ اگر وہ سخت گیر بادشاہ ہوتا تو اتنی بڑی سلطنت قائم ہوتی؟

1659ء میں اورنگ زیب نے سکوں پر کلمہ کندہ کرانا بند کر دیا۔ اس کے خیال میں سکے دونوں فرقوں کے ذریعہ استعمال ہوتے ہیں ایسی صورت میں سکے کی شکل سادہ ہونی چاہئے۔(بحوالہ شری رام شرما: مغل شاسکوں کی دھار مک نیتی صفحہ 120)۔ اورنگ زیب نے نشیلی اشیا شراب وغیرہ پر پابندی لگانے کے لئے ایک نیا محکمہ قائم کیا۔ شراب بیچنے یا پیتے ہوئے پکڑے جانے پر شراب فروخت کرنے والے کو سخت سزائیں دی جاتی تھیں۔ شراب نوشی کے الزام میں ایک منصب دار کو سزا کے طور پر اس کا تبادلہ کردیا گیا تھا۔ صرف یورپ کے لوگوں کو شراب پینے کی اجازت تھی وہ بھی شہر سے بیس تا پچیس میل دور”بھانگ کی کھیتی” اس کا فروخت کرنا اور کھلے طور پر استعمال کرنے پر پابندی لگادی گئی۔ (بحوالہ ممات احمد صفحہ 282، جلد اول)

محرم غم اور اداسی کے ماحول سے متعلق تھا، خاص کر نبی کریم ﷺ کے نواسے حضرت سید حسین ان کے اہل خانہ پر کربلا کے میدان میں مصیبتوں کا پہاڑ ٹوٹا تھا۔حضرت سید حسین ؓ و دیگر اہل خانہ شہید کردئے گئے تھے۔ لیکن لوگ اس ماہ کو ایک تہوار کی طرح منانے لگے تھے۔ لہذا 1664ء میں محرم کی تقریب پر روک لگا دی گئی۔ تخت نشینی کے گیارہ سال بعد اورنگ زیب نے دربار میں ناچ گانے کو منع کردیا جب کہ اورنگ زیب سرود بجانے میں خود ماہر تھا۔ (بحوالہ مورخ ستیش چندر)

رواداری:
ہندوستانی زبان سیکھنے اور سکھانے میں اورنگ زیب کو اتنی دلچسپی تھی کہ اس نے ایک ڈکشنری تیارکرائی جس کے ذریعے فارسی جاننے والا آسانی سے ہندی سیکھ سکے۔ ہندی نظموں و غزلوں کے متعلق قواعد و اصولوں کو رائج کرنے کے لئے اس نے ایک خاص کتاب ترتیب دی۔ اس کے مخطوطے خدا بخش لائبریری ، پٹنہ میں موجودہیں۔ شہنشاہ اکبر نے اپنے زمانے میں یوم پیدائش منانے کا رواج قائم کیا لیکن اورنگ زیب نے اس رواج کو ختم کر دیا۔ اس نے بڑے پیمانے پر نئی مسجدوں کی تعمیر نہیں کرائی بلکہ قدیم مساجد کو رنگ و روغن کرا کر چلایا۔ اس میں ملازم، امام، موذن و خطیب کو سرکاری خزانے سے تنخواہ دی جاتی تھی۔ (بحوالہ جدو ناتھ سرکار اورنگ زیب، صفحہ 102)۔ اورنگ زیب نے ہمیشہ اس بات کا خیال رکھا کہ غلطی کے لیے مسلمانوں اور غیر مسلمان کو یکساں سزا ملے۔
مراٹھوں پر فتح پانے کے بعد ایک سردار محرم خان نے غیر مسلموں کو دشمن اور دغا باز بتاتے ہوئے انہیں اعلیٰ عہدوں سے معزول کرنے کے اورنگ زیب کو خط لکھا جس کے جواب میں اورنگ زیب نے کہا:
دنیاوی معاملوں کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اگر تمہارے ذریعہ دئیے گئے مشورے پر عمل کیا جائے تو میرا یہ فرض بن جائے گا کہ تمام غیر مسلم راجاؤں اور ان کے ہمنواؤں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکوں جو میں نہیں کر سکتا۔ باصلاحیت اور لائق افسران کو عہدے سے ہٹانے کی حمایت عقل مند آدمی کبھی نہیں کرتے۔
(بحوالہ سرکار جدوناتھ صفحہ 75،74)

اسی طرح دکن میں موجود برہم پوری میں رہنے والے ایک افسر میر ح سن نے اورنگ زیب کو اس کے برہم پوری پہنچنے سے قبل لکھا:
“اسلام پوری کا قلعہ کمزور ہے اور آپ بہت جلد یہاں پہنچنے والے ہیں۔ قلعہ مرمت چاہتا ہے اس کے متعلق آپ کا کیا حکم ہے؟”
اورنگ زیب نے جواب دیا:
” اسلام پوری لفظ لکھ کر تم نے اچھا نہیں کیا اسکا نام برہم پوری ہے تمہیں اسی نام کا استعمال کرنا چاہئے تھا۔ جسم کا قلعہ تو اس سے بھی زیادہ کمزور ہے اس کا کیا علاج ہے؟”
(بحوالہ جدوناتھ سرکار اورنگ زیب کا اپاکیان صفحہ 91)

اپنی حکومت سنبھالتے ہوئے اورنگ زیب نے اصول بنایا کہ کوئی قدیم مندر منہدم نہیں کیا جائے گا بلکہ انہیں مرمت کرانے کی اجازت دی گئی اور عطیہ بھی۔ مذہبی مقامات کے تقدس اور پر امن ماحول بنائے رکھنے کے لئے اورنگ زیب نے مندروں کی طرح مسجدوں پر کڑی نگرانی رکھی کیونکہ اکثر حکومت مخالف طاقتیں مندروں و مسجدوں میں جمع ہوکر حکومت یا بادشاہ کے خلاف سازشیں کرتی تھیں۔
معروف مورخ بی این پانڈے نے لکھا ہے کہ اورنگ زیب مندروں اور مٹھوں کو عطیات دیا کرتا تھا۔ (بحوالہ بی این پانڈے، خدا بخش میموریل انویل لکچرس، پٹنہ، 1986ء) اس کے علاوہ الہ آباد میں سومیشور ناتھ مہادیو کا مندر ، بنارس میں کاشی، وشواناتھ کا مندر، چیتر کوٹ میں بالاجی کا مندر، گوہاٹی میں اورمانند کا مندر، اور شمالی ہندوستان میں موجود بے شمار منادر اور گرودواروں کو اورنگ زیب نے جاگیریں عطا کیں، و عطیات دئیے۔ (بحوالہ بی این پانڈے، لیکچر پٹنہ1986ء)

اورنگ زیب کی حکومت تقریباً پورے ہندوستان پر تھی لیکن ہندو مذہب اپنے پورے وقار کے ساتھ قائم و دائم تھا اورنگ زیب کو اتنا علم تو ضرور تھا کہ ہندو (سناتن) مذہب کے ماننے والوں کو ٹھیس پہنچا کر ہندوستان پر حکومت کرنا آسان نہیں ہوگا لہذا زیادہ تر منادر کا تقدس محفوظ رہا۔ ایک واحد واقعہ بنارس کے کاشی وشوناتھ مندر کا ہے جس کے

انہدام (توڑنے کا ذکر) کہیں کہیں تاریخ میں ملتا ہے لیکن اس واقعہ کا تاریخی پہلو پی سیتا رام ناتھ نے اپنی کتاب The Feathers of the Stone میں ذکر کیا ہے جس کے مورخ بی۔ این پانڈے نے بھی اپنے مضمون میں درج کیا ہے، ان کے مطابق:
کَچھ [Kutch] کی آٹھ مہارانیاں، بنارس شہر کے کاشی وشوناتھ میں درشن کرنے گئیں جن میں سے خوبصورت رانی کو مہنتوں نے اغو ا کرلیا، اس کی خبر اورنگ زیب کو کَچھ کے راجا نے دی تو اس نے یہ کہہ کر کہ یہ ان کا مذہبی و ذاتی معاملہ ہے وہ ان کے آپسی معاملات میں دخل نہیں دینا چاہتا لیکن جب کَچھ کے راجہ نے گریہ و زاری کی تو اورنگ زیب نے حقیقت کا پتہ لگانے کے لئے کچھ ہندو فوجیوں کو روانہ کیا لیکن مہنت کے آدمیوں نے اورنگ زیب کے فوجیوں کو ڈانٹ پھٹکار کر بھگا دیا۔ یہ بات جب اورنگ زیب کو معلوم ہوئی تب اس نے حالات کا جائزہ لینے کے لئے کچھ ماہر فوجیوں کو بھیجا لیکن مندر کے پجاریوں نے ان کی مخالفت کی۔ زور دار طریقے سے کی اور ڈٹ کر مقابلہ کیا۔مغل فوجیں بھی مقابلہ پر اتر آئیں، مندر کے اندر مغل فوجیوں اور مہنتوں کید رمیان ہوئی لڑائی میں مندر کو نقصان پہنچا عموماً لڑائی میں ایسا ہوتا ہے۔ فوجیوں کو مندر میں داخل ہونے میں کامیابی ملی اور وہ گمشدہ رانی کو تلاش کرنے لگے۔ اس سلسلے میں بڑ ے اہم بت ( دیوتا) کے پیچھے ایک خفیہ سرنگ کا پتہ چلا جس سے کافی زہریلی بدبو آ رہی تھی۔ دو دنوں تک دوا چھڑک کر بدبو دور کرنے کی کوشش ہوتی رہی اور فوجیوں کا پہرہ لگا رہا۔ تیسرے دن فوجیوں نے سرنگ میں داخل ہونے میں کامیابی حاصل کی اور وہاں ہڈیوں کے بے شمار ڈھانچے انہیں ملے۔ جو صرف عورتوں کے تھے۔ کَچھ کی گم شدہ رانی کی لاش بھی اسی جگہ پڑی ملی جس کے جسم پر کپڑا تک نہ تھا۔ مندر کا سب سے بڑا مہنت گرفتار کرلیا گیا اور اسے سخت سزا ملی۔
(بحوالہ۔ بی۔ این پانڈے ، خدا بخش میموریل انویل لکچرس، پٹنہ،1986ء۔ اوم پرکاش پرساد: اورنگ زیب ایک نئی درشتی، صفحہ 20،21)

Written by admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.

GIPHY App Key not set. Please check settings

قدیم اطباء صرع (مرگی)کا علاج کیسے کرتے تھے:

قدیم اطباء صرع (مرگی)کا علاج کیسے کرتے تھے:

ادویہ کی حفاظت مختلف قواموں کی تیاری