in ,

الخبز۔روٹی

الخبز۔روٹی
الخبز۔روٹی
الخبز۔روٹی
الخبز۔روٹی

الخبز۔روٹی۔

 

حکیم قاری محمد یونس شاہد میو

عرب و عجم ،پاک و ہند میں روٹیاں کئی اجناس کی تیار کی جاتی ہیں،من جملہ ان میں گندم،چاول،باجرہ،مکئی،جوار،چنا،وغیرہ۔عرب لوگ زیادہ تر جو کی روٹی بناکر کھایا کرتے تھے،گندم کی روٹی خال خال ملاکرتی تھی۔جو کی روٹی کا گھروں میں رواج تھا،گندم کی پیداوار کم ہوتی تھی ،بیرون ممالک سے گندم درآمد کی جاتی تھی،شاہد یہی وجہ ہے کہ جو چیزیں عام تھیں صدقہ خیرات میں ان کے احکامات بھی اسی قسم کے تھے۔مثلاََ صدقہ فطر میں جو کی مقدار زیادہ اور گندم کی کم رکھی گئی ہے کیونکہ عرب میں گندم گراں نرخوں پر ملا کرتی تھی۔جو کی پیداوار بھی اتنی زیادہ نہ تھی کہ ہر فرد کے لئے وافر مقدار میں دستیاب ہو۔اس لئے نان جویں بطور استعارہ استعامل ہوتی تھی ۔

۔عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:” مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خُبْزِ بُرٍّ مَأْدُومٍ، ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ(بخاری)عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کبھی پے در پے تین دن تک سالن کے ساتھ گیہوں کی روٹی نہیں کھا سکے یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ سے جا ملے( صحيح البخاري (7/ 75)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بیمار کی عیادت کی، تو اس سے پوچھا: ”کیا کھانے کو جی چاہتا ہے؟“ اس نے کہا: گیہوں کی روٹی کھانے کی خواہش ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کے پاس گیہوں کی روٹی ہو، وہ اسے اپنے بیمار بھائی کے پاس بھیج دے“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کا مریض کچھ کھانے کی خواہش کرے تو وہ اسے وہی کھلائے“ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6224، ومصباح الزجاجة: 508)

چھاننی کا استعمال

آپ ﷺکے عہد مبارکہ میں آٹا پیس کر پھونک کے ذریعہ بھوسی اڑا دی جاتی تھی چھاننی کا رواج نہ تھا۔کبھی ایسا بھی ہوتا تھا کہ کھجور کے آٹاے میں گندم کی آٹا ملاکر روٹی بنائی جاتی تھی اسے حواری یا نقی کہاجاتا تھا۔ایک بار حضرت ام ایمن نے باریک آٹے کی روٹی پکاکر سامنے پیش کی تو پوچھا یہ کیا ہے؟َ فرمایا رغیف کہتے ہیں ۔ آپ ﷺنے اسے پسند فرمایا(واقدی) یہ مہمان نوازی کے لئے تھا لیکن عمومی طورپر ایسا نہ تھا۔ایک روایت میں ہے آپ نے زندگی میں کبھی باریک آٹے کی روٹی نہ کھائی تھی(بخاری،ابن ماجہ۔ابن حنبل)کبھی ایسا بھی ہوا کہ آپ ﷺکے سامنے دیسی گھی سے چپڑی ہوئی روٹی پیش کی گئی آپﷺ نے خوش ہوکر تناول فرمایا۔پوری حدیث یہ ہے۔

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن فرمایا: ”میری خواہش ہے کہ اگر ہمارے پاس گھی میں چپڑی ہوئی گیہوں کی سفید روٹی ہوتی، تو ہم اسے کھاتے، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ یہ بات انصار میں ایک شخص نے سن لی، تو اس نے یہ روٹی تیار کی، اور اسے لے کر آپ کے پاس آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ گھی کس چیز میں تھا؟ اس نے جواب دیا: گوہ کی کھال کی کپی میں، ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھانے سے انکار کر دیا۔تخریج الحدیث: «سنن ابی داود/الأطعمة 38 (3818)، (تحفة الأشراف: 7551)

ایک بار حضرت عمر گھی کے ساتھ روٹی کھارہےتھے، ایک دیہاتی کو بھی شامل طعام کیا وہ بھی کھانے لگا(مالک) سول اللہ ﷺایک مرتبہ جلیل القدر صحابی انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو وہ آپ کی خدمت میں روٹی اور تیل لے کر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھایا پھر آپ نے یہ دعا پڑھی: أَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ، وَأَكَلَ طَعَامَكُمُ الْأَبْرَارُ، وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلَائِكَةُ» ”تمہارے پاس روزے دار افطار کیا کریں، نیک لوگ تمہارا کھانا کھائیں، اور تمہارے لیے دعائیں کریں“۔تخریج الحدیث: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 476)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/118، 138، 201)، سنن الدارمی/الصوم 51 (1813) (صحیح)سنن أبي داود (3/ 367)
حضرت صہیب سے مروی ہے کہ آپﷺنے کھجور کے ساتھ روٹی کھائی(ابن ماجہ)

حضرت ثمامہ بن اثال کا مشہور واقعہ ہے جس کے آخری الفاظ یہ ہیں۔

قسم اللہ کی! یمامہ سے ایک دانہ گیہوں کا تم تک نہ پہنچے گا جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اجازت نہ دے دیں۔صحيح البخاري (5/ 170)صحيح مسلم (3/ 1386)صحيح ابن حبان – محققا (4/ 43) روایات میں آتا ہے کہ یمامہ سے سفید گندم آیا کرتی تھی جسے خلفاء کے مختص کردیا جاتا تھا۔ممکن ہے یہ کوئی خاص گندم ہو عمومی گندم حجاز وغیرہ میں پائی جاتی ہو،لیکن حجاز کے بازاروں میں سفید گندم ملا کرتی تھی۔البتہ یمن زرخیز علاقہ تھا جہاں کھیتی باڑی عام تھی وہاں سے بازار حجاز میں گندم آیا کرتی تھی۔ابن الفقيه الهمذاني وكتابه البلدان صفحہ13)ابن رسنہ الاعلاق ص 19)

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے تک گندم کی قلت رہتی تھی گرانی کے ایام میں دوگنا وزن جو کا دیکر گندم لیا کرتے تھے(ابن سعد)گندم کی روٹی کی بہت قدر و قیمت تھی جسے مہمانوں کے لئے پیش کرنا اچھا سمجھا جاتا تھا ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ایک درزی نے دعوت کی رسول اللہﷺ سالن سے کدو کے ٹکڑے تلاش کرکے کھانے لگے اسی دن سے مجھے کدو سے محبت ہوگئی۔کھانے پینے کیٖ اشیاء کی قلت تھی تاریخ میں یہ واقعہ بھی مذکور ہے کہ رسول اللہﷺ کی زرہ مبارکہ “جو” کے بدلہ میں رہن رکھی ہوئی تھی جسے اہل و عیال کی بھوک کی وجہ سے رکھا گیا تھا۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جس وقت رسول اللہ ﷺاس دنیا سے تشریف لے گئے اس وقت بیس صاع غلہ کے بدلہ میں آپ کی ڈھال کسی یہودی کے پاس رہن میں رکھی ہوئی تھی(ترمذی)عمومی طورپر “جو”کی روٹیاں کھائی جاتی تھیں۔ہاتھ سے آٹا بنایا جاتا تھا۔کسی نے اصحاب رسول ﷺ سے سوال کیا ۔آپ لوگ آٹے کی صفائی کے لئے چھننی کا استعمال کرتے تھے؟ جواب ملا نہیں۔ہم تو موٹا موٹا بور پھونک مار کر اڑادیا کرتے تھے۔

ابوحازم کہتے ہیں کہ میں نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ نے میدہ دیکھا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک میدہ نہیں دیکھا تھا، تو میں نے پوچھا: کیا لوگوں کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چھلنیاں نہ تھیں؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے کوئی چھلنی نہیں دیکھی یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی، میں نے عرض کیا: آخر کیسے آپ لوگ بلا چھنا جو کھاتے تھے؟ فرمایا: ہاں! ہم اسے پھونک لیتے تو اس میں اڑنے کے لائق چیز اڑ جاتی اور جو باقی رہ جاتا اسے ہم گوندھ لیتے۔ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4731، ومصباح الزجاجة : 1151) وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأطعمة 22 (5410) سنن الترمذی/الزہد 38 (2364) مسند احمد (5/332، 6/71) (صحیح)

ایسی بات نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺکے زمانے میں چھننی موجود نہ تھی یہ ایک معروف چیز تھی ابن سعد کی روایت کے مطابق حضرت فاطمہ کی شادی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے دوسرے سال سنہ ہجری میں ہوئی تھی، سامان جہیز میں چھننی کا ذکر موجود ہے(ابن سعد8/24) رسول اللہﷺ کے دور میں کھانے پینے کے لحاظ سے ا
جناس خورد و نوش کی قلت تھی اس لئے ازواج مطہرات کو بھی ناپ تول کر نان و نفقہ ملا کرتا تھا۔بیت رسول ﷺ میں اکثرجو کی روٹی کے ساتھ زیتون کا تیل یا کوٹی ہوئی مرچیں بطور سالن استعمال کی جاتی تھیں(تاریخ طبری3/617) “جو” کی ایک قسم ایسی بھی تھی جس پر چھلکا نہ ہوتا تھا یہ باہر سے درآمد کیا جاتا تھا(الازہری12/348۔ابن اثیر2/388)
عمومی طورپر گندم گراں قیمت تھی جو بھی بقدر کفایت دستیاب تھا،اس لئے صدقہ فطر کا جو نصاب مقرر کیا گیا وہ جو تھے۔ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر جَو یا کھجور یا پنیر سے ایک صاع فرض کیا ہے۔(صحیح البخاری/الزکاة 72 (1505)، 73 (1506)، 75 (1508)، 76 (1510)، صحیح مسلم/الزکاة 4 (985)، سنن ابی داود/الزکاة 19 (1617، 1618)، سنن الترمذی/الزکاة 35 (673)، سنن ابن ماجہ/الزکاة 21 (1829)، (تحفة الأشراف: 4269)، موطا امام مالک/الزکاة 28 (53)، مسند احمد 3/23، 73، 98، سنن الدارمی/الزکاة27 (1704، 1705، 1706)، ویأتی عند المؤلف بعد ھذا (بأرقام2514-2516، 2519، 2520) (حسن صحیح)گندم اور جو کے علاوہ جوار کی روٹیاں بھی کھائی جاتی تھیں۔لوگ اپنی مرضی کے مطابق اجناس خوردنی سے مشروبات وغیرہ بھی بنایا کرتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں

اصحاب صفہ اور کھانے پینے کے ذرائع

 


سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو اور معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا تو فرمایا: ”بلاؤ لوگوں کو (اسلام کی طرح) اور خوش رکھو ان کو نفرت مت دلاؤ اور آسانی کرو اور دشواری مت ڈالو“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم کو فتویٰ دیجئیے، ان شرابوں میں جن کو ہم بنایا کرتے تھے۔ یمن میں ایک تو بتع کی شہد سے بنتی ہے جب وہ جھاگ مارنے لگے دوسری مزر جو جوار یا جو ہوتی ہے اس کو بھگوتے ہیں یہاں تک کہ تیز ہو جائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ نے وہ باتیں دی تھیں جن میں لفظ تھوڑے ہوں اور معنی بہت ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں منع کرتا ہوں ہر نشہ والی شراب سے جو باز رکھے نماز سے۔“صحيح مسلم (3/ 1586)غرباء کی یہ خوراک تھی لیکن مالدار لوگ اسے جانوروں کے سامنے بطور چارہ بھی ڈالا کرتے تھے(واقدی) اس کی زراعت شام و یمن میں ہوتی تھی وہیں سے درآمد کی جاتی تھی(المقدسی)

Written by admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.

GIPHY App Key not set. Please check settings

One Comment

تاریخ طلسمات عہد بہ عہد

تاریخ طلسمات عہد بہ عہد

غیر معمولی زندگی۔عمل کی اہمیت۔

غیر معمولی زندگی،عمل کی اہمیت۔