in

اطریفل ۔ یونانی ادویہ کا مشہور مرکب

اطریفل ۔ یونانی ادویہ کا مشہور مرکب
اطریفل ۔ یونانی ادویہ کا مشہور مرکب

اطریفل ۔
یونانی ادویہ کا مشہور مرکب

اطریفل ۔ یونانی ادویہ کا مشہور مرکب
اطریفل ۔
یونانی ادویہ کا مشہور مرکب

اطریفل ۔
یونانی ادویہ کا مشہور مرکب
حکیم قاری محمد یونس شاہد میو

اطریفل اطریفل یونانی زبان کے لفظ اطریفال اور طریفلن سے معرب کیا گیا ہے ۔ چونکہ اِس مرکب مںر ہلیلہ، بلیلہ اور آملہ جز و لازم کے طور پر شامل ہںف ۔ لہٰذا اِس کو اطریفل کا نام دیا گیا۔ بعض اطِبَّاء کی رائے ہے کہ اطریفل ہندی زبان کے لفظ ترپھلہ کا معرّب ہے جس سے تین پھل ہلیلہ، بلیلہ اور آملہ مراد ہںا چنانچہ داؤد ضریر انطاکی کے یہاں اِس کی وضاحت بھی ملتی ہے ۔ اُس نے اِس کو ’’اطریفال‘‘ لکھا ہے۔ ہندی کا لفظ تری اور لاطینی و یونانی زبان کا لفظ طری (Tri ) بھی تین کے ہی مفہوم کے حامل ہں‘ ۔ غالباً اِسی مناسبت سے اِس کو اطریفل کہا گیا ہے۔
اطریفلات کی تیاری کے سلسلہ مںک اُنہی اصول و ضوابط پر کاربند رہنا ضروری ہے جو معجون کے سلسلہ مںر پیشِ نظر رہتے ہںن ۔ علاوہ ازیں اِس بات کا خاص طور پر دھیان رکھا جائے کہ ترپھلہ کا سفوف تیار کرنے کے بعد اُس کو روغنِ بادام یا روغنِ کنجد یا روغنِ زرد مںِ الگ سے چرب کر کے رکھ لںئ پھر دیگر اجزاء کا سفوف بنائں ۔ بعد ازاں مرکب کا قوام تیار کر کے جملہ ادویہ اُس مںن شامل کریں ۔ سفوف کے چرب کرنے کا مقصدیہ ہوتا ہے کہ مرکب مںت نرمی قائم رہے اور اِس کی افادیت بڑھ جائے اور چونکہ ترپھلہ کم و بیش آنتوں مںت مروڑ پیدا کرتا ہے لہذا چرب کرنے سے اس کے مضر و منفی اثرات بھی زائل ہو جاتے ہںی ۔

اطریفل کا موجِد اطریفل کا موجِد اندروما خس نامی یونانی طبیب ہے۔ غالباً یہ اندروماخس ثانی ہے اور اِس کوہی اسقلبیوس ثانی (Asculpius II )کہتے ہں ۔
دیگر مرکبات کی طرح اطریفل کے بھی کئی نسخے ہںک جن کا ذکراِس کتاب مں آئے گا۔
اطریفلات کی قوتِ تاثیر دو سال تک باقی رہتی ہے البتہ اطریفلات کی مدت استعمال دو ماہ سے زیادہ نہںل ہے۔ نیز اطریفلات کو متواتر نہ کھا کر روک روک کر استعمال مں لانا چاہیے جس سے ضعف معدہ کا اندیشہ باقی نہںث رہتا ہے کیونکہ اطریفلات کا کثرتِ استعمال مُضعِفِ معدہ ہوتا ہے۔

اطریفل اُسطوخودوس
وجہ تسمیہ اِس اطریفل کا نام اِس کے جزءِ خاص کی طرف منسوب ہے۔

افعال و خواص اور محل استعمال دماغی امراض خصوصاً دردِ سر اور جملہ امراضِ بلغمی و سوداوی مںک مفید ہے۔ دماغ کے تنقیہ کے لئے طِب یونانی کے مخصوص مرکبات مںس شمار کی جاتی ہے۔ اِس کا متواتر استعمال بالوں کو سیاہ رکھتا ہے۔

جزءِ خاص ترپھلا اور اسطوخودوس اِس کا جزءِ خاص ہے۔

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری پوست ہلیلہ زرد و پوست ہلیلہ کابلی، پوست ہلیلہ سیاہ، پوست بلیلہ آملہ مقشر، اسطوخودوس، برگ سناء مکی، تربد سفید ، بسفائج فُُستقی ،مصطگی، افیتمون کِشمِش، مویز منقّٰی (بعض نسخوں مںس گلِ سُرخ کو) ہم وزن لے کر باریک کر لںق اور ہلیلہ جات کو روغنِ بادام شیریں مںہ چرب کر کے سہ چند شہدِ خالص کے قوام مںخ ملائںن ۔

مقدار خوراک ۵گرام تک ہمراہ عرقِ گاؤزباں ۱۲۵ ملی لیٹر یا ہمراہ آبِ سادہ۔

اطریفل زمانی
وجہ تسمیہ اِس کے موجِد حکیم میر محمد مومن حسینی ولد میر محمد زمان عہدِ محمد بن تغلق شاہ (۱۳۳۴ء تا ۱۳۵۴ء )کے طبیب ہں ،اُنہوں نے اِسے اپنے والد میر محمد زمان کے نام منسوب کیا ہے۔اِس سے مراد میر محمد مومنؔ شاعر نہںب ہں جیسا کہ بعض لوگ سمجھتے ہں ۔

افعال و خواص اور محل استعمال مالیخولیا، دردِ سر، خفقان اورقولنج مں مفید ہے۔ مسلسل استعمال دائمی نزلہ کو فائدہ دیتا ہے۔ مالیخو لیاء مراقی کی یہ مخصوص دواء ہے۔

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری پوست ہلیلہ زرد ،پوست ہلیلہ کابلی ، ہلیلہ سیاہ ، گل بنفشہ سقمونیابریاں ہر ایک ۴۰ گرام تربد مجوف ،کشنیز خشک ہر ایک ۸۰ گرام پوست بلیلہ آملہ مقشر گُلِ سُرخ، گل نیلوفر، طباشیر ہر ایک ۲۰ گرام صندل، سفید کتیرا ہر ایک ۱۰ گرام روغنِ بادامِ شیریں ، ٤٠٠ ملی لیٹر۔سب دواؤں کو کوٹ چھان کر روغنِ بادام مںر چرب کر کے علیحدہ رکھںا اور عنّاب ١٠٠ عدد، سپستاں ١٠٠ عدد، گل بنفشہ ۳۰ گرام ،کو پانی میں جوش دے کر صاف کریں اور مربیٰ ہلیلہ کا شیرہ ڈیڑھ گنا اور شہد سب دواؤں کے ہم وزن لے کر جوشاندہ میں ملا کر اِتنا پکائیں کہ قوام ایک ہو جائے پھر درجِ بالامسفوف ادویہ اس میں شامل کر کے مرکب تیار کریں ۔

مقدار خوراک ۵ گرام تا ۱۰ گرام ۔ اسہال لانے کے لئے ۲۵ گرام تک دے سکتے ہیں ۔

Written by admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.

GIPHY App Key not set. Please check settings

تعارف۔مجربات سعد فارمیسی

تعارف۔مجربات سعد فارمیسی

بالوں کے امراض

بالوں کے امراض