in , , ,

اسی لمحے میں رہنا

اسی لمحے میں
اسی لمحے میں

(ہماری کتاب۔۔دروس العملیات ۔۔۔سے اقتباس)

اسی لمحے میں
اسی لمحے میں

اسی لمحے میں رہنا

حکیم قاری محمد یونس شاہد میو

اسی لمحے میں رہنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ اس وقت یہ لفظ پڑھ رہے ہیں تو آپ کو ذہنی طور پر یہاں ہی موجود ہونا چاہئے۔ آپ جو کچھ بھی کر رہے ہیں آپ کو ذہنی طور پر بھی اس موقع پر موجود ہونا چاہئے۔گاڑی چلا رہے ہیں تو پھر ذہن سامنے سٹرک پر کھئے۔موجود ہونا چاہئے ، گاڑی چلا رہے ہیں تو پھر ذہن سامنے سڑک پر رکھے. اس لمحے میں رہنے کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی کام یا کسی سے بات چیت یا کچھ بھی کرتے وقت انسان ماضی کا نہ سوچ، مستقبل یا چند منٹ بعد کرنے والی چیز کی اگر نہ کرے بلکہ اسی ایک سیکنڈ میں جو کچھ کر رہا ہے اس پر ہی توجہ دے۔

اسی لیے میں رہنا اتنا وسیع اور دلچسپ موضوع ہے کہ اس پر کئی ضخیم کتا ہیں لکھی جاسکتی ہیں زیادہ لکھنا میری کتاب کے مقصد سے باہر ہے، مجھے تھوڑے سے وقت میں زندگی کے ہر اہم مسئلے کولوگوں کے سامنے لانا اور اس کی اہمیت بتائی اور پھل بتانا ہے۔اگر آپ اس لیے میں نہیں رہتے تو آپ زندگی کے ساتھ انصاف نہیں کر رہے مثلا اگر آپ اپنا پسندیدہ کھانا جو آپ کو دو ماہ کے بعد کھانے کا موقع ملا ہے کھا رہے ہیں. آپ کا ذہن غیر حاضر ہے اور غیر حاضر ذہن عموماپر یشا نوں کی طرف ہی جھکتا ہے آپ کو اس بہترین کھانے کا کوئی مزا نہیں آئے گا، بلکہ الٹا یہ آپ کو معدے کے لئے نقصان دہ ہو گا۔ اب اسی کھانے کو دماغی طور پر حاضر ہو کر کھایئے، دیکھیں کتنا فرق ہوگا ؟کوئی بھی انتہائی پسندیدہ کام کرتے وقت بہت سے لوگ ہی غلطی کر رہے ہوتے ہیں۔

بہت سے لوگوں کویہی مشکل ہوتی ہے کہ وہ بیٹھے ایک جگہ ہیں ان کا ذ ہن ہر وقت کہیں اور موجودو غیر حاضر رہتا ہے۔ غیر حاضر دماغ کسی سے بات چیت میں مصروف ہے، ادھر دوسرے آدمی نے اپنی بات سنانی شروع کی اُدھر ان کا ذہن

حسب معمول کہیں اور پہنچ گیا، تھوڑی دیر کے بعد دوسرے آدمی کو احساس ہوتاہے کہ وہ اس کی بات پر توجہ نہیں دے رہا۔

اس کا مطلب وہ یہی لے گا کہ آپ کو اس کی بات میں دلچسپی نہیں ہے اور وہ آپ سے بات چیت ختم کر کے کسی ایسےسے باتیں شروع کر دے گا جو اس کی بات میں دلچسپی لے گا۔ آہستہ آہستہ لوگ ان سے بات چیت کرنے میں زیادہ دلچسپی لینا چھوڑ دیں گے ۔ سیانے کہتے ہیں کہ آ دمی یا اچھا بولنے والا ہونا چاہئے یا اچھا سننے والا۔ دماغی طور پر غیر حاضر رہنے والا شخص نہ اچھا سننے والا ہوسکتا ہے نہ اچھا بولنے والا کیونکہ اچھے بولنے والے کو دوسروں کی بات سنی بھی آنی چاہئے۔ اور دوسرے کی بات میں دلچسپی لینا بھی آنا چاہئے ، چاہے وہ کوئی غیر دلچسپ بات یا موضوع پر ہی بول رہا ہو۔

اس کے علاوہ ایک اور مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ اگر آپ کا ذہن کسی سے بات چیت کرتے وقت وہاں سے غیر حاضر ہو گیا تو عموما ایسے وقت میں انسان کا ذہن ادھورے چھوڑے ہوئے کام اور پریشانیوں کو حل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اب یہ انسان کی فطرت ہے کہ اگر وہ کسی خوشگوار لمحے یاواقعے کا سوچ کوخوشی اور توانائی محسوس کرتا ہے اور اگر وہاں بیٹھے بیٹھے ہی کسی پریشان چیز یا موقع کا سوچے تو اداس اور Depress ہو جاتا ہے۔ ذہنی طور پر غیر حاضر لوگ عموما ایسے موقعوں پر پریشانیوں کا سوچتے ہیں تو اداس اور Depress ہو جاتے ہیں ، ان کی توانائی کم ہو جاتی ہے جس کا لامحالہ اور ان سے بات چیت کرنے والے پر پڑتا ہے۔


زیادہ تر لوگ خوش باش اور توانائی سے بھر پور لوگوں سے بات چیت پسند کرتے ہیں، اداس بندے سے باتیں کر کے ہر کوئی خود کو اداس محسوس کرتا ہے توانائی کی حالت میں ہی انسان اچھے موڈ میں ہوتا ہے۔ ذہنی طور پر غیر حاضر لوگوں کو بہت سے مسائل اور بھی پیدا ہو جاتے ہیں . وہ ذہنی طور پر فرار کا راستہ ڈھونڈ لیتے ہیں ، وہ اپنے حال کو دیکھنا نہیں چاہتے حالات کوسمجھتےسے ہی ان کی بہتری ہوسکتی ہے ،

حالات کچھ effort اور جدوجہد سے تبدیل ہوتے ہیں حالات سے بھاگنے والا کبوتر کی طرح ہوتا ہے ،جو بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کر لیتا ہے۔ آنکھیں کھولیں یا بند کریں، بلی وہاں موجود رہے گی، ان میں سے کچھ لوگ ماضی کی یادوں میں پناہ لے لیتے ہیں، پھر انہیں حال خراب مستقبل خراب تر اور ماضی ہر روز بہتر سے بہتر تر نظر آتا ہے۔ یہ سب فرار کے طریقے ہیں . اس کے اور بھی بے شمار طریقے ہیں۔

اسی لمحے میں رہنے کا ایک اور پہلو بھی ہوتا ہے وہ یہ کہ جو اس وقت موجود ہے اس سے لطف اندوز ہوں ، کل کی فکر نہ کریں، ہم میں سے زیادہ تر لوگ مستقبل کی فکر میں ہی مرے جاتے ہیں اور اس فکر میں آج کو بھول رہے ہیں، آج سے لطف اندوز نہیں ہور ہے ۔

اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوْدٌۚ(۶)وَ اِنَّهٗ عَلٰى ذٰلِكَ لَشَهِیْدٌۚ(۷العدیات)بے شک آدمی اپنے رب کا بڑا ناشکر ہےاور بے شک وہ اس پر خودگواہ ہے۔یہ ایک طرح کی ناشکری ہے اور خدا کو ناشکری پسند نہیں۔

حضرت امیرالمومنین علی (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں: “النِّعَمُ يَسْلُبُهَا الْكُفْرَانُ”، “ناشکری نعمتوں کو چھین لیتی ہے”۔ [غررالحکم، ص۴۹، ح۹۱۴]
نیز حضرت علی ابن ابی طالب (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں: “شَرُّ النّاسِ مَنْ لا يَشْكُرُ النِّعْمَةَ وَ لا يَرْعَی الحُرْمَةَ”، “بدترین آدمی وہ ہے جو نعمت کا شکر نہیں کرتا اور حرمت کا خیال نہیں رکھتا”۔ [غررالحکم، ص۴۱۰، ح۳۴]

. اس چیز کی کیا گارنٹی ہے کہ کل بھی اچھا ہوگا، یعنی مستقبل میں بھی یہی حالات ہوں گے اور اگر حالات اچھے بھی ہوئے تو پھر بھی آپ حسب عادت پر آنے والے کل کی فکر میں نہیں مرے جارہے ہوں گے ۔ اس لیے آج ہی خوش ہوں.

آپ اپنے آج کو اچھا بنایئے۔ اپنی زندگی ، اپنی اللہ کی دی ہوئی آسائشوں سے لطف اندوز ہوں ، کل کی فکرکل خود کر لے گا۔ ایک محاورہ یہ بھی ہے کہ کل کس نے دیکھا ہے؟۔ ہر آدمی اپنے حالات پہلے سے بہتر بنا سکتا ہے اگر وہ اس لیے میں رہنا اور اپنے آپ کو حالات کی رو میں کھلا چھوڑ دینا سیکھ لے خود کو حالات کی رو میں چھوڑدے.

یہ بھی مت بھولیں کہ ماضی تبدیل نہیں ہوسکتا، مستقبل آپ کے قابو سے باہر ہے، صرف حال ہی تو تبدیل کیا جا سکتا ہے، اسے تبد یل کر ہیں، پھر مستقبل خود ہی بہتر ہو جائے گا۔ بہت سےلوگوں کا یہ مسئلہ بھی ہوتا ہے کہ وہ بات چیت کرتے وقت مد مقابل کے آنکھوں میں نہیں دیکھتے، اگر وہ ادھر دیکھیں بھی تو بڑا سرسری سا دیکھیں گے ۔ اس لیے سامنے والے سے آئی کانٹیکٹ میں نہیں ہوتا کہ دوسرا کیا سوچ رہا ہے۔ اس کے خیالات، اس کے جذبات کیا ہیں ؟ یہ لوگ دراصل اپنے جذبات Emotion میں دیکھتے ہیں، اپنے مد مقابل کی آنکھوں میں جھانکیں کہ وہ کیا چاہتا ہے؟۔ اس کوبھانپیں، پولیس والوں کی طرح (لیکن پنجاب پولیس کی طرح نہیں)

تقریباََ ہر بڑ ا اور ذہین آدمی ایسے ہی کرتا ہے، عقابی آنکھیں ایسے ہی ہوتی ہیں عموماََ لوگوں کی آنکھوں میں نہ دیکھنے والے یعنی صحیح Eye Contact نہ کرنے والے بلا وجہ ہی ہر وقت جلدی میں رہتے ہیں، ان کو ہر وقت اس موجودہ جگہ سے کہیں اور جانے کی جلدی ہوتی ہے۔ مگر اس دوسری جگہ پر پہنچیں تو پھر بھی انہیں کسی اور جگہ جانے کی جلدی رہتی ہے۔ دراصل ایسے لوگ فراریت پسند (Escapist) ہوتے ہیں، حقیقت سے بھاگنا چاہتے ہیں۔ یہ لوگ کوئی بھی مراقبہ یا ذہنی یکسوئی کا کام صحیح طریقے سے نہیں کر سکتے۔

انہیں اس لیے میں رہنے کی مشق کرنا چاہئے جو کہ بالکل آسان ہے، پھر آہستہ آہستہ یہ عادت بن جاتی ہے۔ انہیں یہ بھی سوچنا چا ہئے کہ پہلے ساری عمر ایسے ہی جلدی میں رہ کر انہوںنے اپنا کوئی فائدہ نہیں کیا آئندہ بھی نہیں ہو گا۔ اس لیے میں رہنے والا انسان ہی فائدے میں ہوتا ہے۔

جب یہ اصول انسان کو معلوم ہو جائے اور اس کی سچائی کا یقین ہو جائے تو پھر انسان خود کو تبدیل کر لیتا ہے۔ یہ یاد رکھیں کہ زندگی کا اصلی لطف اسی لمحے میں رہ کر ہی اٹھایا جا سکتا ہے اور اپنی سب صلاحیتوں کو بھی اسی طریقے سے بہت بہتر طریقے سے استعمال کیا جا سکتا ہے. ہر انسان کو اس کی مشق کرنی چاہئے ۔ اس طرح میں رہنے کا ایک اور بہت بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ آپ کو بے پناہ توانائی دیتا ہے، جو کہ اپنا ہر کام صحیح طریقے سے کرنے کے لیے ہی نہیں بلکہ خوش اور سکھ رہنے کے لیے بھی ضروری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

GIPHY App Key not set. Please check settings

One Comment

غربت

کسی قوم کی غربت و امارت ناپنے کا پیمانہ

پاگل شناسی

پاگل شناسی