
کیا میو قوم کے وارث بھی میو ہیں؟
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
سعد ورچوئل سکلز پاکستان
کچھ تلخ حقائق ہیں جنہیں تسلیم کرنا تو دو ر کی بات اس طرف توجہ دلانا والا بھی میوئوں کی نگاہ میں معتوب اور راندہ درگاہ ٹہرتا ہے۔
اس پر غور تدبر کے اور بہتر لائحہ عمل دینے کے بجائے بات کرنا بھی معیوب سمجھاجاتا ہے۔
سب سے پہلے تو اس تضاد کا ازالہ ضروری ہے کہ ہمارا ماضی اور آبائو و اجداد کی جس تاریخ کو ہم بیان کرتے یا لکھتے یا جس پر ہم معیار گھنڈ قائم کئے ہوئے ہیں۔
جو صفات میو قوم کی بیان کی جاتی ہیں۔ان کی حقیقت کیا ہے؟۔
دوسری اہم بات یہ کہ جن کی اولاد ہونے کے مدعی یا جن کی وراثت کے وارث ہیں ۔وہ کیا چیز ہے؟
جو صفات میو قوم یا بزرگوں کی بیان کی جاتی ہیں۔آیا اس وقت اس مخلوق میں جو خود کو میو کہتے ہیں پائی جاتی ہیں؟۔
میوات کے لوگوں نے گوت اور پال کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا ہے۔اور اس پر فخر کیا ہے۔یہ بیماری مجھ سمیت بہت سے لوگوں میں پائی جاتی ہے۔
اس میں بھی شک نہیں کہ میو قوم کے اجداد میں یہ صفات اتم درجے موجود تھیں ۔
سخاوت۔لحاظ ۔ہمدردی۔بہن بیٹی کی عزت۔رشتوں کی عظمت۔قول و قرار کا اہتمام۔بہن بیٹی کا وقار۔بڑوں کی تابع داری۔
حسن سلو۔بات پر کٹ مرنا۔معاملات میں شفافیت۔
بقول تبلیغیوں کے۔
میو قوم میں تین چیزیں سنت کے مطابق قومی سطح پر پائی جاتی ہیں۔ان میں ایک ہاتھ میں لاٹھی رکھنا۔وغیرہ بھی ہے۔
وہ لوگ مہمان نواز تھے۔
بیاہ شادی میں۔اپنی بڑوں کی مانتے تھے۔ان کے رشتے ناطے لگواتی ،نائی میراثی۔نٹ وغیرہ طے کیا کرتے تھے۔
پندرہ بیس سال میں رشتہ ازدواج استوار ہوجایا کرتا تھا۔
جسے ہم ترقی سمجھ رہے ہیں اس میں بیٹیوں کو بوڑھا کردیا جاتاہے۔۔۔رشتوں کا طے ہونا ایک پلصراط بن چکا ہے
۔میو قوم میں طلاق کی شرح نہ ہونے کے برابر تھی۔طلاق کو معیوب سمجھا جاتا تھا۔بہن بیٹی کسی ایک کی نہیں بلکہ پورے گائوں یا گوت و پال کی ہوتی تھی۔
میوات میں بھید بھائو اور رشتوں میں بھید بھائو نہ ہوتا تھا۔اگر کسی گھر ضرورت ہوتی ،دودھ،ضرورت کی اشیاء،اناج وغیرہ چپکے سے پہنچا دیا کرتے تھے۔
دشمنوں کے خلاف اپنے اختلاف بھلا کر ایک مٹھ بن جایا کرتے تھے۔
ضرورت مند کی ضرورت کو اپنا سمجھا کرتے تھے۔
میں اس وقت موجود ایک عام میو سے لیکر ،ایک چوہدری اور ڈھونڈا لوگوں سے پوچھتا ہوں۔یہ صفات کس کس میں موجود ہیں؟
قومیں لباس۔رہن سہن ۔اور بولی سے زندہ رہتی ہیں،اپنی تہذیب و ثقافت کی امین ہوتی ہیں۔اپنے اثاثہ جات کو محفوظ رکھتی ہیں ۔
بڑوں کی تاریخ و عادات کو اپناتی ہیں۔ان کی غلطیوں اور قابل تغیر افعال پر نظر ثانی کرتی ہیں۔ان کا آج کا دن کل سے بہتر ہوتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ لوگ دن رات میو۔میو کرتے ہیں وہ کونسے میو ہیں۔۔۔۔؟؟۔۔میو ہے بھی یا نہیں۔۔۔۔؟؟
