
تاریخ میوات پر کام کی ضرورت۔اور اہمیت۔
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو۔
تاریخ کسی بھی قوم کے لئے شناخت اور اس کی بقا کی ضرورت ہوتی ہے۔ماضی اور مستقبل کا یہ تار گوکہ تلاش کرنا پڑتا ہے اسے ترتیب دیکنے کے لئے بہت سے سہارے (ماخذات) کی ضرورت ہوتی ہے۔تاکہ کھرا سچ سامنے آسکے۔ قوم سے متعلقہ ایک ایک لفظ کی تلاش تحقیق و ریسرچ

کہلاتی ہے۔
کچھ لوگوں کا کام ہی قدیم تحریرات سے اپنے مطلب اور ضرورت کا مواد جمع کرنا ہوتا ہے ۔بسااوقات لکھنے والا کسی عبارت کو اپنے من چاہے نتائج کے حصول کے لئے نقل کرتا ہے حالانکہ وہ عبارت اس کے لئے نہیں ہوتی۔پھر بھی مقاصد کے حصول کے لئے اس عبارت سے اپنی ضرورت کے مطابق معنی اخذ کئے جاتے ہیں ۔
اصل تاریخ جو ہمارے سامنے ہے اسے نظر انداز کیا جاتا ہے یا اسے اہمیت نہیں دی جاتی ، تاریخ کے ماخذات ضروری تو نہیں وہی ہوں جو اِس دنیا سےناپید ہوچکے ہیں ۔وہ بھی ہیں جو زندہ ہیں۔سانس لے رہے ہیں۔لیکن انہیں اہمیت نہیں دی جاتی۔یہ فلسفہ سمجھنے سے آج تک قاصر رہا ہوں کہ موجود تاریخ کو محفوظ نہ کرنے کی وجوہات کیا ہیں؟
تاریخ میوات یا میو قوم کی تاریخ پر جو کام ہونا چاہئے اتنا کام نہ ہوسکا ۔من الحیث القوم اس کی طرف توجہ نہیں دی گئی، نہ آج دی جارہی ہے۔ماضی کیسا رہا ہے ہمیں معلوم نہیں جو کچھ بھی ہے حسن ظن یا مفروضوں یا کسی انفرادی سوچ یا تحریر پر مبنی مجموعہ ہے۔عمومی طورپر جو ماخذات کام میں لائے گئے ہیں وہ میو قوم یا میوات سے متعلق نہ تھے۔ضمنا میو قوم یا میوات کا لفظ آگیا۔ہم نے اسے تاریخ سمجھ

لیا۔
یہ مشکل ہر اس لکھاری اور تاریخ دان کو پیش آتی ہے جو اس خشک موضوع پر کام کرتا ہے یا کرنا چاہتا ہے۔ہمیں اس سنگینی کےبارہ میں زیادہ احساس اس وقت ہوا جب ۔
(1)میوات پر بادشاہوں کی یلغار۔
(2)میو قوم کا شاندار ماضی اور جنگ آذادی 1857
(3)پاکستان میں میو قوم کے 80 سال۔
(4)میو قوم نے فاتحین ہند کو کیوں تسلیم نہ کیا اسباب و عوامل
(5)میوات کی تاریخ ایک تہذیبی و تمدنی مطالعہ
(6)میو قوم کی مزاحمت محمد بن قاسم سو لیکے بہادر شاہ ظفر تک
(7)میو قوم کی شناخت و بقاء۔
کے لئےدرکار کتب کی طرف رجو کیا گیا۔ میں نے ان کتب کے لئے ماخذات تلاش کئے جتنی کتب اور ماخذات کی ضرورت تھی نہ مل سکے۔ بالخصوص خالص میو قوم کے لکھاری لوگوں کی تحریرا ت تو بالکل ہی میسر نہ آسکیں۔
ماضی تو جیسا رہا ،سو رہا، آج کے جدید میڈیائی دور میںبھی اس کا فقدان ہے۔کہ ہم قیام پاکستان سے لیکر آج تک کی تاریخ بھی محفوظ نہ رکھ سکے۔
آج میو قوم جہاں جہاں موجود ہے اورمیو قوم کے افرادجن عہدوں پر کام کرہے ہیں ۔ ہمیں تو وہ بھی معلوم نہیں۔ہمارے پاس جدید اے آئی ٹیکنالوجی کی دستیابی کے باوجود کوئی ایسی پلاننگ نہیں ہے کہ اپنی جدو جہد یا خدمات کو تاریخ کا حصہ بنا سکیں ۔
میو قوم کے کسی لکھاری یا میڈیا کے لوگوں کو جب موقع ملتا ہے تو کام کرنے کے بجائے نکتہ چینی سے زیادہ کام لیتا ہے۔اس کا زور قلم اسی پر خرچ ہوجاتا ہے۔اُس نے کیا کیا۔فلاں کیا کررہا ہے۔آج تک فلاں تنظیم نے کونسا کار نامہ سرانجام دیا؟
بے شمار لوگ کام کرنے والوں کی مخالفت یا ٹانگ کھنچائی میں لگ جاتے ہیں۔
کتابیں کسی بھی موضوع پر لکھی جائیں میو قوم میں مطالعہ کرنے،یا تعاون کرنے کی عادت نہیں ہے۔اگر کوئی ادار ہ یا شخصیت کام کرتا بھی ہے تو اسے شک نہ نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے ۔یہی اسباب ہیں میو قوم کی تاریخ لکھی گئی ،نہ تحقیقی عمل ہوسکا۔شاہد اس بارہ میں شعور نہیں یا پھر جان بوجھ کر ایسی روش اختیار کی ہوئی ہے۔
یاد رکھئے!
آج میں اور آپ بھی تاریخ ہیں ۔ہماری جماعتیں بھی تاریخ ہیں ۔ہمارے قوم کے خدما ت سر انجام دینے والے بھی تاریخ ہیں۔جب ان کا وجود مٹ جائے گا ان کی تلاش شروع ہوگی ۔پھر اناپ شناپ لکھا جائے گا ،جسے تاریخ کا نام دیا جائے گا۔
آج موقع ہے میوکام ماضی میں نہ کرسکے ،آج کرلو،تاکہ آنے والی نسلوں کو ہماری طرح ماخذات کی کمی نہ رہے۔
