
جب بڑے لوگ، چھوٹے ہوجائیں۔
تو برادری کو یوں ہی بکھیرتے ہیں۔
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو۔
قرآنِ مجید میں عذاب کی صرف ایک ہی شکل بیان نہیں ہوئی بلکہ اللہ تعالیٰ نے مختلف قسم کے عذابوں کا ذکر کیا ہے۔
اگر آپ خاص طور پر اجتماعی (قومی) عذاب کی بات کر رہے ہیں تو علماء نے متعدد آیات کی روشنی میں ان کی چند بڑی صورتیں بیان کی ہیں۔
خاص طور پر سورۃ الانعام (6:65) میں تین بنیادی قسمیں ذکر ہوئی ہیں
:”کہہ دیجیے: وہ اس بات پر پوری قدرت رکھتا ہے کہ تم پر تمہارے اوپر سے عذاب بھیجے،
یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے،
یا تمہیں گروہوں میں تقسیم کر کے ایک دوسرے سے لڑا دے، اور ایک کو دوسرے کی طاقت کا مزہ چکھا دے۔
۔”اس آیت سے تین بڑی صورتیں سامنے آتی ہیں:اوپر سے عذاب آسمانی آفا ت طوفان، آندھی، اولے، بجلی، زلزلے وغیرہنیچے سے عذاب زمین میں دھنس جانا،زلزلے، زمین کا پھٹ جانا، خسف آپس کے اختلافات اور دشمنی فرقہ بند ی خانہ جنگی قتل و غارت ایک دوسرے کے ہاتھوں تکلیف اٹھانا،
اس کے علاوہ قرآن میں ایک اور اہم صورت بھی بار بار ملتی ہے:دشمن کا مسلط ہونااللہ تعالیٰ گناہوں کی وجہ سے ظالم یا دشمن قوم کو مسلط کر دیتا ہے۔
مثال کے طور پر بنی اسرائیل پر ان کے دشمنوں کو مسلط کیا گیا (سورۃ الإسراء 17:4–8)۔لہٰذا اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو عذاب کی تین بنیادی شکلیں سورۃ الانعام کی مذکورہ آیت میں بیان ہوئی ہیں، جبکہ دشمن کا مسلط ہونا قرآن کی دوسری آیات میں ایک مستقل اور اہم صورت کے طور پر ذکر ہوا ہے۔ اس لحاظ سے علماء اسے چوتھی عملی صورت بھی شمار کرتے ہیں۔
خلاصہ:اوپر سے عذابنیچے سے عذابآپس کے تنازعات، فرقہ بندی اور خانہ جنگی دشمن یا ظالم قوم کا مسلط ہونا
میو قوم صدیوں سے امتحان و ابتلاء کا شکار رہی ہے۔آج بھی ان میں کمی واقع نہیں ہوئی۔ضروری نہیں کہ جاہل ،ان پڑھ کو کہیں۔یا جو رسمی تعلیم سے محروم وہی جاہل ہے۔
ایسی بات نہیں پڑھی لکھی جہالت بھی دیکھنے کو ملتی ہے ۔جب بھی اسے ابھرنے کا موقع ملا اس قوم کے سرکردہ لوگوں نے اسے پیچھے دھکیلنے کی کوشش کی۔
انجمن اتحاد ترقی میوات اب بوڑھی ہوچلی ہے۔اسے بوڑھے کرنے میں کچھ اہم لوگوں نے کردار ادا کیا ہے
الیکشن2026 کی تیاری زور و شور سے جاری ہے۔اللہ نے کرم کیا حادثاتی طورپر عبوری باڈی میں کچھ مخلص و بے لوث لوگ آگئے۔
اس سے بڑا حادثہ یہ ہوا کہ انہوں نے سچی لگن اور محنت سے اپنے فرائض سرانجام دینا شروع کردئے۔
روایات کے برعکس انہوں نے ممبر سازی کے لئے تاریخی کردار ادا کیا۔
اللہ اللہ کرکے یہ عبوری دور کے خدمت گزار اس مرحلے سے سر خرو ہوگذدرے۔
ووٹوں کی بڑی تعداد فہرست میں شامل ہوئی ایک پیغام چار دیواری سے نکل کر دنیا بھر میں پھیلے ہوئے میوقوم کے افراد تک جاپہنچا ۔
اہل پاکستان نے اس میں جوش و خروش سے حصہ لیا۔بلاتفریق ممبر شپ کاپیاں مکمل کی گئیں۔
ووٹروں کی لسٹیں تیار ہوئیں ۔الیکشن کا مجوزہ شیڈول سامنے آیا۔
یوں کچھ لوگ (ممکن ہے وہ خود کو بہتر سمجھ رہے ہوں۔
یا ان کے ذہن میں قوم کے بہترین کا کوئی دوسرا پہلو ہو)بوری کابینہ سے باہر آئے۔اور من مرضی کا الیکشن کمیشن کی تقرری کا اعلان کردیا۔
حالانکہ جس قائم مقام صدر(ممتاز شفیق )نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ تاریخی جدو جہد کی تھی کو نظر انداز کیا گیا۔۔
جبکہ عبوری کابینہ نے اپنا الگ سے الیکشن کمیشن تجویز کیا تھا۔
یوں ایک انقلابی فضاء کو اختلاف کے دھوئیں سے بھردیا گیا۔سوشل میڈیا کا سہارا لیا گیا۔اور ۔قوم کو ٹکروں میں بانٹ دیا گیا۔
بہتر ہوتا کہ عجلت پسندی کے بجائے سوچ و بچار۔اتفاق و اتحاد کی فضاء کو قائم رکھا جاتا۔لیکن خلاف توقع بڑے لوگوں سے چھوٹی باتیں دیکھنے کو ملیں۔
میو قوم کے چالیس پچاس سالوں کا الزام خوشی خوشی اپنے حصے میں لکھ لیا۔
جو لکھن دکھائی دے رہے ہیں اس سے ثابت ہوتا ہے۔کہ کالج کا منصوبہ لیگل انداز میں پائے تکمیل کے بجائے۔
کورٹ کچہریوں کی دیوار پر آویزاں دکھائی دیتا ہے۔
اللہ کرے کہ میو قوم خزاں کے پتوں کی طرح بکھرنے کے بجائے۔اجتماعی امور میں آگے بڑھے۔
یاد رکھئے!
اانجمن اتحاد ترقی میوات۔کا الیکشن میو قوم کے لئے ایک امتحان ہے ۔گوکہ یہ برادری کا الیکشن ہے۔ لیکن اس کے اثرات علاقائی و قومی سطح پر مرتب ہونگے۔
جو سیاسی لوگ اسے سیاست کے لئے استعمال کرنا چاہتے ہیں وہ سمجھ جائیں اگریہ جال اگر میو قوم کو پھانسنے کے بچھایا گیا تو۔خود بھی اسے دام صیاد کا شکار ہونگے۔
اگر اتفاق یکجہتی دیکھنی کو ملی تو قومی و صوبائی سطح پر اس کے اثرات مرتب ہونگے۔
بصورت دیگرافتراق ریخت سامنے آئی تو کالج تو گیا تیل لینے میو قوم کے سیاسی رہنما بھی اس بھنور سے خود کو نہ بچا سکیں گے۔
کچھ الفاظ وقت آنے پر اپنا مفہوم ظاہر کرتے ہیں۔۔
امید ہے میو قوم کے زعماء قوم کو ٹکڑوں میں بانٹنے کے بجائے ۔تعمیر و ترقی کی طرف میو قوم کا رخ پھیریں گے
