
عابد عکسری
عرض ناشر
قارئین کرام!
کتاب “عملیات تسخیر و محبت انتہائی خلوص و عقیدت اور محبت کے ساتھ پیش خدمت ہے۔ اس کتاب میں سنگدل لوگوں کو موم کرنے والے اور روٹھے ہوئے دوستوں اور ناراض رشتہ داروں کو منانے کے لیے تیر بہدف اور مجرب ترین عملیات درج کیے گئے ہیں ۔ موضوع کے اعتبار سے شاید پوری دنیا میں یہ ایک منفرد اور اچھوتی کاوش ہے۔ اس کتاب کے مصنف ہمارے فاضل دوست جناب عابد عسکری ہیں کہ جنھوں نے بکھرے ہوئے موتیوں اور پھولوں کو یکجا کر کے محبت کرنے والوں کو ایک ہار اور گلدستہ فراہم کیا ہے۔ دنیا میں کون ایسا شخص ہے جو محبت کی حقیقت سے انکاری ہو! بلکہ یہ ایک ایسی زندہ حقیقت ہے کہ یہ اس پوری کائنات میں اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ تمکن ہے۔ گویا سارے کا سارا جہاں محبت کی بنیادوں پر قائم ہے۔ اگر پاک و پاکیزہ محبت نہ ہوتی تو یہ کائنات بھی نہ ہوتی ۔ اللہ تعالیٰ نے محبت کو پیدا کر کے اس کو ہر ذی روح چیز کے دل میں ڈال کر ثابت کر دیا ہے خالق محبت کس طرح محبت سے محبت کرتا ہے۔ قرآن مجید میں اسی ذات اقدس کا ارشاد وہ ہے کہ نیک متقی اور پاک و پاکیزہ لوگوں سے محبت کرتا ہے۔ وہ ہر نیکی ، ہر اچھائی ، ہر خوبی سے پیار کرتا ہے۔ پھر اپنے محبوب خاص سے اسے کتنی محبت ہے۔ اس کا اندازہ ہی نہیں لگایا جا سکتا۔ ماں بیٹے ، بہن بھائی، بیٹی کی محبت شوہر کو اپنی بیوی اور بیوی کو اپنے شوہر سے محبت ، والدین سے محبت یہ ایک ایسی مسلمہ حقیقت ہے کہ اس کا کسی
طور پر بھی انکار نہیں کیا جاسکتا۔
حضرت انسان نے آخر اس دنیا میں زندگی گزارنی ہے اور اسے یہاں لمحہ بہ لمحہ ایک ایسی چیز کی ضرورت ہے جو تمام ضروریات سے بالا تر ہے اور وہ ہے محبت اسی کے دم سے تو پوری کائنات آباد ہے۔ ہماری روزمرہ کی زندگی میں بھی اکثر و بیشتر ایسے لمحے بھی آتے رہتے ہیں کہ جہاں ہم سے کوئی ناراض ہو جاتا ہے یا کسی سے ہم کو پیار ہو جاتا ہے یا کوئی عزیز دوست غیروں کی باتوں میں آکر روٹھ جاتا ہے تو روحانیت میں اس کا صرف ایک ہی علاج نہیں، بلکہ ماہرین علم وفن نے اس کے ہزاروں علاج تجویز کیے ہیں اور لطف کی بات یہ ہے کہ تسخیر و محبت کے تمام عملیات قرآن مجید اور اللہ تعالیٰ کے اسماء پاک سے لیے گئے ہیں۔
عابد عسکری صاحب نے اپنے تمام پڑھنے والوں کو بار بار متنبہ کرتے ہوئے ان سے اپیل کی ہے کہ وہ جائز اور نیک مقاصد کے لیے ان عملیات و وظائف کو استعمال میں لے آئیں۔ نا جائز مقاصد کے لیے جو بھی ان عملیات کو کرے گا وہ اپنی آخرت کا خود ہی ذمہ دار ہوگا ۔ عامل حضرات کے لیے انہوں نے مشکل ترین عملیات بھی تحریر کر دیتے ہیں، تا کہ اگر کوئی صاحب معرفت شخص ان سے استفادہ کرنا چاہے تو وہ دوسری کتب کا محتاج نہ ہو۔ ان میں سے کچھ عملیات ایسے بھی ہیں جو مصنف کتاب نے اپنی ذاتی بیاض سے بھی لیے ہیں یعنی وہ عملیات جو کہ انہیں سالہا سال کی محنت شاقہ کے بعد اپنے بزرگوں سے ملے ہیں۔ ان تمام وظائف و عملیات اور نقوش و تعویذات کو آپ مجرب اور آزمودہ کہہ سکتے ہیں، کیونکہ ی عمل مختلف ادوار اور مختلف وقتوں میں مختلف افراد کے زیر عمل رہے ہیں اور ان کے حسب منشا کام بھی ہوئے ہیں لیکن عملیات کا ایک اپنا فارمولہ اور کچھ شرائط ہیں۔ سب سے پہلی شرط تو یہ ہے کہ وہ لقمہ حلال سے کھاتا ہو یعنی اس کی روزی پاک ہو۔ اس کی زبان جھوٹ ، چغل
خوری، غیبت جیسی قبیح عادات کی مرتکب نہ ہو۔ عامل کا لباس بھی پاک ہونا چاہیے۔ اکثر لوگ اپنے جسم اور کپڑوں کو نجاست و پلیدی سے نہیں بچاتے ۔ سب سے بڑی شرط یہ ہے کہ عمل کرنے والے کو اس کلام پر یقین کامل ہونا چاہیے کہ جس کو وہ پڑھ رہا ہے جتنا زیادہ یقین ہوگا اتنا جلد اثر ہوگا۔ پھر کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنے عملیات و وظائف کے بارے میں دوسروں کو بتا دیتے ہیں۔ روحانیت کی دنیا میں ہر عبادت، ہر نبی ، ہر وظیفہ ، ہر عمل کو مخفی اور پوشیدہ رکھنا چاہیے۔ ہو سکتا ہے کہ اس سلسلے میں آپ کو کسی کی نظر لگ جائے یا وہ چیز ریا اور دکھاوے میں شامل ہو کر ضائع ہو جائے اور اپنا اثر کھو بیٹھے۔ اس لیے تو عالمین کاملین اور بزرگان ما سلف نے شرط عائد کی ہے کہ پڑھائی اور وظیفہ ہمیشہ قبرستانوں یا ایسی جگہ پر کیا جائے جہاں کسی قسم کا خلل نہ ہو۔ جب انہماک اور یکسوئیت ٹوٹے گی تو تصور بھی منتشر ہو جائے گا ۔ جب ارتکاز توجہ نہ رہے تو عمل کی افادیت ختم ہو گئی ، افادیت نہ رہی تو تاثیر بھی نہ رہے گی ۔ اب اس کے بعد اگر عامل صاحب عمل کی عدم تاثیر کی شکایت کر میں تو اس میں قصور ان کا اپنا ہی ہوگا عمل کی مثال ایسے ہے کہ جب آپ ٹیلی فون نمبر صحیح ملائیں گے تو وہ مطلوبہ نمبر فورا مل جائے گا چاہے دنیا کے جس کونے میں ہی کیوں نہ ہو۔ اگر غلط نمبر ہوگا تو کبھی بھی نہیں ملے گا چاہے ساری زندگی بھی وہ غلط نمبر گھماتے رہیں۔
ایک اور قابل ذکر بات ! وہ یہ کہ عمل کرتے وقت انسان کو کافی محنت بلکہ حد سے زیادہ محنت کرنی چاہیے، کیونکہ دشمن کو زیر کرنا اورکسی روٹھے ہوئے کو منانا اور ناراض شخص کو اپنے پاس بلانا بہت ہی مشکل کام ہے۔ ایک بزرگ کے بقول ! تسخیر کے لیے انسان کو خون جگر دینا پڑتا ہے تب جا کر کہیں بات بنتی ہے۔
ادویات کی طرح ، ہر مقصد ، ہر مرض اور ہر کام کے لیے سینکڑوں ، ہزاروں عملیات ہیں۔ اکثر اوقات دیکھنے میں آیا ہے کہ اگر کسی کا ایک عمل یا ایک تعویذ سے کام نہ
