
قطب سوات
شيخ المشائخ
حضرت اخوند عبد الغفور صاحب سوات مجاہد و غازی ، شیخ طریقت
۱۲۰۹
۱۲۹۵
تحریر : سید نفیس الحسینی
قطب العارفین نمازی اسلام حضرت خود عبد الغفور صاحب سوات نوراللہ مرقدہ کی ذات گرامی کسی تعارف کی محتاج نہیں، آپ کی ولادت با سعادت 1209۔/1794 میں ہوئی ، آپ تیرھویں صدی ہجری کے رجال عظیمہ میں شمار کیے جاتے ہیں، ایک صاحب فیض و تاثیر شیخ خانقاہ ہونے کے ساتھ ساتھ آپ ایک حساب شمشیر دعلم مجاہد اسلام بھی تھے۔ آپ کی حیات مبارک جہاد بالسیف اور جہاد النفس کا عظیم الشان مرقع تھی۔
آپ امیر المومنین، امام المجاهدین مجد الاسلام حضرت سید احمد شہید ( ۱۳ ) کے معاصرین ۱۸۳۱ میں سے تھے۔ ابتدا میں اُن کے بعض خفیہ جنگی مشوروں میں بھی شریک رہے۔ حضرت سید صاحب کی شہادت کے بعد اُن کی جماعت مجاہدین کے شانہ بشانہ فرنگی فوج سے برسر پیکار رہے اور میدان جنگ میں اُس کے دانت کھٹے کر دیے، جنگ ابیلہ ۱۲۶۳ تہ میں آپ کے کارہائے نمایاں تاریخ حریت کا سنہری باب ہیں
حضرت اخوند صاحب حضرت خواجہ محمد شعیب تور ڈھیری کے خلیفہ عظیم تھے جنھوں نے ۱۲۳۸
میں سکھوں کی فوج سے لڑتے ہوئے میدان جہاد میں جام شہادت نوش کیا تھا، لہٰذا ذوق جهاد و سرفروشی مشهد عالیہ عام ہی سے پایا تھا۔ بعد میں حضرت سید احمد شہید کی صحبت بابرکت میسر آئی تو سونے پر سہاگے کا کام کریں۔ حضرت خواجہ محمد شعیب کی شہادت کے بعد آپ نے دریائے سندھ کے کنارے ایک چھوٹے سے گاؤں بیکنی میں سکونت اختیار فرمائی ج قلعہ ہینڈ کے پاس واقع تھا
