چودھری شہزاد جواہر میو۔جس سے میو قوم فائدہ نہ اٹھاسکی۔

0 comment 2 views
چودھری شہزاد جواہر میو۔جس سے میو قوم فائدہ نہ اٹھاسکی۔
چودھری شہزاد جواہر میو۔جس سے میو قوم فائدہ نہ اٹھاسکی۔

چودھری شہزاد جواہر میو۔جس سے میو قوم فائدہ نہ اٹھاسکی۔
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
میو قوم میں بہت سے جوہر قابل موجود ہیں ۔ قدرت نے ہر انسان کے اندر کچھ ایسی صلاحتیں رکھی ہیں جن میں کوئی دوسرا شریک و سہیم نہیں ہوتا۔یہ صفات اسی کے لئے بنی ،اسی ساتھ ختم ہوجائیں گی ۔یہ خاصہ انسان ہے جسے اللہ تعالیٰ نے احسن تقویم کے سانچے میں ڈھالا۔ہر کام ہر کوئی نہیں کرسکتا۔عہدے،معاشی حیثیت۔معارتی مقام ہر کسی کا اپنا پنا ہوتا ہے۔قدرت جب کسی قوم پر فیاضی کا معاملہ کرتی ہے تو اسے بہترین لوگوں سے نوازتی ہے۔۔
ہر انسان ہر جگہ کام نہیں دے سکتا۔اگر ایسا ہوجائے تو نظام درہم برہم ہوجائے۔
چرچل نے جنگ عظیم دوئم بہتر انداز میں لڑی اور جیتی ،جب جنگی ماحول ختم ہوا تو چرچل انتخاب میں شکست کھاگیا،جب قوم کے معماروں سے اس بارہ میں پوچھا گیا تو ۔ان کا عمومی جواب یہ تھا کہ ۔ونسٹن چرچل جنگ کے میدان میں بہترین جنگی مہارت کا ثبوت دیا اور برطانیہ کو جنگ جتوائی ،لیکن اس وقت جنگ ختم ہوچکی ہے۔لہذا ہم جنگی سوچ کے حامل لیڈر کے بجائے ایسا شخص چاہئے جو جنگ سے تباہ شدہ برطانیہ کو دوبارہ سے تعمیر کرسکے۔اس لئے اب چرچل کی ضرورت نہیں ہے۔
۔”ایک مصنف لکھتے ہیں “۔برطانیہ کے وزیر اعظم ونسٹن چرچل (Winston Churchill) نے دوسری جنگ عظیم میں اتحادیوں کو فتح دلانے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا، لیکن جنگ کے فوراً بعد جولائی 1945 کے عام انتخابات میں ان کی جماعت (کنزرویو پارٹی) کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا اور کلیمنٹ اٹلی (Clement Attlee) کی لیبر پارٹی نے تاریخی کامیابی حاصل کی۔”۔
انجمن اتحاد ترقی میوات نے شروع دن سے لیکر سالوں تک بساط بھر ایک جاندار کردار ادا کیا۔وقت کا پیہہ گھوما ۔
شہزاد جواہر کے سر صدارت کی دستار سجادی گئی۔
لیکن سوچ ابھی تک جنگی تھی اس لئے شہزاد جواہر کو کئی محاذوں پر نبرد آزما ہونا ۔کہیں عدالتی پیشیاں ۔کہیں نقشہ کی تیاری۔کہیں دیگر اداروں کے ساتھ۔معاملات وغیرہ۔
انجمن کا اکائونٹ منجمد تھا اس لئے انہوں نے بہت سا خرچہ اپنی جیب سے کیا۔ساری تٖاصیل دستاویزکی شکل میں موجود ہے۔
عندالضرورت طلب کی جاسکتی ہے۔
اگر مجھ سے کوئی پوچھے تو ۔میں کہوں گا شہزاد جواہر کی سوچ اور منصوبوں تک رسائی ہر ایک کے بس کی بات نہیں ۔
کیونکہ کسی اعلی چیز کو سمجھنے کے لئے اعلیٰ دماغ کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔اور سمجھ بوجھ قدرت کا عطیہ ہے جسے چاہے عنایت کرے۔۔
جس بات پر شہزاد جواہر مورد الزام ٹہرایا جاتا ہے ۔
میں سمجھتا ہوں وہ منصوبہ بندی میو قوم کے سامنے پیش کی جائے۔تاکہ نئے لوگوں کے سامنے حقائق لائے جاسکیں ۔
نئے لوگ حقائق سے آگاہی لے سکیں۔/ذیل کے الفاظ دستیاب دستاویز سے نقل کررہا ہوں ۔
اصل کاپی موجود ہے ۔کوئی بھی طلب کرسکتا ہے۔۔
مضمون کافی طویل ہوگیا ہے ۔وہ معاہدہ جس کی وجہ سے شہزاد جواہر کو زمین فروخت کے الزام سے دوچار ہونا ۔
سچی بات تو یہ ہے کہ الزام لگانے والوں نے تو الزام لگایا۔اور قوم کے دس سال ضائع کئے جو اس سے متفق نہ تھے اسن سے گلہ ہی کیا ۔
گلہ تو شہاز جواہر صاحب کی کابینہ اور ان لوگوں کا جو بظاہر اس کے ساتھ تھے۔
وہ لوگ بھی قوم کو آگاہ نہ کرسکے۔یوں ایک ایسا منصوبہ جو قوم کے لئے ایک نعمت ثابت ہوتا ۔
مخالفت برائے مخالفت ۔یا یوں کہوں کہ جہالت اور کوڑ مغزی کی نظر ہوگیا۔۔۔۔آئے منصوبہ کے چہرے سے نقاب اٹھاتے ہیں۔۔۔۔۔

Advertisements

. بدوکی کی 50 کنال زمین پر سب یونیورسٹی اور دفاتر کے منصوبے کی تفصیلات
بسم اللہ الرحمن الرحیم
السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
معزز کابرینِ میو برادری
جیسا کہ آپ لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ موضع بدوکی، ضلع لاہور میں تقریباً 30 سال قبل 50 کنال رقبہ برائے کالج اور دفاتر برائے انجمن اتحاد و ترقی میوات پاکستان وقف کیا گیا تھا۔ لیکن ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم آج تک کالج تو کیا، ایک دفتر بھی مذکورہ وقف شدہ جگہ پر نہ بنا سکے۔
موجودہ انتظامیہ، جو کہ تقریباً ایک سال قبل الیکشن کے نتیجے میں منتخب ہوئی، اپنی انتھک محنت اور کوششوں کے نتیجے میں ایک تاریخی قوم منصوبہ آپ کے سامنے پیش کرتی ہے۔
اس منصوبے کا مقصد جلد از جلد وقف شدہ جگہ کو تعمیر کر کے میو قوم کی بھلائی اور فلاح و بہبود کیلئے استعمال میں لانا ہے۔
منصوبے کی تفصیلات مندرجہ ذیل ہیں:

  1. تعمیر برائے دفاتر انجمن، مسجد، مدرسہ، کمیونٹی سنٹر، میڈیا سنٹر اور ہاسٹل برائے طلباء
    تخمینہ لاگت تقریباً 3 کروڑ روپے ہے۔
  2. تعمیر برائے انٹرنیشنل یونیورسٹی
    تخمینہ لاگت تقریباً 12 کروڑ روپے ہے۔
    مندرجہ بالا عظیم الشان منصوبے کی تعمیر کیلئے موجودہ انتظامیہ کی تجاویز مندرجہ ذیل ہیں، جن پر اتفاقِ رائے ہونے کی صورت میں فوری طور پر منصوبے کی تعمیر کا آغاز ہو جائے گا:
  3. دفاتر، مسجد، مدرسہ، کمیونٹی سنٹر، میڈیا سنٹر اور ہاسٹل:
    یہ تعمیر تقریباً 4 کنال پر مشتمل ہوگی جس کیلئے کم از کم تقریباً 3 کروڑ روپے درکار ہیں۔ دفاتر کی تعمیر کیلئے موجودہ انتظامیہ فوری طور پر 50 لاکھ روپے کا بندوبست کرے گی اور تعمیر کا آغاز کر کے (انشاءاللہ) 2 سال کے اندر دفاتر اور باقی تعمیرات مکمل کی جائیں گی۔ تعمیر کیلئے بقایا رقم برادری سے چندے کے ذریعے اکٹھی کی جائے گی۔ چندہ مہم کی ذمہ داری موجودہ انتظامیہ کی ہوگی۔
  4. انٹرنیشنل یونیورسٹی کی تعمیر:
    چونکہ تعلیمی اداروں کو چلانے کیلئے پیشہ ورانہ مہارت کی ضرورت ہوتی ہے، اسی لیے موجودہ انتظامیہ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ باقی ماندہ جگہ پر ایک عظیم الشان انٹرنیشنل یونیورسٹی سب کیمپس تعمیر کیا جائے اور چلایا جائے۔
    یونیورسٹی کی تعمیر اور انتظام کی شرائط مندرجہ ذیل ہوں گی:
  5. یونیورسٹی سب کیمپس کی تعمیر کا سرمایہ (تقریباً 12 کروڑ روپے) یونیورسٹی مہیا کرے گی۔
  6. یونیورسٹی انتظامیہ 2 سال کے اندر تعمیر مکمل کر کے یونیورسٹی سب کیمپس میں کلاسز کا باقاعدہ آغاز کرے گی۔
  7. یونیورسٹی میں بزنس، انجینئرنگ اور میڈیکل کے شعبہ جات میں تعلیم دی جائے گی۔
  8. یونیورسٹی انتظامیہ سب کیمپس کے اندر تمام پیشہ ورانہ مہارت مہیا کرے گی اور یونیورسٹی کا انتظام چلائے گی۔
  9. یونیورسٹی انتظامیہ کی گورننگ باڈی میں انجمن اتحاد و ترقی میوات کی نمائندگی ضروری ہوگی۔
  10. یونیورسٹی انتظامیہ سالانہ بنیاد پر تقریباً 600 میواتی طلباء کو انٹرمیڈیٹ، گریجویشن، پوسٹ گریجویشن اور اعلیٰ تعلیم دینے کی پابند ہوگی۔
  11. یونیورسٹی سب کیمپس میں سالانہ 125 طلباء کا اضافہ کیا جائے گا جن کے داخلے کا اختیار انجمن کی انتظامیہ کو ہوگا۔
  12. تمام میواتی طلباء میں سے 50 فیصد سے کوئی فیس نہیں لی جائے گی، جبکہ باقی 50 فیصد کو فیس میں 50 فیصد رعایت دی جائے گی۔
  13. یونیورسٹی انتظامیہ فیس کی مدد سے حاصل ہونے والی تمام آمدنی کا 5% انجمن کے بینک اکاؤنٹ میں جمع کرانے کی پابند ہوگی، جو میواتی قوم کی فلاح و بہبود کیلئے استعمال کی جائے گی۔
  14. ایک محتاط اندازے کے مطابق پہلے سال فیس کی مد میں آمدنی کا اندازہ 60 سے 70 لاکھ روپے تک ہے، جو چوتھے سال تک 4 کروڑ روپے تک پہنچنے کی توقع ہے۔ یہ تمام آمدنی میواتی طلباء کو دی گئی فیس کی رعایت کے علاوہ ہے۔
  15. یونیورسٹی انتظامیہ پڑھے لکھے میواتی لوگوں کو یونیورسٹی سب کیمپس میں ملازمت دینے کی بھی پابند ہوگی۔
  16. یونیورسٹی انتظامیہ کے ساتھ معاہدہ 25 سال کیلئے ہوگا جو مزید 20 سال کیلئے قابلِ توسیع ہوگا۔ کل 45 سال کے بعد انجمن تمام بلڈنگ اور اثاثہ جات کی بلاشرکتِ غیر مالک ہو جائے گی۔
  17. یونیورسٹی سب کیمپس سے حاصل شدہ آمدنی سے میو قوم کی فلاح و بہبود کیلئے مزید منصوبے شروع کیے جائیں گے۔
    موجودہ انتظامیہ کو یقین ہے کہ مندرجہ بالا عظیم الشان منصوبوں پر عمل کر کے میو قوم کی ترقی کیلئے نئے دروازے کھولے جا سکتے ہیں۔ اگر ہم نے ابھی کچھ نہ کیا تو شاید مزید 30 سال بھی گزر جائیں اور ہم پھر بھی کچھ نہ کر سکیں، اور ہماری قوم مزید جہالت اور پستی کے سمندر میں ڈوبتی چلی جائے گی۔
    والسلام
    میو قوم کا خیر اندیش
    انتظامیہ: انجمن اتحاد و ترقی میوات پاکستان (رجسٹرڈ) لاہور

Leave a Comment

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid, the visionary mind behind Tibb4all, revolutionizes education and daily life enhancement in Pakistan. His passion for knowledge and unwavering community dedication inspire all who seek progress and enlightenment.

More About Me

Newsletter

Top Selling Multipurpose WP Theme