پھلوں اور سبزیوں کو سلور اور سولر ڈیہائیڈیٹرز سے خشک کرنے کا عالمی رجحان

0 comment 4 views

پھلوں اور سبزیوں کو سلور اور سولر ڈیہائیڈیٹرز سے خشک کرنے کا عالمی رجحان: ترجیحات اور وقت کی ضرورت

Advertisements

زرعی اور خوراک کو محفوظ کرنے والی جدید ٹیکنالوجی میں پھلوں اور سبزیوں کو خشک کرنا (Dehydration) ایک کلیدی حیثیت اختیار کر چکا ہے 1۔ روایتی طور پر دھوپ میں پھل خشک کرنے کے طریقے صدیوں سے رائج ہیں، لیکن موجودہ دور میں توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات، ماحولیاتی آلودگی، اور صفائی کے گرتے ہوئے معیارات نے اس صنعت کو ایک نئے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے 3۔ اس تناظر میں، عالمی اور مقامی سطح پر دو اہم ٹیکنالوجیز کا رجحان تیزی سے ابھر رہا ہے: اول، سولر (شمسی) ڈیہائیڈیٹرز جو کہ ماحول دوست اور بجلی کے بغیر چلنے والے سستے ذرائع مہیا کرتے ہیں 5؛ دوم، سلور یا سٹینلیس سٹیل الیکٹرک ڈیہائیڈیٹرز جو اپنی پائیداری، اعلیٰ صفائی (Hygienic Standards)، اور درست درجہ حرارت کی بدولت تجارتی اور گھریلو سطح پر جدید ترجیحات بن چکے ہیں 7۔ یہ رپورٹ ان دونوں ٹیکنالوجیز کے سائنسی فوائد، عالمی مارکیٹ کے رجحانات، پاکستان میں باغبانی کے نقصانات کے حل کے لیے ان کی اہمیت، اور کاروباری فزیبلٹی کا ایک جامع علمی جائزہ پیش کرتی ہے۔

عالمی پس منظر اور غذائی تحفظ کے لیے جدید رجحانات

پھلوں اور سبزیوں میں پانی کی مقدار عام طور پر بہت زیادہ ہوتی ہے، جو کہ عام طور پر  سے  کے درمیان ریکارڈ کی جاتی ہے، جب کہ گوشت میں یہ مقدار  سے  تک ہوتی ہے 1۔ خوراک میں موجود یہ نمی مائیکرو آرگنزمز اور بیکٹیریا کی نشوونما کا بنیادی سبب بنتی ہے جو خوراک کے جلد خراب ہونے کا باعث بنتی ہے 1۔ ڈیہائیڈریشن کا عمل خوراک سے اس نمی کو نکال کر اسے  سے بھی کم سطح پر لے آتا ہے، جس سے نہ صرف بیکٹیریا کی نشوونما رک جاتی ہے بلکہ مصنوعات کا وزن اور حجم بھی نمایاں طور پر کم ہو جاتا ہے 1۔ یہ مائیکرو اسکیل تبدیلیاں پیکیجنگ، ذخیرہ اندوزی اور نقل و حمل کے اخراجات کو نمایاں طور پر کم کر کے زرعی سپلائی چین کو مستحکم بناتی ہیں 2۔

عالمی سطح پر فوڈ ڈیہائیڈیٹرز کی مارکیٹ میں تیز رفتاری سے اضافہ ہو رہا ہے، اور اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 میں اس مارکیٹ کی مالیت  ملین امریکی ڈالر ریکارڈ کی گئی تھی، جس کے  کی کمپاؤنڈ سالانہ شرح نمو (CAGR) کے ساتھ بڑھتے ہوئے سال 2032 تک  ملین امریکی ڈالر تک پہنچنے کی قوی امید ہے 6۔ موجودہ دور میں پروسیس شدہ خشک خوراک کا  سے زائد حصہ جدید ڈیہائیڈیٹرز کے ذریعے تیار کیا جاتا ہے تاکہ ان کی کوالٹی برقرار رہے 6۔ مزید برآں، تقریباً  صارفین اور صنعت کار خوراک کے اصلی ذائقے، خوشبو اور غذائی اجزاء (وٹامنز اور اینزائمز) کو محفوظ رکھنے کے لیے ڈیہائیڈریشن کو ترجیح دیتے ہیں 1۔ اس ٹیکنالوجی کی افادیت کو دیکھتے ہوئے تقریباً  پروسیس شدہ سنیکس، نوڈلز اور تیار شدہ سوپ بنانے والے مینوفیکچررز اب صنعتی سطح پر ان ڈیہائیڈیٹرز پر انحصار کر رہے ہیں 6۔

سلور اور سٹینلیس سٹیل ڈیہائیڈیٹرز کی تکنیکی بالادستی

تجارتی اور گھریلو اصطلاحات میں “سلور ڈیہائیڈیٹر” سے مراد چاندی نما چمکدار، زنگ سے محفوظ اور دیرپا دھاتی باڈی والے سٹینلیس سٹیل ڈیہائیڈیٹرز ہیں 7۔ یہ آلات پلاسٹک کے عام ڈیہائیڈیٹرز کے مقابلے میں انتہائی پائیدار اور فوڈ گریڈ معیارات کے عین مطابق ہوتے ہیں 7۔ ان مشینوں کے اندر استعمال ہونے والی ٹرے فوڈ گریڈ  سٹینلیس سٹیل سے تیار کی جاتی ہیں جو کہ بی پی اے (BPA) جیسے مضرِ صحت کیمیکلز سے پاک اور ڈش واشر محفوظ ہوتی ہیں، جب کہ مشین کی بیرونی باڈی کے لیے سنکنرن مزاحم (Corrosion-resistant)  سٹینلیس سٹیل استعمال کیا جاتا ہے 7۔

ان سلور ڈیہائیڈیٹرز کی کارکردگی اور تکنیکی خصوصیات انتہائی جدید مائیکرو پروسیسر کنٹرولڈ سسٹمز پر مبنی ہوتی ہیں، جن کی تفصیلات درج ذیل جدول میں پیش کی گئی ہیں:

جدول 1: مقامی مارکیٹ میں برقی اور ہائبرڈ ڈیہائیڈیٹرز کی خصوصیات اور قیمتیں

مشین کا ماڈل اور برانڈبجلی کی کھپت (واٹ)ٹرے کی تعداد اور خصوصیاتدرجہ حرارت اور ٹائمر کی حدمقامی قیمت (پاکستانی روپے)
لوکل امپورٹڈ نیچر ڈیہائیڈیٹر 105 ریمووبل ٹرے (پلاسٹک/دھات) سے Rs. 10,499
امپورٹڈ ٹوفو کمرشل ڈیہائیڈیٹر 108 ٹیرز (Tiers) برائے فوڈ ہولڈنگایل ای ڈی ڈیجیٹل کنٹرولRs. 16,999
سلور سٹینلیس سٹیل 10 ٹرے ماڈل 1110 ٹرے (فوڈ گریڈ ) سے ، 48 گھنٹے ٹائمر 7Rs. 55,000
ہائبرڈ ڈیہائیڈیٹر (سولر + الیکٹرک) 12 (پنکھا )صنعتی ڈیزائن (ملٹی فنکشنل)گرڈ اور سولر ہائبرڈ سپورٹRs. 275,000
صنعتی 48 لیئر ڈیہائیڈیٹر 12 (کھپت )48 ٹرے (سائز )تجارتی پیمانے کی ڈرائینگRs. 445,000
صنعتی 96 لیئر ڈیہائیڈیٹر 12 (کھپت )96 ٹرے (مضبوط تجارتی کیبنٹ)صنعتی پیمانے کی خشک کاریRs. 745,000

یہ سلور الیکٹرک ڈیہائیڈیٹرز دوہرے پنکھوں (Dual back fans) اور  ہاٹ ایئر سرکولیشن (Hot air circulation) ٹیکنالوجی کی مدد سے کام کرتے ہیں، جس سے چیمبر کے ہر حصے میں حرارت یکساں پھیلتی ہے اور بار بار ٹرے کی پوزیشن تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں رہتی 8۔ ان مشینوں کا شور کا لیول  سے بھی کم ہوتا ہے جو کہ گھریلو ماحول میں انتہائی خاموش آپریشن کو یقینی بناتا ہے 8۔ تاہم، کچھ صارفین کی طرف سے ابتدائی استعمال کے دوران آلات سے ایک تیز بو (Strong odor) خارج ہونے کی شکایت بھی سامنے آئی ہے، جس کے تدارک کے لیے پہلی بار خالی مشین کو زیادہ درجہ حرارت پر چلا کر صاف کرنا ضروری ہوتا ہے 8۔ برقی ڈیہائیڈیٹرز کے برعکس، جہاں درجہ حرارت کی حساسیت زیادہ ہو اور آکسیڈیشن کا خطرہ ہو، وہاں ذیلی کرۂ فضائی یا ویکیوم ڈیہائیڈیٹرز (Sub-atmospheric vacuum dryers) استعمال کیے جاتے ہیں جو ابلتے ہوئے نقطہ سے کم درجہ حرارت پر نمی کو خارج کر کے مصنوعات کی رنگت اور ساخت کو سو فیصد محفوظ رکھتے ہیں 2۔

سولر ڈیہائیڈریشن کی سائنسی افادیت اور ہائبرڈ سسٹمز

سولر ڈیہائیڈیٹر ٹیکنالوجی خاص طور پر ان زرعی علاقوں کے لیے متبادل اور پائیدار حل پیش کرتی ہے جہاں گرڈ بجلی کی دستیابی محدود یا انتہائی مہنگی ہو 4۔ ایک فعال (Active) سولر ڈیہائیڈیٹر شمسی توانائی کو حرارتی توانائی میں تبدیل کر کے چیمبر کے اندر درجہ حرارت کو  سے  کے مثالی فریم ورک میں برقرار رکھتا ہے 14۔

سائنسی تحقیقی رپورٹس کے مطابق، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں دسمبر کے مہینے کی اوسط شمسی تابکاری  ریکارڈ کی گئی ہے، جو کہ چیمبر کو متحرک رکھنے کے لیے کافی ہے 14۔ اس شمسی ڈیٹا کی بنیاد پر ایک کلوگرام سیب کو خشک کرنے کے لیے  اور ایک کلوگرام کیلے کو خشک کرنے کے لیے  حرارتی توانائی درکار ہوتی ہے 14۔ کھلے آسمان تلے خشک کرنے کی روایتی تکنیک کے مقابلے میں بند سولر ڈرائر کے نتائج حسی اور مائیکرو بائیولوجیکل دونوں لحاظ سے نمایاں برتری رکھتے ہیں 3۔

پھلوں کی کوالٹی پر بند سولر خشک کاری کے اثرات کو پرکھنے کے لیے کیے گئے تجربات سے ثابت ہوا ہے کہ بند سولر چیمبر جراثیمی حملوں کو نمایاں حد تک روکتا ہے 3۔ کھلے دھوپ کے مقابلے میں بند سولر ڈرائینگ کے مائیکرو بائیولوجیکل اور کیمیکل اثرات درج ذیل ہیں:

  • بیکٹیریل آلودگی میں کمی: بند نظام کے استعمال سے کل بیکٹیریل کاؤنٹ میں  تک کی واضح کمی واقع ہوتی ہے 3۔
  • فنگل انفیکشن کی روک تھام: کھلے ماحول کی نمی اور ہوا سے پیدا ہونے والے فنگل لوڈ میں  تک کی کمی دیکھی گئی ہے اور خشک کردہ کجوروں میں ایفلٹوکسنز (Aflatoxins) کے کوئی اثرات نہیں پائے گئے 3۔
  • زہریلی بھاری دھاتوں سے تحفظ: فضائی آلودگی اور مٹی سے پیدا ہونے والی دھاتوں جیسے کہ لیڈ (Pb) کی سطح میں  کیڈمیم (Cd) میں  تانبا (Cu) میں  اور نکل (Ni) میں  تک کی کمی حاصل ہوتی ہے 3۔

اس کے علاوہ، رات کے وقت یا ابر آلود موسم میں کام جاری رکھنے کے لیے ہائبرڈ سولر سسٹمز متعارف کروائے گئے ہیں جو خالی ٹیوب کلیکٹرز (Evacuated Tube Collectors) اور گیس برنرز کے دوہرے امتزاج سے کام کرتے ہیں 17۔ ان ہائبرڈ سسٹمز کی حرارتی کارکردگی  تک ہوتی ہے 17۔ ایک  گھنٹے کے مسلسل پروسیسنگ سائیکل کے دوران، یہ نظام اپنی کل درکار توانائی کا  حصہ شمسی توانائی سے اور  حصہ گیس سے حاصل کرتا ہے 17۔ اگرچہ صرف سولر موڈ پر چلانے سے پروسیسنگ کا وقت بڑھ جاتا ہے، لیکن یہ طریقہ کار مینوفیکچررز کے توانائی کے اخراجات میں  تک کی شاندار بچت پیدا کرتا ہے 17۔

پاکستان میں پوسٹ ہاروسٹ نقصانات اور باغبانی کا معاشی دباؤ

پاکستان میں باغبانی کے شعبے کی سب سے بڑی ناکامی کاشت کے بعد مناسب ہینڈلنگ اور کولڈ چین انفراسٹرکچر کی عدم موجودگی ہے، جس کے باعث ملک بھر میں پیدا ہونے والے کل پھلوں اور سبزیوں کا تقریباً  سے  حصہ صارفین تک پہنچنے سے پہلے ہی ضائع ہو جاتا ہے 18۔ اس فضلے کی کل قومی معاشی مالیت سالانہ  ملین سے لے کر  ارب امریکی ڈالر تک پہنچ جاتی ہے 19۔

مختلف اہم فصلوں میں نقصانات کی فیصد اور ان کی نوعیت کو سمجھنے کے لیے درج ذیل تقابلی خاکہ انتہائی اہم ہے:

جدول 2: پاکستان میں زرعی اجناس کے نقصانات اور ان کے اسباب

زرعی جنسکاشت کے بعد اوسط نقصان (%)نقصان کا بنیادی سبب اور مرحلہمعاشی اثرات کا سائز
ٹماٹر 19نازک ساخت، لکڑی کے کریٹس میں غیر محتاط پیکنگ اور نقل و حمل کے دوران دباؤکسان کو فی ایکڑ  سے  روپے کا براہ راست مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے 19۔
پالک 21تیزی سے مرجھانا، کولڈ چین ٹرانسپورٹ کی عدم موجودگی اور منڈیوں میں تاخیرپچاس فیصد سے زائد پیداوار کھاد اور پانی کے اخراجات سمیت ضائع ہو جاتی ہے 19۔
آم (کنگ آف فروٹس) 19مونسون کے دوران کٹائی، گرمی کی وجہ سے تیزی سے پکنا اور برآمدی معیار کا گرنااعلیٰ ترین برآمدی کوالٹی کا آم سستے داموں مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنا پڑتا ہے 19۔
کجھور (خلال اسٹیج) 23 تک (برسات میں)خلال مرحلے پر کٹائی کے فوراً بعد مونسون کی بارشوں کے باعث سڑنا اور فنگس لگناکجوروں کی معاشی قدر مٹی میں مل جاتی ہے، چونکہ انہیں چھوہارے میں تبدیل کرنے کا روایتی طریقہ ناکام ہو جاتا ہے 23۔

ان ہوش ربا معاشی نقصانات کا حل صرف میکانیکی ڈیہائیڈریشن ٹیکنالوجی کے بڑے پیمانے پر نفاذ میں مضمر ہے 9۔ مثال کے طور پر، ٹماٹر کی کل پیداوار کا  سے  حصہ صرف ٹرانسپورٹ کے دوران کچل جاتا ہے 19۔ اگر کھیت کی سطح پر ہی چھوٹے سولر یا الیکٹرک ڈیہائیڈیٹرز کی مدد سے ان ٹماٹروں کو پاؤڈر یا پیسٹ میں تبدیل کر دیا جائے تو کسان گرتی ہوئی مارکیٹ کی قیمتوں سے بچ کر زبردست ویلیو ایڈیشن منافع کما سکتا ہے 16۔ ایک سائنسی تجربے کے مطابق، گرین ہاؤس ماڈل ڈرائر کے اندر ٹماٹر کو  گھنٹے تک سکھانے سے اس کی برکس (Brix) ویلیو  تک پہنچ جاتی ہے، جو برآمدی معیار کے ٹماٹر پیسٹ کی تیاری کے لیے موزوں ترین ہے 16۔

تجارتی فزیبلٹی اور کاروباری ماڈلز کا تفصیلی جائزہ

پاکستان میں پھلوں اور سبزیوں کی پروسیسنگ کے لیے دو بڑے معاشی اور تکنیکی ماڈلز کی فزیبلٹی کا تفصیلی موازنہ ذیل کے جدولوں میں پیش کیا گیا ہے، جو چھوٹے اور بڑے سرمایہ کاروں کے لیے رہنمائی کا کام کرتے ہیں:

جدول 3: SMEDA سبزیوں کے ڈیہائیڈریشن یونٹ کے معاشی پیرامیٹرز (دسمبر 2023)

مالیاتی و تکنیکی اشارےماڈل کی تفصیلی معلومات اور قیمتیں
کل پروجیکٹ لاگتRs. 11,398,000 (سرمایہ کاری لاگت: Rs. 10,550,000؛ ورکنگ کیپیٹل: Rs. 848,000)
پروسیسنگ پروڈکٹ مکسآلو (Potato)، پیاز (Onion)، اور لہسن (Garlic) کی موسمی پروسیسنگ
مشینری کے اخراجات8 لوکل ڈرائر (Rs. 3,080,000)، جنریٹر (Rs. 980,000)، سلائسر (Rs. 170,000)، پیلر/واشر (Rs. 75,000)، لیب آلات (Rs. 250,000)
پیداواری گنجائشخام مال پروسیسنگ: 240,000 کلوگرام سالانہ؛ تیار شدہ پراڈکٹ: 38,340 کلوگرام سالانہ
مالیاتی منافع کا حجم100% ایکویٹی ماڈل پر انٹرنل ریٹ آف ریٹرن (IRR): ؛ ادائیگی کا دورانیہ (Payback Period): 5.42 سال

یہ کاروباری ماڈل خاص طور پر درمیانے درجے کے کاروباری افراد اور کسانوں کے لیے انتہائی پرکشش ہے کیونکہ اس میں درآمدی سسٹمز کے بجائے مقامی طور پر تیار کردہ ویکیوم اور ہاٹ ایئر ڈرائرز کا استعمال کیا گیا ہے 9۔ سال اول میں یہ یونٹ  آپریشنل کارکردگی پر  کلوگرام تیار مصنوعات پیدا کرتا ہے جو ملکی فوڈ فیکٹریوں اور سپر اسٹورز کو سپلائی کی جاتی ہیں 9۔

اس کے برعکس، بڑے صنعتی یونٹس کے لیے محکمہ زراعت پنجاب کا تیار کردہ ماڈل ذیل میں پیش کیا گیا ہے:

جدول 4: پنجاب زرعی ڈیپارٹمنٹ کا ملتان پروسیسنگ یونٹ (صنعتی فزیبلٹی)

پروجیکٹ کے اجزاءتکنیکی تفصیلات اور مالیاتی حجم
مجموعی لاگتRs. 290,000,000 (سرمایہ کاری لاگت: Rs. 126.2 ملین؛ باقی ورکنگ کیپیٹل)
بنیادی مشینری کی تفصیلملٹی سٹیج ٹنل ڈیہائیڈیٹر (Rs. 19,000,000)؛ کیبنٹ ڈرائرز (Rs. 8,000,000)
مقامی مینوفیکچرڈ آلاتروٹری واشر (Rs. 650,000)؛ آم کا پیلر/سلائسر (Rs. 1,600,000)؛ بلانچر (Rs. 1,400,000)
یومیہ گنجائش اور سیزنل اشیاء5 ٹن خشک مصنوعات روزانہ (آم، سیب، مٹر، پیاز اور لہسن)
مالیاتی اشاریےانٹرنل ریٹ آف ریٹرن (IRR): ؛ سال اول متوقع آمدنی: Rs. 449,000,000

یہ ماڈل ملتان جیسے آم کے بڑے پیداواری حب میں لگانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے 26۔ اس میں آم، پیاز اور مٹر کی سیزنل دستیابی کو مدِ نظر رکھ کر پروسیسنگ ڈیز شیڈول کیے جاتے ہیں 26۔ اس صنعتی یونٹ کے تحت خشک سیب کی فروخت کی قیمت  روپے فی کلوگرام، پیاز کی  روپے اور لہسن پاؤڈر کی  روپے فی کلوگرام مقرر کی گئی ہے، جو کہ بین الاقوامی منڈی کے مسابقتی برآمدی معیارات کے عین مطابق ہے 2۔

پھلوں کا پری ٹریٹمنٹ اور پوسٹ ڈرائینگ فینیشنگ پراسیس

کامیاب اور معیاری ڈیہائیڈریشن کے لیے صرف پھل کو مشین میں رکھ دینا کافی نہیں ہوتا، بلکہ اس کے لیے سائنسی بنیادوں پر پری ٹریٹمنٹ (Pre-treatment) اور فینیشنگ کے مراحل سے گزرنا لازمی ہے 2۔ سیب، ناشپاتی، آڑو اور خوبانی جیسے پھل ہوا کی آکسیجن کے ساتھ مل کر آکسیڈائز ہو جاتے ہیں جس سے ان کا رنگ کالا پڑ جاتا ہے اور وٹامنز ضائع ہو جاتے ہیں 2۔

اس رنگت کی تبدیلی اور جراثیمی حملوں کو روکنے کے لیے کیمیکل پری ٹریٹمنٹ کا مستند سائنسی طریقہ کار اختیار کیا جاتا ہے:

  • ایسڈک باتھ کا استعمال: کٹے ہوئے پھلوں کو خشک کرنے سے پہلے  چائے کے چمچ پاؤڈرڈ ایسکوربک ایسڈ (یا پچاس گرام وٹامن سی کی گولیاں پیس کر) یا آدھا چائے کا چمچ سائٹرک ایسڈ کو دو کپ پانی میں گھول کر پھلوں کو  منٹ تک ڈبویا جاتا ہے 2۔
  • لیمن جوس کا متبادل: تجارتی پیمانے پر لیموں کا رس اور پانی مساوی مقدار میں ملا کر بھی یہ محلول تیار کیا جا سکتا ہے 2۔
  • سلفیٹنگ (Sulphuring): سلفر ڈائی آکسائیڈ () گیس کا استعمال پھلوں کی قدرتی رنگت کو برقرار رکھنے کا سب سے موثر ترین ذریعہ ہے، جس میں  سے  سلفر فی کلوگرام خوراک کے حساب سے چیمبر میں جلا کر گیس جذب کروائی جاتی ہے 2۔

خشک کرنے کے بعد، مصنوعات کو براہ راست پیک نہیں کیا جاتا بلکہ فینیشنگ کے تین مراحل سے گزارا جاتا ہے 2:

  • سویٹنگ (Sweating): خشک شدہ پھلوں کے ٹکڑوں کو کچھ دنوں کے لیے بڑے بکسوں یا بینز میں رکھا جاتا ہے تاکہ ان کے درمیان نمی کا توازن (Moisture equilibrium) یکساں ہو جائے 2۔
  • اسکریننگ (Screening): اس عمل کے تحت انتہائی چھوٹے اور ٹوٹے ہوئے ناپسندیدہ سائز کے ذرات (Fines) کو چھان کر الگ کر دیا جاتا ہے 2۔
  • پیکیجنگ: حتمی پراڈکٹ کو فوڈ گریڈ پولی بیگز میں ائیر ٹائٹ سیل کیا جاتا ہے تاکہ بیرونی نمی، آکسیجن، روشنی اور کیڑے مکوڑوں سے اس کا مستقل تحفظ ہو سکے 2۔

حکومتی تعاون، سبسڈیز اور تربیتی نیٹ ورک

پاکستان اور اس کے پڑوسی ممالک میں زرعی شعبے کی جدت کے لیے حکومتی اور بین الاقوامی سطح پر سبسڈیز اور تربیتی پروگراموں کا جال بچھایا جا رہا ہے 6۔ بھارتی پنجاب کے محکمہ زراعت اور ایگریکلچرل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ نے کسانوں کے لیے  لاکھ روپے مالیت کے سولر ڈرائرز پر  لاکھ روپے کی براہ راست سبسڈی فراہم کی ہے، جس کی بدولت کسانوں نے املہ، بیج اور کیلوں کو کھیت پر ہی سکھانے کے کامیاب یونٹ لگائے ہیں 29۔ اسی طرح، پاکستان کے صوبہ سندھ میں جائیکا (JICA) اور ایف اے او (FAO) نے مل کر سال 2012 میں ضلع شکارپور میں کسانوں کو آم کا گودا اور جوس بنانے والی مشینوں کے ساتھ آزمائشی بنیادوں پر سولر ڈرائرز مہیا کیے تھے 30۔

پاکستان کے اندر اس ٹیکنالوجی کو عام کرنے کے لیے مختلف تعلیمی اور تحقیقی ادارے درج ذیل خدمات پیش کر رہے ہیں:

  • زرعی یونیورسٹی فیصل آباد (UAF) اور اے بی ای آئی (ABEI): یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد اور ایگریکلچرل بیسک انجینئرنگ انسٹی ٹیوٹ نے مقامی طور پر انتہائی کم لاگت کے سولر ڈرائرز تیار کیے ہیں جو کسانوں کو کاسٹ شیئرنگ (Cost sharing) کی بنیاد پر دیے جا رہے ہیں تاکہ مٹر، ہری مرچ اور دیگر سبزیوں کی لائف بڑھائی جا سکے 31۔
  • پی سی ایس آئی آر (PCSIR) لیبارٹریز کمپلیکس لاہور: سال 1977 میں قائم ہونے والا یہ ادارہ فوڈ سیفٹی، کوالٹی کنٹرول اور ٹیسٹنگ کے شعبے میں بین الاقوامی معیار کا حامل ہے 32۔ پی سی ایس آئی آر کا انڈسٹریل لائژن آفس (ILO) مقامی اور کثیر القومی کمپنیوں کو ٹیسٹنگ اور آلات کی کیلیبریشن کی خدمات فراہم کرتا ہے 33۔ یہ ادارہ کسانوں اور مینوفیکچررز کو فوڈ ڈیہائیڈریشن بزنس، گڈ مینوفیکچرنگ پروسیسز (GMP)، اور گڈ لیبارٹری پروسیسز (GLP) کی باقاعدہ فیس کے عوض ہینڈز آن پریکٹیکل ٹریننگ فراہم کرتا ہے تاکہ ان کی تیار کردہ مصنوعات ملکی اور بین الاقوامی برآمدی کوالٹی کے تقاضوں پر پورا اتر سکیں 33۔

تزویراتی سفارشات اور حاصلِ کلام

پھلوں اور سبزیوں کو سولر اور سلور (سٹینلیس سٹیل) ڈیہائیڈیٹرز کی مدد سے خشک کرنے کا بڑھتا ہوا عالمی رجحان محض ایک وقتی فیشن نہیں بلکہ موجودہ دور کی ماحولیاتی اور معاشی ترجیحات کا ناگزیر تقاضا ہے 5۔ روایتی طریقوں میں توانائی کے بے پناہ ضیاع اور کمزور سینیٹیشن کے مسائل نے اس ٹیکنالوجیکل اپ گریڈ کو لازمی بنا دیا ہے 3۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے، جہاں سالانہ اربوں روپے مالیت کی زراعتی پیداوار کچرے کی نذر ہو جاتی ہے، ڈیہائیڈریشن کو اپنایا جانا کسانوں کی خوشحالی اور ملکی برآمدات میں اضافے کا واحد قابلِ عمل اور فوری ترین راستہ ہے 19۔

اس شعبے کی ترقی اور پائیدار نفاذ کے لیے پالیسی سازوں اور سرمایہ کاروں کو فوری طور پر کلسٹر بیسڈ صنعتی زونز تیار کرنے چاہئیں، جہاں آم، پیاز اور کجھور کے پروڈیوسرز کو سستے سولر اور ہائبرڈ ڈیہائیڈیٹرز کی فراہمی ممکن بنائی جائے 9۔ مزید برآں، ملک کے بڑے تعلیمی اداروں جیسے فیصل آباد زرعی یونیورسٹی اور پی سی ایس آئی آر کے تربیتی کورسز کو تحصیل اور ضلعی سطح کے کسان کنونشنز کے ساتھ مربوط کیا جائے تاکہ کاشتکاروں میں سائنسی پری ٹریٹمنٹ اور ہائیجینک خشک کاری کا شعور پیدا ہو سکے 31۔ زرعی قرضہ جات فراہم کرنے والے بینکوں (جیسے ZTBL) کو چاہیے کہ وہ انفرادی اور تجارتی ڈیہائیڈریشن یونٹس کی تنصیب کے لیے آسان شرائط پر بلاسود یا انتہائی کم شرح سود پر فنانسنگ اسکیمیں متعارف کروائیں، جس سے نہ صرف دیہی سطح پر روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ پاکستان خوراک کی درآمد پر ہونے والے بھاری زرمبادلہ کو بچا کر خود کفالت کی منزل حاصل کر سکے گا 6۔

Leave a Comment

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid, the visionary mind behind Tibb4all, revolutionizes education and daily life enhancement in Pakistan. His passion for knowledge and unwavering community dedication inspire all who seek progress and enlightenment.

More About Me

Newsletter

Top Selling Multipurpose WP Theme