سورۂ طہ کی روشنی میں میو قوم کے تین طبقات

0 comment 9 views
سورۂ طہ کی روشنی میں میو قوم کے تین طبقات اصلاح، خاموشی اور معاشرتی دوری کا ایک فکری جائزہ
سورۂ طہ کی روشنی میں میو قوم کے تین طبقات اصلاح، خاموشی اور معاشرتی دوری کا ایک فکری جائزہ

سورۂ طہ کی روشنی میں میو قوم کے تین طبقات
اصلاح، خاموشی اور معاشرتی دوری کا ایک فکری جائزہ
قران کریم کا تلاوت روح کی تازگی اور مادی زندگی کا انمول خزانہ ہے۔کل سورہ طہ پارہ16 کی کچھ آیات کی تلاوت کررہا تھا۔ان آیات نے جیسے مجھے روک لیا ہو کہ ہمیں غور سو پڑھو ۔ہمارے قوانین لازال اور فیصلے اٹل ہوتے ہیں۔
(حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو)
قرآنِ مجید صرف ماضی کے واقعات بیان نہیں کرتا بلکہ ہر دور کی قوموں کے لیے رہنمائی بھی فراہم کرتا ہے۔ سورۂ طہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت ہارون علیہ السلام، بنی اسرائیل اور سامری کا واقعہ انسانی معاشروں کی نفسیات، قیادت، خاموش طبقے اور گمراہ کرنے والے عناصر کو سمجھنے کے لیے ایک عظیم مثال پیش کرتا ہے۔ یہ واقعہ صرف ایک تاریخی قصہ نہیں بلکہ ہر قوم کے اندر موجود مختلف ذہنی اور سماجی رویّوں کی عکاسی کرتا ہے۔
میو قوم بھی اپنی تاریخ، بہادری، غیرت، روایات اور مذہبی جذبات کے اعتبار سے ایک منفرد قوم ہے۔ مگر ہر قوم کی طرح اس کے اندر بھی مختلف طبقات اور مختلف نفسیاتی رجحانات پائے جاتے ہیں۔ اگر سورۂ طہ کے واقعہ کو غور سے دیکھا جائے تو میو قوم کے اندر بھی تین بڑے طبقے نمایاں نظر آتے ہیں:
1۔ مصلح طبقہ
2۔ نیوٹرل یا خاموش طبقہ
3۔ امیر اور عوام سے دور طبقہ

یہ تینوں طبقات قوم کی ترقی یا زوال میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

Advertisements

حضرت موسیٰ علیہ السلام کا طور پر جانا
سورۂ طہ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو طور پر بلایا گیا۔ وہ اپنی قوم کو چھوڑ کر اللہ سے ہمکلام ہونے کے لیے گئے اور اپنے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کو اپنا نائب مقرر فرمایا۔
حضرت ہارون علیہ السلام کو یہ ذمہ داری دی گئی کہ وہ قوم کی اصلاح کریں، انہیں متحد رکھیں اور فساد سے بچائیں۔ مگر موسیٰ علیہ السلام کی غیر موجودگی میں قوم کے اندر چھپی ہوئی کمزوریاں سامنے آنے لگیں۔

یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں کسی بھی قوم کی اصل نفسیات ظاہر ہوتی ہے۔ جب مضبوط قیادت سامنے نہ ہو تو قوم کے اندر موجود مختلف ذہنیتیں حرکت میں آجاتی ہیں۔

پہلا طبقہ: مصلحین اور اصلاح پسند لوگ
حضرت ہارون علیہ السلام اس طبقے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ انہوں نے قوم کو سمجھایا، روکا، نصیحت کی اور گمراہی سے بچانے کی کوشش کی۔ مگر جب انہیں محسوس ہوا کہ سختی کرنے سے قوم میں مزید تفرقہ پیدا ہوجائے گا تو انہوں نے حکمت اور صبر کا راستہ اختیار کیا۔
میو قوم میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو دل سے قوم کی اصلاح چاہتے ہیں۔ یہ لوگ:
تعلیم کی بات کرتے ہیں
اتحاد کی دعوت دیتے ہیں
نوجوانوں کو شعور دینا چاہتے ہیں
تاریخ اور شناخت کو بچانا چاہتے ہیں
دین اور جدید تعلیم کے درمیان توازن چاہتے ہیں
مگر ان مصلحین کی ایک بڑی نفسیاتی مشکل یہ ہوتی ہے کہ:
قوم جلدی متحد نہیں ہوتی
لوگ وقتی جذبات میں آجاتے ہیں
ہر شخص اپنی رائے کو مقدم سمجھتا ہے
اصلاحی باتوں کو اکثر تنقید سمجھ لیا جاتا ہے
میو قوم کے مصلحین اکثر تنہائی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ قوم ترقی کرے، مگر انہیں مخالفت، بے اعتنائی یا غلط فہمیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
حضرت ہارون علیہ السلام کی طرح بہت سے مصلحین یہ سوچ کر خاموشی یا نرمی اختیار کرتے ہیں کہ کہیں قوم مزید تقسیم نہ ہوجائے۔

یہ نفسیات میو قوم میں خاص طور پر پائی جاتی ہے کہ لوگ براہِ راست ٹکراؤ سے بچنا چاہتے ہیں، مگر یہی نرمی بعض اوقات گمراہ عناصر کو طاقت دے دیتی ہے۔

دوسرا طبقہ: نیوٹرل یا خاموش اکثریت
یہ وہ طبقہ ہے جو نہ کھل کر حق کا ساتھ دیتا ہے اور نہ باطل کے خلاف مضبوطی سے کھڑا ہوتا ہے۔ بنی اسرائیل کی اکثریت اسی کیفیت میں مبتلا تھی۔ انہوں نے سامری کی بات مان لی، مگر شاید سب لوگ دل سے اس پر یقین نہیں رکھتے تھے۔
خاموشی، کمزور مزاحمت اور ہجوم کے ساتھ بہہ جانا ان کی نفسیات بن گئی۔
میو قوم میں بھی ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو:
ہر معاملے میں خاموش رہتے ہیں
کسی تنازع میں پڑنا نہیں چاہتے
وقتی فائدہ دیکھتے ہیں
ہمیں کیا ضرورت ہے” والی سوچ رکھتے ہیں
طاقتور یا شور مچانے والوں کے پیچھے چل پڑتے ہیں
یہ طبقہ بظاہر نقصان دہ محسوس نہیں ہوتا، مگر حقیقت میں قوم کے زوال میں اس کا کردار بہت بڑا ہوتا ہے۔
کیونکہ جب مصلحین اکیلے رہ جائیں اور خاموش لوگ صرف تماشائی بن جائیں تو سامری جیسے لوگ میدان سنبھال لیتے ہیں۔
میو قوم کی نفسیات میں ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ لوگ تعلقات خراب کرنے سے ڈرتے ہیں۔ وہ سچ جانتے ہوئے بھی اکثر خاموش رہتے ہیں تاکہ خاندان، برادری یا دوستی متاثر نہ ہو۔

یہی خاموشی رفتہ رفتہ قوم کو کمزور کرتی ہے۔

تیسرا طبقہ: امیر اور عوام سے دور رہنے والا طبقہ
ہر قوم میں ایک ایسا طبقہ پیدا ہوجاتا ہے جو دولت، حیثیت اور طاقت حاصل کرنے کے بعد عوام سے دور ہوجاتا ہے۔ یہ لوگ قوم کے مسائل سے کٹ جاتے ہیں۔
سامری نے بھی قوم کی نفسیات کو سمجھ کر ان کے جذبات اور خواہشات سے فائدہ اٹھایا۔ اس نے سونے کے بچھڑے کے ذریعے ایک ایسا فتنہ کھڑا کیا جس میں لوگ ظاہری چمک دمک کے پیچھے چل پڑے۔
میو قوم میں بھی بعض اوقات ایسا طبقہ نظر آتا ہے جو:
صرف ذاتی مفادات کو اہمیت دیتا ہے
غریب طبقے سے فاصلے میں رہتا ہے
تعلیم اور شعور کو عام کرنے میں دلچسپی نہیں لیتا
نمائشی ترقی کو اصل ترقی سمجھتا ہے
قوم کے نوجوانوں کی فکری تربیت پر توجہ نہیں دیتا
یہ طبقہ بظاہر کامیاب ہوتا ہے، مگر جب قوم اجتماعی بحران کا شکار ہوتی ہے تو یہی طبقہ سب سے پہلے خود کو الگ کرلیتا ہے۔
میو قوم کی اجتماعی نفسیات میں عزت، اثر و رسوخ اور برادری کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ اس لیے بعض لوگ خدمت کے بجائے صرف سماجی برتری کو مقصد بنا لیتے ہیں۔

یہ کیفیت رفتہ رفتہ قوم کے اندر فاصلے پیدا کرتی ہے۔

سامری کی نفسیات اور جدید دور
سامری صرف ایک شخص نہیں بلکہ ایک سوچ کا نام ہے۔
وہ سوچ جو:
قوم کے جذبات سے کھیلتی ہے
ظاہری چمک سے متاثر کرتی ہے
وقتی نعروں سے لوگوں کو بہکاتی ہے
اصل مسائل سے توجہ ہٹاتی ہے
لوگوں کو علم کے بجائے ہجوم کی طرف لے جاتی ہے
آج بھی ہر قوم میں سامری موجود ہیں۔
کبھی وہ سوشل میڈیا کے ذریعے ظاہر ہوتے ہیں، کبھی جھوٹی قیادت کے روپ میں، کبھی قوم پرستی کے نام پر، اور کبھی مذہبی جذبات کو استعمال کرکے۔
میو قوم چونکہ جذباتی، غیرت مند اور تعلقات کو اہمیت دینے والی قوم ہے، اس لیے بعض اوقات لوگ شخصیت پرستی یا وقتی نعروں سے جلد متاثر ہوجاتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ اگر مضبوط علمی اور فکری قیادت نہ ہو تو قوم انتشار کا شکار ہوسکتی ہے۔

سامری کی سزا: “مجھے نہ چھوؤ”
جب حقیقت سامنے آگئی تو سامری کو سزا ملی کہ وہ لوگوں سے کٹ کر رہ جائے اور کہتا پھرے:
مجھے نہ چھوؤ۔”
یہ سزا صرف جسمانی تنہائی نہیں تھی بلکہ سماجی اور نفسیاتی تنہائی بھی تھی۔
جو شخص قوم کو تقسیم کرتا ہے، لوگوں کے جذبات سے کھیلتا ہے اور فساد پیدا کرتا ہے، آخرکار وہ خود تنہائی کا شکار ہوجاتا ہے۔
یہ ایک عظیم سبق ہے کہ:
وقتی شہرت ہمیشہ باقی نہیں رہتی
فتنہ پھیلانے والے آخرکار بے اعتبار ہوجاتے ہیں

قوم کو تقسیم کرنے والا خود بھی سکون نہیں پاتا

میو قوم کے لیے پیغام
سورۂ طہ کا یہ واقعہ میو قوم کے لیے کئی اہم اسباق رکھتا ہے:
1۔ مصلحین کو حکمت اور استقامت اختیار کرنی چاہیے
اصلاح کا راستہ آسان نہیں ہوتا۔ مخالفت، تنقید اور تنہائی آئے گی، مگر مصلحین کو صبر، علم اور حکمت کے ساتھ کام جاری رکھنا چاہیے۔
2۔ خاموش طبقے کو بیدار ہونا ہوگا
قوم صرف چند لوگوں سے نہیں بنتی۔ اگر اکثریت خاموش رہے گی تو گمراہ عناصر طاقتور ہوجائیں گے۔
3۔ امیر طبقے کو قوم سے جڑنا ہوگا
اصل عزت خدمت میں ہے۔ اگر صاحبِ حیثیت لوگ تعلیم، شعور، نوجوانوں کی تربیت اور اجتماعی ترقی میں حصہ لیں تو قوم مضبوط ہوسکتی ہے۔
4۔ نوجوانوں کو شعور دینا ضروری ہے
اگر نوجوان صرف جذبات، سوشل میڈیا یا وقتی نعروں کے پیچھے چلیں گے تو ہر دور کا سامری انہیں بہکا سکتا ہے۔
5۔ اتحاد اور علم دونوں ضروری ہیں

صرف جذبات کافی نہیں۔ علم، تنظیم، اخلاق اور فکری تربیت کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کرسکتی۔

نتیجہ
سورۂ طہ کا واقعہ ہر دور کی قوموں کے لیے آئینہ ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت ہارون علیہ السلام اور سامری کے کردار آج بھی مختلف شکلوں میں ہمارے معاشروں میں موجود ہیں۔
میو قوم ایک باصلاحیت، غیرت مند اور تاریخی شعور رکھنے والی قوم ہے، مگر اس کی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب:
مصلحین تنہا نہ رہیں
خاموش لوگ بیدار ہوں
امیر طبقہ قوم سے جڑے
نوجوان علم اور شعور اختیار کریں
اور قوم وقتی نعروں کے بجائے مستقل فکری بنیادوں پر آگے بڑھے
جب قوم علم، اتحاد اور اخلاص کو اپنا لے گی تو کوئی سامری اسے گمراہ نہیں کرسکے گا۔

Leave a Comment

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid, the visionary mind behind Tibb4all, revolutionizes education and daily life enhancement in Pakistan. His passion for knowledge and unwavering community dedication inspire all who seek progress and enlightenment.

More About Me

Newsletter

Top Selling Multipurpose WP Theme