نانی /دادی ماں کی بالکن کے مارے بات کہنو۔قسط دوم

0 comment 9 views

نانی /دادی ماں کی بالکن کے مارے بات کہنو۔قسط دوم
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو

Advertisements

ادب اور کہانی2
رہی ای بات کہ مئیو اور میواتی کی معاشرہ میں کوئی اہمیت نہ ہے ؟ عجیب بات ہے تم نے یابارہ میں سوچو ای کد ہے ؟اگر تم نے اپنا مئیو ہونا پے شر مند گی ہے تو چاہئے کہ خدا سو شکوہ کرو اور مان لئیو کہ اللہ کی تقسیم سو ۔زرا بھی راضی نہ ہاں ۔ہمارو باپ مئیو کے بجائے کوئی دوسری قوم کو ہونو چاہے ہو ؟۔لیکن خدا کی مرضی کے سامنے کس کی پیش جاوے ہے ؟اللہ تعالی کی قدرت ہے جو بات کل فخر شمار ہووے ہی آج عیب بن گئی ہے .ای بات میون کے ساتھ ہی نہ ہے بلکہ من حیث القوم ہر کوئی یا مصیبت میں پھسو ہوئیو ہے۔
دوسری بات ای ہے کہ پہنچان والان نے صحت مند ادب ہم تک نہ پہنچایئو جا کی کمی آج تک ہماری نسل محسوس کر ری ہے ۔سِیْہَا سِیْہَا کے ایسی بات بتائی جو کائی بھی لحاظ سو بتانا کے قابل نہ ہی یا انن نے جوانی پَر۔ کی وے کہانی سنائی جو انن نے نادانی میں کردی ہی ۔جو لوگ لوک داستانن پے اعتراض کرا ہاں اور جا عمر میں کرا ہاں انکی بھی یہی عمر ہی جا عمر میں تم اعتراض کرراہو۔البتہ ایک بات ضرور ہے اعتراض کرن والو کوئی ایسو کارنامہ کرکے لائے جو یا کام سو بڑھ چڑھ کے ہوئے۔یا کوئی ایسو معرکہ مارے کہ واکی قابلیت کھل کے سامنے آجائے تو ان کی بات پے کچھ دھیان دئیو جاسکے ہے۔


اعتراض برائے اعتراض فضول کام ہے ہے جن کے پئے کوئی کام نہ ہے وے اعتراض ضرور کرا ہاں زندگی میں بہت بار۔ ای تجربہ ہوئیو کہ غیر روزہ دار عید کا چاند زیادہ دیکھا ہاں ان کی کوشش رہوے کہ یوم شک میں کوئی نماز تراویح نہ پڑھ لئے۔ البتہ اعتراض برائے تعمیر ایک اچھو اور اصلاحی کام ہے لیکن ای بڑا جگر گردہ و کام ہے۔ خیر خواہی سامنے ہوئے تو اعتراض کی ضرورت ای محسوس نہ ہووے ہے ۔
؎سنگت بھیلی اصیل کی سخی مرد کو ساتھ۔۔
۔۔سیوا کرے سمند کی جاسو ہیرا لگے جائے ہاتھ
بڑا بوڑھان نے جیسا انداز میں یہ کہانی اور بات تخلیق کری ہاں اُو ایسو انداز ہے جا میں آن والی نسل کے مارے تجربات اور زندگی کو نچوڑ بھر دئیو ہے۔نائی میراثی جن جاتن نے چوپال /بیٹھک اور بنگلا میں بیٹھ کے کہوے ہا ان میں ایسی پر مغز اور کام کی بات بھی شامل رہوے ہی جن میں اپنی ثقافت/تہذیب/بڑا بوڑھان کی روایات اور معاشرتی آداب اور رہن سہن کو طریقہ۔بڑا چھوٹان کے مارے کان قاعدہ اور تفریح طبع کو وسیع سامان رہوے ہو۔ میو معاشرہ میںجو لوگ ان خدماتن نے سر انجام دیوے ہا انن کو ہر کوئی اپنی اپنی حیثیت کے مطابق انعام و اکرام سو نوازے ہو ۔یہی وجہ ہے آج ہماری ثقافت /اد ب /تہذ یب / او ر تاریخ محفوظ چلی آری ہے اور مختلف زما نان میںلوگ نے اپنی اپنی حیثیت کے مطابق جتنو ممکن ہوسکو قوم کے مارے قربانی دی اور اپنو ورثہ اورتاریخ محفوظ راکھی آج بھی اپنی قوم کے مارے بے لوث خدما ت سرانجام دے راہاں مثلاََمیواتی ادب کی مشہور صنف ’’بات‘‘ ہے میوات میں جو بات زیادہ مشہور عام و خاص لوگن میں سنی سنائی جاوے ہی انکی فہرست حاضر خد مت ہے ’’مہا بھارت، سعد اللہ میو۔عالمگیر کی بات۔پانچ پہاڑ کی بات۔رستم و سہراب کی بات ۔ راجہ بھوج کی بات۔دریاخان کا بیاہ۔جاہر کی بات ۔شمس الدین پٹھان کی بات۔گھر چڑی میوخاں کی بات۔ساہو سالار کی بات۔جگمال پنوار کی بات ۔ چندراول گوجری کی بات۔کولانی کی بات۔میراں حسین خنگ سوار کی بات ۔ بیر بکرما جیت کی بات۔جواہر سنگھ کی بات۔رائو مالہا اورسیمنٹ کی بات۔ راسینہ کی بات۔رائو بہادر کی بات۔چکمل کی بات۔مالاکارنبیر کی بات ۔کنھیاجی کی بات۔بین شہزادی کی بات۔حاجی کی بات۔شیر سنگھ راجپوت کی بات ۔ چوہدری یاسین کی بات۔۔۔۔۔
ہاں تو بات ہوری ہی بچان کی کہانی اور میوتی ادب کی اصل بات ای ہے کہ یا سلسلہ میں بہت کم کام کرو گیئو ہے اور یا بارہ میں سخت محنت کی ضرورت ہے جاسو ایک ایسو میعاری اور مضبوط قسم کو ادب سامنے آسکے جائے ہم اپنا بچان کو پڑھا سکاں اور انن کو بتاواں کہ ہمارا آبائواجداد زبان کا دھنی ہا۔انن نے ہر معاملہ میں طبع آزمائی کری ہی لیکن بعد والان نے جتنی محنت کرنی چاہے ہی اتنی نہ کری۔ ان پڑھ گنوارن کی بات الگ ہے پڑھا لکھان نے بھی نون تیل سو فرصت نہ ملی۔یا وجہ سو ہمارو قیمتی ورثہ ضائع ہوگیئو۔کچھ علم کا خزانہ چادر میں لپیٹ کے اپنا ہاتھن سو مٹی کے حوالے کردیا دانشاہ نے کتنی اچھی بات کہی ہے ؎
اوجڑ کھیڑہ پھر بساں بچھڑا آبی سُل جاں۔
مرا نہ مل ساں دانشاہ چاہوجگ کتنا ہوجاں(دانشاہ)
کچھ ناقدری کی وجہ سوکھوگیا۔ جو باقی بچا ہاں وے غربت اور بے چارگی کی حالت میں مارا مارا پھر را ہاں۔ای بھی بہت بڑی بات ہے کہ میون نے اب بھی ہوش آگیئو اور ہل جل شروع کردی۔ ہندستان میں ابھی تک ہمارا شجرہ محفوظ ہاں اللہ تعالی کو خصوصی فضل اور رحمت ہے جانے میو قوم آباد کری اور یا کی ایسی جڑ بٹھائی کہ بہت سا لوگ یا قوم اے ختم کرتا کرتا مرگیا لیکن میو نہ ختم ہویا۔ نہ ختم ہوسکے ہا۔ہرقوم کو اور ملک کو فطرت بڑھوتری کے مارے موقعہ دیوے ہے اور بارے(12) سال میں توکوڑھی کی بھی سُنی جاوے ہے ای تو پھر بھی ایک بڑی قوم ہی۔ اور آج بھی بہت بڑی تعداد میں موجود ہے۔اگر کائی کا دماغ میں ای فتور ہوئے کہ میو بغیر ترقی کرے ختم ہوجانگا توای واکی غلط فہمی ہے اور اُو قانون قدرت سو ناواقف ہے۔ہر قوم کی تاریخ میں عروج اور زوال کی داستان لکھی پڑی ہاں قوم تو آواں ای ترقی اور عروج کے مارے ہاں ۔اور قد ر ت ہر قوم کو میٹی (باری) دیوے ہے ۔ابھی تک ہماری باری نہ آئی ہے اور ای ناممکن ہے کہ اپنی میٹی لینا سو پہلے ای قوم ختم ہوجائے ۔

Leave a Comment

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid, the visionary mind behind Tibb4all, revolutionizes education and daily life enhancement in Pakistan. His passion for knowledge and unwavering community dedication inspire all who seek progress and enlightenment.

More About Me

Newsletter

Top Selling Multipurpose WP Theme