
میو قوم کو شخصیات نہیں۔ لائحہ عمل چاہئے۔
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
سعد ورچوئل سکلز پاکستان
کائی بھی قوم یا ملک کے مارے کامیابی کے مارے زندگی کا بارہ میں نظام درکار رہووے ہے۔ہر قوم و ملک کے مارے زمینی حقائق الگ الگ رہواہاں۔ایک کی ضروریات دوسری سو مختلف رہوا ہاں۔لیکن بنیادی ضروریات ہر قوم کے مارے برابر رہوا ہاں ۔جیسے خورد و نوش کی اشیاء کی بہم رسانی۔لباس ۔ذریعہ معاش۔انصاف کی فراہمی۔گھر بار کو تحفظ۔معاہدات کی پاسداری تعلیم و تعلم کو نظام درجہ بدرجہ ہر ایک کی اپنی اپنی اہمیت رہوے ہے۔ان سب کو مجموعہ ایک نطام کہلاوے ہے۔۔
یا نظام کا قیام کے مارے مختلف لوگ مختلف شعبہائے زندگی میں آگے بڑھاہاں۔اپنا متعلقہ شعبہ میں اپنی مہارات پیش کراں اور اپنی خدمات قوم کے سامنے پیش کراہاں۔لیکن جب کوئی نظام شخصیات کے بجائے۔قوانین اورانصاف کی بنیاد پے استوار ہوجاوے ہے تو۔شخصیات کی عدم

موجودگی میںبھی اُو نظام ایسے ہی کام کرے ہے جیسے ان کی موجود گی میں کرے ہے۔
قران کریم نے کئی جگہ لیڈر شپ یا رہبرو رہنما لوگن سو متعلق احکامات دیا ہاں۔کہ شخصیت پرستی اور ذاتیات نظام میں کردار تو ادا کرسکاہاں کیونکہ ہر شخصیت کی اپنی صلاحیت رہواہاں ۔لیکن نطام کے قیام کے بعد اگر وے منظر سو پوشیدہ ہوبھی جاواہاں تو نطام اپنو وجود برقرار رکھ سکے ہے۔
ایک غزوہ(احد۔سنہ 3ہجری) میں نبی ﷺ کا بارہ میں ایک خبر پھیل گئی کہ آپ شہید کردیا گیا ۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین ۔یا خبر کے مارے قطعی تیار نہ ہا۔تصدیقی ذرائع محدود ہا۔جنگی ماحول ہو۔ہر کائی کی جان گلا میں اٹکی پڑی ہی۔ نبی مکرم ﷺ یا قربانی کےمارے تیار ہا۔

لیکن ماتحت ایسا کائی حادثہ کے ماارے تیار نہ ہا۔جبکہ پیغام اور مشن سب تک پہنچ چکو ہو۔
صحابہ کرام کو تربیت دی جاری ہے جا نطام کے مارے تم جمع ہویا اور خطرہ مول لئیو ہے۔اُو نظام موجود ہے۔دستور دنیا کے مطابق ہر کائی کے مارے فیصلہ ایک جیسا طے کراہاں ۔۔جاکو زندگی ہے واکو موت بھی ہے۔شخصئات کی اہمیت اپنی جگہ لیکن معاشرہ کی ضرورت نظام ہے۔اگر کائی حادثہ میں لیڈر شپ سو ہاتھ دھونا پڑاں تو کہا نظام اے لپیٹ کے دھرئیوگا؟
ہرگز ایسو مت کردئیو۔یا آیت کا ترجمہ اے پڑھ کے دیکھو۔
(حضرت)محمد (ﷺ) ایک رسول ہاں۔پہلے بھی بہت سا رسول ہوگزراہاں۔اگر رسول جان سو ماردئیوجائے۔یا اپنی موت مرجائے تو کہا تم ایڈین کے بل پیچھے ہٹ جائوگا۔؟
یعنی جانطام کا قیام کے مارے وے آیا مکمل ہوئیو تو اب نظام کی بات ہوئے گی۔
صحابہ کرام کی تربیت یا انداز کی ہوئی ہی کہ وہ نظام کا رکھوالا بنا۔جب آپ یا دنیا سو پردہ فرماگیا تو ۔بہت بڑو حادثہ ہو۔تو سیدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہ نے یہی آیت لوگن کو سنائی۔
میو قوم کو بھی ایک نظام کی ضرورت ہے۔شخصیات کی اہمیت اپنی جگہ لیکن نظام کا مقابلہ میں شخصی نظام ناپائیدار رہوے ہے۔
ای نظام اُو ہو جامیں ایک بڑھیا حجرت عمر رضی اللہ عنہ سو مسجد کا صحن مین ایک چار کا ٹکڑا کا بارہ میں سوال کرن کی ہمت کرسکی۔حضرت علی رضی اللہ عنہ خلیفہ وقت ہونا کے باوجود ،ایک غیر مسلم کے خلاف مقدمہ مین صفائی۔گواہی کے مارے کٹہرا میں کھڑوہونو پڑو۔
جن معاشران میں حکومت یا کاروبار ۔یا اداران میںنظام کے بجائے شخصیات کی اہمیت بنائی جاوے ہے ان کی موت طے رہوے ہے کہ جادن شخصیات ختم ۔وائی دن ان کو قائم کردہ نظام بھی ختم۔لیکن جہاںم کا ادارہ بنا ہاں ہوں ۔اچھی بُری شخصیات آواہاں اپنو کردار ادا کراہاں۔اور آن والی نسل کے مارے جگہ خالی ہوتی جاواہاں ۔
نکمی اور حاسد قسم کی لیڈر شپ جتنو نقصان کائی قوم یا نظام کو پہنچاواہاں اتنو دشمن یا عام آدمی سوچ بھی نہ سکے ہے۔
جب نظام قائم ہوواہاں تو انسانی صلاحیت اور قابلیت ابھر کے سامنے آواہاں۔
معاشرہ میں ہر چھوٹو بڑو اپنی حیثیت کے مطابق زندگی گزار سکے ہے۔واکی محنت اے کوئی نہ مار سکے ہے۔خدمت کو برابر معاوضہ ملے ۔ہر کوئی قانون یا نظام کو پابند رہوے ہے۔عہدہ انطامی لحاظ سے الگ الگ ہوسکاہاں ۔یاچھوٹا بڑا سمجھا جاسکاہاں ۔لیکن جب حقوق کی بات آئے گی تو سبن کے مارے ایک ہی پیمانہ ہوئے گو۔
بہت بار میو ون نے اکھٹا کرن کی خواہش دلن میں پیدا ہووے ہے۔۔بے شمار لوگن کی خواہش بھی ہے۔لیکن قدرت خواہشات کی بنیاد پے کدی بھی فیصلہ نہ کرے ہے۔قدرت کا کارخانہ سو وہی مستفید ہوسکے ہے۔جو یاکا قوانین کے مطابق چلے ہے۔
اگر تم نے میو قوم جمع کرنی ہے تو کوئی ایسو خاکہ پیش کرنو پڑے گو۔جاپے سبن کو اتفاق نہ سہی تو کم از کم زیادہ تر لوگن نے قابل قبول ہوئے۔جب ایسو نظام کو مسودہ سامنے لائیو جائے گو تو قوم امکان ہے کہ قوم مقناطیس کا ٹکراں کی طرح خود بخود جمع ہوجائے گی۔
اگر کائی میو کے پیئے کوئی ایسو پیر ورق موجود ہے تو سوشل میڈیا حاضر ہے پوسٹ کردئے۔امید ہے سب نہ تو کم از کم اتنا لوگ ضرور جمع ہوجانگا۔کہ آگے بڑھ سکاں ۔
