عید کی چھٹی گائوں کی سیر کچھ باتیں کچھ یادیں۔

0 comment 12 views
عید کی چھٹی گائوں کی سیر کچھ باتیں کچھ یادیں۔
عید کی چھٹی گائوں کی سیر کچھ باتیں کچھ یادیں۔

عید کی چھٹی گائوں کی سیر کچھ باتیں کچھ یادیں۔
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
عید تو ہم نے شہر میں کری شہر میں مختصر سی زندگی ہے۔یاجگہ زندگی کی ہر سہولت مفت یا مول مل سکے ہے۔زندگی کی تقریبا ساری ضروریات پوری ہوسکاہاں۔لیکن گائوں کا لوگن کی اپنائیت، ان کی سادہ زندگی، ان کو رکھ رکھائو۔بے تکلفی۔ان کو برتائو۔ان کو خلوص ۔ ان کی سادگی انمول

Advertisements

ہاں۔
شہر میں زندگی کو بہت بڑو حصہ گزرو ہے۔ہیں کا لوگ ملا بھی ہاں۔معاملات بھی کراہاں ۔ لیکن انسانیت یا تعلق کی بنیاد پے کم اور ذاتی مفادات کی اہمیت زیادہ سمجھاہاں۔
عید کےدوسرے دن کھارا کھوہ بھسین باٹا پور لاہورگیو۔عید کے تیسرے دن بڑا بھائی کی دو بچین کی شادی ہی۔شرکت ضروری ہی۔ عجیب بات ہے زیادہ دیر نہ ہوئی کہ ہم لوگ شادی میں خوشی و رغبت سو شریک ہووے ہا۔عید شبرات۔بیاہ براتن کو اپنو ای مزہ رہوے ہو۔ ان تہوارن کی باٹ رہوے ہی۔لیکن آج زندگی نے سر پے اتنا بوجھ لادھراہاں،کہ بیاہ شادی، خوشی یا کھیل کود کے بجائے ایک ذمہ داری آن پڑی ہے۔ اور بچان کا سرپرست بن گیا۔ای سفر اتنی جلدی طے ہوئیو کہ پتو بھی نہ چلو۔


عید کے دوسرے دن صوفی عرفان انجم کو واٹس ایپ پے پیغام ملو کہ کل ناشتہ میرے پئے کرنو ہے ۔اسلام آباد سو ایک وکیل صاحب آرو ہے۔واسو ملاقات ہے۔بیاہ والا گھر سو جاکے دوسری جگہ ناشتہ کرنو بات تو عجیب ہے لیکن ایسو ای ہوئیو/دھیرئیں ساہنکے گائوں جاپہنچو۔بھسین ۔سہانکے۔بھانو چک۔قلعہ جیون سنگھ۔منہالہ۔نتھوکی،جلو موڑ سرحدی گانوون میں تعلق دارن کو وسیع سلسلہ موجود ہے۔ان میں سنگی ساتھی اور مرید سب ہی قسم کا لوگ ہاں۔۔آٹھ بج کے تیس منٹ کو وقت

ہو، میں آٹھ بج کے اٹھارہ منٹ پے جاپہنچو۔۔
صوفی صاحب نے من پسند بہترین ناشتہ کرائیو۔کچھ دیر میں مولوی طاہر نقشبندی بھی پہنچ گئیو۔پھر مہمانن سو میل ملاقات کو سلسلہ شروع ہوئیو ۔بہت خوشگوار ماحول میں بات چیت شروع ہوئی۔ ایسو لگے ہو کہ ای پہلی ملاقات نہ ہے بلکہ بہت پرانو تعلق ہے۔
تعارف ہوئیو ۔اور چند منٹ کی ملاقات پھیلتی چلی گئی۔دو گھنٹان کو پتو بھی نہ چلو۔
مولانا وجیہ اللہ پیشہ کا لحاظ سو وکیل ہے ۔عالم دین، حافظ، قاری۔اور فیڈرل کورٹ کو وکیل ہے ۔قاعدہ درس نظامی سو فارغ التحصیل ہے۔
امام وخطیب کا فرائض سر انجام دے رو ہے
مسجد سیدنا محمد ﷺ سیکٹر جی7/4 میںفرائض سرانجام دے رو ہے۔
وکالت میں ان کو شعبہ انسداد دہشت گردی میں خصوصی مہارت ہے۔
لال مسجد کو کیس۔ جنرل پرویز مشرف پے ایف آئی آر۔
جیسا مشہور زمانہ مقدمات مین ان کی خدمات تاریخی حیثیت راکھا ہاں۔
یعنی وے کیس جن کو نام سُن کے وکیلن کی حالت خراب ہوجاوے ہے۔مولانا وجیہ اللہ صاحب کے مارے روز مرہ کی چیز ہاں ۔۔
ان سو میری دلچسپی کو سبب۔ایک تو میو قوم سو تعلق ہے۔
کہ وکیل صاحب میو ہے۔
دوسرو ایک بھی مولوی ہے۔
تیسری بات بات سُنے اور سمجھے اور دلیل سو بات کرے ہے۔
جامیں یہ تینوں بات ہوواںواسو بات چیت کرن کو اپنو ای مزہ ہے۔
عمومی طورپے جب کوئی کائی عہدہ پے پہنچے یا پڑھ لکھ کے کچھ بن جاوے ہے اُو صرف سُناوے ہے ۔سُنے کم ہے۔واکے نزدیک واسو بڑھ کے کوئی عقلمند نہ ہے ،کہ واسو گھنی کائی کے پئے معلومات ہاں۔
لیکن یا میں سنانا کے ساتھ سُنن کی بھی کمال درجہ کی صلاحیت ہی۔
اسلام آباد میں میوون کو ایک ہجوم موجود ہے۔لیکن ان کو کائی میو سو رابطہ نہ ہے۔
نہ ای میو اتی بولے ہے اردو بولے ہے۔
یا کو کہنو ہے ہمارو دادا۔۔میو ہو میو بولے ہو۔گھر میں سب میواتی میں بات چیت کرے ہا ۔ پھر ہمارا باپ کا دور مین میواتی میں باپ تو بات کرے ہو۔
لیکن باقی سب اردو بولے ہا۔
میری باری آئی تو میں میواتی سمجھ سکوں ہوں ۔ بول نہ سکوں ۔
والا بالک ساتھ ہا ۔وے میواتی بول سکاہاں ۔نہ سمجھ سکاہاں ۔
مولانا وجیہ اللہ ایڈو کیٹ ایک مثال ہی ۔ایسے نہ جانے کتنا میو ہاں۔
جب صوفی صاحب نے کتابن کا حوالہ سو بات چیت شروع کری کہ ۔استاد جی(راقم الحروف)کی کتاب “میو قوم کو شاندار ماضی اور جنگ آزادی 1857۔”دوچار دن میں چھپ جائے گی ۔۔آج دھئیرئیں/آج دھیرئیں ہوری ہے۔
وکیل صاحب نے ادبی موضوع پے بات چیت شروع کردی۔
دلچسپی اور انہماک سو گفتگو شروع ہوئی۔تاریخ ادب ثفاقت۔متفرق موضوعات زیر بحث رہا ۔
جب بات چیت مُکن پے آئی تو کہن لگو میں واپس جاکے اپنا وزیٹنگ کارڈ پے ضرور میو لکھوائونگو۔
موئے کہا پتو ہو میواتی بولی اور میو قوم کی اتنی گھنی فضیلت ہے(ایک قہقہ لگو سارا حاضرین محظوظ ہویا)
موئے بھی شادی میں پہنچنو ہو۔مولانا اے بھی بارڈر دیکھنو ہو۔
صوفی عرفان صاحب نے اپنو اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے۔ان کی سیر و تفریح اور باڈر دکھائی کی بہتر سہولت مہیا کری ۔
مولانا فیملی کے ساتھ آئیو ۔ہم نے ان سو اجازت لی اور الوداعی سلام کرکے گھر کی راہ لی۔

Leave a Comment

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid, the visionary mind behind Tibb4all, revolutionizes education and daily life enhancement in Pakistan. His passion for knowledge and unwavering community dedication inspire all who seek progress and enlightenment.

More About Me

Newsletter

Top Selling Multipurpose WP Theme