
۔”تاریخ راجستان”۔
۔”حالات ما رواڑ”۔
جلد اول
۔”کپتان جیمیس ٹاڈا”۔؎
سعد ورچوئل سکلز پاکستان۔سعد طبیہ کالج
دیباچہ
ولایت یورپ کو توقع روی تی که تواریخ ہند پر از واردات ہوگی لیکن گی امید و انکی تواریخ و یک مبدل به اوری ہوئی جس زمانہ مین کے سرولیم جونس نے اولا اول تحقیقات زبان شاستری کی کرنی شروع کی تھی اور اسکے مطالعات بین و سرگرم و مصروف ہوا تھا ولایت ورپ کو توقع تو تھی کہ کتب تواریخ و ان سے بہت سی عامل ہوگی ور علم تواریخ اسی وجہ سے دنیا مین بہت زیادہ ہو جا دیا لیکن میدانی اسی وقت برندائی اور ب موافق قاعده ستمر و جوش انکا جاتا رہا اور اس طرف سے آنکولے پر وائی و نفرت ہوگئی۔ اکثر اشخاص اسبات کو نزار علوم متانت سمجھے ہن کہ ہندوستان مین کوئی قومی تواریخ موجود نہیں۔ لیکن ہم اس کے خلاف بیان آن فرانسی و نکا پیش کرتے ہی جو علم فارسی سے ماہر تھے وہ کہتے ہو کہ گرہن کی کئی تاریخ موجود ہیں اور اس نے حال زنان قدیم ہند کا کہا سے نقل کیا اور کیونکر کھا مسٹر اس کاترجمه را ترکنی اتاری ایرانی استهبال فرنگ کا ہے کہ ہند میں کوئی تواریخ قومی موجود نہیں اس کتاب سے صاف واضح ہوتا ہے کہ ہندوستانی علم تواریخ سے بے بری تھے۔ وہ بھی تواریخ اپنے ملک کی مسلسل رکھتے تھے۔ اُس سے بوجوہات معقول بھی قیاس میں آسکتا ہے کہ بائت سابق مین بہ نسبت زمانہ حال کے توان چنین زیادہ موجی رنگی اور ار زیاد و رسمی وکوشش عمل میں آکے بانی ایران وم این شاید کل اوین، اگرچه تا سر کا لبروک و دکترو ولسن دیگر ال فرنگ سے جنکی ریس کے فضل سے فرانس
مسرائیل ریبوست اپنی تصنیفات میں اس مضمون پر بڑے زور شور سے کھتا ہے اور بیافتہ سروری ساکنین انگلستان پر ت زنی کرتا ہے اور لنت خامت مضمون کتاب را کل ایشی ایک سوسائتی خصوصا وہ جزا کا جسمی که ترجمه مضامین مالک شرقی درج ہے اگر اس لغت ملات سے بری کرتا ہے ۔
دیکھو ایشی ایک رس چند جلد 10
ٖائون لوڈ کے لئے اس لنک کو کلک کریں
