“رجنی” میگزین — ستمبر 2026 کا شمارہ: ایک تجزیاتی نظر

0 comment 3 views

رجنی” میگزین — ستمبر 2026 کا شمارہ: ایک تجزیاتی نظر

Advertisements

میں محترمہ  کشور قیس صاحبہ کا مشکور ہوں کہ انہوں نے  ماہانہ رسالہ”رجنی” مجھے ارسال فرمایا۔

کثرت مشغولیت کی وجہ سے کسی بھی ماہنامہ میگزین ۔اخبار۔یا تبصروں کو پرھنا ممکن نہیں رہتا۔لیکن میواتی سے مجھے وارفتگی کی حد تک لگائو ہے۔جب میواتی میں لکھی ہوئی کسی چیز کو دیکھتا ہوں تو سارے قواعد و ضوابط بھول جاتا ہوں ۔

(حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو۔۔۔سعد ورچوئل سکلز پاکستان۔سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبوی۔)

جس طرح ایک طبیب مریض کا معائنہ کرتے ہوئے محض علامات پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ اس کے پسِ منظر، مزاج اور بنیادی ساخت کو بھی پرکھتا ہے، اسی طرح “رجنی” کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ ضروری ہے کہ اسے محض ایک رسالے کے طور پر نہیں بلکہ ایک زندہ ثقافتی وجود کے طور پر دیکھا جائے، جس کی نبض میواتی برادری کی روایات، عقیدت اور وطن سے وابستگی میں دھڑکتی ہے۔

ساخت اور مزاج
رسالے کی بنیادی طبیعت میں تین عناصر کا امتزاج نمایاں ہے: ثقافتی تشخص، مذہبی روحانیت، اور وطن پرستی۔ جس طرح حکمت کے اصول میں اعتدال اور توازن (اعتدالِ مزاج) صحت کی ضمانت ہے، اسی طرح اس رسالے کی تدوین میں بھی ایک محتاط توازن نظر آتا ہے — نہ مذہبی مواد اتنا غالب ہے کہ ادبی و ثقافتی رنگ دب جائے، نہ تاریخی و وطنی جذبات اتنے حاوی ہیں کہ گھریلو اور عملی مشوروں کی گنجائش ختم ہو جائے۔

قیادت اور مخاطَب
ادارتی سطح پر یہ رسالہ مکمل طور پر خواتین کی نگرانی میں ہے — سرپرستی سے مدیریت تک۔ یہ محض اتفاق نہیں بلکہ ایک شعوری انتخاب معلوم ہوتا ہے، جس کا مقصد میواتی خواتین کو اپنی آواز، تخلیقی صلاحیت اور تجربات بیان کرنے کا محفوظ پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صحت، خودنوشت، دستر خوان اور نصیحت آموز کالموں میں ایک مانوس، گھریلو لہجہ اپنایا گیا ہے، گویا کوئی مجرب طبیبہ اپنے مریضوں سے ہمدردانہ گفتگو کر رہی ہو۔

مواد کی تشخیص

  • تاریخی و نسبی مواد: میو قوم کی ابتدا اور میواتی زیورات پر تحقیقی تحریریں ایک محقق کی سی احتیاط کے ساتھ روایات کو دستاویزی شکل دینے کی کوشش ہیں — گویا ایک نسخۂ شفا جو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کیا جا رہا ہو۔
  • وطنی و تاریخی بیانیہ: یومِ دفاع اور 1965ء کی جنگ پر مبنی دادا پوتے کا مکالمہ، بطور تدریسی حکمتِ عملی، انتہائی مؤثر ہے — تاریخ کو خشک بیانیے کے بجائے قصے کی صورت میں پیش کرنا، جیسے کڑوی دوا کو شہد میں لپیٹ کر دیا جائے۔
  • صحتِ عامہ: ڈاکٹر زہرا ابرار کا مضمون بجا طور پر خود علاجی کے خطرات سے خبردار کرتا ہے — یہ بات ایک طبیب کی حیثیت سے پوری طرح واضح ہوتی ہے کہ عوام میں اینٹی بایوٹکس کے بے جا استعمال کا رجحان واقعی تشویشناک ہے اور اس پر شعوری آگاہی کی اشد ضرورت ہے۔
  • ادبی و تخلیقی حصہ: افسانے، خودنوشت اور شاعری رسالے کو محض معلوماتی دستاویز نہیں بلکہ ایک زندہ، محسوس ہونے والا متن بناتے ہیں۔

Leave a Comment

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid, the visionary mind behind Tibb4all, revolutionizes education and daily life enhancement in Pakistan. His passion for knowledge and unwavering community dedication inspire all who seek progress and enlightenment.

More About Me

Newsletter

Top Selling Multipurpose WP Theme