
تنقید سب کا حق تو لکھنا بھی سب کا حق ہے۔
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
عجیب روش چل نکلی ہے کہ خود کچھ کرنا نہیں، دوسرے کچھ کام کریں تو ان کی تانگ کھنچائی کرنا اپنا بنیادی حق سمجھتے ہیں۔
میں جس قوم سے تعلق رکھتا ہوں ۔سیدھے طریقے سے کام کرنا ۔یا بروقت بات کرنا ان کی شان کے خلاف ہے۔
بچہ یا بچی کی بروقت شادی نہ کرنا نظر انداز کئے رکھنا۔اپنے حق سمجھتے ہیں جب وہی لڑکا یا لڑکی اپنی مرضی کرلیں تو اسے ناک کٹنا سمجھتے ہیں۔
اگر مشترکہ کاموں میں تعاون کی اپیل کرے تو اس کے باپ دادا کے گناہ و ثواب کا حساب و کتاب رکھنا اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔
اس وقت انجمن اتحاد ترقی میوات کے الیکشن الیکشن کا شور برپاء ہے۔
بدقسمتی ہے کہ قوم کے بزعم خویش بڑوں نے اس بات کو میڈیا کے حوالے کردیا ہے۔
جب ایک دوسرے کی کمزوریاں اچھالی جائیں ۔ایک دوسرے کی خطائوں پر میڈیا پوسٹیں ہوں۔ویلاگ کئے جائیں۔
جنہیں نوجوان نسل اپنا لیڈر سمجھتی ہے وہ بچگانہ حرکات پے اُتر آئیں۔
۔اس کے بعد جب میو قوم کی نئی نسل سولات کی بوجھاڑ کردے ۔اپنی پسند و ناپسند کے پارہ میں لکھنے لگے۔اس پر غصہ کرنا ۔ناراضگی کا اظہار کرنا مناسب نہیں ۔
کئی سال پہلے کی بات ہے۔
سعد ورچوئل سکلز پاکستان کے پلیٹ فارم سے ایک مہم شروع کی گئی تھی حتی وسع ایسا نظام /ڈیٹا بیس تیار کیا جائے کہ معلوم ہو سکے کہ میو قوم کی آبا دی کتنی ہے؟
۔ہم نےمیو قوم کے حضرات سے رابطہ کیا گیا۔ تو عجیب و غریب جوابات ملے۔
وٹس ایپ گروپوس میں میسجز کئے گئے۔اس سوفٹ وئیر پر خرچہ اپنی جیب سے کیا ۔کسی آنہ ٹکا کے روا دار نہ تھے۔
جب تعاون نہ ملا تو پروجیکٹ بند کرنا پڑا۔مقصد یہ تھا کہ میو قوم کی پاکستان میں آبادی کا پتہ چل سکے۔
فلاح و بہبود۔سیاسی مقاصد۔آبادی کا تناسب پتہ چلے
تاکہ الیکشن مین معلوم ہوسکے کہ کس حلقے میں کتنے ووٹ ہیں ۔
سچی بات یہ ہے کہ ہمیں اس پروجیکٹ میں سخت ناکامی اور دل آزاری کا سامنا کرنا پڑا۔
انجمن اتحاد ترقی میوات کے بارہ میں۔درست معلومات حاصل کرنے کے لئے۔متعلقہ لوگوں سے رابطہ کیا گیا
کہ اتنا بڑا پروجیکٹ ہے جسے میو قوم کی بقا سمجھا جارہا ہے۔
کسی نے کوئی ڈھنگ کا جواب نہ دیا۔
تاریخ مرتب کرنے کی کوشش تو کسی کے پاس وقت ہی نہ تھا۔
۔ایک دوسرا پہلو بھی سامنے آیا کہ ۔جس سے بات کی گئی ایسا لگتا تھا وہی مرکزی کردار ہے اگر موصوف نہ ہوتے ۔
انجمن اتحاد ترقی میوات کیا پوری قوم ہی غارت ہوچکی ہوتی؟۔۔
جن لوگوں سے بھی ملا، ان میں ہر ایک ہیرو تھا۔ جس کا نعم البدل میو قوم میں ملنا تو درکنار ایسا لگا کہ قدرت نے ان جیسا کسی بنایا ہی نہیں۔
اس وقت الیکشن کے حوالے سے میڈیا بھرا پڑا ہے۔
وہ دھڑے بندیاں جنہوں قوم کے چالیس پچاس سال برباد کردئے ۔ان کی خواہش ہے کہ وہ اس اندھیر نگری کو جوں کا توں ہی چلائیں۔۔
اس وقت دو تین ماہ میں عبوری کابینہ نے جو بیداری اور ممبر سازی کی قیام پاکستان سے لیکر آج تک اس کی مثال نہیں ملتی۔
لیکن اس میں کیڑے دکھائی دینے لگے۔
جس قوم کے نام پر یہ کھیل کھیلا جارہا ہے۔ان کی ڈاکومنٹری دستاویزات جوکہ قوم کا حق ہے انہیں سامنے لایا جائے۔
چند ایک ہم نے اپنےکالموں میں بھی نقل کئے تو ایک شور برپا ء ہوا کہ یہ قومی راز ہیں انہیں شائع کرنا مناسب نہیں۔
جسے لگتا ہے کہ اس کی سی بات کی گئی ہے وہ خوش ہوتا ہے ۔
جب دیکھتا ہے کہ اس کی کواہش کے مطابق نہیں تو دشنام دہی شروع کردی۔
۔اس ماہ جتنے لوگوں کے فون آئے۔گلی سڑی سننے کو ملین۔جو طعن و تشیع برداشت کرنی پڑی
اس سے ایک بات تو معلوم ہوئی کہ ۔میری تحریریں میو قوم تک پہنچ رہی ہیں ۔اور پڑھےی جاتی ہیں۔اتنا سوچنا تھا کہ میری تھکاوٹ دور ہوگئی۔
اپنی قوم کے زعماء سے چند ایک سوالات ہیں۔
۔۔جن چیزوں کو تم لوگ قومی راز کہہ رہے ۔بتاسکتے ہیں کہ ان سے قوم کو کتنا فائدہ پہنچا۔؟۔۔
۔ان کے افشاں ہونے سے قوم کو کس قسم کا نقصان ہوگا؟
۔۔اگر جزبز کرنے والے لوگ گگنا نہائے ہوئے تو انہیں خوش ہونا چاہئے کہ ان کی کاوشوں اور محنت کو قوم کے سامنے لایا جارہا ہے۔
ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا جارہا ہے۔ہر کسی کی خواہش نہیں ہوتی کہ اس کے بھلے کاموں کی تحسین کی جائے؟
۔۔اگر آپ لوگوں نے خدمت ہی کرنی ہے تو ادارہ موجود ۔زمین موجود۔کس نے روکا ہے خدمت کرنے سے۔
بات خدمت کی نہیں عادت سے مجبوری کی ہے۔
۔۔کیا آپ لوگ داغدار ہیں؟ کہ میو قوم ان کارناموں سے آگاہ نہ ہوسکے جو چالیس سالوں میں قوم کو پیچھے دھکیلنے میں طاقت صرف کی۔
۔۔جولوگ اجتماعی نظام کے قیام سے خوف ذدہ ہیں۔امید ہے قوم کو ان اسباب سے آگاہ فرمائیں گے ۔
کونسے خدشات ہیں اگر وہ درمیان سے نکلے تو قوم آفات کا شکا ر ہوجائے گی؟
۔۔کونسے شہر آفات کارنامے ہیں جن سے قوم اس وقت فیض یاب ہورہی ہے؟
۔۔۔
میں اپنی قوم کے معلومات رکھنے والوں کے سامنے بلاجھجک کہہ سکتا ہوں کہ میری تحریریں بے لوث خدمت کے جذبہ کے تحت لکھی جاتی ہیں۔
کسی گروہ یا دھڑے سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے۔
اگر میں کسی سے ملتا ہوں۔میرا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا کسی دوسرے میو کا ہوسکتا ہے۔
جو لوگ قوم میں یہ افواہ پھیلاتے ہیں اس نے خرید۔ اس نے بیچ دیا۔
بحمد اللہ آج تک ایسی بات نہیں ہوئی کہ کسی نے پیسے دئے اس کے حق میں، اس کے مخالف کے خلاف کچھ لکھا ہو
میں آزاد، میرا قلم آزاد۔مجھے نہ کسی سے لالچ ہے ۔نہ کسی قسم کا خوف۔جو بہتر سمجھتا ہوں لکھ دیتا ہوں ۔
رائے قائم کرنے والے جو چاہے رائے قائم کریں ۔اس سے فرق نہیں پڑتا۔
خود اپنی رائے کسی پر مسلط کرتا ہوں ۔نہ کسی کا دبائو برداشت کرتا ہوں۔
رہی بات لوگوں کی مجھے اس کی پروا نہیں کہ لوگ کیا سوچتے ہیں۔
البتہ کسی شخصیت /یا کسی خاص نوعیت سے متعلق کچھ خطاء ہوئی تو معذرت کرنے میں بھی عار نہیں سمجھتا ۔
جب لوگ اچھے مشورے دیتے ہیں تو اپنی سعادت سمجھتا ہوں۔
میں جو لکھتا ہوں اپنی معلومات کے بنیاد پر لکھتا ہوں ۔
اگر کوئی سمجھتا ہے کہ غلط لکھا ہے۔وہ ٹھیک /درست معلومات دے ۔رجوع کرنے سے کسر شان نہیں ہوتی
کسی ذات یا کسی ادارے سے کوئی لینا دینا نہیں۔
لیکن ایک میو قوم کے فرد ہونے کی حیثیت سے جتنا حق کسی دوسرے کا بنتا ہے ۔
میں بھی برابر کا حقدار ہوں۔یہ حق مجھ سے کوئی نہیں چھین سکتا۔
مجھے کئی لوگوں نے قانونی نوٹس۔عدالتی چارہ جوئی پر بھی انتباہ کیا۔۔
یاد رکھئے !
میں جو لکھتا ہوں اس کی ذمہ داری بھی لیتا ہوں۔
