انجمن اتحاد و ترقی میوات پاکستان کے حالات و واقعات کا مختصر جائزہ

0 comment 10 views
انجمن اتحاد و ترقی میوات پاکستان کے حالات و واقعات کا مختصر جائزہ
انجمن اتحاد و ترقی میوات پاکستان کے حالات و واقعات کا مختصر جائزہ

سال 2014 سے 2019 تک

Advertisements

انجمن اتحاد و ترقی میوات پاکستان کے حالات و واقعات کا مختصر جائزہ

موجوده (گزشتہ)انتظامیہ انجمن اتحاد وترقی میوات پاکستان کا الیکشن ڈے کا یادگار گروپ فوٹو

انجمن کے پلیٹ فارم سے کئے گئے مختلف پروگرام و تقریبات

2014 سے لیکر 2019 تک

انجمن کے پلیٹ فارم سے کئے گئے کاموں کی تفصیلاتِ درج ذیل ہیں:

انجمن کے عہدیداران کی حلف وفاداری مئی 2015 09 – 10

  1. انجمن کی مرکزی مجلس عاملہ کی حلف وفاداری ستمبر 2014 11 – 12
  2. موضع چوہنگ کے ایک کنال کے پلاٹ پر برداری کے نام کھلا خط اور تفصیلات 13 – 15
  3. بدوکی کی 50 کنال زمین پر سب یونیورسٹی اور دفاتر کے منصوبے کی تفصیلات 16 – 19
  4. دسمبر 2017 میں انجمن کی 50 سالہ تقریبات کی شاندار تقریب 20 – 22
  5. انجمن کے پلیٹ فارم سے کئے گئے مختلف پروگرام و تقریبات 23 – 26
  6. مختلف میو تنظیموں سے ملکر کئے گئے پروگرام 27 – 29
  7. میواتی کلچرل ڈے کے حوالے سے 2019 کا یاد گار پروگرام 30 – 31
  8. مختلف میواتی گلوکاروں ،نعت خواں ہوں،نغمہ نگاروں،اخبارات کی حوصلہ افزائی و مالی انعامات 32 – 34
  9. مصالحتی کمیٹی برائے بدوکی کالج/انجمن کی تازہ رپورٹ 35 – 36
  10.  سن 2014: ایک نئے دور کا آغاز

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

طویل تعطل کے بعد ایک جنش کار

سن 2014: 17 سال کے ایک طویل عرصے کے بعد سن 2014 کے شروع میں انجمن کے الیکشن کروانے کا پروگرام ترتیب دیا گیا۔

 سن 2014 کی پہلی سہ ماہی میں انجمن کی بھرپور ممبر شپ کی گئی جس میں موجودہ عہدیداران نے بھی بھرپور کردار ادا کیا۔

06 اپریل 2014 کو موجودہ عہدیداران بذریعہ انتخاب منتخب ہوئے اور انہوں نے اپنا حلف آئین کے مطابق الحمرا ہال قذافی سٹیڈیم بدست مرحوم سردار طفیل احمد خاں سابقہ MNA اٹھایا۔ حلف برداری کی تقریب میں میواتی برادری کے کثیر تعداد نے شرکت کی۔ اس تقریب میں موجودہ صدر شہزاد جواہر نے انجمن کو درپیش مسائل سے حاضرین کو آگاہ کیا اور انجمن کے درپیش مسائل کے بردباری سے حل کرنے کا وعدہ کیا۔

06 ستمبر 2014 کو انجمن کی 25 رکنی مجلس انتظامیہ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس کے ساتھ ہی سابقہ انتظامیہ نے انجمن کا چارج نئے عہدیداران کے حوالے کیا لیکن انجمن کے اثاثہ جات کے اصل کاغذات اپنے پاس ہی رکھ لیے۔ اس کے بعد انجمن کی مرکزی مجلس انتظامیہ کے چند لوگوں کے ایماء پر انجمن کے خلاف منفی پروپیگنڈہ بھی شروع کر دیا گیا۔

اکتوبر 2014 میں انجمن کے صدر کے ساتھ DHA انتظامیہ نے ایک کنال پلاٹ واقع موضع چوہنگ لاہور کا معاملہ اٹھایا۔ DHA انتظامیہ نے پلاٹ بابت موضع چوہنگ کاغذات کی ایک لمبی فہرست صدر کے حوالے کی جس میں اصل رجسٹری، تازہ فرد ملکیت، نشاندہی وغیرہ شامل تھیں۔ اس پلاٹ کے بارے میں صدر نے برادری کے نام ایک کھلا خط لکھا جو کہ ساری صورتحال واضح کرتا ہے (تفصیل آگے ملاحظہ کریں)۔

2014 کی آخری سہ ماہی میں انجمن کے صدر شہزاد جواہر نے انجمن کی 50 کنال زمین بدوکی کے اوپر ایک شاندار تعلیمی ادارہ بنانے کیلئے مشورے شروع کر دیئے۔ بدوکی کی زمین پر کالج/یونیورسٹی بنانے کیلئے مندرجہ ذیل آپشنز پر غور و فکر کیا گیا:

1. کالج/یونیورسٹی کی تعمیر بذریعہ چندہ

2. کالج/یونیورسٹی کی تعمیر بذریعہ اشتراک گورنمنٹ

3. کالج/یونیورسٹی کی تعمیر بذریعہ اشتراک پرائیویٹ یونیورسٹی

یہاں پر یہ بات قابل غور ہے کہ انجمن کی 40 کنال زمین 1986 میں وقف ہوئی لیکن 2014 تک 28 سال گزرنے کے باوجود کوئی خاطر خواہ کام نہ ہو سکا؛ صرف 3 کمروں اور برآمدے کی بنیاد تک محدود رہی۔

   2003 سے 2015 تک: یونیورسٹی منصوبے کی کوشش

2003 میں محترمہ سلمی یونس میو بدوکی نے گورنمنٹ کے فنڈز کے ذریعے زمین کی چاردیواری مکمل کروائی۔

مرکزی مجلس عاملہ کی اکثریت کے باہمی مشورے سے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ لاہور کے ایک معروف و مشہور ادارے کے ساتھ مل کر یونیورسٹی کیلئے ایک منصوبہ بنایا جائے، جو انجمن کی مرکزی مجلس انتظامیہ کی منظوری کیلئے پیش کیا گیا۔ اس منصوبے کی خاصیت یہ تھی کہ 45 کنال زمین پر پرائیویٹ ادارے کے ساتھ مل کر یونیورسٹی سب کیمپس کا قیام کیا جائے۔ منصوبے میں درج ذیل نکات اہم تھے:

1. یونیورسٹی سب کیمپس کیلئے تمام پیشہ ورانہ مہارت و سرمایہ ادارہ فراہم کرنا تھا اور سب کیمپس 2 سال کے اندر مکمل کرنا تھا۔

2. یونیورسٹی سب کیمپس کی انتظامیہ میں انجمن کی نمائندگی ضروری تھی۔

3. یونیورسٹی سب کیمپس میں پہلے سال تقریباً 600 میواتی طلباء کو کالج اور اعلیٰ تعلیم کیلئے داخلہ دیا جانا تھا، جس میں ہر سال 200 طلباء کا اضافہ ہونا تھا اور تقریباً پانچویں سال میں 1600 میواتی طالبعلم یونیورسٹی سب کیمپس میں تعلیم حاصل کر رہے ہوتے۔

4. تمام غیر میو طلباء کی فیس کا 5% انجمن کے کوٹے کے اکاؤنٹ میں براہ راست جمع ہونا تھا۔

5. یونیورسٹی سب کیمپس کی ملازمتوں میں 6% کوٹہ میواتیوں کیلئے مختص تھا۔

6. پرائیویٹ ادارے کے ساتھ معاہدہ 25 سال کیلئے طے تھا، اس کے بعد انجمن تمام اثاثہ جات اور اراضی و بلڈنگ کی بلا شرکتِ غیر مالک بن جاتی۔

مزید یہ کہ فرنٹ کی 5 کنال زمین پر دفتر انجمن، مسجد، مدرسہ، کمیونٹی سنٹر، میڈیا سنٹر اور طلباء کیلئے ہاسٹل کا منصوبہ بنایا گیا۔

اس منصوبے کیلئے فوری بندوبست انجمن انتظامیہ نے کرنا تھا جبکہ بقایا رقم برادری سے چندے کے ذریعے اکٹھی ہونا تھی۔

+مندرجہ بالا منصوبہ جات کو ایک سازش کے تحت — جس کے پیچھے ذاتی و سیاسی مخالفت کارفرما تھی — ناکام بنانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی، جس میں چند خفیہ ہاتھوں کے علاوہ انجمن کی مرکزی مجلس انتظامیہ کے چند اراکین بھی پیش پیش تھے۔ آخرکار مئی 2015 میں اس منصوبے کے خلاف عدالت سے حکمِ امتناعی حاصل کر لیا گیا اور مزید یہ کہ منتخب صدر کی حیثیت کو بھی چیلنج کر دیا گیا، اور مرکزی مجلس عاملہ کے کچھ ممبران کے خلاف بھی عدالت میں اعتراضات داخل کر دیے گئے۔

2015 سے 2019 تک: عدالتی مقدمہ بازی اور تعطل

اس صورتحال سے مایوس ہو کر انجمن کے صدر اور کچھ مجلس عاملہ کے اراکین نے اپنے استعفے مرکزی مجلس انتظامیہ کو بھجوا دیے، لیکن مرکزی مجلس انتظامیہ نے استعفے منظور نہ کیے اور صدر اور دوسرے عہدیداران کو کام جاری رکھنے کی ہدایت کی۔

ستمبر 2015 میں صدر انجمن اور سیکرٹری فنانس نے مقدمے کے اخراج کیلئے عدالت میں درخواستیں دیں لیکن ان پر کوئی عدالتی اقدام نہ ہوا۔

02 سال کا طویل عرصہ گزرنے کے بعد عدالت نے نصیر احمد خان سیکرٹری جنرل اور ارشد خان ایڈووکیٹ سرپرست انجمن کو جواب داخل کرنے کا آخری موقع دیا تو انہوں نے جنوری/فروری 2017 میں اپنے بیانات عدالت میں داخل کیے اور صدر کے انتخاب کو کالعدم قرار دیے جانے کی استدعا کی۔ موجودہ عہدیداران کا 03 سال کا قانونی عرصہ عدالت میں مقدمہ ہونے کی وجہ سے نظر انداز ہوا اور عہدیداران کو کام کرنے کا موقع نہ مل سکا۔

سن 2017 کے اوائل میں مرکزی مجلس عاملہ کے کچھ حضرات — جو کہ اس مقدمے میں فریق تھے — نئے الیکشن کیلئے پروپیگنڈہ کرنے لگے۔ اس سلسلے میں موضع بدوکی میں ایک 7 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی لیکن یہ کمیٹی کوئی باقاعدہ اجلاس نہ کر سکی اور عدم دلچسپی کی وجہ سے یہ معاملہ بھی عدالت میں زیرِ التواء رہا۔

نومبر 2017 میں میو تنظیمات کونسل کو قیام عمل میں لایا گیا، جس کا انجمن کے عہدیداران نے بھرپور خیر مقدم کیا۔

دسمبر 2017 میں انجمن کے قیام کو 50 سال مکمل ہونے پر موجودہ انتظامیہ نے الحمراء ہال، مال روڈ میں ایک عظیم الشان پروگرام ترتیب دیا جس میں میو برادری کی بڑی تعداد کی شرکت اور مختلف میو برادریوں کے گولڈن جوبلی کا بلاشرکتِ غیر یادگار پروگرام تھا۔

2018 میں انجمن میں کوئی خاطر خواہ کام نہ ہو سکا کیونکہ انجمن کے صدر اور مجلس عاملہ کے دوسرے عہدیداران مقدمے کے التواء کی وجہ سے کام نہ کر سکے۔

جنوری 2019 میں صدر انجمن نے مرکزی مجلس انتظامیہ کے تمام ممبران کے مشورے سے یہ طے کیا کہ بلا تاخیر بدوکی میں کالج کی تعمیر شروع کر دی جائے۔ اس دوران انجمن کے ممبر محمد طاہر اسلام — جو حاجی نواز خان کے پوتے ہیں — نے اپنے دادا کی زمین پر تعمیر کی اجازت نہ دینے کا عندیہ دیا اور عدالت سے حکمِ امتناعی لانے کی کوشش کی۔ اس عندیے کی وجہ سے انجمن کی انتظامیہ عرصہ دراز سے وقف شدہ زمین پر دفتر و کالج بنانے میں تاخیر کا شکار رہی، حالانکہ آباؤاجداد کی وقف شدہ زمین میں تعمیر شروع کرنے میں اسی طرح کی رکاوٹیں دیکھی جا رہی ہیں۔

جولائی 2019 میں انجمن کی موجودہ انتظامیہ نے 14 اگست 2019 کے موقع پر بدوکی میں کالج کی جگہ ایک شاندار پروگرام جشنِ آزادی کی مناسبت سے ترتیب دیا، جس میں برادری کے تمام لوگوں کو — ان کے کسی سیاسی پارٹی سے تعلق سے قطع نظر — مدعو کیا گیا۔ ارادہ یہ تھا کہ اسی موقع پر کالج کی تعمیر کا آغاز کر دیا جائے، لیکن 08 اگست 2019 کو مرحوم ولد نور محمد ولد نواز خان کے وارثوں نے عدالت میں ایک مقدمہ دائر کر دیا۔

انجمن کی انتظامیہ کا موقف ہے کہ قانون کے مطابق وقف شدہ جگہ نہ واپس ہو سکتی ہے نہ ٹرانسفر ہو سکتی ہے، اور انجمن کی انتظامیہ نے اپنا جواب عدالت میں جمع کروا دیا ہے۔

اس دوران انجمن کے صدر اور دیگر عہدیداران میو تنظیمات کونسل کے اجلاسوں میں بھرپور شرکت کرتے رہے، اور اسی پلیٹ فارم پر انجمن کے عدالتی معاملات سلجھانے کیلئے ایک چار رکنی صلاحیتی کمیٹی قائم کی گئی، جس نے مندرجہ ذیل تین فریقوں کے درمیان معاہدہ کروایا:

1. شہزاد جواہر چوہدری — صدر انجمن

2. ارشد خان ایڈووکیٹ — سرپرست انجمن

3. نصیر احمد خان — سیکرٹری جنرل

معاہدے کی رو سے یہ طے پایا کہ شہزاد جواہر عدالت میں یہ بیان دیں گے کہ وہ پرائیویٹ ادارے کے ساتھ مل کر یونیورسٹی کے قیام کے منصوبے سے دستبردار ہو جائیں گے، اور ارشد خان ایڈووکیٹ اور نصیر احمد خان کو شہزاد جواہر کے آئندہ الیکشن تک صدارت پر کوئی اعتراض نہ ہوگا۔

مصالحتی کمیٹی کا فیصلہ عدالت میں جمع ہو چکا ہے اور اب اس پر عدالت کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔ اس مقدمے کے اخراجات بھی عہدیداران نے اپنی اپنی جیب سے ادا کیے۔

   برادری کی سرگرمیوں میں شرکت

گذشتہ 5 سال کے دوران موجودہ انتظامیہ نے انجمن کو برادری میں مقبول بنانے کیلئے کوئی کسر نہ چھوڑی اور برادری کی مختلف تقریبات، پروگراموں اور معاشرتی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیا، جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں:

  مختلف میو تنظیموں کے ساتھ مل کر معاشرتی و سماجی پروگراموں میں شرکت: 

1. صدائے میو ویلفیئر کے تمام تقریباً پروگراموں (اجتماعی شادی، طلباء و طالبات ایوارڈز) میں شرکت اور مالی معاونت

2. منشی قمرالدین فاؤنڈیشن اور انجمن سیالکوٹ میوات کے پروگراموں میں شرکت اور مالی معاونت

3. میو تنظیمات کونسل کے ساتھ میواتی کلچر ڈے کا انعقاد

4. میواتی شعراء، نغمہ نگاروں، گلوکاروں، نعت خواں کے پروگراموں میں حوصلہ افزائی و مالی معاونت

تمام تنظیموں، گلوکاروں، شعراء، نعت خواں اور اخبارات کی جو مالی معاونت کی گئی، وہ عہدیداران نے اپنی ذاتی جیب سے کی۔

   3. موضع چوہنگ کے ایک کنال کے پلاٹ کی بربادی کے نام کھلا خط اور تفصیلات

  میو برادری کے نام ایک کھلا خط 

  حقیقتِ حال برائے ایک کنال زمین موضع چوہنگ، ڈیفنس، لاہور 

السلام علیکم!

آج سے تقریباً 42 سال قبل، مورخہ 4 مئی 1976 کو مرحوم بھوپ خان رانی موضع چوہنگ نے بذریعہ ہبہ نامہ ایک کنال زمین چوہنگ انجمن اتحاد ترقی میوات کے حق میں چوہدری بشیر احمد خان کے ذریعے وقف کی۔ چوہدری بشیر احمد خان، چوہدری شیر احمد خان کے بڑے بھائی تھے اور اس وقت انجمن میں سیکرٹری تھے۔ اس قطعہ اراضی کا ذکر چوہدری بشیر احمد خان کے ایک خط میں ملتا ہے جو انہوں نے مورخہ 22 ستمبر 1976 کو جناب شہاب الدین صاحب (موجودہ چیئرمین، شفٹ قمرالدین خان فاؤنڈیشن) کے نام لکھا تھا۔

چوہدری صاحب لکھتے ہیں کہ: “انجمن کیلئے ایک کنال اراضی حاصل کر لی ہے، اب مسئلہ صرف رقم کا ہے کہ اس ایک کنال پر میوات ہاؤس تیار کیا جا سکے اور باہر سے آنے والے لوگوں اور طلباء کیلئے ان کی ضرورت کے مطابق رہائش کا بندوبست ہو سکے۔”

صدر بننے سے پہلے مجھے انجمن کے اثاثہ جات کے بارے میں بہت سی باتیں سنی سنائی معلوم تھیں۔ سن 2014 کے الیکشن میں جب اپریل میں ریفرنڈم کے ذریعے میں صدر منتخب ہوا اور انجمن کا تمام ریکارڈ سابقہ انتظامیہ نے میرے حوالے کیا، تو جو اراضی کے ملکیت کاغذات ملے وہ 1992 کی فوٹو کاپی تھی، جبکہ اراضی کا انتقال 1982 میں جاری ہوا تھا۔ اس تضاد نے مجھے حیران اور پریشان کیا۔ مزید یہ کہ مجھے بتایا گیا کہ مذکورہ زمین پر DHA انتظامیہ نے ماضی میں قبضہ کر لیا تھا، اور انجمن کے اثاثہ جات کے ہاتھ سے یہ زمین برسوں پہلے ہی نکل چکی ہے۔

سن 2014 میں جب پتا چلا کہ DHA لاہور نے ایڈمنسٹریٹر میوات صاحب سے تحریری طور پر رابطہ کیا تھا، تو یقین نہ آیا۔ میں نے بلاتاخیر تمام کاغذات اکٹھے کرنے شروع کیے۔ DHA نے انجمن سے بذریعہ خط زمین کے حوالے کے کاغذات مانگے۔ سب سے پہلے مجھے صرف ایک کنال زمین کے انجمن کی ملکیت کے کاغذات ملے، لیکن وہ کاغذات تازہ نہیں تھے اور ان میں نقصِ رجسٹری، نشاندہی وغیرہ کی کمی تھی۔ میں نے یہ کاغذات ریوینیو ریکارڈ سے دوبارہ نکلوانے کا فیصلہ کیا۔

اس سلسلے میں جب پہلی بار خیر معلوم کرنے کی کوشش کی گئی تو پتا چلا کہ انجمن کے نام مذکورہ زمین کا انتقال درج ہوا تھا، لیکن 6 مئی 1980 کو خارج کر دیا گیا۔ بہرحال، دوبارہ انتقال مورخہ 12 اگست 1981 کو منظور ہوا۔ لیکن مسئلہ یہ ہوا کہ اس کے بعد مکمل ریکارڈ حاصل کرنے کیلئے حقدارانِ زمین اور صدر ضلع لاہور کے دفاتر کے کئی چکر لگانا پڑے۔ پٹواری خانے سے مجھے مطلع کیا گیا کہ ریکارڈ روم میں ریکارڈ تلاش کرنا ہوگا۔ تقریباً 6 ماہ کی کوشش کے بعد، اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے، عاشق محمد صاحب — جو متعلقہ محکمے میں ملازم ہیں — کی شفقت اور خصوصی مدد سے میں نے انجمن کی زمین کا ریکارڈ حاصل کر لیا۔ اس سارے کام میں محترم عبدالستار صاحب، جو انجمن کی مرکزی انتظامیہ کے رکن ہیں، نے بھی میری خصوصی مدد کی۔

یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ مرحوم بھوپ خان کے آل و اولاد اور دیگر وارثان جو موضع چوہنگ ہیں، ان کو اگرچہ ان کے حقیقی داد کی رقبے کی حقیقت اور انجمن کے مرکزی انتظامیہ میں نمائندگی دی جائے تو خوش آئند ہے، مگر ان وارثان نے ہمیشہ نظر انداز کرنے کی روش اپنائی اور آختی سے کوشش کی کہ مجھے راہِ فرار اختیار کرنے پر مجبور کریں، اور اسی طرح خان کے وارثان بھوپ خان مرحوم موجودہ مرکزی انتظامیہ کا حصہ نہ بنے۔

DHA کی زمین کے کاغذات اکٹھا کرنے میں بہت زیادہ مشکلات کا سامنا ہوا اور ایک موقع پر تو پٹواری نے یہ کہہ دیا کہ زمین کا جو انتقال ہوا وہ سرے سے غلط تھا اور تازہ فرد ملکیت دینے سے انکار کر دیا۔ اس سارے معاملے میں یہ بھی محسوس ہوا کہ DHA خاص وارثان کے ساتھ ہی مسلسل رابطے میں تھی۔

خیر، جب اس سارے معاملے کا کوئی دوسرا راستہ نہ بچا تو میں نے سارے کاغذات جمع کیے اور DHA ایڈمنسٹریٹر صاحب کے حوالے کیے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ یہ میرا ذاتی کام ہے جو کہ ہونا چاہیے۔

پچھلے دنوں ایک شادی کے موقع پر ایڈمنسٹریٹر صاحب سے ملاقات ہوئی۔ استفسار کرنے پر انہوں نے بتایا کہ 42 سال گزرنے کے بعد انجمن کی زمین کا معاملہ ڈیفنس انتظامیہ کے سامنے اٹھانے کا کوئی فائدہ نہیں، کیونکہ اس طرح کے معاملات DHA میں برسوں زیرِ التواء رہتے ہیں اور اسے ایک طویل قانونی جنگ کی ضرورت ہے۔

میرا اس کھلے خط کو برادری کے نام لکھنے کا مقصد برادری کو انجمن کی زمین کے معاملات سے آگاہ رکھنا ہے، اور مزید یہ کہ انجمن کے معاملات کو صاف و شفاف اور خدشات سے پاک رکھنا ہے۔

مزید یہ کہ بحیثیت صدر انجمن مجھے اس معاملے میں از خود کوئی فیصلہ لینے کا حق نہیں۔ اس زمین کی واپسی کیلئے جو بھی اقدام کیا جائے گا وہ اس وقت تک نہیں کیا جائے گا جب تک اس میں مال، وقت اور رجحان کو خاطر میں نہ لایا جائے۔ اس سلسلے میں آئندہ اقدام آئندہ مجلس انتظامیہ کے فیصلے سے ہی ہوگا۔

اپنے آئندہ خطوط میں مناسب وقت پر کالج بدوکی اور انجمن کے تنظیمی مسائل سے برادری کو آگاہ کرتا رہوں گا۔

آپ کا خیر اندیش

  شہزاد جواہر چوہدری (صدر) 

0302-8440935

انجمن اتحاد و ترقی میوات پاکستان (رجسٹرڈ) لاہور

   4. بدوکی کی 50 کنال زمین پر سب یونیورسٹی اور دفاتر کے منصوبے کی تفصیلات

بسم اللہ الرحمن الرحیم

السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ

  معزز کابرینِ میو برادری 

جیسا کہ آپ لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ موضع بدوکی، ضلع لاہور میں تقریباً 30 سال قبل 50 کنال رقبہ برائے کالج اور دفاتر برائے انجمن اتحاد و ترقی میوات پاکستان وقف کیا گیا تھا۔ لیکن ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم آج تک کالج تو کیا، ایک دفتر بھی مذکورہ وقف شدہ جگہ پر نہ بنا سکے۔

موجودہ انتظامیہ، جو کہ تقریباً ایک سال قبل الیکشن کے نتیجے میں منتخب ہوئی، اپنی انتھک محنت اور کوششوں کے نتیجے میں ایک تاریخی قوم منصوبہ آپ کے سامنے پیش کرتی ہے۔

اس منصوبے کا مقصد جلد از جلد وقف شدہ جگہ کو تعمیر کر کے میو قوم کی بھلائی اور فلاح و بہبود کیلئے استعمال میں لانا ہے۔

منصوبے کی تفصیلات مندرجہ ذیل ہیں:

  1. تعمیر برائے دفاتر انجمن، مسجد، مدرسہ، کمیونٹی سنٹر، میڈیا سنٹر اور ہاسٹل برائے طلباء 

تخمینہ لاگت تقریباً 3 کروڑ روپے ہے۔

  2. تعمیر برائے انٹرنیشنل یونیورسٹی 

تخمینہ لاگت تقریباً 12 کروڑ روپے ہے۔

مندرجہ بالا عظیم الشان منصوبے کی تعمیر کیلئے موجودہ انتظامیہ کی تجاویز مندرجہ ذیل ہیں، جن پر اتفاقِ رائے ہونے کی صورت میں فوری طور پر منصوبے کی تعمیر کا آغاز ہو جائے گا:

  1. دفاتر، مسجد، مدرسہ، کمیونٹی سنٹر، میڈیا سنٹر اور ہاسٹل: 

یہ تعمیر تقریباً 4 کنال پر مشتمل ہوگی جس کیلئے کم از کم تقریباً 3 کروڑ روپے درکار ہیں۔ دفاتر کی تعمیر کیلئے موجودہ انتظامیہ فوری طور پر 50 لاکھ روپے کا بندوبست کرے گی اور تعمیر کا آغاز کر کے (انشاءاللہ) 2 سال کے اندر دفاتر اور باقی تعمیرات مکمل کی جائیں گی۔ تعمیر کیلئے بقایا رقم برادری سے چندے کے ذریعے اکٹھی کی جائے گی۔ چندہ مہم کی ذمہ داری موجودہ انتظامیہ کی ہوگی۔

  2. انٹرنیشنل یونیورسٹی کی تعمیر: 

چونکہ تعلیمی اداروں کو چلانے کیلئے پیشہ ورانہ مہارت کی ضرورت ہوتی ہے، اسی لیے موجودہ انتظامیہ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ باقی ماندہ جگہ پر ایک عظیم الشان انٹرنیشنل یونیورسٹی سب کیمپس تعمیر کیا جائے اور چلایا جائے۔ یونیورسٹی کی تعمیر اور انتظام کی شرائط مندرجہ ذیل ہوں گی:

1. یونیورسٹی سب کیمپس کی تعمیر کا سرمایہ (تقریباً 12 کروڑ روپے) یونیورسٹی مہیا کرے گی۔

2. یونیورسٹی انتظامیہ 2 سال کے اندر تعمیر مکمل کر کے یونیورسٹی سب کیمپس میں کلاسز کا باقاعدہ آغاز کرے گی۔

3. یونیورسٹی میں بزنس، انجینئرنگ اور میڈیکل کے شعبہ جات میں تعلیم دی جائے گی۔

4. یونیورسٹی انتظامیہ سب کیمپس کے اندر تمام پیشہ ورانہ مہارت مہیا کرے گی اور یونیورسٹی کا انتظام چلائے گی۔

5. یونیورسٹی انتظامیہ کی گورننگ باڈی میں انجمن اتحاد و ترقی میوات کی نمائندگی ضروری ہوگی۔

6. یونیورسٹی انتظامیہ سالانہ بنیاد پر تقریباً 600 میواتی طلباء کو انٹرمیڈیٹ، گریجویشن، پوسٹ گریجویشن اور اعلیٰ تعلیم دینے کی پابند ہوگی۔

7. یونیورسٹی سب کیمپس میں سالانہ 125 طلباء کا اضافہ کیا جائے گا جن کے داخلے کا اختیار انجمن کی انتظامیہ کو ہوگا۔

8. تمام میواتی طلباء میں سے 50 فیصد سے کوئی فیس نہیں لی جائے گی، جبکہ باقی 50 فیصد کو فیس میں 50 فیصد رعایت دی جائے گی۔

9. یونیورسٹی انتظامیہ فیس کی مدد سے حاصل ہونے والی تمام آمدنی کا 5% انجمن کے بینک اکاؤنٹ میں جمع کرانے کی پابند ہوگی، جو میواتی قوم کی فلاح و بہبود کیلئے استعمال کی جائے گی۔

10. ایک محتاط اندازے کے مطابق پہلے سال فیس کی مد میں آمدنی کا اندازہ 60 سے 70 لاکھ روپے تک ہے، جو چوتھے سال تک 4 کروڑ روپے تک پہنچنے کی توقع ہے۔ یہ تمام آمدنی میواتی طلباء کو دی گئی فیس کی رعایت کے علاوہ ہے۔

11. یونیورسٹی انتظامیہ پڑھے لکھے میواتی لوگوں کو یونیورسٹی سب کیمپس میں ملازمت دینے کی بھی پابند ہوگی۔

12. یونیورسٹی انتظامیہ کے ساتھ معاہدہ 25 سال کیلئے ہوگا جو مزید 20 سال کیلئے قابلِ توسیع ہوگا۔ کل 45 سال کے بعد انجمن تمام بلڈنگ اور اثاثہ جات کی بلاشرکتِ غیر مالک ہو جائے گی۔

13. یونیورسٹی سب کیمپس سے حاصل شدہ آمدنی سے میو قوم کی فلاح و بہبود کیلئے مزید منصوبے شروع کیے جائیں گے۔

موجودہ انتظامیہ کو یقین ہے کہ مندرجہ بالا عظیم الشان منصوبوں پر عمل کر کے میو قوم کی ترقی کیلئے نئے دروازے کھولے جا سکتے ہیں۔ اگر ہم نے ابھی کچھ نہ کیا تو شاید مزید 30 سال بھی گزر جائیں اور ہم پھر بھی کچھ نہ کر سکیں، اور ہماری قوم مزید جہالت اور پستی کے سمندر میں ڈوبتی چلی جائے گی۔

والسلام

میو قوم کا خیر اندیش

انتظامیہ: انجمن اتحاد و ترقی میوات پاکستان (رجسٹرڈ) لاہور

   دعوت ناموں کی تفصیلات (حلف برداری کی تقاریب)

    حلف برداری — 20 اپریل 2014

نو منتخب عہدیداران انجمن اتحاد و ترقی میوات پاکستان (رجسٹرڈ) لاہور کی پروقار تقریبِ حلف برداری

– تاریخ: 20 اپریل 2014، بروز اتوار، 1:30 بجے سہ پہر

– مقام: خانی گھر کمپلیکس، قذافی سٹیڈیم، لاہور

نو منتخب عہدیداران:

– شہزاد جواہر (صدر) — 0302-8440935

– نصیر احمد خان (سیکرٹری جنرل) — 0300-8539416

– ارشاد محمود خان (سیکرٹری فنانس) — 0321-8454208

– زاہد اشتیاق سنگارا (سیکرٹری نظامت) — 0300-4821669

– چوہدری احمد خان (نائب صدر) — 0300-4704509

– خالد محمود خان (سیکرٹری تعلیم) — 0321-4294900

– چوہدری عبدالستار (اسسٹنٹ سیکرٹری فنانس)

– چوہدری محمد جمیل (جوائنٹ سیکرٹری)

مزید تنائید کنندگان: علامہ محمد احمد قادری، پیر بہادر ڈاکٹر اسحاق، چوہدری محمد یوسف آبدہی، چوہدری میر خان آبدہی، چوہدری محمد ظفر خان آبدہی، چوہدری طاہر اسلام آبدہی، چوہدری ارشد ایڈووکیٹ آبدہی

    حلف برداری — 07 ستمبر 2014

انجمن اتحاد و ترقی میوات پاکستان (رجسٹرڈ) لاہور کے عہدیداران و ممبران مرکزی مجلس انتظامیہ کی پروقار تقریبِ حلف برداری

– تاریخ: 07 ستمبر 2014، بروز اتوار، 12:30 بجے دو پہر

– مقام: رہائش گاہ بابا زادہ ڈاکٹر محمد اسحاق منیا، میو پیکس، بالمقابل جنرل ہسپتال، لاہور

   5. دسمبر 2017 میں انجمن کی 50 سالہ تقریبات کی شاندار تقریب

 (الحمراء ہال، مال روڈ لاہور میں منعقدہ گولڈن جوبلی تقریب کی تصاویر شامل ہیں۔)

   6. انجمن کے پلیٹ فارم سے کئے گئے مختلف پروگرام و تقریبات

 (بشمول 14 اگست 2019 کو انجمن اتحاد و ترقی میوات کے زیرِ اہتمام پرچم کشائی کی تقریب — بمقام اراضی میو کالج، بدوکی (کاہنہ)، لاہور، صبح 9 بجے۔ مہمانِ خصوصی: شہزاد جواہر میو، صدر۔)

   7. مختلف میو تنظیموں سے مل کر کئے گئے پروگرام

 (بشمول صدائے میو ٹیم کے اعزاز میں دوسری اجتماعی شادی کے موقع پر صدر انجمن کا ظہرانہ۔)

   8. میواتی کلچر ڈے کے حوالے سے 2019 کا یادگار پروگرام

  9. مختلف میواتی گلوکاروں، نعت خواں، نغمہ نگاروں، اخبارات کی حوصلہ افزائی و مالی انعامات

 (بشمول اخبار “رہبرِ میوات” لاہور میں شائع ہونے والی رپورٹ بعنوان “انجمن اتحاد و ترقی میوات پاکستان کی جانب سے فاطمہ کے اعزاز میں تقریب” — رپورٹ: ریاض نور میو، چیف ایڈیٹر رہبرِ میوات لاہور۔)

   10. مصالحتی کمیٹی برائے بدوکی کالج/انجمن کی تازہ رپورٹ

  نوٹ:   اس دستاویز کے کچھ صفحات (بالخصوص سیکشن 5 تا 10 کے کئی صفحات) صرف تصاویر، دعوت ناموں یا اخباری تراشوں پر مشتمل ہیں جن میں سے بیشتر متن پڑھنے کے قابل نہیں تھا (دھندلاپن یا فوٹو کاپی کے معیار کی وجہ سے)۔ صرف عنوانات اور واضح طور پر پڑھے جا سکنے والے حصے یہاں شامل کیے گئے ہیں۔ کچھ الفاظ/جملے جہاں تصویر دھندلی تھی، وہاں سیاق و سباق کی بنیاد پر بہترین اندازے سے مکمل کیے گئے ہیں — حتمی اشاعت سے پہلے اصل دستاویز سے تصدیق کر لیں۔

مکمل رپورٹ یہاں سے ڈائون لوڈ کریں

Leave a Comment

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid, the visionary mind behind Tibb4all, revolutionizes education and daily life enhancement in Pakistan. His passion for knowledge and unwavering community dedication inspire all who seek progress and enlightenment.

More About Me

Newsletter

Top Selling Multipurpose WP Theme