
بے مقصد زندگی۔یا مقصد حیات کا تعین
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویﷺ
قران کریم کا اعجاز ہے کہ یہ انسان کو اسیے انداز میں مخاطب کرتا ہے کہ شعوری و لاشعوری طورپر انسان اس طرفٖ کھنچا چلاآتا ہے۔غور و فکر، گہرے تدبر میں گم ہوجاتا ہے۔جو باتیں بڑے بڑے فلاسفر طویل عبارتوں اور ضخیم کتب لکھ کر بھی نہیں سمجھا سکتے قران کریم کی ایک آیت یا ایک مثال غورو فکر اور تدبر کے وسیع دروازے کھول دیتی ہے۔
قران کریم میں دی گئی مثالیں ۔اور تشبیہات کچھ اس اندازکی ہیں کہ انسان یوں محسوس کرتا ہے کہ جیسے یہ میرے بارہ میں، میرے کردار کے ذریعہ سے سمجھایا جارہا ہے۔
پڑھنے والا اور سننے والا خود کو اس سے الگ کرہی نہیں سکتا۔۔
أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَىٰ قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا ﴿سورۃ محمد ٢٤﴾
تو کیا یہ لوگ قرآن میں ذرا بھی غور نہیں کرتے ہیں یا ان کے دلوں پر قفل پڑے ہوئے ہیں (24)
دوسری جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ
اور بیشک ہم نے قرآن کو نصیحت کے لئے آسان کر دیا ہے تو کیا کوئی نصیحت قبول کرنے والا ہے۔(سورۃ الْقَمَر, 54 : 17)
جب لوگ قران کریم کو سمجھنے کے لئے مشکل ترین کتب کا سہارا لیں گے تو حقائق قران چھپ جائیں گے۔
کیونکہ ایسے لوگ قران کے بجائے کتب کے مصنفین کے افکار کو پڑھتے اور سمجھتے ہیں ۔
جب قران کریم کو غور و تدبر کے ساتھ نہ پڑھائے جائے اس کے مفاہی نہیں کھلتے۔
مقصد حیات کا تعین
قرآن کریم کی سورہ القیامہ (آیت 36) میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ یُّتْرَكَ سُدًى
(کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے یوں ہی آزاد (بے مقصد) چھوڑ دیا جائے گا؟)
لفظ
سُدًی”۔
کا عربی زبان میں اصل مفہوم ایسی اونٹنی یا جانور کا ہے جسے بالکل کھلا اور آزاد چھوڑ دیا جائے، جس پر نہ کوئی نکیل ہو، نہ چرواہا اور نہ ہی اس پر کوئی پابندی ہو۔ قرآن پاک کی اس آیت کا پیغام گہرا، ہمہ جہت اور انسان کی پوری زندگی کا احاطہ کرتا ہے۔
مختلف زاویوں سے اس کا تفصیلی مفہوم اور اثرات درج ذیل ہیں:
۱۔ آیت کا بنیادی مفہوم اور تفسیر
مفسرین کرام (جیسے امام ابن کثیر اور علامہ قرطبی) کے مطابق اس آیت کے دو بنیادی شرعی و فکری پہلو ہیں:
امر و نہی سے آزادی کی نفی:
انسان دنیا میں حیوانات کی طرح محض کھانے پینے اور سونے کے لیے نہیں آیا۔ اسے شریعت کے احکامات (امور و نواہی) کا مکلف بنایا گیا ہے۔
اسے اچھے اور برے کی تمیز دی گئی ہے، لہذا وہ اپنی مرضی کا مطلق الٰہ نہیں بن سکتا۔
آخرت اور جزا و سزا کا لزوم:
اگر انسان کو مرنے کے بعد دوبارہ نہ اٹھایا جائے اور اس کے اعمال کا حساب نہ ہو، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تخلیقِ کائنات کا یہ پورا نظام بے مقصد (سُدًی) تھا۔ یہ آیت دراصل منکرینِ آخرت کو جھنجھوڑتی ہے کہ تمہاری زندگی کا ایک ایک پل حساب کتاب کے دائرے میں ہے
۲۔ نفسیاتی معاملات (Psychological Aspects)
نفسیاتی نقطہ نظر سے یہ آیت انسانی ذہن کو ایک بہت بڑی بے چینی اور خلا سے بچاتی ہے:
مقصدِ حیات کی فراہمی (Sense of Purpose):
جدید نفسیات کہتی ہے کہ انسان کے لیے سب سے بڑا عذاب “بے مقصدی کا احساس” (Existential Vacuum) ہے۔ جب انسان خود کو سُدًی (بے مقصد) سمجھتا ہے، تو وہ ڈپریشن اور مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہ آیت انسان کو بتاتی ہے کہ تمہارا وجود قیمتی ہے اور تمہاری زندگی کا ایک عظیم مقصد ہے۔
خود احتسابی (Self-Accountability):
یہ احساس کہ مجھے کھلا نہیں چھوڑا گیا، انسان کے اندر ایک اندرونی نگران (ضمیر یا Superego) کو بیدار رکھتا ہے۔ انسان اپنی نفسیاتی خواہشات (Id) کا غلام بننے کے بجائے جذباتی اور ذہنی طور پر متوازن رہتا ہے۔
— ۳۔ معاشرتی طور پر مفہوم (Social Dimension)
معاشرے کی بقا کے لیے اس آیت کا فہم ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے:
جنگل کے قانون کا خاتمہ:
اگر ہر انسان یہ سمجھ لے کہ وہ آزاد اور غیر جوابدہ ہے، تو معاشرہ طاقتور کا جنگل بن جائے گا۔ یہ آیت ہر فرد کو حدود کا پابند بناتی ہے۔
حقوق العباد کی پاسداری:
جب انسان پر یہ واضح ہوتا ہے کہ اس کے سماجی رویوں، دوسروں کے ساتھ کیے گئے سلوک اور مظلوم کی داد رسی کا حساب ہونا ہے، تو معاشرے میں امن، عدل اور ہمدردی جنم لیتی ہے۔
۴۔ معاصر دور (موجودہ عہد) پر اس کے اثرات
آج کے جدید دور (21ویں صدی) میں اس آیت کی معنویت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے:
مطلق آزادی (Absolute Freedom) کے فریب کا علاج:
موجودہ دور کا سب سے بڑا نعرہ “میری زندگی، میری مرضی” یا ایسی آزادی ہے جو اخلاقی حدود سے عاری ہو۔ یہ آیت اس مادہ پرستانہ اور خود غرضانہ فلسفے کی جڑ کاٹتی ہے اور یاد دلاتی ہے کہ تمہاری آزادی خدا کی دی ہوئی حدود کے تابع ہے۔
سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل جوابدہی:
آج کے دور میں انسان بند کمرے میں بیٹھ کر جو کچھ سکرین پر دیکھتا ہے یا لکھتا ہے، وہ سمجھتا ہے کہ اسے کوئی دیکھنے والا نہیں اور وہ آزاد ہے۔ یہ آیت عصرِ حاضر کے انسان کو متنبہ کرتی ہے کہ ڈیجیٹل دنیا کی تنہائیوں میں بھی تم “سُدًی” نہیں ہو۔
۵۔ عربی و اردو ادب میں اس کی مثالیں
عربی ادب:
عربی لغت اور جاہلی و اسلامی شاعری میں لفظ “سدی” کا استعمال کثرت سے ملتا ہے۔
عرب کہتے ہیں:
أَسْدَى إِبِلَهُ” یعنی اس نے اپنے اونٹوں کو چرواہے کے بغیر کھلا چھوڑ دیا۔
قدیم عربی اشعار میں اس کا استعمال دنیا کی بے ثباتی یا کسی چیز کو ضائع کر دینے کے معنوں میں ہوتا تھا۔ جیسے کسی محنت کے ضائع ہونے پر کہا جاتا ہے:
ذَهَبَ عَمَلُهُ سُدًى” (اس کی محنت رائیگاں/بے کار چلی گئی)۔
اردو ادب:
اردو کے صوفیانہ اور اصلاحی ادب میں اس قرآنی تصور کو بہت خوبصورتی سے نظم کیا گیا ہے کہ انسان دنیا میں تفریح یا تماشے کے لیے نہیں آیا۔
مرزا غالب کا ایک مشہور شعر اس آیت کے فلسفے کے ایک پہلو (کائنات کی معنویت) کی عکاسی کرتا ہے:
ہستی کے مت فریب میں آ جائیو اسدؔ
عالم تمام حلقۂ دامِ خیال ہے
برصغیر کے عظیم مفکر اور شاعر علامہ اقبال نے انسان کی خودی، اس کے مقصدِ حیات اور اس کی جوابدہی کو اپنے پورے فلسفے کی بنیاد بنایا ہے۔ وہ انسان کو خبردار کرتے ہیں کہ وہ خود کو بے مقصد نہ سمجھے:
تو حکمتِ الٰہی کا ہے ایک رازِ پنہاں
سمجھو تو بہت کچھ ہے، نہ سمجھو تو کچھ بھی نہیں
ایک اور جگہ انسان کی عظمت اور اس کی ذمہ داری کو یوں بیان کرتے ہیں:
پرونا ایک ہی تسبیح میں ان بکھرے دانوں کوجو مشکل ہے تو اس مشکل کو آساں کر کے چھوڑوں گا
خلاصہ (اس وقت اس کا مفہوم)
آج کے پُرآشوب دور میں، جہاں انسان ٹیکنالوجی، مادی آسائشوں اور نفسیاتی الجھنوں کے ہجوم میں اپنی اصل پہچان کھو رہا ہے، یہ آیت ایک کمپاس (Compass) کی مانند ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہم کائنات کا حاصل ہیں۔ ہم یہاں محض حادثاتی طور پر نہیں آئے اور نہ ہی مٹی میں مل کر ختم ہو جانے کے لیے پیدا ہوئے ہیں۔
ہماری زندگی کا ہر عمل بامقصد ہے اور ہماری حقیقی کامیابی اس شعور میں ہے کہ ہم اپنے خالق کے سامنے جوابدہ ہیں۔
