سانحہ کاہنہ نو۔ایک قیامت کی گھڑی۔جوکلیوں کو مسل گئی۔

0 comment 12 views
سانحہ کاہنہ نو۔ ایک قیامت کی گھڑی۔جوکلیوں کو مسل گئی۔
سانحہ کاہنہ نو۔
ایک قیامت کی گھڑی۔جوکلیوں کو مسل گئی۔

سانحہ کاہنہ نو۔
ایک قیامت کی گھڑی۔جوکلیوں کو مسل گئی۔

Advertisements


حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو۔
زندگی نارمل حالت میں دھیمی دھیمی گزر رہی تھی۔چانک عصر کی نماز کے قریب قریب کا وقت تھا کہ ماحول میں ارتعاش پیدا ہوا۔لوگوں میں بھاگ دوڑ شروع ہوئی۔اچانک۔پولیس اور 1122 والے دکھائی دینے لگے۔ہمارے قریب منگل بازار لگتا ہے۔وہاں پولیس اکثر دیکھ بھال اور اپنی جیبیں بھرنے کے لئے معمول کے مطابق چکر لگاتی رہتی ہے۔ہم نے آج کے منگل بازار کی معمول کی کارروائی سمجھا۔پھر لوگوں کا رش بڑھتا گیا۔ہمارے محلہ کے کئی گھروں سے آہ و پکار سنائی دینے لگی۔
میرے گھر کے سامنے کڈر ہیون نامی ایک سکول ہے۔اس میں ایک لیڈی امیلہ نامی ٹیچر عرصہ سے بچوں کو پڑھانے آتی تھی۔ادارہ کی قابل اور تجربہ کار ٹیچر تھی۔سکول ٹائم کے بعد گھر میں ٹیویشن پڑھاتی تھی ۔میری چھوٹی بیٹی سکول میں پڑھتی بھی ہے۔اس کی کلاس کے بچے بھی انہیں کے پاس ٹیوشن لینے جاتے تھے۔ حسب معمول بچے سکول ٹائم کے بعد امیلہ مرحومہ کے گھر ٹیوشن

پڑھنے گئے۔
مالی حالات کمزور تھے۔گھر کا ایک ہی کمرہ تھا۔وہی اس ٹیچر کی کل کائنات تھا۔اسی میں گھر کا سامان رکھا تھا ۔ٹیوشن کے وقت گھریلو سامان سمیٹ لیا جاتا اور بچوں کو بیٹھنے کی جگہ بنادی جاتی۔
یوں سلسلہ چلتا رہا۔لوگوں کا اعتماد بڑھتا گیا۔بچوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا۔تیس سے زائد بچے ٹیوشن کے لئے داخل ہوئے۔
یہ بچے پریب،کچی پکی اور ابتدائی کلاسز کے تھے۔
برسات میں مکان کی کچی چھت سے مٹی زیادہ بہنے کی وجہ سے دوبارہ سے چھت پر مٹی کی بھرائی کی گئی۔اور چھت پر پردہ کے لئے چار دیواری اور ٹالیں لگانے کاکام شروع کیا گیا ۔چھ ساتھ مزدور مکان کی چھت کی خستہ حالی۔ٹی۔آر۔کی چھت۔ظاہری اسباب میں چھت گرنے کا سبب بنے۔
جب اللہ کی طرف سے کوئی کام ہونا مقدر پاتا ہے تو اسباب ایک دوسرے سے جڑتے جاتے ہیں۔ان بچوں کے موت چھت گرنے سے ہوئی۔میں بھی موقع پر گیا۔ایک ایک گھر کے کئی کئی بچے اس سانحہ کا شکار بنے۔میرے گھر کے سامنے رہنے والے پڑوسیوں کے تین بچے تھے۔ان میں سے دو موقع پر جانبحق ہوگئے۔
میرے دائیں جانب دو گھر چھوڑ کر سات سالہ بچی کی اطلاع ملی کہ فلاں بچی بھی ا س حادثہ میں جاں بحق ہوگئی ہے۔
جائے حادثہ کے سامنے قربان انسٹیٹیوٹ ہے جہاں میری بیٹی پڑھاتی ہے کے سامنے والاگھر میں یہ حادثہ ہوا۔ اتحاد فکر علماء میوات کی طرف سے پیغام ملا کہ جائے حادثہ پر جاکے جو بن پڑے مدد کی جائے۔جب جائے حادثہ سے واپسی ہوئی تو پتہ چلا میو ۔بابا شتاب خاں کے دو بچے بھی تھے۔بچی موقع پر دم توڑ گئی ،بچے کی ٹانگ کی ہڈی ٹوٹی ہے۔کہیں سے خبر آرہی تھی کہ فلاں کے تین بچے ،فلاں کے دو بچے۔
یہ ایک دلخراش واقعہ ہے۔کئی معصوم کلیاں کھلنے سے پہلے ہی مرجھا گئیں،کئی آنگن بچوں کی کلکاریوں سے محروم ہوگئے۔کئی مائیں اپنے گودیں اُجڑ وا بیٹھیں۔
میڈیا نے بھرپور کوریج دی ہے۔اور لوگوں نے کمال ہمدردی اور تعاون کا نمونہ پیش کیا ہے۔
بچوں کے ساتھ ان کی ٹیچر جو کہ جواں سال، ایک بچی کی ماں بھی تھی۔مالی حالی حالت کچھ بہتر نہ تھے۔والدیں بچپن میں گزر گئے تھے۔یوں زندگی کی لڑائی لڑتے لڑتے۔اپنی کلاس کے ساتھ اپنے رب کے حضور جاپہنچی۔
کہنے کو الگ الگ تبصرے سننے کو مل رہے ہیں۔لیکن سچی بات یہ ہے اس زندگی کو جینے کے لئے معاشرتی ناہمواریوں سے نبرد آزما ہونے کے لئے روز مرنا پڑتا ہے۔لوگ کہتے ہیں سانس بند ہونے کا نام موت ہے۔سچ تو یہ ہے کہ نادار انسان پل پل مرتا اور سسکتا ہے۔ہمارا معاشی نظام اور رائج الوقت سرکاری پالیساں اتنی پیچدار ہیں انہیں سمجھنے اور انہیں سلجھانے کے لئے عمر نوح درکار ہوتی ہے۔
اللہ لواحقین کو صبر جمیل عطاء فرمائے۔مرحومین کو اپنے قرب و جوار میں جگہ مرحمت فرمائے۔آمین

Leave a Comment

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid, the visionary mind behind Tibb4all, revolutionizes education and daily life enhancement in Pakistan. His passion for knowledge and unwavering community dedication inspire all who seek progress and enlightenment.

More About Me

Newsletter

Top Selling Multipurpose WP Theme