
میو قوم کے جواہرات ۔سمت کا تعین،باہمی تعارف۔
حکیم المیوات قاری قاری محمد یونس شاہد میو۔
گذشتہ کل بروز جمعہ البارک8مئی2026۔دو ملاقاتیں۔
(1)ضلع قصور کے ڈسٹرک ایجوکیشن آفیسر جناب شوکت میو باگھوڑیا،
(2)محمد احمد عزیزی میو ایڈو کیٹ ہائی کورٹ لاہور( ٹھنگ موڑ)
اللہ جب کسی شخص یا قوم سے کام لینے کا ارادہ کرتا ہے ،اس کے اندر کچھ خوبیاں رکھ دیتا ہے ۔ یہ خوبیاں روز مرہ کی زندگی میں کوئی اہمیت نہیں رکھتیںلیکن ان صلاحیتوں کی موجودگی مواقع فراہم کرتی ہے کہ ان سے کوئی بھی صاحب نظر اور ضرورت مند استفادہ کرے ۔کچھ چیزیں روزہ مرہ کے معمولات میں شمار ہوتی ہین لیکن ان میں خاصیت پائی جاتی ہے۔ابھی تک میو قوم کوئی ادارہ یا شخصیت ایسی موجود نہیں ہے جو موجودجواہرات تراشنے کا انتظام رکھتا ہو؟۔
میو قوم میں بے شمار خوبیاں اور صلاحتیں موجود ہیں صرف ایک چیز کا فقدان ہے کہ کوئی پلاننگ یا انتظام ایسا نہیں کہ ان بکھری ہوئی صلاحیتوں کو کام میں لاسکے۔اس بکھری ہوئی طاقت کو یکجا کرکے قوم و ملت کی بھلائی اور بہتری کے لئے کچھ بندو بست کرسکے۔ایسا نہیں کہ میو آفیسرز یا انتظامی لحاظ سے بنیادی عہدوں پر کام کرنے والوں کا میو قوم کو پتہ نہیں۔بلکہ جو لوگ جانتے ہیں وہ ذاتی مفادات لیتے ہیں دوسروں کو ان تک پہنچنے سے روکتے ہیں ۔
عاصد رمضان میو نے کل مجھے فون کیا کہ ایک میو سپوت سے ملاقات ہے ۔آپ کو بھی اس ملاقات
میں شامل کیا گیا ہے لہذا جمعہ کی نماز قصور مرکز میں ادا کریں۔
انجینئر محمد امین میو وائس پرنسپل ٹیکنیکل کالج قصور۔
مولانا نور عباس میو امام و خطیب تبلیغی مرکز قصور۔
چوہدری محمد اسماعیل میو۔بدر پور والے(پاکستان میو اتحاد)
پروفیسر عامر۔پرنسپل علامہ اقبال سکول قصور۔
ریاض نور (رہبر میوات۔یوٹیوب چینل)
پروفیسر محمد اصغر میو(تاریخ میوات پر کام کررہے ہیں)وغیرہ دس بارہ لوگ گورنمنٹ ٹیکنکل کالج قصور جمع ہوئے ۔جناب شوکت علی میو باگھوڑیا کو مان سمان دئیو۔معززین نے دستار بندی کی پگڑی باندھی۔ تقریبا ایک گھنہ میوات زبان میں بے تکلف گفتگو جاری رہی ۔ میزبانوں کی طرف سے پھول پتیاں نچھاور کی گئیں۔
رہبر میوات نے اپنی روایات قائم رکھتے ہوئے میزبان و مہمانوں کا تعارفی پروگرام کیا اسے میڈیا پر نشر کیا۔
واپسی پر صوفی عرفان انجم صاحب کا فون آیا کہ کچھ ساتھی آپ سے ملنا چاہتے ہیں مغرب کے بعد

کا وقت مقرر ہوا۔۔تین لوگ تھے
صوفی عرفان انجم صاحب
مولانا طاہر نقشبندی صاحب
مولانا محمد احمد عزیزی۔ابن مفتی عبدالعزیز ٹھنگ موڑ والے۔
تشریف لائے ایک گھنٹہ سے زائد ملاقات میں مختلف امور پر تبادلہ خیال ہوا بالخصوص علماء کے لئے قانونی امداد اور انتظامیہ کی طرف سے آنے والی مشکلات اورقانونی لحاظ سے مدارس و مساجد کے منتظمین کو کیسے فائدہ پہنچایا جاسکتا ہے پر ۔ بامعنی گفتگو ہوئی۔
ان دونوں ملاقاتوں میں ایک بات تو سمجھ میں آئی کہ میو قوم میں صلاحیت بھی ہے کام کرنے کا جذبہ بھی ۔اگر کوئی ایسا پلیٹ فارم مل جائے جہاں ہر ایک کو اس کی خدمت اور صلاحیتوں کی بنیاد پر مان سمان دیا جاسکے۔تو میو قوم ملک و قوم کے لئے بہترین کردار ادا کرسکتی ہے۔
انجینئر محمد امین میو اور عاصد رمضان میو کا میو ملاقاتوں اور باہمی تعارف کے سلسلہ میںاٹھائے گئے قدم اس قابل ہیں کہ دوسرے لوگ بھی پیروی کریں۔
