
بدہضمی کا خوفناک عفریت
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
(از مقتبس”احادیث مبارکہ سے اخذ کردہ طبی نکات۔۔یہ کتاب پندرہ سال پہلے لکھی گئی تھی ۔اب اسے جدید تحقیقاتی مراحل اور نظر ثانی کے بعد زیور طباعت سے مزین کردیا گیا ۔اہل ذوق طلب فرماسکتے ہیں)
اس وقت دنیا میں بدہضمی کا عفریت اکثرلوگوں کو نگلے جارہا ہے۔طب نبوی ﷺ میں اس بھوت کو بہت پہلے شناخت کرکے اسے لگام ڈال دی تھی،لیکن مسلمانوں نے اس حکم کو بس پشت ڈال کر اپنی زندگیوں کو دکھ کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔
غذا اور پرہیز زندگی کے دو اہم رخ ہیں۔جس طرح زندگی گزارنے کے لئے خوراک و غذا کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح پرہیز بھی انسانی زندگی میں اہم کردار کا حامل ہے ۔طب نبوی پر لکھی گئی کتاب الطب الرسول” میں رسول اللہﷺ کی یہ حدیث نقل کی گئی ہے:
ان اصل کل مرض عُسر الہضم۔یہ بیماریوں کی بنیاد ہی بدہضمی ہے ۔یعنی ہر وقت چیز جسے انسان اچھے طریقے سے ہضم نہ کرسکے بیماری کا سبب بن سکتی ہے ۔دوسری حدیث میں اس کی وضاحت موجود ہے”الشراھۃ اصل کل مرض ،والحمیۃ خیر ۔علاج کہ انسان کو بڑھا ہوا پیٹ بیماریوں کی جڑ ہے اور بہترین علاج پرہیز ہے۔(الرسول الطبیب)

بدہضمی پیٹ کے اوپری حصے میں درد یا تکلیف ہے۔ لوگ اس احساس کو گیس، بھر پور پن ، چبھن یا جلن کے احساس کے طور پر بھی بیان کر سکتے ہیں۔ تھوڑا سا کھانا کھانے کے بعد پیٹ بھرنا (جلد سیر ہو جانا) یا معمول کا کھانا کھانے کے بعد ضرورت سے زیادہ پیٹ بھرنا ہو سکتا ہے۔ پیٹ میں شدید تکلیف کے بارے میں مزید معلومات کے لیے دیکھیں شدید پیٹ میں درد۔بدہضمی کی وجہ سے لاعلمی اور اس کی وجہ سے عام طور پر ہلکی سی تکلیف کی وجہ سے، بہت سے لوگ طبی مدد نہیں لیتے ہیں حالانکہ یہ طویل عرصے سے ہے (یا آتا ہے اور جاتا ہے)۔
بدہضمی کی وجہ پر منحصر ہے، لوگوں میں دیگر علامات ہو سکتی ہیں، جیسے کہ کم بھوک، متلی، قبض، اسہال، گیس بننا، اور ڈکارنا۔ کھانا کھانے سے کچھ لوگوں میں علامات بڑھ جاتی ہیں۔ جب کہ دوسرے لوگ کھانا کھاتے ہیں، علامات کم شدید ہو سکتی ہیں۔جب سے علاج و معالجہ میں پرہیز کا تصور ختم ہوا ہے۔علاج کا تصور بھی ادھورا رہ گیا ہے۔ دوسری بات یہ ہے مریض اپنی مرض کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی پسند و ناپسند کی وجہ سے پرہیز کرتا ہے تو اس کی علاج میں کوئی حیثیت نہیں ہے۔دوسری طرف معالج کی مرضی اور مرض کے اعتبار سے پرہیز کراتا ہے تو مریض کے جلد تندرست ہونے کی امید رہتی ہے۔ ۔
اسلامی شریعت میں انسانی صحت کی حفاظت سے متعلق اس پہلو کا اہتمام بھی موجود ہے، روایت کے مطابق سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی اکرمﷺ کے ساتھ ایک گھر میں داخل ہوئے، گھر میں اَدھ پکی کھجوروں کے خوشے لٹکے ہوئے تھے، نبیﷺکھجور کھانے لگے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی کھانے لگے، آپﷺ نے ان سے فرمایا ’’اے علی!مت کھاؤ، تم ابھی ابھی شفایاب ہوئے ہو، سیدنا علی بیٹھ گئے اور نبی ﷺ کھاتے رہے، پھرچقندر اور جو لایا گیا تو نبیﷺ نے فرمایا ’’اے علی!اس سے کھاؤ! یہ تمہارے مناسب ہے‘‘ (سنن ترمذی: 2037، سنن ابو داؤد: 3856، سنن ابن ماجہ: 3442، الصحیحہ: 59 )علامہ احمد الساعاتی ”الفتح الربانی ”
میں اس حدیث کے تعلق سے لکھتے ہیں: ’’اس حدیث میں اس بات کی طرف رہنمائی موجود ہے کہ مریض نقاہت کے ایام میں مختلف قسم کی چیزوں کی خواہش کرتا ہے لیکن اسے اس کی خواہش کی ساری چیزیں نہیں دی جائیں گی بلکہ ایسی غذائیں دی جائیں گی جو معدہ پر ہلکی ہوں (الفتح الربانی لترتیب مسند الامام احمد: 17؍ 176-177)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انسانی معدہ کی ساخت اور اس میں موجود پرتوں کا تعارف، اور مختلف ہاضماتی مسائل میں ان کے کردار پر مبنی چارٹ نیچے دیا گیا ہے۔ اس چارٹ میں جدید طب اور قدیم طب (طب یونانی) کے نقطہ ہائے نظر کو شامل کیا گیا ہے۔
نوٹ: “قدیم طب” کے تحت آنے والے تصورات خاص طور پر طب یونانی کے اصولوں (مزاج، اخلاط، قویٰ) پر مبنی ہیں۔ جدید طب میں “پرت” (layer) سے مراد ہسٹولوجیکل لیئرز (Histological Layers) ہوتی ہیں، جبکہ قدیم طب میں توجہ زیادہ تر کیفیات (Qualities) اور افعال (Functions) پر رہی ہے۔ اس چارٹ میں یہ موازنہ پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
انسانی معدہ کی ساخت: ایک تعارف
انسانی معدہ کی دیوار چار اہم پرتوں (Tunics or Layers) سے بنی ہوتی ہے:
- میوکوسا (Mucosa): سب سے اندرونی پرت۔ یہ بلغم (Mucus)، تیزاب (HCl)، اور ہاضماتی خامرے (Enzymes) خارج کرتی ہے۔ اس کی تہہ شدہ ساخت ریوگی (Rugae) کہلاتی ہے۔ یہ معدہ کو اپنے تیزاب سے بچاتی ہے اور ہاضمے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
- سب میوکوسا (Submucosa): یہ میوکوسا کے نیچے ہوتی ہے۔ اس میں خون کی نالیاں، لمف کی نالیاں، اور اعصاب (Submucosal plexus) ہوتے ہیں جو میوکوسا کی مدد کرتے ہیں۔
- عضلاتی پرت (Muscularis Externa): یہ پرت پٹھوں سے بنی ہوتی ہے اور معدہ کی حرکت (Peristalsis) کا سبب بنتی ہے تاکہ خوراک کو مکس کیا جا سکے اور اسے آگے بڑھایا جا سکے۔ اس میں تین اقسام کے عضلات ہوتے ہیں: ترچھی (Oblique)، سرکلر (Circular)، اور لمبی (Longitudinal)۔
- سیروسا (Serosa): یہ سب سے بیرونی اور پتلی پرت ہے جو معدہ کو ڈھانپتی ہے اور اسے پیٹ کے دیگر اعضاء سے الگ رکھتی ہے۔
جدول: ہاضماتی مسائل اور متاثرہ پرتیں – جدید و قدیم طب کا موازنہ
| نمبر | مرض / بیماری | جدید طب کے مطابق متاثرہ پرت (Layers) | قدیم طب (طب یونانی) کے مطابق متاثرہ حصہ / کیفیت / قوت |
| 1 | قبض (Constipation) | اگرچہ قبض کا زیادہ تر تعلق آنتوں (خصوصاً بڑی آنت) کی حرکت سے ہے، مگر معدہ کے معاملے میں اس کا تعلق عضلاتی پرت (Muscularis Externa) کی حرکت میں کمی (ہاضمے کے بعد معدہ کے خالی ہونے کی رفتار) سے ہو سکتا ہے، جس کی وجہ سے حرکت سست پڑ جاتی ہے۔ | اس کا تعلق اکثر یبوست (خشکی) کی زیادتی یا برودت (سردی) کی وجہ سے انتڑیوں میں خشکی یا پٹھوں کی کمزوری سے ہوتا ہے، جس سے فضلات خشک ہو جاتے ہیں اور حرکت سست پڑ جاتی ہے۔ قوتِ مدافعت (Expulsive Power) کمزور ہو جاتی ہے۔ |
| 2 | بدہضمی (Indigestion / Dyspepsia) | یہ ایک وسیع اصطلاح ہے۔ اس میں اکثر میوکوسا (Mucosa) متاثر ہوتی ہے (مثلاً سوزش یا السر)، یا پھر عضلاتی پرت (Muscularis Externa) کی حرکت غیر معمولی ہو سکتی ہے (Functional Dyspepsia)۔ تیزاب کی زیادتی یا کمی بھی میوکوسا کو متاثر کرتی ہے۔ | یہ عام طور پر معدہ میں رطوبت (نمی) یا برودت (سردی) کی زیادتی کی وجہ سے معدہ کی حرارتِ غریزی (Innate Heat) کی کمی یا سوء مزاج (خراب مزاج) کی وجہ سے ہوتا ہے، جس سے ہاضمہ کا عمل سست یا ناقص ہو جاتا ہے۔ |
| 3 | دست و اسہال (Diarrhea) | اس کا تعلق زیادہ تر آنتوں (خصوصاً چھوٹی آنت) کی میوکوسا (Mucosa) سے ہوتا ہے، جہاں پانی اور نمکیات جذب نہیں ہو پاتے، یا وہ زیادہ خارج ہوتے ہیں۔ بعض حالات میں عضلاتی پرت (Muscularis Externa) کی حرکت تیز ہو جاتی ہے۔ معدہ کا تعلق کم ہوتا ہے۔ | اس کا سبب اکثر رطوبت (نمی) کی زیادتی، ریاح (گیس) کا دباؤ، یا غلیظ اخلاط (جیسے صفراء یا بلغم کی کثرت) کی وجہ سے آنتوں کی رطوبت اور حرارت میں توازن بگڑ جانا ہوتا ہے، جس سے اخراج بڑھ جاتا ہے۔ |
| 4 | قے (Vomiting / Emesis) | یہ ایک پیچیدہ ریفلیکس ہے جس میں عضلاتی پرت (Muscularis Externa) زور دار انداز میں سکڑتی ہے، جس سے معدہ کا مواد منہ کے ذریعے باہر نکل جاتا ہے۔ میوکوسا (Mucosa) پر سوزش یا خراش بھی اس کا سبب بن سکتی ہے۔ | یہ اکثر معدہ میں برودت (سردی) یا سوء مزاج (خراب مزاج) کی زیادتی، یا معدہ میں کسی زہریلی یا غیر فطری چیز کی موجودگی کی وجہ سے ہوتا ہے، جسے نکالنے کے لیے طبیعت (Nature) حرکت کرتی ہے اور قوتِ جاذبہ (Attractive Power) کمزور پڑ جاتی ہے۔ |
نوٹ: اس چارٹ میں دی گئی معلومات عمومی ہیں اور ان کا اطلاق ہر انفرادی معاملے پر ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی طبی مشورے یا علاج کے لیے ماہر حکیم یا معالج سے رجوع کرنا ضروری ہے۔
مرتب کردہ:
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبوی
