کلیاتِ سالار پوری،

(جنگ نامہ میوات” اور “سچی سچی کہے کمال۔ایک کہانی ایک پیغام ۔)

  1. کتاب کا تعارفی پس منظر
    عنوان: جنگ نامہ میوات / فتح نامہ میوات
    مصنف: محمد کمال الدین کمال سالار پوری میواتی
    مرتب و پیش کار:
    حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو (سعد طبیہ کالج و سعد ورچوئل سکلز پاکستان)
    پہلا ایڈیشن: 1953
    نوعیت:

یہ کتاب بنیادی طور پر منظوم تاریخ ہے، جس میں میو قوم کی شجاعت اور خصوصاً 1947ء کے انقلابی حالات کو قلمبند کیا گیا ہے

  1. مصنف کا علمی و ادبی مقام
    شوکت ہاشمی کے تعارف اور کتاب کے پیش لفظ کے مطابق کمال سالار پوری ایک ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے
    علمی استعداد: وہ اردو، فارسی اور عربی زبانوں پر مکمل دسترس رکھتے تھے اور ان کا مطالعہ نہایت وسیع تھا
    شاعری کا اسلوب: ان کی شاعری میں علامہ اقبال کا پیغام، جوش ملیح آبادی کا جوش اور اختر شیرانی کا رومانوی رنگ یکجا نظر آتا ہے
    دیگر تصانیف:

ان کا ایک ضخیم شعری دیوان (غیر مطبوعہ) اور “معصوم بھکاری” کے نام سے ایک ناول بھی ان کے علمی ترکے میں شامل ہے

  1. مرکزی موضوعات اور مندرجات کا تجزیہ
    الف) میوات کی منظوم تاریخ
    کمال سالار پوری نے تاریخ کو محض خشک حقائق کے بجائے “روحانی معلم” کے طور پر پیش کیا ہے [
    ۔ کتاب میں ہندوستان کی قدیم تاریخ سے لے کر مختلف اقوام کی آمد کو ترتیب وار نظم کیا گیا ہے:
    قدیم ہندوستان: ہندوستان کی ابتدائی حالت اور قدیم قبائل (سنتھال، کول، منڈ) کا تذکرہ
    اقوام کی آمد: دراوڑوں، آریوں اور ہنوں کی آمد اور ان کے اقتدار کی تبدیلیوں کو شعری قالب میں ڈھالا گیا ہے
    میو قوم کی شجاعت: مصنف نے میو قوم کو ہندوستان کی سب سے شجاع قوم قرار دیا ہے جس نے آٹھ نو صدیوں تک اسلام سے وابستگی کے دوران پرتھوی راج چوہان سے لے کر انگریزوں تک ہر غاصب کا مقابلہ کیا
    ب) تحریکِ آزادی اور 1947ء کے واقعات
    کتاب کا ایک اہم حصہ 1947ء کے فسادات اور میوات میں ہونے والے انقلاب کے گرد گھومتا ہے
    ۔ مصنف کے مطابق:
    وہ ان واقعات کو اس لیے قلمبند کر رہے ہیں تاکہ مستقبل میں یہ محض “افسانے” بن کر نہ رہ جائیں

انہوں نے اعتراف کیا کہ ان کا اپنا گاؤں اس وقت محاصر میں تھا، اس لیے انہوں نے چودھری شفاعت احمد اور چودھری بشیر احمد جیسے معتبر افراد کی روایات سے مدد لی

  1. سماجی و اصلاحی پہلو
    کتاب میں جہاں بہادری کے قصے ہیں، وہاں میو قوم کی بعض کمزوریوں پر بھی کڑی تنقید کی گئی ہے:
    علم بیزاری: قوم کی کتاب سے دوری اور اہل قلم کی قدر نہ کرنے کا شکوہ جا بجا ملتا ہے

پال بندی (قبیلہ پرستی): مصنف نے “پال بندی” کو قوم کا شیرازہ بکھیرنے والی ایک “منحوس شے” قرار دیا ہے اور اس سے بالاتر ہو کر قومی اتحاد کی دعوت دی ہے

  1. فنی و اسلوبیاتی تجزیہ (ماہرانہ نقطہ نظر)
    ایک تجزیہ نگار کی حیثیت سے اس کتاب کے درج ذیل پہلو نمایاں ہیں:
    1 قومی رزمیہ (Epic): یہ کتاب میوات کے تناظر میں ایک رزمیہ کی حیثیت رکھتی ہے جو قوم کے مردہ قلوب کو زندہ کرنے کا جذبہ رکھتی ہے
  2. حقیقت نگاری: مصنف نے مبالغہ آرائی کے بجائے “احوالِ واقعی” بیان کرنے کی کوشش کی ہے، چاہے وہ تلخ ہی کیوں نہ ہوں
  3. لسانی مہارت: حمد و نعت کے اشعار سے ان کی گہری مذہبی وابستگی اور زبان پر قدرت کا اظہار ہوتا ہے

6. موجودہ ایڈیشن کی اہمیت  
Advertisements

حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو نے اس تاریخی ورثے کو ڈیجیٹل ایڈیشن کی صورت میں محفوظ کر کے ایک بڑا قومی فریضہ سرانجام دیا ہے انہوں نے اسے سعد طبیہ کالج اور سعد ورچوئل سکلز پاکستان کے تعاون سے نئے سرے سے کمپوز کروا کر منظرِ عام پر لایا ہے تاکہ میو قوم کا تاریخی تسلسل برقرار رہے ۔

حاصلِ کلام:
کلیاتِ سالار پوری” محض ایک شعری مجموعہ نہیں، بلکہ میوات کی عظمتِ رفتہ، جدوجہدِ آزادی اور سماجی مسائل کا ایک مستند آئینہ ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہو سکتا ہے۔

محمد کمال الدین کمال سالار پوری کی شاعری میں میوات کی تاریخ اور ثقافت کو مرکزی اہمیت حاصل ہے، اور ان کی تخلیقات، خاص طور پر “جنگ نامہ میوات”، میو قوم کی تاریخی جدوجہد اور ثقافتی تشخص کی ایک زندہ دستاویز تصور کی جاتی ہیں،۔

کمال سالار پوری کی شاعری میں میوات کی اہمیت کے چند کلیدی پہلو درج ذیل ہیں:

1۔ تاریخی شعور اور قومی بقا:**
کمال سالار پوری کا ماننا ہے کہ کسی بھی قوم کی ترقی اور عروج و ارتقا کے لیے اپنی تاریخ سے واقفیت لازمی ہے۔ وہ میو قوم کی آٹھ سو سالہ تاریخ، خاص طور پر ان کی شجاعت اور سلطنتِ دہلی کے مختلف ادوار (جیسے غیاث الدین بلبن اور جلال الدین اکبر) میں ان کی مزاحمت کو اپنی شاعری کا موضوع بناتے ہیں،۔ ان کے نزدیک تاریخ ایک “روحانی معلم” ہے جو مردہ دلوں کو زندگی بخشتی ہے۔

2۔ 1947 کے واقعات کی دستاویزی حیثیت:
ان کی شاعری کا ایک بڑا حصہ 1947 کے ہنگاموں اور میوات میں ہونے والے قتل و غارت کے واقعات پر مبنی ہے۔ انہوں نے ان واقعات کو “جنگ نامہ” کی صورت میں قلمبند کیا تاکہ مستقبل کی نسلیں ان سے سبق حاصل کر سکیں اور یہ واقعات محض افسانہ بن کر نہ رہ جائیں۔ انہوں نے مختلف مقامات جیسے سیکری، نوگانواں، اور دیگر علاقوں پر ہونے والے حملوں اور میو قوم کی دفاعی جدوجہد کو تفصیل سے بیان کیا ہے،،۔
3۔ میواتی ثقافت اور زبان کا تحفظ:**
کمال سالار پوری نے اپنی شاعری میں میوات کی مقامی زبان اور لب و لہجے کو بڑی خوبصورتی سے برتا ہے۔ ان کی منظومات جیسے “سچی سچی کہے کمال” میں میواتی ثقافت، سماجی مسائل اور عوامی دانش کی جھلکیاں ملتی ہیں،،۔ وہ میوات کے جغرافیے، وہاں کے پہاڑوں (ارولی کے دامن)، کھیتوں اور بدلتے موسموں کا ذکر اس طرح کرتے ہیں کہ وطن سے ان کی گہری محبت ظاہر ہوتی ہے،۔
4۔ حب الوطنی اور میوات سے لگاؤ:**
ان کی شاعری میں “وطن کی یاد” ایک اہم موضوع ہے۔ وہ میوات کی خاک کو “مقدس” قرار دیتے ہیں اور ہجرت کے بعد بھی ان کا دل اپنے آبائی وطن کی گلیوں، چشموں اور وہاں کے لوگوں کی یاد میں تڑپتا رہتا ہے،۔ وہ میوات کے ذرے ذرے میں ماضی کی عظمت تلاش کرتے ہیں۔

5۔ میو قوم کی اخلاقی اور سماجی اصلاح:
تاریخی واقعات کے ساتھ ساتھ وہ اپنی قوم کی اخلاقی تربیت پر بھی زور دیتے ہیں۔ وہ تاریخ کے ذریعے شجاعت، سخاوت اور بلند نظری جیسے اوصاف کو اجاگر کرتے ہیں اور قوم کو بیدار کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ وہ اپنی کھوئی ہوئی پہچان دوبارہ حاصل کر سکے،۔

مختصر یہ کہ کمال سالار پوری کی شاعری محض لفظوں کا مجموعہ نہیں بلکہ میوات کی تاریخی جدوجہد اور ثقافتی ورثے کا ایک تسلسل ہے، جو میو قوم کو ان کی اصل جڑوں سے جوڑے رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے،۔

Leave a Comment

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid, the visionary mind behind Tibb4all, revolutionizes education and daily life enhancement in Pakistan. His passion for knowledge and unwavering community dedication inspire all who seek progress and enlightenment.

More About Me

Newsletter

Top Selling Multipurpose WP Theme