
رمضان المبارک کی 27ویں شب۔کچھ یادیں کچھ عبادتیں۔
رمضان المبارک کی 27ویں شب۔کچھ یادیں کچھ عبادتیں۔
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
رمضان المبارک1447 بمطابق2026 کی چند الوداعی ساعتیں باقی ہیں۔زند ہ لوگوں نے فائدہ اٹھایا ۔جو چلے گئے وہ اللہ کے حوالے۔
کل رات ستاوئیں شب کو چھوٹے بھائی مولوی محمد اکرم کے بیٹے حافظ خبیب حفظہ اللہ کا تراویح میں تکمیل قران تھا ۔حافظ صاحب کو اللہ نے بہترین آواز سے نوازا ہے۔منزل بھی کافی پختہ ہے( اللہ نظر بد سے محفوظ رکھے)لے اور سُر بھی دلکش ہے۔حافظ خبیب نے تراویح کے علاوہ تقریبا بارہ پارے نماز فجر میں تھوڑا تھوڑا کرکے مکمل کرلئے ہیں ۔
مسجد کی انتظامیہ ہر سال بندہ ناچیز کو ختم قران کریم کی تقریب میں مختصر بیان اور دعا کے لئے بلاتے ہیں ۔امسال بھی بلایا۔یہ لوگ اپنے سارے پروگرام مختصر اور پر اثر طریقے سے سرانجام دیتے ہیں ۔
امام و مقتدی حضرات میں ہم آہنگی موجود ہے۔یوں باہمی مشاورت سے جو وقت متعین کیا جاتا ہے اس میں اپنے پروگرامز سمیٹ لیتے ہیں۔
یوں نشاط و رغبت کا ماحول رہتا ہے۔میں بھی اسی حق میں ہوں بجائے لوگوں کو گھروں سے نکال نکال کر جنت میں لیجانے کے لئے گھسیٹا جائے۔ان کی مرضی پر چھوڑ دیا جائے جس کا جتنا جی چاہے مسجد میں رُکے جب چاہے گھر چلا جائے ۔کسی کا انتظار نہ کسی کی محتاجی ۔برَوقت شروع

برَوقت ختم ۔
انتظامیہ نے تقسیم تبریک کے لئے مشورہ کیا کہ پرانے انداز کو دہرایا جائے۔
لہذا شیرنی بازار سے منگاکر تقسیم کرنے کے بجائے۔وہیں پر ایک مقتدی کی خدمات مستعار لی گئیں اور دیسی لڈو بیسن والے بنائے گئے۔
تقریب قران کریم میں جتنی باتیں ہوئیں لوگوں نے کمال توجہ و انہماک سے سُنیں ۔ اس کے بعد لڈو اور چائے پیش کئے گئے۔
سب نے جی بھرکے کھائے۔بڑوں کو ایک سہولت دی گئی کہ ایک ایک دودو لڈو گھروں میں مائیوں کے لئے بھی لے کے جاسکتے ہیں۔
بچپن میں ہم نے یہ سین دیکھا ہے کہ لوگ تراویح میں تقسیم ہونے والی پھلیاں اور پتاشے گھروں میں لایا کرتے تھے۔اس تبرک کو خاص اہمیت حاصل تھی۔
ہماری والدہ محترمہ جب ہم قران کریم سناتے اور تراویح میںختم قران کریم کرتے تھے تو بہت خوش ہوا کرتی تھیں۔ہمارے لئے بہت سے دعائیں دیتیں ۔سر پے ہاتھ پھیرا کرتی تھیں۔عجیب روح پرور منظر ہوا کرتا تھا ۔ ۔آج سے سات سال قبل اسی ستائیسویں شب قدر میں سحری کی آذان کے وقت ان کی طبیعت خراب ہوئی۔ سانس اکھڑا پانی کے چنڈ گھونٹ پلانے کی کوشش کی گئی ۔لیکن گھبراہٹ بڑھتی گئی۔ جیسے جیسے آذان فجر مکمل ہوتی گئی ایسے ایسے ان کی سانسیں بھی پوری ہوتی گئیں ۔
موذن نے لا الہ اللہ کہا والدہ محترمہ کی روح پرواز کرگئی۔ارجعی الی رنک راضیۃ مرضیہ۔
میں اس وقت قران کریم تراویح میں مکمل کرکے اعتکاف میں بیٹھا ہوا تھا۔
اعتکاف سے اٹھ کر آخری رسومات میں شرکت کے لئے گائوں پہنچا ۔
ہماری دادی مرحومہ اور والدہ مرحومہ قران کریم سے خاص لاگائو رکھتی تھیں ۔
دونوں کی خواہش ہوتی تھی کہ ختم قران کرے وقت انہیں دعائوں میں نام لیکر شامل کیا جائے۔
آج وہ ہوتیںتو پوتے کی تکمیل قران کریم سے بہت خوش ہوتیں۔
آخر میں پاکستان کی سلامتی کے لئے خصوصی دعا کی گئی۔
