
تقسیم ہند کے وقت میو برادری کے لئے مشکلات
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
میو قوم ہندستان چھوڑ کر آئی ضرور تھی ،لیکن ان کے ذہن میں دو طرح کے حالات غلطاں و پیچاں تھے۔
اپنی جنم بھومی کو بغیر کسی تیاری اور پیش بندی کے چھوڑنا۔جس کے لئے اس نے نسلوں تک لڑائی لری ۔
اغیار سے نبرد آزما رہی۔جہاں بہت سی خوبیاں تھیں جن کی یہ قوم عادی تھی۔ہمدردی ایثار۔محبت۔
بھائی چارہ،اور قانونی پیچیدگیوں سے دور۔مختصر وسائل میںرہ کر بہتر زندگی جینے کا سلیقہ۔میو قوم کا قبائلی نظام ۔پنچائت ،
ناطہ ،گوت۔خاندانی نظام باوجود فرسودہ ہونے کے لیکن برادری کے مسائل ومعاملات کو بہتر انداز میں حل کرنے کی طاقت رکھتا تھا۔باہمی تنازعات۔مقامی پرخاشین وہیں پر حل ہوجایا کرتی تھیں۔
ایک ایسا نظام تھا جس میں گھر کا بڑا بوڑھا ۔بزرگ اپنے گھر کنبہ پر اتنی گرفت رکھتا تھا کہ۔
ہلکے پھلکے لڑائی جھگڑے ۔باہمی تنازعات وہ گھر میں بیٹھ کر حل کرلیا کرتے تھے۔
اگر کوئی تنازع بڑھتا تو گائوں کے معزیزین اس کے حل کے لئے سرجوڑ کر بیٹھ جایا کرتے تھے۔۔
اسی طرح اگر گائوں بستی یا علاقائی مناقشات سامنے آتے تو اس سے کچھ اوپر کے لوگ یعنی گائوں کی چوہدریں جمع ہوکر انصاف کیا کرتے تھے۔

میو قوم عدالتی چکروں اور طویل مقدمات سے زیادہ آشنا نہ تھی ۔
ایسا نہیں ہے کہ میوات میں جھگڑے نہیں ہوا کرتے تھے۔یہ کیسے ممکن ہے ۔انسانی فطرت میں مناقشات نہ ہوں تو جینے کا مزہ ہی ختم ہوجائے۔لیکن میوات کے لوگوں میں بڑوں احترام اور پنچائت کی تعبداری کا عنصر موجود تھا۔گوت،پال اور اس کی ذیلی شاخیں
اپنے معاملات خود وضع کردہ نظام کے تخت کیا کرتی تھیں۔
گول پال کا نظام میوات کیا پورے ہندستان میں رائج تھا ۔
لیکن میوات اس کی اہمیت زیادہ تھی۔اس نظام کا جہاں فائدہ تھا وہیں پر اس کا دوسرا پہلو بھی نمایاں ہوتا رہا۔
جب تک میو قوم کو دشمن میسر آتے رہے یہ ان سے مشغول رہے۔
جب وقفہ امن ہوتا تو یہ لوگ باہمی ناط گوت کے تفاخر میں ایک دوسرے کے دست و گریبا ن ہوتے بھی دیکھے گئے۔
میو قوم کو گوت اور پال نے ایک زمانہ تک فائدہ پہنچایا ۔اس سے کاندانی نظام محفوظ رہا۔
لیکن نقصاند ہ پہلو یہ سامنے آیا کہ ایک گول و پال کا میو دوسرے گوت پال کے میو پر کسی نہ کسی انداز میں برتری جتانے لگتا ۔
ایسے مناظر بھی زمانے کی آنکھ نے دیکھے ہیں کہ اس تفاخر نے میو قوم کو حرب کاری بھی لگائی۔
آج تھی بہت سارے میو اپنے نام کے ساتھ پال یا گوت لکھتے ہیں ۔
میو لکھنے کو مناسب نہیں سمجھتے۔کوئی دولوت لکھتا ہے تو کوئی اپنے نام کے ساتھ چھرکلوت لکھتا۔
کوئی باگھوڑیا۔کسی کو ٹکریا۔تو کسی کو منگریا کہا جاتا ہے۔اسی قبیل سے بہت سےنظائر پیش کئے جاسکتے ہیں۔۔
آج ماحول کافی حد تک سازگار ہوچکا ہے میو قوم کے افراد نے اپنے نام کے ساتھ میو لکھنا شروع کردیا۔بہت خوش آئیند بات ہے۔
میو لکھنے اور نات گوت لکھنے میں بنیادی فرق۔
جب کوئی اپنے نام کے ساتھ نات گوط لکھتا ہے تو بنیادی طورپر وہ اسی تفاخر کا اظہار کرتا ہے جو اس کے ناط و گوت کے ساتھ منسوب ہوچکا ہے۔یعنی موصوف ابھی تک باپ دادا سے منسوب واقعات یا تاریخ کے دھندلکوں میں موہوم سے پرچھائیوں پر خوش ہے کہ میرے بڑوں نے یہ کیا تھا؟۔
اگر پوچھا جائے کہ تم کیا ہو؟۔تم نے زندگی میں کونسے کارنامے سرانجام دئے ہیں تو سانپ سونگھ جاتا ہے۔
اگر اسے شخصی ناکامیوں پر چشم پوشی یا مجرمانہ دائو پیچ کہا جائے تو مناسب ہوگا۔
دوسری بات یہ کہ ۔اپنے نام کے ساتھ لفظ میو،میواتی ،لکھنا۔
بنیادی طورپر یہ اجتماعیت اور میو قوم کی مجموعی نمائیندگی کے مترادف ہے۔
یعنی جب کوئی اپنے نام کے ساتھ ۔میو لکھے گا تو وہ میو قوم کا ایک فرد ہوگا۔
نہ کہ کسی خاص ناط گوت کا نمائیندہ۔اب حالات ایسے نہیں کہ میو لکھنا کوئی معیوب بات ہو۔
اب میو قوم کو اللہ نے نمایاں مقام دیدیا ہے۔
1947کی ہجرت کے وقت مہاجر کیمپوں میں مہاجرین کے ساتھ جو انسانیت کو شرمندہ کردینے والے واقعات پیش آئے۔
وہ تاریخ کے چہرے پر سیاہ دھبوں کی صورت میں باقی رہیں ۔
میو قوم کو ان کیمپوں میں ایسے لوگوں سے پالا پڑا تھا جن کی مخرب اخلاق عادات کے بارے میں کبھی انہوں نے خواب و خیال میں بھی نہ سوچا تھا ۔وہ جیسے ماحول اور آزادی دنیا سے اٹھ کر آئے تھے۔
جتنا وہ ساتھ لیکر آئے اس سے کہیں زیادہ پیچھے چھوڑ کر آئے تھے۔
میو قوم اپنے اندر سخاوت کا نمایاں عنصر رکھتی ہے۔
میوات میں جو نظام رائج تھا،اس میں میو ہاتھ اٹھا کر دان دیا کرتا تھا۔
اس کے گھر مین فصل (اناج)بعد میں آیا کرتا تھا یہ پہلے اپنے خدمت گزاروں ۔
کمی کمیوں کے گھر پہنچایا کرتھا ۔ان کے لگواتی لوگ اپنے گھروں کی اتنا اناج جمع کرلیا کرتے تھے کہ زمیندار کے گھر میں بھی اتنا نہ بچتاتھا۔مہاجر کیمپوں میں یہ دانہ دانہ کو ترسے ۔وبا ئوں کا شکار ہوئے۔
جو دوسروں کا پیٹ پالتے تھے خود ٹکڑوں کے محتاج ہوئے۔
جس پاک وطن کی نوید سنا کرانہیں گھر چھوڑنے پر مجبور کیا گیا تھا کہ وہاں ایثار و ہمدردی ہوگی۔
اسلامی نظام ہو گا۔کلمہ کے نام پر بٹوارے میں امن کا گہوارہ ہوگا۔
لیکن تلخ حقیقت یہ تھی کہ یہ نایاب چیزیں خواب وخیال تھیں ،ان کیمپوں میں ان کا گزر نہ تھا۔
میرے دادا ۔اور دادی مرحومین جو خونین مشاہدات سنایا کرتے تھے۔
وہ ہمارے بچگانہ ذہنوں میں ایسے پختہ ہوئے کہ جم کر رہ گئے۔
سعدی شیزاری کہہ گئے
جس بنیاد کی پہلی اینٹ ٹیڑگی رکھی گئی وہ دیوار آسمان تک بھی چلی جائے ٹیڑگی ہی رہے گی۔
جو تذلیل ان مہاجر کیپموں کی مہاجرین کی ہوئی شاہد اس کے اثرات ابھی تک باقی ہیں۔
جس سقم کے تحت یہ سب کچھ ہوا وہ سقم آج بھی موجود ہے ۔اس میں سدھار نہیں آیا۔
خدانخواستہ جب کبھی ایسے حالات دوبارہ رونما ئے ۔وہی مناظر پھر سے دیکھنے کو ملیں گے،
حکام بے حس تھے انہیں تو اصلاح کی ضرورت ہی کیا تھی؟
البتہ مظلومین کو جب بہتر حالات میسر آئے تو انہوں نے بھی یہ بات فراموش کردی کہ اگر دوبارہ ایسے حالات جنم لیں تو اس کے لئے بہتر اقدامات کیا ہوسکتے ہیں؟کیونکہ تاریخ اور واقعات خود کو دوہراتے رہتے ہیں۔
