
پاکستان آمد کے بعد میواتی قوم کی آبادکاری کے مسائل۔
حکیم المیوات قاری محمد یوس شاہد میو
۔میو قوم اپنے مزاج کی انفردایت کی وجہ سے دوسروں کے ساتھ اجنبیت محسوس کرتی تھی۔میوات کے علاقے میں میواتیوں میں بہت سے لوگ شامل تھے۔پورے راجستھان میں میواتی بولی اور سمجھی جاتی ہے۔اس خظے کی اپنی روایات ہیں۔یہاں کے باشندے ہندستان کے دوسرے باشندوں کے رہن سہن اور عادات و اطوار میں جداگانہ خصائل کے مالک ہیں۔
میو قوم بھی اپنی انفرادیت رکھتی ہے۔یہ لوگ دہلی کے پڑوسی تھے ،دہلی میں میواتی بولی بخوبی سمجھی جاتی ہے ۔ اس کے علاوہ ہریانوی۔اردو رانگھڑی جیسی زبانیں بھی میواتی سے اتنا گہرا رابطہ رکھتی ہیں کہ اگر ایک دوسرے سے اپنی اپنی بولی میں بات چیت کی جائے تو سمجھنے میں دشواری نہیں ہوتی۔
1947 کی ہجرت و دنیا کی سب سے بڑی ہجرت تھے ۔ میں سارا ہندستان ہی متاثر ہوا ۔لیکن اگر انفرادی قوم کا دوسرے اقوام و برادیوں سے موازنہ کیا جائے تو میو قوم کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔
میو قوم کا پنجاب سے رابطہ بہت کم تھا۔پنجاب کی آب و ہوا اور یہاں کے باشندوں کے مزاج سے آشنائی نہ تھی ۔ جب اپنا علاقہ چھوڑ نا پڑا۔اور ایسے علاقے اور لوگوں سے سابقہ پڑا جن کی نفسیات۔جن کی عادات و اطوار یکسر مختلف تھے۔

جس جنم بھومی کو چھوڑ کر میو قوم نے مہاجر کیمپوں میں رہائش کی تھی۔وہاں اور یہاں کے لوگوں میں زمین آسمان کا فرق تھا۔جہاں سے آئے وہ لوگ زبان کے پکے۔وفادار۔مان سمان رکھنے رکھانے کے عادی۔دی ہوئی زبان پر سب کچھ قرباقن کرنے کی خو،دھوکہ دہی۔ دغابازی،جھوٹ فریب وغیرہ سے دور ۔ ایسے لوگوں سے پالا پڑا ۔جن کا خمیر ہی دغابازی ۔بددیانتی۔قانون شکنی۔اپنے عہدے اور ذمہ داریوں سے عدم دلچسپی ،سرکاری نوکر کیا ہوئے گویا چھوٹے موٹے خدا ہوئے۔
جب میو قوم کو ان لوگوں سے پالا پڑا تو وہ اپنی عادات و اطوار سے مجبور ہوکر قانونی پیچدگیوں سے ناآشنا ایسے خوار ہوئے کہ کئی نسلوں تک ا نہیں مقامی طورپر تسلیم ہی نہ کیا گیا۔
میو قوم پنجاب یا پاکستان میں شامل خطہ کی عادات و اطوار سے ناآشنا ہونے کی وجہ سے بہت سی تکلیف دہ مراحل سے گزرے۔میو قوم کو اس خظہ کو سمجھنے اور یہاں کے باشندوں کی نفسیات سے آشنا ہونے کے لئے تین دیہائیاں لگیں۔جو لوگ ہجرت کرکے آئے تھے وہ تو نہ سمجھ سکے۔البتہ جونسل پاکستان میں پیدا ہوئی ان کے سامنے ہر وہ پیچیدگی کھلتی گئی جو ان کے بڑوں کی سمجھ میں نہ آئی تھی۔
میو قوم کیقیمتی جائیدادیں کلمیوں شکل میں ایک کاغذ کے پرزے پر رقم تھیں۔جن کی جائیدادیں تھی وہ تو مر کھپ گئے۔ان کی اولادیں تھیں ۔انہیں مقامی لوگوں نے ورغلایا اور ان کی جائیدادیں ہتھیانے کے لئے مختلف حربے استعمال کئے گئے۔ان کی بہترین زمین کے بجائے نکمی و بنجر زمینیں دی گئیں۔
جہاں میو قوم کی الاٹ منٹ ہوئی انہیں قبضے نہ دئے گئے۔جہاں میو قوم آباد ہوئی انہین تسلیم نہ کیا گیا۔اگر حقیقت پسندانہ تجزیہ کیا جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ میو پاکستان میں اپنے لٹھ کے بل بوتے پر آباد ہوئے۔ان کی حیثیت و شناخت کسی نے تسلیم نہیں کہ بلکہ انہوں نے بزرو تسلیم کرائی ہے۔ایسے واقعات بھی ملتے ہیں کہ آبادی و بسارت اور زمینوں کے سلسلے مین کئی ایک خون بھی بہائے گئے۔
مقامی لوگوں نے انہیں اچھوت سمجھا۔ان کی قانونی حیثیت چیلنج کی گئی۔ان کے حقوق غصب کرنے کی ہمہ وقت کوشش کی گئی۔
