میو قوم کی شناخت اور بقا

0 comment 20 views

میو قوم کی شناخت اور بقا
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
سعد ورچوئل سکلز پاکستان
سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویﷺ کاہنہ نو لاہور
میو قوم اپنی وضع قطع ،رہن سہن عادات و اطوار میں ایک رکھ رکھائو رکھتی ہے۔ہندستان کی تاریخی میں جو کردار میو قوم نے یا خطہ میوات نے ادا کیا ہے اس کی انفردایت کا ااندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ دستیاب تاریخ ہندستان کی کتب اٹھاکر دیکھ لیں ۔آپ کو ہر کتاب میں میو قوم دکھائی دیگی۔
میو قوم ایک زندہ کردار تھی ۔اور آج بھی زندہ کردار ہے۔میو قوم کے ساتھ تاریخ دانوں نے جو کچھ بھی کیا ۔اس کے متعدد وجوہ تھے۔اور سلطنتوں نے میوات اور میو قوم کے ساتھ جو کچھ کیا وہ سیاسی اور جغرافیائی حالات تھے۔

Advertisements

میو قوم سے جو بن پڑا انہوں نے کیا ۔حکومتوں سے جو بن پڑا انہوں نے کیا۔کیا اچھا تھا کیا بُرا۔اس بار کا تعین وہ لوگ بہتر کرسکتے ہیں جنہوں نے یہ پالیسیاں اختیار کیں ۔بعد والے نہ تو ٹھیک طریقے ان حالات کو جانتے ہیں،نہ ان کے سامنے وہ مجبوریاں ہیں ۔جن کی بنیاد پے فیصلے کئے گئے۔۔
جتنا کچھ آج ہمارے پاس لکھنے کے لئے مواد ہے ،یہ اس تاریخ کا دھول میں اڑتا ہوا ایک ذرہ ہے۔جس سے اڑنے والی دھول کا تخمینہ لگایا تو لاگایا جاسکتا ہے ۔لیکن حقیقی ادراک کسی بس کی بات نہیں

۔
قومیں صدیوں تک ارتقائی سفر کی منازل طے کرتی ہیں ۔آگے بڑھنے کے لئے پائوں کی مٹی چھوڑنی پڑتی ہے۔۔اس مٹی کے ساتھ جو یادیں ،وابسطہ ہوتی ہیں ان سے بھی دست بردار ہونا پڑتا ہے۔ایک مسافر کے لئے سرائے کتنی بھی آرام دہ کیوں نہ ہو۔بہر حال وہ منزل کی کشش نہیں رکھتی ۔پل دو پل ۔یا کچھ گھڑایں گزر کر آگے بڑھنا ہی مسافر کا مقصد ہوتا ہے۔
میو قوم اور اہل میوات بھی ارتقائی منازل طے کرتے ہوئے۔آگے بڑھے ۔اس سفر میں انہیں اپنی ثقافت۔تہذیبی روایات۔،من پسند ماحول۔اپنی جنم بھومی۔اپنا بچپن و جوانی۔چھوڑ کر آگے بڑھنا پڑا۔
تہذیبیں ایک خطہ میں پروان ضرور چڑھتی ہیں ۔لیکن انہیں جوان ہونے اور آگے بڑھنے کے لئے نئی آب و ہوا۔نئی زمین۔نیاماحول درکار ہوتا ہے۔اس لئے انہیںاپنے قدم آگے بڑھانے۔اور آنے والے کل کی تیاری کے لئےرخت سفر باندھنا ہی ہوتا ہے۔
میو قوم نے تاریخ ہند میں ایک جاندار کردار ادا کیا۔جرائت و بہادری میو کے پاس تھی ۔جبکہ حکومت اور قلم مخالف کے پاس۔یہ دونوں متوازی چلتے رہے۔۔میو قوم کے نقش زمین پر ثبت رہے ۔جبکہ قلم کے نقوش کتب میں مرتکز ہوئے۔جن کے پاس قلم و کتاب نہیں ہوتی انہیں قدرت دوسرے ذرائع دیتی ہے جس سے وہ اپنا ماضی حافظوں کی مدد سے محفوظ رکھتے ہیں۔۔
آپ عربوں کی کتب اٹھاکر دیکھ لیں کہ ان کی تخلیق سے پہلے روایات کی حفاظت اور انساب کو کس طرح سینہ بسینہ ایک نسل دوسری نسل کو منتقل کرتی ہیں۔جب قلم چلانا سیکھ جاتے ہیں تو یہ بوجھ سینوں سے سفینوں میں منتقل ہوجاتا ہے۔یہی حال میو قوم کا بھی ہے۔عربوں کو انتخاب نیابت کی وجہ سےنبوت سے نوازا گیا۔جب کہ میو قوم اس نعمت سے محروم رہی۔اگر اوصاف اور دلیری بہادری۔آزادی سے محبٹ حب الوطنی۔ایفائے عہد۔قدرتی ماحول سے محبت کونسی ایسی نعمت ہے جو عربوں کے پاس تھی۔لیکن میو قوم اس سے محروم رہی ہو۔
اگر دین کو الگ کردیا جائے تو مجموعی طورپر میو قوم کئی لحاط سے عربوں سے بہتر زندگی گزارتے تھے۔۔
میو قوم میں مجموعی طورپر ایسے خصائل موجود نہیں رہے جنہیں انسانیت سوز یاآنے والی نسلوں کے لئے شرمندگی کا سبب کہے جاسکیں۔بچیوں کو زندہ درگور کرنا/بت پرستی وغیرہ عربوں میں یہ باتیں ترجیحی بنیاد پر بیان کی جاتی ہیں۔بلکہ کچھ خطباء کو جوش او ر تقریر کا ابال ہی یہاں سے شروع ہوتا ہے کہ عرب بچیوں کو زندہ دفن کیا کرتے تھے۔جب کہ میوات میں اس قسم کی باتیں ناپید ہیں۔
میو قوم جس علاقے میںرہائش پزیر تھی اور کچھ اب بھی موجود ہے ۔میں کسی قسم کی بت پرستی کے آثار و شواہد نہیں ملے ۔
آج کا میو جواَن جب اپنے اباء کی تاریخ پڑھتا ہے۔یا دستیاب مواد اس کی نگاہ سے گزرتا ہے۔وہ فوراَاپنی ناتجرباہ کاری کی بنیاد پر انہیں ان پڑھ۔زمانہ سناشی سے دور۔بہتر تدبیر سے عاری قرار دیتا ہے۔جب کہ یہ بڑوں کی توہین کرتا ہے۔اسے کیا معلوم جن واقعات کا مطالعہ کررہا ہے ۔جب یہ رونما ہوئے تو اس وقت حالات۔ضروریات۔ماحول۔اور وقت کے تقاضا کیا تھا؟۔
جو واقعات رونما ہوئے ان کے اسباب و عوامل کیا تھے؟۔اگر ہمیں اس ماحول اور ان وسائل کے ساتھ وہی کردار دیدیا جائے۔جو ایک ہیرو کو اس کہانی (بات) میں دیا گیا تھا۔تو تم کیا فیصلہ کرتے؟۔یا اس ہیرو کے کردار کو کس طرح بہتر طورپر ادا کرنے کے قابل ہوسکتے تھے؟۔
یقینا ایسی باتیں ۔آج کی نسل کی سمجھ سے بالا تر ہیں۔
جس کتاب میں جو کہانی(بات) پڑھی ہے۔اس پر غور کریں۔اور ایک ہیرو کی جگہ خود کو اس کردار میں ڈھالیں۔ہیرو کی جگہ اپنی ذات کو لے آئیں ۔وہ کردار جو ہیرو ادا کررہا ہے ۔ادا کریں۔ایک راوی نے جو نتائج بیان کئے ہیں اس سے بہتر نتائج نکال کر دکھائیں۔
جب کہ جن سہولیات کے عادی جوان جو فتویٰ لگا رہے ہیں۔کے پاس بہتر تعلیم ۔سوچنے کے مواقع۔مطالعہ۔اور کئی صدیوں کی گہما گہمی موجود ہے۔اس کے باوجود بھی جس چیز پر اعتراض ہے اس سے بہتر کرکے دکھائیں؟۔
رہی بات کہ کچھ باتیں عقل و تجربات کے خلاف ہیں ۔بہتر اور بجا فرمایا۔
ایسے مفکر و مدبر سے گزارش ہے کسی بھی قوم کی تاریخ اٹھاکر دیکھ لیں۔ایسے واقعات سے بھری پڑی ہیں ۔اگر یہ باتیں عیب ہیں تو ۔یہ عیب ساری دنیا میں پایا جاتا ہے۔میو قوم میں پایا جانا کوئی انچبہ نہیں ہے۔اگر دوسری قوام کی تواریخ میں یہ باتیں درگزر کے قابل ہیں تو میو قوم نے ایسا کردیا کہ ان کا جرم ناقابل معافی سمجھا جارہا ہے۔کیا اتنا کافی نہیں کہ جن لوگوں پر تمہیں اعتراض ناخواندگی و بے عقلی ہے۔ان کا کردار اتنا کافی نہیں کہ تم ان کی نسل ہو؟۔اگر وہ اتنے ہی ناکارہ و کم سمجھ ہوتے تو اپنا وجود کب کا کھوچکے ہوتے۔ آج جو تمہارا دعوٰی ہے کہ ہم لوگ ہزروں سالوں سے آباد ہیں ۔ہمارا خون و روایات خالص ہیں۔تو انہیں بچاکر تم تک پہنچانا انہی لوگوں کا کام تھا ۔جنہیں تم ناسمجھ کہہ کر بے توقیری کے مرتکب ہوریے ہو؟
البتہ اتنا ضرور ہے کہ بڑے بوڈھے لوگوں نے جو کچھ کیا ۔ اگرتمہاری نظر میں بے قیمت ہے۔تو کچھ ایسا کرو کہ دنیا کے سامنے قیمتی بن سکو ۔ یعنی جو کمیاں ۔کوتاہیاں بڑوں میں رہ گئی تھیں انہیں دور کرنے کا بہترین موقع ہے ۔دور کردو۔تاکہ آنے والی نسلیں کچھ بہتر دیکھ سکیں۔
گار بہتر کرسکو تو بڑوں کے لئے بہتر اولاد ثابت ہوسکتے ہو۔آنے والے لوگوں کے لئے مقتداء بن سکو۔
ہماری کتاب
۔”میو قوم کی شناخت اور بقا”
ایسی ہی جدو جہد کی داستان ہے۔میو قوم نے 1947 سے لیکر آج تک یعنی اسی سالہ تاریخ کا خلاصۃ ہے۔مواد اتنا زیادہ تھا کہ اسے کتابی شکل میں چھاپنا کم از کم ہمارے بس کی بات نہیں ہے۔ایک خلاصہ ہے۔تجزیہ ہے۔اور دستیاب وسائل کا نچوڑ ہے۔۔
اس میں اے آئی(Artificial Intelligence) سے مدد لی گئی ہے۔ کیونکہ ایک بہتر تصویر ہزاروں صفحات پر بھاری پڑتی ہے۔یوں سمجھ لیجئے کہ جدید و قدیم وسائل و مواد کو اس انداز میں ترتیب دینے کی کوشش کی گئی ہے۔کہطوالت سے بچا جاسکے۔اور مدعا بھی بیان کیا جاسکے۔

Leave a Comment

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid, the visionary mind behind Tibb4all, revolutionizes education and daily life enhancement in Pakistan. His passion for knowledge and unwavering community dedication inspire all who seek progress and enlightenment.

More About Me

Newsletter

Top Selling Multipurpose WP Theme