
کہا جو میو بولی نہ بولاہاں ،وے میو نہ ہاں؟
میواتی تاریخ و ادب کی اشاعت۔دور حاضر کے تقاضے۔
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
سعد ورچوئل سکلز پاکستان۔
احمد فہیم معروف میواتی شاعر کہوے ہے
ٹھاڈا کی دنیا ہے واڑی بودو گیانی بدھو ہے
جاپے گئی نہ ہاں واکی چھوری سیانی بدھو ہے
کوئی بھی قوم وا وقت تک زندہ رہوے جب تک اُو تین باتن نے سینہ سو لگائی راکھے ہے۔
جو کوئی جتنو اپنی قوم پرستی یا وطن پرستی کو ثبوت دینو چاہے تو وائے بطور ثبوت یہی تین دلائل سامنے دھرنا پڑنگا،
(1)سب سو پہلی دلیل۔اپنا آبائو واجداد کو رہن سہن،رسوم،رواج،تہذیب و تمدن سو واپسطگی
(2)قومی لباس یعنی قومی سطح کو پہناوا،جا ئے کوئی بی قوم اپنا اصل وطن،یا جنم بھومی میں پہراہاں۔
(3)تیسری دلیل۔ماں بولی۔میو قوم کی نئی پود نے پہلی دو بات تو پیٹھ پاچھے پھینک دی ہاں۔ یامارے یہ دو چیز جدت کے نام پے میو قوم سو نکل چکی ہاں،وقت کو تقاضو کہو،یا معاشرتی ضرورت بہر حال یہ دونوں بات میو قوم سو رخصت ہوچکی ہاں،یا معاشرت اور تہذیب کی جو خصوصیات ہی، وے بھی ہولے ہولے ہماری زندگین سو کھستی جاری ہاں،
میو معاشرہ کی وے ساری بھلائی و خوبی،جیسے رشتہ ناطہ کو احترام۔ایفاء عہد۔ہمدردی۔اپنایے،لین دین میں کھرو پن۔نات گوت کی اہمیت۔سب جد ت پے قربان کردی ہاں۔

پہلا میو اور آج کا میو کو کوئی موازنہ باقی نہ بچو ہے۔وعدہ نبھانا کی جگہ دغابازی نے لے لی ہے۔رشتہ ناطہ کا احترام کی جگہ لالچ نے لے لی ہے۔ہمدریو وایثار کی جگہ۔اپنا پان کدا کی خیر کی پالیسی آچکی ہے۔
قومی عصبیت،میو قوم سو لگائو یکتائی کی جگہ افتراق،اور پھوٹ پڑ چکی ہاں۔اپنا بھائی بندن نے چھوڑ کے ذاتی مفادات کے مارے دوسرا کا ڈیران پے جاکے حقہ بھرنو منظور ہے اپنا کی بات بھی گوارا نہ ہے،یہی وجہ ہے کہ معاشی و معاشرتی لحاظ سو میو اتنو کمزور کدی بھی نہ ہو جتنو آج ہے۔
ای بات نہ ہے کہ میوون کی پہنچ نہ ہے،اصل بیماری ای ہے کہ ہم طاقت کی حالت میںاپنی قوم سو بات چیت کرنو بھی توہین سمجھا ہاں ۔جب کرسی چھن جاوے ہے تو میو قوم کی یاد ستاوے ہے،ایک بہت لمبو موضوع ہے پھر کدی بات کرونگو۔
رہی تیسری بات کہ ،جولوگ میواتی نہ بولاہاں۔کہا وے میو نہ ہاں؟
کئی دن پہلے کراچی سو ایک میو بھائی نے ایک مضمون لکھو ہو کہ
جو میواتی نہ بولاہاں۔کہا وے میو نہ ہاں؟
لکھن والو الجبار ایجوکیشن وٹس ایپ گروپ کو بنان والو،جاوید بھائی ہو۔ای ایک بہتر سوچ راکھن والو انسان ہے بین الاقوامی معاملات

مالیات پے اچھی نگا ہے،وانے اپنا مضمون میں یا بات کو اظہار کرو کہ کہا جو میو ،میواتی نہ بولاہاں ،وے میو نہ ہاں ؟
ای بات جاوید بھائی اکیلا کی نہ ہی بلکہ بہت سا میو بھائی سطحی الذہن لوگن کی باتن کو نچوڑ ہو،جو خود کچھ کراہاں ،نہ کائی اے کرن دیواہاں۔،ایسا لوگن پے ایک بھونٹو ہتھیار ای بھی رہوے ہے کہ تم کہاں کا میو ہو؟۔میواتی بولی تو تم بول نہ سکو ہو۔اور میو بنا پھرراہو؟
جاوید بھائی کو شکوہ اپنی جگہ پے بہت اہم ہے،لیکن جن اسباب و وجوہ کی بنیاد پے میو بولی سوُ دوری پیدا ہوئی ،اُن پے کوئی نگاہ نہ گیرے ہے۔
یامیں کوئی شک نہ ہے کہ وے وائی طریاں میو ہاں ،جیسا میو ہم ہاں۔
البتہ جب میواتی بولاہاں تو بتانا کی ضرورت نہ رہے کہ ،بولن والو میو ہے،جب مافی الضمیر کو اظہار کائی دوسری زبان میں کر و جاوے ہے تو کوئی امتیاز باقی نہ رہوے ہے کہ سامنے والو میو ہے کہ کائی دوسری قوم کو باشندہ ہے؟
اگر میواتی میں بات کرےگو تو بتانا کی ضرورت نہ رہے گی کہ ای میو قوم کو باشندہ ہے،یا کائی دوسری قوم کو فرد ہے؟
یہی وے تین بات ہاں جو میو اے میو قوم سو جوڑا ہاں۔
فطری بات ہے کہارتقائی عمل تسلسل کے زندگی کا ہر میدان میں جاری رہوے ہے۔تذیب و تمدن کی تبدیلی کو عمل فطرت کو ایک حصہ ہے۔کائی بھی قوم کی بقاء یائی میں دڈبکی پڑی ہے کہ اصل رہن سہن اے باقی رکھتے ہوئے آگے بڑھو جائے۔
قوام متحدہ نے ایک شعبہ قائم کرراکھوہے،جو مِٹتی زبانن نے جیتا گاگتا رہنا کے مارے فنڈنگ بھی کرے۔یا وقت عالمی سرورے بتاوے ہے کہ ہزاروں زبان مرچکی ہاں ،ای سلسلہ رُکن کو نام نہ لے رو ،اگر میواتی محفوظ نہ کری گئی تو ۔کہیں یاکی باری بھی نہ آجائے؟۔
۔ابھی تو ایک چنگاری موجود ہے کہ ہم نے احساس ہے کہ ہم میو قوم کی ایک شاخ ہاں ،آن والا وقت میں زندگی کی گہما گہمی اتنی فرصت بھی نہ دئے گی کہ سوچ بھی سکا ں کہ ہم میو ہاں۔
ہمارو ادارہ،سعد ورچوئل سکلز پاکستان،
یائی ڈگر پے کام کررو ہے کہ میو بولی اورآبادو اجداد کی ای میراث باقی رہے۔نہیں تو ہماری نسل آگے بڑھ جانگی،میو بولی زندگی کا دھول مٹی میں پیچھے گم ہوجانگی۔
سب سو بہتر اور گھنی مثال ہم اسرائل کی لے سکاہاں ،اُنن نے قدیم زبان عبرانی،دوبارہ سو زندہ کری ہے ،جو کئی سو سال تک معدوم رہی۔یا زبان کو اُنن نے اتنی ترقی دی کہ سب کچھ اپنو اپنا باپ دادا کی زبان عبرانی میں کردئیو،اتنی محنت کری کہ ان کی سائنس و ٹیکنالوجی کی زبان بن گئی ،اب دوسری قوم ان کی زبان سیکھن پے مجبور ہاں۔جب وائے نہ سیکھاں ان کا عمول و فنون اور ان کی سائنسی ترقی سو مستفید نہ ہوسکاہاں۔
ہم نے بخوبی پتو ہے یا مقام تک پہنچن کے مارے اُنن نے بہت سی قربانی دی ہاں،پون صدی سو ملکی و بین الاقوامی وسائل جھونگ دیا ہاں،جب وے اپنی آبائی زبان زندہ کرن میں کامیاب ہویا ہاں ،ایسی بات نہ ہے کہ اُنن نے کوئی دوسری زبان نہ آوے ہے،بلکہ ان کو کہنو ہے کہ جو مزہ باپ دادا کی زبان میں ہے اُو دنیا کی کائی زبان میں نہ ہے۔یائی بات اے ہم میون کو سمجھانا کی کوشش کرراہاں۔
سعد ورچوئل سکلز پاکستان
https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%DB%8C%D9%88سعد میو ای ڈکشنری۔کو قیام۔
کا محنتی اور قابل لوگن نے ایک ۔ای ڈکشنری ۔ترتیب دی ہے۔جو وائس موڈ پے کام کرے ہے،وائس بٹن دبائو،بول کے میواتی لفظ بولو،وائس کے ساتھ محفوظ ہوجائے گو،واکو ٹیکسٹ بنے گو۔پھر ساتھ ہی
۔عربی،فارسی،انگریزی،اردو،ہندی،فرانسیسی میں باقی کا خانہ بھر جانگا۔
دنیا بھر سو کوئی بھی یا مین لفظ شامل کرسکے ہے،جتنو بھی ڈیٹا اکھٹو ہوئے گو،اُو می ڈیٹا میں گوگل پے جمع ہوتو جائے گو،یائی طرح کی اور بھی کئی سرورسز پیش کرن میں ماہرین لگا ہویا ہاں،کائی دن یاپے بھی تفصیل سو لکھونگو۔
