
مہارانا سانگا،ہندوپت۔راجپوت نسل کے آخری عظیم رہنما۔
مصنف
ہر بلاس ساردا، F.R.S.L.،
ممبر آف دی رائل ایشیاٹک سوسائٹی آف گریٹ بریٹن اینڈ آئرلینڈ؛ فیلو آف دی رائل سٹیٹسٹیکل سوسائٹی آف لندن؛ فیلو آف دی سٹیٹسٹیکل سوسائٹی آف بوسٹن، ریاستہائے متحدہ امریکہ، وغیرہ؛ اور مصنف برائے ‘اجمیر: تاریخی اور وضاحتی’؛ ‘مہارانا کمبھا’، اور دیگر تصانیف۔
مترجم اردو
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
سعد ورچوئل سکلز پاکستان
سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویﷺ
26کلومیٹر فیروز پور روڈ لاہور
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مقدمۂ ایڈیشنِ اردو: “مہارانا سانگا”
تاریخِ ہند کا ایک زریں اور الم ناک باب
پیش لفظ و علمی مقدمہ
از: ادارہ تحریر و اشاعت
تاریخ قوموں کی حیات اور زوال کی وہ آئینہ دار ہے جس میں ماضی کے فیصلے، معرکۂ کارزار، اور سیاسی و عسکری بصیرت کے نقوش آئندہ نسلوں کی رہنمائی کرتے ہیں۔ برصغیر پاک و ہند کی ہزار سالہ تاریخ پرتاپ، حمیر، کمبھا اور سنگرام سنگھ (مہارانا سانگا) جیسے کرداروں کے ذکر کے بغیر ادھوری رہتی ہے۔ یہ کتاب — “مہارانا سانگا” — سولہویں صدی عیسوی کے اس نازک موڑ کی مکمل اور مستند تاریخ پیش کرتی ہے جب برصغیر میں پٹھان اقتدار زوال پذیر تھا، مغل لشکر بابر کی قیادت میں شمال مغرب سے داخل ہو رہا تھا، اور راجپوتانہ کی تمام شجاع اقوام اپنے ملی و قومی وجود اور آزادی کی بقا کے لیے ایک پرچم تلے جمع ہو رہی تھیں۔
اس کتاب کا اردو ترجمہ محض ایک تاریخی واقعے کی بازیافت نہیں، بلکہ اس دور کے سیاسی، عسکری اور سماجی تعلقات کو معاصر تناظر میں سمجھنے کی ایک جرات مندانہ اور علمی کاوش ہے۔
مصنف کا تعارف: دیوان بہادر ہر بلاس ساردا (H. B. Sarda)
کتاب کے اصل مصنف ہر بلاس ساردا (1867ء – 1955ء) اپنے دور کے ممتاز مورخ، محقق، قانون دان اور ممبر برٹش انڈین لیجسلیٹو اسمبلی تھے۔ وہ روئل ایشیاٹک سوسائٹی آف گریٹ بریٹن اینڈ آئرلینڈ، روئل سٹیٹسٹیکل سوسائٹی آف لندن، اور اسٹیٹسٹیکل سوسائٹی آف بوسٹن (امریکہ) کے فیلو رہے۔
ان کی تاریخ نویسی کا بنیادی وصف علمی دیانت، روایتی سنسکرت کتبات (Inscriptions)، عربی و فارسی تواریخ، اور راجستھانی روایات (بھاٹوں اور چرنوں کے گیت) کا باہمی تقابل اور مستند مآخذ سے استخراج ہے۔ انہوں نے راجستھانی تاریخ اور راجپوتانہ کی نامور شخصیات پر معرکہ الآرا مونوگرافس تحریر کیے، جن میں “اجمیر: ہسٹوریکل اینڈ ڈسکرپٹو“، “مہارانا کمبھا“، اور “مہارانا سانگا“ شامل ہیں۔ ہر بلاس ساردا تاریخ دان ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بیدار مغز سماجی اصلاح کار بھی تھے، اور ان کا نام ہندوستان کی قانون سازی کی تاریخ میں “ساردا ایکٹ” (Child Marriage Restraint Act) کے بانی کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
کتاب کی تاریخی اہمیت
سولہویں صدی کے پہلے اور دوسرے عشرے کی برصغیر کی سیاست پر اس کتاب کے ذریعے جو روشنی پڑتی ہے، وہ عام درسی کتابوں میں نایاب ہے۔ کتاب کا مرکزی نقطۂ نظر یہ ہے کہ معرکہِ کھانوا (1527ء) صرف دو بادشاہوں (بابر اور سانگا) کی جنگ نہیں تھی، بلکہ یہ برصغیر میں جدید جنگی حکمت عملی (توپ خانہ و تفنگ)، اتحادِ باہمی، اور داخلی غداریوں کا انجامِ کار تھی۔
کتاب کی تاریخی اہمیت ذیل کی چند جہتوں سے ابھر کر سامنے آتی ہے:
اخلاقیات بمقابلہ سیاسی بصیرت: مصنف نے ثابت کیا ہے کہ راجپوت سردار بہادری، سخاوت اور شجاعت میں بے مثال تھے لیکن وہ سخت گیر سیاسی بصیرت، دور اندیشی اور جدید جنگی آلات (توپ خانہ) سے ناواقف تھے۔
سلاطینِ ہند کے ساتھ معرکے: مالوہ کے سلطان محمود خلجی اور دہلی کے سلطان ابراہیم لودھی کے ساتھ سانگا کی جنگوں اور سیاسی روابط کا تفصیلی اور مستند تاریخی جائزہ۔
حقیقی مآخذ کا استعمال: بابر کی یادداشتوں (تزکِ بابری)، طبقاتِ اکبری، تاریخِ فرشتہ، راس مالا، اور قدیم مندروں کے کتبات کا تقابلی مطالعہ۔
میو قوم کے لیے اس کتاب کی خصوصیت و افادیت
خطہ میوات اور میو قوم کی تاریخ برصغیر کی تاریخ کا وہ تابناک باب ہے جسے اکثر مورخین نے پسِ پشت ڈال دیا۔ اس کتاب کی سب سے بڑی افادیت یہ ہے کہ یہ میو قوم کے آبا و اجداد بالخصوص نواب حسن خان میواتی کی حب الوطنی اور قربانی کو تاریخی سند کے طور پر پیش کرتی ہے۔
نواب حسن خان میواتی کی تاریخی پاسداری
جب بابر نے حسن خان میواتی کو اپنے ساتھ ملانے کے لیے ان کے بیٹے ناہر خان کو رہا کیا اور لالچ دیا، تو نواب حسن خان نے مسلک اور لالچ سے بالاتر ہو کر وطن کی آزادی کو ترجیح دی۔ انہوں نے دس ہزار میواتی سواروں کے ساتھ مہارانا سانگا کے قائم کردہ “ہندوستانی اتحاد” کا ساتھ دیا اور جنگِ کھانوا میں وطن پر قربان ہو کر شہادت کا مقام حاصل کیا۔
تاریخی خود شناسی۔
یہ کتاب میو قوم کی موجودہ نسلوں کو یہ احساس دلاتی ہے کہ ان کے اسلاف شجاعت، حمیت اور وفاداری کے کس اعلیٰ مقام پر فائز تھے۔ یہ کتاب میو قوم میں تاریخی شعور، قومی وقار اور علمی جستجو بیدار کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔
مترجم کا تعارف: حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو کی شخصیت برصغیر کے میواتی علمی و طبی افق پر ایک درخشندہ ستارے کی مانند ہے۔ آپ نے نہ صرف قرآنی علوم اور دینی تعلیمات کی ترویج کی، بلکہ فنِ طبِ نبویﷺ اور طبِ دیسی (یونانی) میں گرانقدر خدمات انجام دیں۔
علمی و ادبی مساعی: آپ نے میواتی ادب، تاریخ اور طب پر درجنوں گرانقدر کتب تصنیف و ترجمہ کیں، جن میں “تاریخِ میو و داستانِ میوات“، “طبِ فطرت“، “دستنبو (ترجمہ غالب کی ڈائری)“، “رسالہ الحروف (الفارابی)“، اور طبِ نبویﷺ پر متعدد تحقیقات شامل ہیں۔
ترجمے کا اسلوب: آپ کا ترجمہ سلیس، شستہ اور اثر انگیز ہے۔ آپ نے انگریزی مآخذ اور راجستھانی اصطلاحات کو اردو کا شایانِ شان لباس پہنایا ہے، جس سے کتاب کی اصل روح مکمل طور پر محفوظ رہی ہے۔
سعد ورچوئل سکلز پاکستان اور سعد طبیہ کالج کی خدمات
کتاب کی اشاعت اور اس کی تدوین کے پسِ پشت سعد ورچوئل سکلز پاکستان اور سعد طبیہ کالج برائے فروغِ طبِ نبویﷺ (فیروز پور روڈ، لاہور) کی انتھک علمی، طبی اور اشاعتی مساعی شامل ہیں۔
سعد ورچوئل سکلز پاکستان: اس ادارے کی بنیاد مرحوم سعد یونس میو (ابنِ قاری محمد یونس شاہد) نے رکھی۔ یہ ادارہ میو قوم اور پاکستان کے دیگر محروم طبقے کے نوجوانوں کو ڈیجیٹل ہنر مندی، آن لائن تکنیکی مہارتیں (IT & Virtual Skills) اور خود کفالت کے مواقع فراہم کر رہا ہے تاکہ قوم کا نوجوان جدید دور کے چیلنجز کا مقابلہ کر سکے۔
سعد طبیہ کالج و یونیکیشن طبی فاؤنڈیشن: کاہنہ نو، لاہور میں واقع یہ ادارہ طبِ نبویﷺ اور قديم یونانی حکمت کو جدید سائنسی اور سلفی بنیادوں پر زندہ کر رہا ہے۔ اطباء اور علماء کی سرپرستی، قانونی رہنمائی اور طبی بیداری میں اس ادارے کا کردار روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔
علمی و اشاعتی خدمات: ادارے نے نہ صرف طبی تحریروں اور بیاضوں (جیسے بیاضِ سائیں بخش) کی حفاظت اور اشاعت کا بیڑا اٹھایا ہے، بلکہ میوات کے تاریخی و ادبی سرمائے کو بھی محفوظ کر کے شائع کر رہا ہے تاکہ علمی روایت کا تسلسل قائم رہے۔
حرفِ آخر
یہ کتاب مؤرخین، تاریخ کے طالب علموں، میوات کی تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے قارئین، اور بالخصوص قوم کے ان جوانوں کے لیے ایک قیمتی تحفہ ہے جو اپنے اسلاف کی تاریخ سے روشنی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ہم قاری محمد یونس شاہد میو اور ان کے تمام معاونین کے ممنون ہیں جنہوں نے اس شاہکار کو اردو قالب میں ڈھال کر شائع کیا۔
دعا گو: ادارہ سعد ورچوئل سکلز پاکستان
سعد طبیہ کالج برائے فروغِ طبِ نبویﷺ
فیروز پور روڈ، لاہور
مہارانا سانگا،ہندوپت۔راجپوت نسل کے آخری عظیم رہنما۔
