طبقات الأمم

Advertisements

تالیف:

قاضی ابوالقاسم صاعد بن احمد بن صاعد الاندلسي
(متوفی ۴۶۲ھ / ۱۰۶۹ء – ۱۰۷۰ء)
نشر و حواشی:
الاب لوئیس شیخو الیسوعی مقدمہ:
پروفیسر ڈاکٹر محمود إسماعیل ناشر: الہیئۃ العامۃ لقصور الثقافۃ
مترجم اردو
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
منتظم اعلی سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویﷺ
سعد ورچوئل سکلز پاکستان

سخنہائے گتنی۔
سب تعریدفیں اس ذات بابرکت کے لئے ہیں جس نے انسان کو علمی انداز مین دیگر مخلوقات پر فوقیت دی ۔دورد و سلام ہو دریائے علم منبع علوم حضرت محمد ﷺ پر جس نے نبوت کے خاتمے کا اعلان فرمایا ۔ان کے اہل و عیال اور اصحاب پر جنہوں نے ظاہری اسباب کے درجے مین تکمیل دین کے فریضہ میں اپنا کردار ادا کیا۔
جب انسان کسی چیز کے بارہ میں گہرائی سے سوچنے لگتا ہے تو اس کے سامنے کچھ کتب ایسی تھیں جن کے بارہ میں حوالہ جاتی طورپر کتب میں بطور حوالہ،اور ماخذ کے دیکھا گیا تھا۔عملیاتی کتب کے مصنفین نے قاضی صاعد کی کتب کے حوالہ جات دئے تھے۔اسی وقت سے دل میں آرزو تھی تھی کہ اگر زندگی نے یاوری کی اور حالات نے اجازت دی تو جس قیمت پر بھی کتاب طبقات الامم ۔قاضی صاعد کی حاصل کرنی پڑے کرونگا۔
چالیس پچاس سال تک بے شمار کتب کا مطالعہ کیا دوسو سے زاید کتب راقم الحروف کے قلم سے لکھی گئیں۔
اس وقت عربی کتب کے تراجم سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویﷺ/سعد ورچوئل سکلز پاکستان کے پلیٹ فارم سے کئے جارہے ہیں۔قاضی صاحب کی طبقات الامم بھی اس فہرست میں شامل ہوگئی۔
ہمارے ادارے کی طرف سے شائع شدہ کتب کی لسٹ اس کتاب کے آکر میں موجود ہے جسے جو کتاب پسند ہو حاصل کرسکتا ے۔
اسی کے ساتھ ابن جلجل کی کتاب۔”طبقات الأطباء والحكماء ويليه تاريخ الأطباء والفلاسفہ”۔بھی تیاری کے مراحل میں ہے،یہ وہ نیاب کتب ہین جن کے صرف حوالہ جات اردو کتب میں پائے جاتے تھے۔اس کاوش میں کتنی کامیابی ملی ہے۔یا ہم اس جدوجہد میں اپنے فن سے انصاف کرسکے ہیں اس بارہ میں آپ کی رائے ہمارے لئے اہمیت رکھتی ہے۔

حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویﷺ
سعد ورچوئل سکلز پاکستان۔

طبقات الأمم (اردو ترجمہ)
ایک تبصرہ
کتاب: طبقات الأمم
مصنف: قاضی ابوالقاسم صاعد بن احمد الاندلسی (م ۴۶۲ھ / ۱۰۷۰ء)
عربی متن: الاب لوئیس شیخو (۱۹۱۲ء)؛ مقدمہ: پروفیسر ڈاکٹر محمود اسماعیل
اردو مترجم: حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو، سعد طبیہ کالج
۱۔ کتاب کا تعارف اور اہمیت
«طبقات الأمم» علومِ انسانی کی تاریخ پر عربی کی ابتدائی اور منفرد تصانیف میں شمار ہوتی ہے۔ صاعد نے سیاسی واقعات یا بادشاہوں کی فہرستوں کے بجائے ایک دوسرا سوال اٹھایا: کن قوموں نے علم سے حقیقی تعلق رکھا اور کن کے ہاں علم نے جڑ نہیں پکڑی؟
ان کی بنیادی تقسیم یہ ہے:
• سات قدیم امتیں: فارس، کلدانی، یونانی، قبطی (مصری)، ترک، ہند و سندھ، اور چین۔
• علم سے وابستہ آٹھ امتیں: ہند، فارس، کلدانی، عبرانی، یونانی، روم، اہلِ مصر اور عرب۔
اس معیار کی اہمیت یہ ہے کہ قوموں کی عظمت کو نسب یا حکومت کے بجائے علمی خدمات سے ناپا گیا ہے۔ مقدمہ نگار نے بجا لکھا ہے کہ صاعد نے مختلف تہذیبوں کا ذکر بغیر تعصب کے کیا۔ مصنف کے اپنے زمانے کے اعتبار سے یہ کھلا ذہن غیر معمولی ہے۔
۲۔ مضامین کا خاکہ
اردو نسخے میں بنیادی مضامین یہ ہیں:

اقوام کی تقسیم: سات امتیں، ان کے مساکن اور زبانیں۔

علمی و غیر علمی اقوام: علم کی بنیاد پر دو طبقات۔

علمِ فارس، کلدانی اور یونان: یونان کے حصے میں انبادقلس، فیثاغورس، سقراط، افلاطون اور ارسطو کے تعارف خاص طور پر مفید ہیں۔

روم اور اہلِ مصر کے علوم۔

عربوں کے علوم: جزیرہ نما عرب، یمن اور سدِ مأرب، پھر صدرِ اسلام میں طب اور دیگر علوم، اور بنو امیہ و عباسی دور کا علمی فروغ۔

مشاہیرِ اسلام: الکندی، رازی اور فارابی؛ فلکیات میں فرغانی، ابو معشر بلخی اور ابن یونس مصری؛ کیمیا میں جابر بن حیان؛ طب میں ابن الجزار اور ابن المجوسی۔

علومِ اندلس: ریاضی، نجوم، فلسفہ اور منطق کے ماہرین، ابن حزم اور ابن سیدہ، اور اطبائے اندلس (ابن جلجل، زہراوی، ابن وافد، ابن زہر وغیرہ)۔

بنی اسرائیل کے علوم: حساب و تقویم اور ان کے اطبا و علما۔

حواشی اور نسخوں کا تقابل: نسخہ «الف»، «ب» اور «ج» کے اختلافات۔
۳۔ علمی قدر
اول: طب و حکمت کا ماخذ۔ سعد طبیہ کالج جیسے ادارے کے لیے سب سے قیمتی حصہ اطبا اور علمائے طبیعیات کے تذکرے ہیں۔ یہ طبِ یونانی و اسلامی کی تاریخ کا قدیم اور معتبر ماخذ ہے، اور رازی، ابن الجزار، ابن المجوسی، زہراوی اور ابن زہر جیسے ناموں کا اپنے معاصر نے جو تعارف کرایا ہے وہ ثانوی کتابوں میں کم ملتا ہے۔
دوم: ترجمے کی تحریک۔ عباسی دور میں یونانی، فارسی اور ہندی علوم کے عربی میں منتقل ہونے کا بیان بتاتا ہے کہ ہماری علمی روایت دوسری تہذیبوں سے لین دین پر کھڑی تھی۔ یہ بات آج بھی ایک سبق ہے۔
سوم: اندلس کا زاویہ۔ مغرب میں علم کی تاریخ پر مصنف کا چشم دید بیان خاص قدر رکھتا ہے، اور مقدمہ نگار نے اسی بنا پر صاعد کو عروج اور زوال کے سنگم کا گواہ قرار دیا ہے۔
چہارم: اردو قاری کے لیے خدمت۔ یہ عربی تصنیف اردو میں کم دستیاب ہے، اس لیے اس کا ترجمہ بجائے خود ایک مفید کام ہے، اور اس کی ترتیب سے واضح ہے کہ مترجم نے مواد کو قاری کے لیے قابلِ مطالعہ بنانے کی کوشش کی ہے۔
۴۔ ترجمے کی خوبیاں
• زبان عمومی طور پر سلیس اور رواں ہے، اور طویل عربی جملوں کو اردو کے مزاج کے مطابق توڑا گیا ہے۔
• یونانی اور عربی اعلام کے ساتھ اصل نام (مثلاً Empedocles، Pythagoras) قوسین میں دے دیے گئے ہیں، جو طلبہ کے لیے سہولت ہے۔
• مقدمہ، متن اور حواشی کی الگ ترتیب برقرار رکھی گئی ہے۔
• مشکوک الفاظ پر «(؟)» اور «(اصل میں … ہے جو غلط ہے)» جیسے اشارے علمی دیانت کی علامت ہیں۔
۵۔ اصلاح طلب پہلو
علمی دیانت کا تقاضا ہے کہ اشاعت سے پہلے یہ باتیں درست کر لی جائیں۔ یہ سب قابلِ اصلاح ہیں:

گفتگو کے جملے متن میں شامل ہیں۔ آخر میں ایسے جملے موجود ہیں: «کیا اس کتاب کے حوالے سے کوئی اور تفصیلی سوال یا مزید تشریح درکار ہے؟» اور «براہ کرم اس سلسلے کے اگلے حصے کی فراہمی جاری رکھیں…»۔ اسی طرح «چونکہ آپ نے اس متن کا … ترجمہ کرنے کا حکم دیا ہے» اور «نوٹ: اس کے بعد کتاب میں …» جیسے جملے بھی ہیں۔ یہ کتاب کا حصہ نہیں، ترجمے کے دوران کی ہدایات اور جوابات ہیں اور انہیں حذف ہونا چاہیے۔

دیوناگری حروف کی آمیزش۔ کچھ مقامات پر ہندی حروف اردو متن میں گھل گئے ہیں، مثلاً «के خادم» اور «رہا ہے» کی جگہ «रहा है»، اور «बुद्ध» کا حرف بہ حرف لکھا جانا۔ یہ ٹائپنگ یا کاپی پیسٹ کی خرابی لگتی ہے اور فوراً درست ہونی چاہیے۔

اندلس کے حصے کی ترتیب۔ عنوانات میں «(صفحات 65 تا 74)»، «(صفحات 75 تا 77)» اور «قسطِ آخر» جیسے تحریری اشارے موجود ہیں، جو مسودے کی قسط وار تیاری کے نشان ہیں۔ انہیں ہٹا کر کتابی ابواب کی صورت دینی چاہیے۔

حواشی کا حصہ۔ نسخہ جات کے اختلافات (صفحہ ۹۵ تا ۹۷) عربی الفاظ کی فہرست ہیں جن کا اردو میں ترجمہ مفید نہیں، اور عام قاری کے لیے یہ حصہ بوجھل ہے۔ بہتر ہے کہ اسے ضمیمے میں اصل عربی کے ساتھ رکھا جائے، یا محققین کے لیے الگ کر دیا جائے۔ یہ حصہ نامکمل بھی ہے، کیونکہ حواشی صفحہ ۹۷ پر رک جاتے ہیں۔

اختصار کا سوال۔ بعد کے ابواب (اندلس اور بنی اسرائیل) میں بعض جگہ صرف نام اور مختصر تعارف رہ گیا ہے۔ اگر یہ ترجمہ مکمل نہیں بلکہ خلاصہ ہے تو سرورق پر یہ واضح لکھنا چاہیے، اور اگر مکمل ہے تو اصل سے مطابقت دیکھ لینی چاہیے۔

علمی اشارات۔ بعض ناموں اور تواریخ (مثلاً وفیات میں ہجری اور عیسوی سنین) کو ایک بار اصل ماخذ سے ملا لینا مناسب ہوگا، خاص طور پر وہ مقامات جہاں اعداد میں تضاد آتا ہے۔ مقدمہ نگار نے خود اعداد کے اختلاف کا ذکر کیا ہے، اس لیے مترجم کو بھی اسی احتیاط کی طرف قاری کو متوجہ کرنا چاہیے۔
۶۔ مجموعی رائے
یہ ایک اہم تاریخی و علمی کتاب کا مفید اردو ترجمہ ہے جو علومِ اسلامیہ، تاریخِ طب اور تہذیبی مطالعے کے طلبہ کے کام آ سکتا ہے۔ مواد کی قدر اور ترجمے کی روانی نمایاں ہے، جبکہ مسودے کی صفائی (اوپر کے نکات ۱ تا ۳) باقی ہے۔ ان اصلاحات کے بعد یہ سعد طبیہ کالج کی طرف سے ایک معیاری اشاعت بن سکتی ہے۔
تجویز کردہ اگلے اقدامات:
• گفتگو کے جملوں اور دیوناگری حروف کی صفائی۔
• ابواب کی ترتیب کی درستی اور فہرستِ مضامین کا اضافہ۔
• مترجم کا مختصر دیباچہ، جس میں منہجِ ترجمہ، مکمل یا مختصر ہونے کی وضاحت، اور مصنف صاعد کا تعارف شامل ہو۔

• اعلام اور اصطلاحات کا اشاریہ۔


کتاب یہاں سے حاصل کریں
ورڈ فائل
پی ڈی اید

عربی فائل

Leave a Comment

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid, the visionary mind behind Tibb4all, revolutionizes education and daily life enhancement in Pakistan. His passion for knowledge and unwavering community dedication inspire all who seek progress and enlightenment.

More About Me

Newsletter

Top Selling Multipurpose WP Theme